بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الزمر
سورۃ الزمر — 75 آیات — صفحہ 1 از 2
قرآن کریم Surah 39
تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب باحکمت کی طرف سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
کتاب اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ کتاب (قرآن) اس خدا کی طرف سے نازل کی گئی ہے جو (سب پر) غالب ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باطل عقائد کی تردید ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ یہ قرآن عظیم اسی کا کلام ہے اور اسی کا اتارا ہوا ہے۔ اس کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّ‌وحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِ‌ينَ بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ» ۱؎ [26-الشعراء:195-192] ‏‏‏‏، ’ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔ جسے روح الامین لے کر اترا ہے۔ تیرے دل پر اترا ہے تاکہ تو آگاہ کرنے والابن جائے۔ صاف فصیح عربی زبان میں ہے ‘ اور آیتوں میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا بِالذِّكْرِ‌ لَمَّا جَاءَهُمْ وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:41-42] ‏‏‏‏ ’ یہ باعزت کتاب وہ ہے جس کے آگے یا پیچھے سے باطل آ ہی نہیں سکتا یہ حکمتوں والی تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اتری ہے ‘۔ یہاں فرمایا کہ ’ یہ کتاب بہت بڑے عزت والے اور حکمت والے اللہ کی طرف سے اتری ہے جو اپنے اقوال افعال شریعت تقدیر سب میں حکمتوں والا ہے۔ ہم نے تیری طرف اس کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ تجھے چاہیئے کہ خود اللہ کی عبادتوں میں اور اس کی توحید میں مشغول رہ کر ساری دنیا کو اسی طرف بلا، کیونکہ اس اللہ کے سوا کسی کی عبادت زیبا نہیں، وہ لاشریک ہے، وہ بے مثال ہے، اس کا شریک کوئی نہیں۔ دین خالص یعنی شہادت توحید کے لائق وہی ہے ‘۔

پھر مشرکوں کا ناپاک عقیدہ بیان کیا کہ ’ وہ فرشتوں کو اللہ کا مرقب جان کر ان کی خیالی تصویریں بنا کر ان کی پوجا پاٹ کرنے لگے یہ سمجھ کر یہ اللہ کے لاڈلے ہیں، ہمیں جلدی اللہ کا مقرب بنا دیں گے۔ پھر تو ہماری روزیوں میں اور ہرچیز میں خوب برکت ہو جائے گی ‘۔ یہ مطلب نہیں کہ قیامت کے روز ہمیں وہ نزدیکی اور مرتبہ دلوائیں گے۔ اس لیے کہ قیامت کے تو وہ قائل ہی نہ تھے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ انہیں اپنا سفارشی جانتے تھے۔ جاہلیت کے زمانہ میں حج کو جاتے تو وہاں لبیک پکارتے ہوئے کہتے «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَك إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَك تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» اللہ ہم تیرے پاس حاضر ہوئے۔ تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک جن کے اپنے آپ کا مالک بھی تو ہی ہے اور جو چیزیں ان کے ماتحت ہیں ان کا بھی حقیقی مالک تو ہی ہے۔ یہی شبہ اگلے پچھلے تمام مشرکوں کو رہا اور اسی کو تمام انبیاء علیہم السلام رد کرتے رہے اور صرف اللہ تعالیٰ واحد کی عبادت کی طرف انہیں بلاتے رہے۔ یہ عقیدہ مشرکوں نے بے دلیل گھڑ لیا تھا جس سے اللہ بیزار تھا۔ فرماتا ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہر امت میں ہم نے رسول بھیجے کہ تم اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو ‘ اور فرمایا «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] ‏‏‏‏، یعنی ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ معبود برحق صرف میں ہی ہوں پس تم سب میری ہی عبادت کرنا ‘۔ ساتھ ہی یہ بھی بیان فرمادیا کہ ’ آسمان میں جس قدر فرشتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی بڑے مرتبے والے کیوں نہ ہوں سب کے سب اس کے سامنے لاچار عاجز اور غلاموں کی مانند ہیں اتنا بھی تو اختیار نہیں کہ کسی کی سفارش میں لب ہلا سکیں ‘۔

یہ عقیدہ محض غلط ہے کہ وہ اللہ کے پاس ایسے ہیں جیسے بادشاہوں کے پاس امیر امراء ہوتے ہیں کہ جس کی وہ سفارش کر دیں اس کا کام بن جاتا ہے اس باطل اور غلط عقیدے سے یہ کہہ کر منع فرمایا کہ «‏‏‏‏فَلَا تَضْرِ‌بُوا لِلَّـهِ الْأَمْثَالَ إِنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [16-النحل:74] ‏‏‏‏ ’ اللہ کے سامنے مثالیں نہ بیان کیا کرو۔ اللہ اسے بہت بلند و بالا ہے ‘۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کا سچا فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا ان سب کو جمع کر کے فرشتوں سے سوال کرے گا کہ ’ کیا یہ لوگ تمہیں پوجتے تھے؟ ‘ وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے، یہ نہیں بلکہ ہمارا ولی تو تو ہی ہے یہ لوگ تو جنات کی پرستش کرتے تھے اور ان میں سے اکثر کا عقیدہ و ایمان انہی پر تھا۔ اللہ تعالیٰ انہیں راہ راست نہیں دکھاتا جن کا مقصود اللہ پر جھوٹ بہتان باندھنا ہو اور جن کے دل میں اللہ کی آیتوں، اس کی نشانیوں اور اس کی دلیلوں سے کفر بیٹھ گیا ہو۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے عقیدے کی نفی کی جو اللہ کی اولاد ٹھہراتے تھے مثلاً مشرکین مکہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ یہود کہتے تھے عزیز علیہ السلام اللہ کے لڑکے ہیں۔ عیسائی گمان کرتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ جیسا ان کا خیال ہے اگر یہی ہوتا تو اس امر کے خلاف ہوتا ‘، پس یہاں شرط نہ تو واقع ہونے کے لیے ہے نہ امکان کے لیے۔ بلکہ محال کے لیے ہے اور مقصد صرف ان لوگوں کی جہالت بیان کرنے کا ہے۔ جیسے فرمایا «لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:17] ‏‏‏‏، ’ اگر ہم ان بیہودہ باتوں کا ارادہ کرتے تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے‘۔ اور آیت میں ہے «قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:81] ‏‏‏‏ یعنی ’ کہدے کہ اگر رحمان کی اولاد ہوتی تو میں تو سب سے پہلے اس کا قائل ہوتا ‘۔ پس یہ سب آیتیں شرط کو محال کے ساتھ متعلق کرنے والی ہیں۔ امکان یا وقوع کے لیے نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ نہ یہ ہو سکتا ہے نہ وہ ہو سکتا ہے۔ اللہ ان سب باتوں سے پاک ہے وہ فرد احد، صمد اور واحد ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحت فرمانبردار عاجز محتاج فقیر بے کس اور بے بس ہے۔ وہ ہرچیز سے غنی ہے سب سے بےپرواہ ہے سب پر اس کی حکومت اور غلبہ ہے، ظالموں کے ان عقائد سے اور جاہلوں کی ان باتوں سے اس کی ذات مبرا و منزہ ہے۔
اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب با حکمت کی طرف سے ہے۔
{سورة الزمر} (آیت 1){ تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ:الْكِتٰبِ “} میں الف لام عہد کا ہونے کی وجہ سے ترجمہ” اس کتاب“ کیا گیا ہے۔ کفار کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے خود بنا لیا ہے، جیسا کہ سورۂ طور میں ہے: «‏‏‏‏اَمْ يَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ» [الطور: ۳۳ ] ”یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے یہ خود گھڑ لیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے سورت کی ابتدا اس بات سے فرمائی کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے، ساتھ ہی اپنی دو صفات ذکر فرمائیں، تاکہ وہ اس کلام کو معمولی خیال نہ کریں، بلکہ اس کی اہمیت سمجھیں۔ ایک یہ کہ یہ کلام نازل کرنے والا عزیز یعنی سب پر غالب ہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ اس کا ذرہ بھر مقابلہ بھی کر سکے گا۔ دوسرا یہ کہ وہ حکیم یعنی حکمت والا ہے، اس لیے یہ کتاب سراسر دانائی اور حکمت پر مشتمل ہے، کوئی عقل سے عاری شخص ہی اس سے بے رخی اختیار کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کئی سورتوں کی ابتدا اس بات سے فرمائی ہے کہ یہ اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور ہر جگہ اس کی اہمیت واضح کرنے کے لیے اپنی چند صفات کا تذکرہ فرمایا ہے، مثلاً سورۂ مومن کے شروع میں فرمایا: «حٰمٓ (1) تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» ” {حٰمٓ۔} اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے، جو سب پر غالب، ہر چیز کو جاننے والا ہے۔“ سورۂ جاثیہ اور احقاف کے شروع میں فرمایا: «‏‏‏‏حٰمٓ (1) تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ» ‏‏‏‏ ” {حٰمٓ۔} اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ سورۂ یٰس کے شروع میں فرمایا: «‏‏‏‏تَنْزِيْلُ الْعَزِیْرِ الرَّحِیْمِ» ‏‏‏‏ ” یہ سب پر غالب، نہایت مہربان کا نازل کیا ہوا ہے۔“ سورۂ حٰم السجدہ کے شروع میں فرمایا: «‏‏‏‏حٰمٓ (1) تَنْزِيْلُ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ» ” {حٰمٓ۔} اس بے حد رحم والے، نہایت مہربان کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔“ ظاہر ہے اس میں قرآن مجید کے اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے کی تاکید ہے اور اس کی خوبی اور فضیلت کا بیان بھی، کیونکہ کلام کرنے والا جتنی اعلیٰ صفات والا ہو گا اس کا کلام بھی اتنا ہی اعلیٰ اور کامل ہوگا۔
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ فَاعۡبُدِ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ؕ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اے محمدؐ) یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے، لہٰذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو دین کو اُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کو کو پوجو نرے اس کے بندے ہوکر،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) بے شک ہم نے حق کے ساتھ یہ کتاب آپ کی طرف نازل کی ہے تو بس آپ اسی کی عبات کریں اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی، پس اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ تو دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باطل عقائد کی تردید ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ یہ قرآن عظیم اسی کا کلام ہے اور اسی کا اتارا ہوا ہے۔ اس کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّ‌وحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِ‌ينَ بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ» ۱؎ [26-الشعراء:195-192] ‏‏‏‏، ’ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔ جسے روح الامین لے کر اترا ہے۔ تیرے دل پر اترا ہے تاکہ تو آگاہ کرنے والابن جائے۔ صاف فصیح عربی زبان میں ہے ‘ اور آیتوں میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا بِالذِّكْرِ‌ لَمَّا جَاءَهُمْ وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:41-42] ‏‏‏‏ ’ یہ باعزت کتاب وہ ہے جس کے آگے یا پیچھے سے باطل آ ہی نہیں سکتا یہ حکمتوں والی تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اتری ہے ‘۔ یہاں فرمایا کہ ’ یہ کتاب بہت بڑے عزت والے اور حکمت والے اللہ کی طرف سے اتری ہے جو اپنے اقوال افعال شریعت تقدیر سب میں حکمتوں والا ہے۔ ہم نے تیری طرف اس کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ تجھے چاہیئے کہ خود اللہ کی عبادتوں میں اور اس کی توحید میں مشغول رہ کر ساری دنیا کو اسی طرف بلا، کیونکہ اس اللہ کے سوا کسی کی عبادت زیبا نہیں، وہ لاشریک ہے، وہ بے مثال ہے، اس کا شریک کوئی نہیں۔ دین خالص یعنی شہادت توحید کے لائق وہی ہے ‘۔

پھر مشرکوں کا ناپاک عقیدہ بیان کیا کہ ’ وہ فرشتوں کو اللہ کا مرقب جان کر ان کی خیالی تصویریں بنا کر ان کی پوجا پاٹ کرنے لگے یہ سمجھ کر یہ اللہ کے لاڈلے ہیں، ہمیں جلدی اللہ کا مقرب بنا دیں گے۔ پھر تو ہماری روزیوں میں اور ہرچیز میں خوب برکت ہو جائے گی ‘۔ یہ مطلب نہیں کہ قیامت کے روز ہمیں وہ نزدیکی اور مرتبہ دلوائیں گے۔ اس لیے کہ قیامت کے تو وہ قائل ہی نہ تھے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ انہیں اپنا سفارشی جانتے تھے۔ جاہلیت کے زمانہ میں حج کو جاتے تو وہاں لبیک پکارتے ہوئے کہتے «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَك إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَك تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» اللہ ہم تیرے پاس حاضر ہوئے۔ تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک جن کے اپنے آپ کا مالک بھی تو ہی ہے اور جو چیزیں ان کے ماتحت ہیں ان کا بھی حقیقی مالک تو ہی ہے۔ یہی شبہ اگلے پچھلے تمام مشرکوں کو رہا اور اسی کو تمام انبیاء علیہم السلام رد کرتے رہے اور صرف اللہ تعالیٰ واحد کی عبادت کی طرف انہیں بلاتے رہے۔ یہ عقیدہ مشرکوں نے بے دلیل گھڑ لیا تھا جس سے اللہ بیزار تھا۔ فرماتا ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہر امت میں ہم نے رسول بھیجے کہ تم اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو ‘ اور فرمایا «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] ‏‏‏‏، یعنی ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ معبود برحق صرف میں ہی ہوں پس تم سب میری ہی عبادت کرنا ‘۔ ساتھ ہی یہ بھی بیان فرمادیا کہ ’ آسمان میں جس قدر فرشتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی بڑے مرتبے والے کیوں نہ ہوں سب کے سب اس کے سامنے لاچار عاجز اور غلاموں کی مانند ہیں اتنا بھی تو اختیار نہیں کہ کسی کی سفارش میں لب ہلا سکیں ‘۔

یہ عقیدہ محض غلط ہے کہ وہ اللہ کے پاس ایسے ہیں جیسے بادشاہوں کے پاس امیر امراء ہوتے ہیں کہ جس کی وہ سفارش کر دیں اس کا کام بن جاتا ہے اس باطل اور غلط عقیدے سے یہ کہہ کر منع فرمایا کہ «‏‏‏‏فَلَا تَضْرِ‌بُوا لِلَّـهِ الْأَمْثَالَ إِنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [16-النحل:74] ‏‏‏‏ ’ اللہ کے سامنے مثالیں نہ بیان کیا کرو۔ اللہ اسے بہت بلند و بالا ہے ‘۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کا سچا فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا ان سب کو جمع کر کے فرشتوں سے سوال کرے گا کہ ’ کیا یہ لوگ تمہیں پوجتے تھے؟ ‘ وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے، یہ نہیں بلکہ ہمارا ولی تو تو ہی ہے یہ لوگ تو جنات کی پرستش کرتے تھے اور ان میں سے اکثر کا عقیدہ و ایمان انہی پر تھا۔ اللہ تعالیٰ انہیں راہ راست نہیں دکھاتا جن کا مقصود اللہ پر جھوٹ بہتان باندھنا ہو اور جن کے دل میں اللہ کی آیتوں، اس کی نشانیوں اور اس کی دلیلوں سے کفر بیٹھ گیا ہو۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے عقیدے کی نفی کی جو اللہ کی اولاد ٹھہراتے تھے مثلاً مشرکین مکہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ یہود کہتے تھے عزیز علیہ السلام اللہ کے لڑکے ہیں۔ عیسائی گمان کرتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ جیسا ان کا خیال ہے اگر یہی ہوتا تو اس امر کے خلاف ہوتا ‘، پس یہاں شرط نہ تو واقع ہونے کے لیے ہے نہ امکان کے لیے۔ بلکہ محال کے لیے ہے اور مقصد صرف ان لوگوں کی جہالت بیان کرنے کا ہے۔ جیسے فرمایا «لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:17] ‏‏‏‏، ’ اگر ہم ان بیہودہ باتوں کا ارادہ کرتے تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے‘۔ اور آیت میں ہے «قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:81] ‏‏‏‏ یعنی ’ کہدے کہ اگر رحمان کی اولاد ہوتی تو میں تو سب سے پہلے اس کا قائل ہوتا ‘۔ پس یہ سب آیتیں شرط کو محال کے ساتھ متعلق کرنے والی ہیں۔ امکان یا وقوع کے لیے نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ نہ یہ ہو سکتا ہے نہ وہ ہو سکتا ہے۔ اللہ ان سب باتوں سے پاک ہے وہ فرد احد، صمد اور واحد ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحت فرمانبردار عاجز محتاج فقیر بے کس اور بے بس ہے۔ وہ ہرچیز سے غنی ہے سب سے بےپرواہ ہے سب پر اس کی حکومت اور غلبہ ہے، ظالموں کے ان عقائد سے اور جاہلوں کی ان باتوں سے اس کی ذات مبرا و منزہ ہے۔
2۔ 1 یعنی اس میں توحید و رسالت، معاد اور احکام و فرائض کا جو اثبات کیا گیا ہے، وہ سب حق ہے اور انہی کے ماننے اور اختیار کرنے میں انسان کی نجات ہے۔ 2۔ 2 دین کے معنی یہاں عبادت اور اطاعت کے ہیں اور اخلاص کا مطلب ہے صرف اللہ کی رضا کی نیت سے نیک عمل کرنا۔ آیت، نیت کے وجوب اور اس کے اخلاص پر دلیل ہے۔ حدیث میں بھی اخلاص نیت کی اہمیت یہ کہہ کر واضح کردی گئی ہے کہ اِنَّمَا الاَعْمَال بالنِّیَّاتِ ' عملوں کا دارو مدار نیتوں پر ہے ' یعنی جو عمل خیر اللہ کی رضا کے لئے کیا جائے گا، (بشرطیکہ وہ سنت کے مطابق ہو) وہ مقبول اور جس عمل میں کسی اور جذبے کی آمیزش ہوگی، وہ نامقبول ہوگا۔
(آیت 2) ➊ { اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ:} ”حق“ وہ ہے جو واقعہ کے عین مطابق ہو۔ اس آیت میں قرآن مجید کی مزید خوبیاں بیان فرمائیں، ایک یہ کہ پچھلی آیت میں اس کتاب کو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ بیان فرمایا، اب یہی بات اپنا ذکر جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ کر کے فرمائی، جس سے مقصود اپنی اور اپنے کلام کی عظمت کا اظہار ہے۔ دوسری یہ کہ ہم نے اس کتاب کو تیری طرف حق کے ساتھ نازل کیا ہے، اس کی ہر بات درست ہے، کوئی بات واقعہ کے خلاف نہیں، اس لیے اس پر عمل لازم ہے۔ ➋ { فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ:} دین کا معنی عبادت اور اطاعت بھی ہے اور ایمان، اسلام اور احسان بھی، جیسا کہ حدیثِ جبریل میں ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے ہر قول و فعل میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا ارادہ اور نیت رکھے۔ شوکانی نے فرمایا، یہ آیت نیت کے ضروری ہونے کی دلیل ہے اور اس بات کی بھی کہ وہ ہر قسم کے شرک اور ریا کی ملاوٹ سے خالص ہونی چاہیے، کیونکہ اخلاص کا تعلق دل سے ہے اور صحیح حدیث میں ہے کہ تمام اقوال و افعال کا دارومدار نیت پر ہے، جیسا کہ فرمایا: [ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ] [ بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي…: ۱ ] ”تمام اعمال نیتوں ہی کے ساتھ معتبر ہیں۔“ دین کو اللہ کے لیے خالص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اللہ کی عبادت (بندگی) کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی شامل نہ کرے، بلکہ صرف اسی کی پرستش کرے، اسی کی ہدایت کی پیروی کرے اور اسی کے احکام پر عمل کرے۔
اَلَا لِلّٰہِ الدِّیۡنُ الۡخَالِصُ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ۘ مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ فِیۡ مَا ہُمۡ فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ۬ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
خبردار، دین خالص اللہ کا حق ہے رہے وہ لوگ جنہوں نے اُس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں (اور اپنے اِس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ) ہم تو اُن کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں، اللہ یقیناً اُن کے درمیان اُن تمام باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا
احمد رضا خان بریلوی
ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے اور وہ جنہوں نے اس کے سوا اور والی بنالیے کہتے ہیں ہم تو انہیں صرف اتنی بات کے لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے پاس نزدیک کردیں، اللہ ان پر فیصلہ کردے گا اس بات کا جس میں اختلاف کررہے ہیں بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو جھوٹا بڑا ناشکرا ہو
علامہ محمد حسین نجفی
خبردار! خالص دین صرف اللہ کیلئے ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا ولی و سرپرست بنائے ہیں اور (تاویل یہ کرتے ہیں کہ) ہم ان کی صرف اسی لئے عبادت کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کا مقرب بنا دیں گے۔ بے شک اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ان باتوں میں جن کے بارے میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ بے شک اللہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا (اور) بڑا ناشکرا ہو۔
عبدالسلام بن محمد
خبردار! خالص دین صرف اللہ ہی کا حق ہے اوروہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا اور حمایتی بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں، اچھی طرح قریب کرنا۔ یقیناً اللہ ان کے درمیان اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا ہو، بہت ناشکرا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باطل عقائد کی تردید ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ یہ قرآن عظیم اسی کا کلام ہے اور اسی کا اتارا ہوا ہے۔ اس کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّ‌وحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِ‌ينَ بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ» ۱؎ [26-الشعراء:195-192] ‏‏‏‏، ’ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔ جسے روح الامین لے کر اترا ہے۔ تیرے دل پر اترا ہے تاکہ تو آگاہ کرنے والابن جائے۔ صاف فصیح عربی زبان میں ہے ‘ اور آیتوں میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا بِالذِّكْرِ‌ لَمَّا جَاءَهُمْ وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:41-42] ‏‏‏‏ ’ یہ باعزت کتاب وہ ہے جس کے آگے یا پیچھے سے باطل آ ہی نہیں سکتا یہ حکمتوں والی تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اتری ہے ‘۔ یہاں فرمایا کہ ’ یہ کتاب بہت بڑے عزت والے اور حکمت والے اللہ کی طرف سے اتری ہے جو اپنے اقوال افعال شریعت تقدیر سب میں حکمتوں والا ہے۔ ہم نے تیری طرف اس کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ تجھے چاہیئے کہ خود اللہ کی عبادتوں میں اور اس کی توحید میں مشغول رہ کر ساری دنیا کو اسی طرف بلا، کیونکہ اس اللہ کے سوا کسی کی عبادت زیبا نہیں، وہ لاشریک ہے، وہ بے مثال ہے، اس کا شریک کوئی نہیں۔ دین خالص یعنی شہادت توحید کے لائق وہی ہے ‘۔

پھر مشرکوں کا ناپاک عقیدہ بیان کیا کہ ’ وہ فرشتوں کو اللہ کا مرقب جان کر ان کی خیالی تصویریں بنا کر ان کی پوجا پاٹ کرنے لگے یہ سمجھ کر یہ اللہ کے لاڈلے ہیں، ہمیں جلدی اللہ کا مقرب بنا دیں گے۔ پھر تو ہماری روزیوں میں اور ہرچیز میں خوب برکت ہو جائے گی ‘۔ یہ مطلب نہیں کہ قیامت کے روز ہمیں وہ نزدیکی اور مرتبہ دلوائیں گے۔ اس لیے کہ قیامت کے تو وہ قائل ہی نہ تھے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ انہیں اپنا سفارشی جانتے تھے۔ جاہلیت کے زمانہ میں حج کو جاتے تو وہاں لبیک پکارتے ہوئے کہتے «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَك إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَك تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» اللہ ہم تیرے پاس حاضر ہوئے۔ تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک جن کے اپنے آپ کا مالک بھی تو ہی ہے اور جو چیزیں ان کے ماتحت ہیں ان کا بھی حقیقی مالک تو ہی ہے۔ یہی شبہ اگلے پچھلے تمام مشرکوں کو رہا اور اسی کو تمام انبیاء علیہم السلام رد کرتے رہے اور صرف اللہ تعالیٰ واحد کی عبادت کی طرف انہیں بلاتے رہے۔ یہ عقیدہ مشرکوں نے بے دلیل گھڑ لیا تھا جس سے اللہ بیزار تھا۔ فرماتا ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہر امت میں ہم نے رسول بھیجے کہ تم اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو ‘ اور فرمایا «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] ‏‏‏‏، یعنی ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ معبود برحق صرف میں ہی ہوں پس تم سب میری ہی عبادت کرنا ‘۔ ساتھ ہی یہ بھی بیان فرمادیا کہ ’ آسمان میں جس قدر فرشتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی بڑے مرتبے والے کیوں نہ ہوں سب کے سب اس کے سامنے لاچار عاجز اور غلاموں کی مانند ہیں اتنا بھی تو اختیار نہیں کہ کسی کی سفارش میں لب ہلا سکیں ‘۔

یہ عقیدہ محض غلط ہے کہ وہ اللہ کے پاس ایسے ہیں جیسے بادشاہوں کے پاس امیر امراء ہوتے ہیں کہ جس کی وہ سفارش کر دیں اس کا کام بن جاتا ہے اس باطل اور غلط عقیدے سے یہ کہہ کر منع فرمایا کہ «‏‏‏‏فَلَا تَضْرِ‌بُوا لِلَّـهِ الْأَمْثَالَ إِنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [16-النحل:74] ‏‏‏‏ ’ اللہ کے سامنے مثالیں نہ بیان کیا کرو۔ اللہ اسے بہت بلند و بالا ہے ‘۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کا سچا فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا ان سب کو جمع کر کے فرشتوں سے سوال کرے گا کہ ’ کیا یہ لوگ تمہیں پوجتے تھے؟ ‘ وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے، یہ نہیں بلکہ ہمارا ولی تو تو ہی ہے یہ لوگ تو جنات کی پرستش کرتے تھے اور ان میں سے اکثر کا عقیدہ و ایمان انہی پر تھا۔ اللہ تعالیٰ انہیں راہ راست نہیں دکھاتا جن کا مقصود اللہ پر جھوٹ بہتان باندھنا ہو اور جن کے دل میں اللہ کی آیتوں، اس کی نشانیوں اور اس کی دلیلوں سے کفر بیٹھ گیا ہو۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے عقیدے کی نفی کی جو اللہ کی اولاد ٹھہراتے تھے مثلاً مشرکین مکہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ یہود کہتے تھے عزیز علیہ السلام اللہ کے لڑکے ہیں۔ عیسائی گمان کرتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ جیسا ان کا خیال ہے اگر یہی ہوتا تو اس امر کے خلاف ہوتا ‘، پس یہاں شرط نہ تو واقع ہونے کے لیے ہے نہ امکان کے لیے۔ بلکہ محال کے لیے ہے اور مقصد صرف ان لوگوں کی جہالت بیان کرنے کا ہے۔ جیسے فرمایا «لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:17] ‏‏‏‏، ’ اگر ہم ان بیہودہ باتوں کا ارادہ کرتے تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے‘۔ اور آیت میں ہے «قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:81] ‏‏‏‏ یعنی ’ کہدے کہ اگر رحمان کی اولاد ہوتی تو میں تو سب سے پہلے اس کا قائل ہوتا ‘۔ پس یہ سب آیتیں شرط کو محال کے ساتھ متعلق کرنے والی ہیں۔ امکان یا وقوع کے لیے نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ نہ یہ ہو سکتا ہے نہ وہ ہو سکتا ہے۔ اللہ ان سب باتوں سے پاک ہے وہ فرد احد، صمد اور واحد ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحت فرمانبردار عاجز محتاج فقیر بے کس اور بے بس ہے۔ وہ ہرچیز سے غنی ہے سب سے بےپرواہ ہے سب پر اس کی حکومت اور غلبہ ہے، ظالموں کے ان عقائد سے اور جاہلوں کی ان باتوں سے اس کی ذات مبرا و منزہ ہے۔
3۔ 1 یہ جھوٹ ہی ہے کہ ان معبودان باطلہ کے ذریعے سے ان کی رسائی اللہ تک ہوجائے گی یا یہ ان کی سفارش کریں گے اور اللہ کو چھوڑ کر بےاختیار لوگوں کو معبود سمجھنا بھی بہت بڑی ناشکری ہے ایسے جھوٹوں اور ناشکروں کو ہدایت کس طرح نصیب ہوسکتی ہے۔
(آیت 3) ➊ { اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ …:} یعنی اصل حقیقت تو یہی ہے کہ خالص عبادت اور اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مگر اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کو اپنا حمایتی اور مدد گار سمجھنے والے مشرک لوگ عموماً یہی کہا کرتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت انھیں خالق و مالک سمجھ کر نہیں کرتے، خالق و مالک اور اصل معبود تو ہم اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھتے ہیں، لیکن اس کی ذات بہت بلند ہے، ہماری وہاں رسائی نہیں ہو سکتی، اس لیے ہم ان ہستیوں کو ذریعہ بناتے ہیں اور انھیں پکارتے اور ان سے فریاد کرتے ہیں، تاکہ یہ ہماری حاجتیں اور دعائیں اللہ تعالیٰ سے پوری کروا دیں۔ کئی لوگ اس کے لیے چھت پر پہنچنے کے لیے سیڑھی کے ضروری ہونے کی مثال بیان کیا کرتے ہیں۔ ➋ { اِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ …:} ایک اللہ کو پکارنے اور اس کی عبادت کرنے والے تو ایک ہی معبود پر متفق ہیں مگر اس کے سوا دوسری ہستیوں کو پکارنے والوں کا کسی ایک ہستی پر اتفاق نہیں، کوئی کسی کو پکارتا ہے اور کوئی کسی کو، کیونکہ کسی کے پاس اس بات کی دلیل نہیں، نہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ فلاں ہستی کو فلاں کام کا اختیار ہے، یا وہ اللہ تعالیٰ سے فلاں فلاں کام کروا سکتا ہے۔ مشرکین محض گمان کی بنا پر انھیں پوجتے جا رہے ہیں اور ہر ایک اپنے اپنے گمان کے مطابق کسی نہ کسی داتا، دستگیر، مشکل کُشا یا حاجت روا کو پکار تا چلا جا رہا ہے۔ مشرکین کی یہ بات چونکہ بالکل ہی بودی اور بے کار ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا رد کرنے کے بجائے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن موحّدوں اور ان مشرکین کے درمیان اور مشرکوں کے مختلف گروہوں کے باہمی اختلاف میں حق بات کا فیصلہ فرمائے گا۔ ➌ { اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ:} اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے لیے دو لفظ استعمال فرمائے ہیں، ایک {” كٰذِبٌ “} اور دوسرا {” كَفَّارٌ “}۔ {” كٰذِبٌ “} اس لیے کہ اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں کہ ایسی کوئی ہستی موجود ہے جس کی پرستش سے، یا اسے پکارنے سے اللہ تعالیٰ کا قُرب حاصل ہو جاتا ہے اور {” كَفَّارٌ “} (بہت ناشکرا) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کی دعا خود سنتا اور قبول کرتا ہے، لیکن کس قدر نا شکرے ہیں وہ لوگ جو اس کی اس نعمت کی ناشکری کرتے ہوئے اس کے بجائے بے اختیار ہستیوں کو پکارتے اور ان کی پرستش کرتے ہیں اور اس کے لیے سیڑھی وغیرہ کی مثالیں بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتا ہے، میں قریب ہوں اور یہ کہتے ہیں کہ اس تک رسائی کے لیے واسطے ضروری ہیں۔
لَوۡ اَرَادَ اللّٰہُ اَنۡ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصۡطَفٰی مِمَّا یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ۙ سُبۡحٰنَہٗ ؕ ہُوَ اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا برگزیدہ کر لیتا، پاک ہے وہ اس سے (کہ کوئی اُس کا بیٹا ہو)، وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر اللہ تعالیٰ کااراده اوﻻد ہی کا ہوتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا۔ (لیکن) وه تو پاک ہے، وه وہی اللہ تعالیٰ ہے یگانہ اور قوت واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
اللہ اپنے لیے بچہ بناتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا پاکی ہے اسے وہی ہے ایک اللہ سب پر غالب،
علامہ محمد حسین نجفی
اگر اللہ چاہتا کہ (کسی کو) اپنا بیٹا بنائے تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کر لیتا وہ اس سے پاک ہے وہی اللہ ہے جو یکتا (اور سب پر) غالب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اگر اللہ چاہتا کہ (کسی کو) اولاد بنائے تو ان میں سے جنھیں وہ پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ضرور چن لیتا، وہ پاک ہے۔ وہ تو اللہ ہے، جو اکیلا ہے، بہت غلبے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باطل عقائد کی تردید ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ یہ قرآن عظیم اسی کا کلام ہے اور اسی کا اتارا ہوا ہے۔ اس کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّ‌وحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِ‌ينَ بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ» ۱؎ [26-الشعراء:195-192] ‏‏‏‏، ’ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔ جسے روح الامین لے کر اترا ہے۔ تیرے دل پر اترا ہے تاکہ تو آگاہ کرنے والابن جائے۔ صاف فصیح عربی زبان میں ہے ‘ اور آیتوں میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا بِالذِّكْرِ‌ لَمَّا جَاءَهُمْ وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:41-42] ‏‏‏‏ ’ یہ باعزت کتاب وہ ہے جس کے آگے یا پیچھے سے باطل آ ہی نہیں سکتا یہ حکمتوں والی تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اتری ہے ‘۔ یہاں فرمایا کہ ’ یہ کتاب بہت بڑے عزت والے اور حکمت والے اللہ کی طرف سے اتری ہے جو اپنے اقوال افعال شریعت تقدیر سب میں حکمتوں والا ہے۔ ہم نے تیری طرف اس کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ تجھے چاہیئے کہ خود اللہ کی عبادتوں میں اور اس کی توحید میں مشغول رہ کر ساری دنیا کو اسی طرف بلا، کیونکہ اس اللہ کے سوا کسی کی عبادت زیبا نہیں، وہ لاشریک ہے، وہ بے مثال ہے، اس کا شریک کوئی نہیں۔ دین خالص یعنی شہادت توحید کے لائق وہی ہے ‘۔

پھر مشرکوں کا ناپاک عقیدہ بیان کیا کہ ’ وہ فرشتوں کو اللہ کا مرقب جان کر ان کی خیالی تصویریں بنا کر ان کی پوجا پاٹ کرنے لگے یہ سمجھ کر یہ اللہ کے لاڈلے ہیں، ہمیں جلدی اللہ کا مقرب بنا دیں گے۔ پھر تو ہماری روزیوں میں اور ہرچیز میں خوب برکت ہو جائے گی ‘۔ یہ مطلب نہیں کہ قیامت کے روز ہمیں وہ نزدیکی اور مرتبہ دلوائیں گے۔ اس لیے کہ قیامت کے تو وہ قائل ہی نہ تھے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ انہیں اپنا سفارشی جانتے تھے۔ جاہلیت کے زمانہ میں حج کو جاتے تو وہاں لبیک پکارتے ہوئے کہتے «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَك إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَك تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» اللہ ہم تیرے پاس حاضر ہوئے۔ تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک جن کے اپنے آپ کا مالک بھی تو ہی ہے اور جو چیزیں ان کے ماتحت ہیں ان کا بھی حقیقی مالک تو ہی ہے۔ یہی شبہ اگلے پچھلے تمام مشرکوں کو رہا اور اسی کو تمام انبیاء علیہم السلام رد کرتے رہے اور صرف اللہ تعالیٰ واحد کی عبادت کی طرف انہیں بلاتے رہے۔ یہ عقیدہ مشرکوں نے بے دلیل گھڑ لیا تھا جس سے اللہ بیزار تھا۔ فرماتا ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہر امت میں ہم نے رسول بھیجے کہ تم اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو ‘ اور فرمایا «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] ‏‏‏‏، یعنی ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ معبود برحق صرف میں ہی ہوں پس تم سب میری ہی عبادت کرنا ‘۔ ساتھ ہی یہ بھی بیان فرمادیا کہ ’ آسمان میں جس قدر فرشتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی بڑے مرتبے والے کیوں نہ ہوں سب کے سب اس کے سامنے لاچار عاجز اور غلاموں کی مانند ہیں اتنا بھی تو اختیار نہیں کہ کسی کی سفارش میں لب ہلا سکیں ‘۔

یہ عقیدہ محض غلط ہے کہ وہ اللہ کے پاس ایسے ہیں جیسے بادشاہوں کے پاس امیر امراء ہوتے ہیں کہ جس کی وہ سفارش کر دیں اس کا کام بن جاتا ہے اس باطل اور غلط عقیدے سے یہ کہہ کر منع فرمایا کہ «‏‏‏‏فَلَا تَضْرِ‌بُوا لِلَّـهِ الْأَمْثَالَ إِنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [16-النحل:74] ‏‏‏‏ ’ اللہ کے سامنے مثالیں نہ بیان کیا کرو۔ اللہ اسے بہت بلند و بالا ہے ‘۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کا سچا فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا ان سب کو جمع کر کے فرشتوں سے سوال کرے گا کہ ’ کیا یہ لوگ تمہیں پوجتے تھے؟ ‘ وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے، یہ نہیں بلکہ ہمارا ولی تو تو ہی ہے یہ لوگ تو جنات کی پرستش کرتے تھے اور ان میں سے اکثر کا عقیدہ و ایمان انہی پر تھا۔ اللہ تعالیٰ انہیں راہ راست نہیں دکھاتا جن کا مقصود اللہ پر جھوٹ بہتان باندھنا ہو اور جن کے دل میں اللہ کی آیتوں، اس کی نشانیوں اور اس کی دلیلوں سے کفر بیٹھ گیا ہو۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے عقیدے کی نفی کی جو اللہ کی اولاد ٹھہراتے تھے مثلاً مشرکین مکہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ یہود کہتے تھے عزیز علیہ السلام اللہ کے لڑکے ہیں۔ عیسائی گمان کرتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ جیسا ان کا خیال ہے اگر یہی ہوتا تو اس امر کے خلاف ہوتا ‘، پس یہاں شرط نہ تو واقع ہونے کے لیے ہے نہ امکان کے لیے۔ بلکہ محال کے لیے ہے اور مقصد صرف ان لوگوں کی جہالت بیان کرنے کا ہے۔ جیسے فرمایا «لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:17] ‏‏‏‏، ’ اگر ہم ان بیہودہ باتوں کا ارادہ کرتے تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے‘۔ اور آیت میں ہے «قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:81] ‏‏‏‏ یعنی ’ کہدے کہ اگر رحمان کی اولاد ہوتی تو میں تو سب سے پہلے اس کا قائل ہوتا ‘۔ پس یہ سب آیتیں شرط کو محال کے ساتھ متعلق کرنے والی ہیں۔ امکان یا وقوع کے لیے نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ نہ یہ ہو سکتا ہے نہ وہ ہو سکتا ہے۔ اللہ ان سب باتوں سے پاک ہے وہ فرد احد، صمد اور واحد ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحت فرمانبردار عاجز محتاج فقیر بے کس اور بے بس ہے۔ وہ ہرچیز سے غنی ہے سب سے بےپرواہ ہے سب پر اس کی حکومت اور غلبہ ہے، ظالموں کے ان عقائد سے اور جاہلوں کی ان باتوں سے اس کی ذات مبرا و منزہ ہے۔
4۔ 1 یعنی پھر اس کی اولاد لڑکیاں ہی کیوں ہوتیں؟ جس طرح مشرکین کا عقیدہ تھا۔ بلکہ وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو پسند کرتا، وہ اس کی اولاد ہوتی، نہ کہ وہ جن کو وہ باور کراتے ہیں، لیکن وہ تو اس نقص سے ہی پاک ہے۔ (ابن کثیر
(آیت4) ➊ {لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا …:} اس آیت میں مشرکین کے ایک اور شرک یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد کی نفی فرمائی ہے، کیونکہ ان میں سے بعض عزیر علیہ السلام کو اور بعض عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے تھے اور بعض فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ظاہر ہے اولاد دو طرح کی ہو سکتی ہے، ایک حقیقی اولاد۔ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے عقلاً محال ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَ هُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» ‏‏‏‏ [ الأنعام: ۱۰۱ ] ”اس کی اولاد کیسے ہو گی، جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔“ یعنی اللہ کی کوئی بیوی نہیں اور بیوی کے بغیر اولاد محال ہے، پھر ہر چیز اس کی مخلوق ہے اور اولاد والد کی مخلوق نہیں بلکہ اس کی ہم جنس ہوتی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی کو اپنی منہ بولی اولاد بنا لینا ہے۔ فرمایا، اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنی اولاد بنانا چاہتا تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا اس کے لیے چن لیتا، نہ کہ یہ معاملہ ان مشرکوں اور گمراہ یہود و نصاریٰ پر چھوڑ دیتا، مگر نہ اس نے یہ چاہا اور نہ کسی کو اولاد بنایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے یہ ارادہ کرنا ممکن ہی نہیں۔ یہاں {” لَوْ “} کا لفظ تعلیق بالمحال کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسا کہ فرمایا: «لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۱۷ ] ”اگر ہم چاہتے کہ کوئی کھیل بنائیں تو یقینا اسے اپنے پاس سے بنالیتے، اگر ہم کرنے والے ہوتے۔“ ➋ { سُبْحٰنَهٗ:} یہ اللہ تعالیٰ کے کسی کو اولاد نہ بنانے کی دلیل ہے۔ دوسری جگہ یہ دلیل تفصیل سے بیان فرمائی ہے: «وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ بَلْ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ» [ البقرۃ: ۱۱۶ ] ”اور انھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے، وہ پاک ہے، بلکہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔“ اس آیت میں تین طرح سے اللہ تعالیٰ کے کسی کو اولاد بنانے کا رد ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۱۶)۔ ➌ { هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ:} اللہ تعالیٰ نے کسی کو اولاد بنانے کی نفی کرتے ہوئے پہلے اپنا ذاتی نام {” اللّٰهُ “} ذکر فرمایا، پھر اپنی صفت {” الْوَاحِدُ “} بیان فرمائی کہ جس کی تم اولاد بتا رہے ہو وہ انسان یا کوئی مخلوق نہیں بلکہ اللہ ہے، جو اصل میں {”اَلْاِلٰهُ“} ہے، یعنی وہ معبود ہے، باقی سب عبد ہیں۔ تو جو عبد ہے وہ اس کی اولاد کیسے ہو سکتا ہے؟ {” الْوَاحِدُ “} اور {” الْقَهَّارُ “} پر الف لام کی وجہ سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، یعنی وہی واحد ہے، اس کے سوا کوئی واحد نہیں، اس کا ایک ہو نا کسی کو اولاد بنانے کے منافی ہے، کیونکہ اولاد اولاد بنانے والے کی جنس ہوتی ہے، جیسا کہ انسان کسی انسان ہی کو اولاد بنا سکتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی کوئی جنس نہیں، کیونکہ وہ ہے ہی اکیلا، تو کوئی اس کی اولاد کیسے بن گیا؟ ➍ { الْقَهَّارُ:} اور وہی قہار ہے، اس سے اولاد کی اور ہر قسم کے شریک کی نفی ہو گئی، کیونکہ ہر چیز اس کی مقہور ہے۔ وہ سب پر قاہر اور غالب ہی نہیں بلکہ قہار اور زبردست غالب ہے، جب کہ باپ اور بیٹے کا معاملہ ایسا نہیں ہوتا۔ اگلی آیات میں اپنی وحدانیت اور قدرت و عظمت پر دلالت کرنے والی کئی اور چیزیں بیان فرمائیں۔
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ۚ یُکَوِّرُ الَّیۡلَ عَلَی النَّہَارِ وَ یُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیۡلِ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ کُلٌّ یَّجۡرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ اَلَا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفَّارُ ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے وہی دن پر رات اور رات پر دن کو لپیٹتا ہے اُسی نے سورج اور چاند کو اس طرح مسخر کر رکھا ہے کہ ہر ایک ایک وقت مقرر تک چلے جا رہا ہے جان رکھو، وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
نہایت اچھی تدبیر سے اس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا وه رات کو دن اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ہر ایک مقرره مدت تک چل رہا ہے یقین مانو کہ وہی زبردست اور گناہوں کا بخشنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس نے آسمان اور زمین حق بنائے رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگایا ہر ایک، ایک ٹھہرائی میعاد کے لیے چلتا ہے سنتا ہے وہی صاحب عزت بخشنے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے آسمانوں اور زمین کو حق (حکمت) کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو (اس طرح) مسخر کر رکھا ہے کہ ہر ایک ایک مقررہ مدت تک رواں دواں ہے آگاہ ہو جاؤ کہ وہ (سب پر) غالب ہے (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے آسمانوںکو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو تابعکر رکھا ہے، ہر ایک ایک مقرر وقت کے لیے چل رہا ہے۔ سن لو! وہی سب پر غالب، نہایت بخشنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیقِ کائنات اور عقیدہ توحید ٭٭

ہر چیز کا خالق، سب کا مالک، سب پر حکمران اور سب کا قابض اللہ ہی ہے۔ دن رات کا الٹ پھیر اسی کے ہاتھ ہے اسی کے حکم سے انتظام کے ساتھ دن رات ایک دوسرے کے پیچھے برابر مسلسل چلے آ رہے ہیں۔ نہ وہ آگے بڑھ سکے نہ وہ پیچھے رہ سکے۔ سورج چاند کو اس نے مسخر کر رکھا ہے وہ اپنے دورے کو پورا کر رہے ہیں قیامت تک اس انتظام میں تم کوئی فرق نہ پاؤ گے۔ وہ عزت و عظمت والا کبریائی اور رفعت والا ہے۔ گنہگاروں کا بخشنہار، عاصیوں پر مہربان وہی ہے۔ تم سب کو اس نے ایک ہی شخص یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے پھر دیکھو کہ تمہارے آپس میں کس قدر اختلاف ہے۔ رنگ صورت آواز بول چال زبان و بیان ہر ایک الگ الگ ہے۔ آدم علیہ السلام سے ہی ان کی بیوی صاحبہ حواء رضی اللہ عنہا کو پیدا کیا۔

جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا» ۱؎ [4-النسأ:1] ‏‏‏‏ ’ لوگو! اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے جس نے تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کیا پھر بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اس نے تمہارے لیے آٹھ نر و مادہ چوپائے پیدا کئے ‘ جن کا بیان سورۃ الأنعام کی آیات «مِنَ الضَّاْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ» الخ ۱؎ [6-الأنعام:143-144] ‏‏‏‏، میں ہے۔ یعنی بھیڑ، بکری، اونٹ گائے۔ ’ وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے جہاں تمہاری مختلف پیدائشیں ہوتی رہتی ہیں‘۔ «ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [23-المؤمنون:14] ‏‏‏‏ ’ پہلے نطفہ، پھر خون بستہ، پھر لوتھڑا، پھر گوشت پوست، ہڈی، رگ، پٹھے، پھر روح، غور کرو کہ وہ کتنا اچھا خالق ہے ‘، تین تین اندھیرے مرحلوں میں تمہاری یہ طرح طرح کی تبدیلیوں کی پیدائش کا ہیر پھیر ہوتا رہتا ہے رحم کی اندھیری اس کے اوپر کی جھلی کی اندھیری اور پیٹ کا اندھیرا یہ جس نے آسمان و زمین کو اور خود تم کو اور تمہارے اگلوں پچھلوں کو پیدا کیا ہے۔ وہی رب ہے اسی کا مالک ہے۔ وہی سب میں متصرف ہے وہی لائق عبادت ہے اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ افسوس نہ جانیں تمہاری عقلیں کہاں گئیں کہ تم اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 5) ➊ {خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ:} یعنی اس نے آسمانوں کو اور زمین کو بالکل درست اور صحیح طریقے پر بنایا ہے۔ کوئی شخص اس کی کسی چیز کو غلط نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی اس سے بہتر پیش کر سکتا ہے، اور اس نے انھیں خاص مقصد اور مصلحت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۷۳)، یونس (۵)، حجر (۸۵) اور نحل (۳)۔ ➋ { يُكَوِّرُ الَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ …: ”كَوْرُ الْعِمَامَةِ وَ تَكْوِيْرُهَا“} پگڑی لپیٹنا۔ اس آیت میں زمین کے گول ہونے کا بھی اشارہ ہے، یعنی جس طرح سر پر پگڑی لپیٹی جاتی ہے کہ اس کے ایک پیچ کے اوپر دوسرا پیچ آ جاتا ہے، جو پہلے پیچ کو چھپا لیتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ زمین کے اوپر رات کو کسی وقفے کے بغیر دن پر لپیٹتا ہے، جیسے جیسے رات کا پیچ آگے بڑھتا ہے روشنی چھپتی جاتی ہے اور تاریکی پھیلتی جاتی ہے، اس کے پیچھے دن کا پیچ سورج کی صورت میں پھیلتا چلا آتا ہے، جس سے رات کی تاریکی چھپ کر روشنی پھیلتی جاتی ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۵۴)۔ ➌ { وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ رعد (۲)۔ ➍ { اَلَا هُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفَّارُ:} لفظ {” اَلَا “} اس مقصد کے لیے ہے کہ اس آیت کے مضمون پر خوب غور کرو اور اس پر خاص توجہ دو۔ {” الْعَزِيْزُ “} یعنی وہ جس نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا، جو رات کو دن پر لپیٹتا اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے، وہی سب پر غالب ہے، کسی میں طاقت نہیں کہ وہ جو کرنا چاہے اسے روک دے اور جسے روکنا چاہے وہ کر گزرے۔ {” الْغَفَّارُ “ } یعنی اتنے غلبے اور قوت کے باوجود اس نے اپنے نافرمانوں کو جو مہلت دے رکھی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے پناہ غلبے کے ساتھ ساتھ بندوں کے گناہوں پر نہایت پردہ ڈالنے والا اور بے حد بخشنے والا بھی ہے۔
خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَ اَنۡزَلَ لَکُمۡ مِّنَ الۡاَنۡعَامِ ثَمٰنِیَۃَ اَزۡوَاجٍ ؕ یَخۡلُقُکُمۡ فِیۡ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ خَلۡقًا مِّنۡۢ بَعۡدِ خَلۡقٍ فِیۡ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ لَہُ الۡمُلۡکُ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ فَاَنّٰی تُصۡرَفُوۡنَ ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر وہی ہے جس نے اُس جان سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نر و مادہ پیدا کیے وہ تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے یہی اللہ (جس کے یہ کام ہیں) تمہارا رب ہے، بادشاہی اسی کی ہے، کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے، پھر تم کدھر سے پھرائے جا رہے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے، پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور تمہارے لئے چوپایوں میں سے (آٹھ نر وماده) اتارے وه تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ پر بناتا ہے تین تین اندھیروں میں، یہی اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے اسی کے لئے بادشاہت ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں بہک رہے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اس نے تمہیں ایک جان سے بنایا پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے تھے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں بناتا ہے ایک طرح کے بعد اور طرح تین اندھیریوں میں یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، پھر کہیں پھیرے جاتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے تم (سب) کو ایک نفس سے پیدا کیا پھر اسی (کی جنس) سے اس کا جوڑا (شریک حیات) پیدا کیا اور پھر تمہارے لئے (تعداد میں) چوپایوں کے آٹھ جوڑے پیدا کئے وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں (تدریجاً) پیدا کرتا ہے۔ ایک خلقت کے بعد دوسری خلقت تین تاریک پردوں میں یہ اللہ تمہارا پروردگار ہے اسی کی حکومت ہے اس کے سوا کوئی الٰہ (خدا) نہیں ہے تم کدھر پھیرے جاتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
اس نے تمھیں ایک جا ن سے پیدا کیا، پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا اور تمھارے لیے چوپاؤں میں سے آٹھ قسمیں (نر و مادہ)اتاریں۔ وہ تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں میں، تین اندھیروں میں، ایک پیدائش کے بعد دوسری پیدائش میں پیدا کرتا ہے۔ یہی اللہ تمھارا رب ہے، اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کس طرح پھیرے جاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیقِ کائنات اور عقیدہ توحید ٭٭

ہر چیز کا خالق، سب کا مالک، سب پر حکمران اور سب کا قابض اللہ ہی ہے۔ دن رات کا الٹ پھیر اسی کے ہاتھ ہے اسی کے حکم سے انتظام کے ساتھ دن رات ایک دوسرے کے پیچھے برابر مسلسل چلے آ رہے ہیں۔ نہ وہ آگے بڑھ سکے نہ وہ پیچھے رہ سکے۔ سورج چاند کو اس نے مسخر کر رکھا ہے وہ اپنے دورے کو پورا کر رہے ہیں قیامت تک اس انتظام میں تم کوئی فرق نہ پاؤ گے۔ وہ عزت و عظمت والا کبریائی اور رفعت والا ہے۔ گنہگاروں کا بخشنہار، عاصیوں پر مہربان وہی ہے۔ تم سب کو اس نے ایک ہی شخص یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے پھر دیکھو کہ تمہارے آپس میں کس قدر اختلاف ہے۔ رنگ صورت آواز بول چال زبان و بیان ہر ایک الگ الگ ہے۔ آدم علیہ السلام سے ہی ان کی بیوی صاحبہ حواء رضی اللہ عنہا کو پیدا کیا۔

جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا» ۱؎ [4-النسأ:1] ‏‏‏‏ ’ لوگو! اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے جس نے تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کیا پھر بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اس نے تمہارے لیے آٹھ نر و مادہ چوپائے پیدا کئے ‘ جن کا بیان سورۃ الأنعام کی آیات «مِنَ الضَّاْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ» الخ ۱؎ [6-الأنعام:143-144] ‏‏‏‏، میں ہے۔ یعنی بھیڑ، بکری، اونٹ گائے۔ ’ وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے جہاں تمہاری مختلف پیدائشیں ہوتی رہتی ہیں‘۔ «ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [23-المؤمنون:14] ‏‏‏‏ ’ پہلے نطفہ، پھر خون بستہ، پھر لوتھڑا، پھر گوشت پوست، ہڈی، رگ، پٹھے، پھر روح، غور کرو کہ وہ کتنا اچھا خالق ہے ‘، تین تین اندھیرے مرحلوں میں تمہاری یہ طرح طرح کی تبدیلیوں کی پیدائش کا ہیر پھیر ہوتا رہتا ہے رحم کی اندھیری اس کے اوپر کی جھلی کی اندھیری اور پیٹ کا اندھیرا یہ جس نے آسمان و زمین کو اور خود تم کو اور تمہارے اگلوں پچھلوں کو پیدا کیا ہے۔ وہی رب ہے اسی کا مالک ہے۔ وہی سب میں متصرف ہے وہی لائق عبادت ہے اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ افسوس نہ جانیں تمہاری عقلیں کہاں گئیں کہ تم اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔
6۔ 1 یعنی حضرت آدم ؑ سے، جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا اور اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی تھی۔ 6۔ 2 یعنی حضرت حوا کو حضرت آدم ؑ کی بائیں پسلی سے پیدا فرمایا اور یہ بھی اس کا کمال قدرت ہے کیونکہ حضرت حوا کے علاوہ کسی بھی عورت کی تخلیق، کسی آدمی کی پسلی سے نہیں ہوئی۔ یوں یہ تخلیق امر عادی کے خلاف اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ 6۔ 3 یہ وہی چار قسم کے جانوروں کا بیان ہے بھیڑ، بکری، اونٹ، گائے، جو نر اور مادہ مل کر آٹھ ہوجاتے ہیں جن کا ذکر سورة انعام میں گزر چکا ہے۔ 6۔ 4 یعنی رحم مادر میں مختلف اطوار گزارتا ہے، پہلے، نطفہ، پھر عَلَقَۃَ پھر مُضْغَۃَ پھر ہڈیوں کا ڈھانچہ، جس کے اوپر گوشت کا لباس۔ ان کے تمام مراحل سے گزرنے کے بعد انسان کامل تیار ہوتا ہے۔ 6۔ 5 ایک ماں کے پیٹ کا اندھیرا اور دوسرا رحم مادر کا اندھیرا اور تیسرا اس جھلی یا پردہ جس کے اندر بچہ لپٹا ہوتا ہے۔ 6۔ 6 یا کیوں تم حق سے باطل کی طرف اور ہدایت سے گمراہی کی طرف پھر رہے ہو؟
(آیت 6) ➊ { خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی پہلی آیت۔ ➋ { وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ:} یہ بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت و عظمت کی دلیل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۴۳، ۱۴۴) جانوروں کی آٹھ قسمیں پیدا کرنے کے لیے {” اَنْزَلَ “} (اتارا) کا لفظ یہ توجہ دلانے کے لیے ہے کہ تمھیں ملنے والی نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ» [الذاریات: ۲۲ ] ”اور آسمان ہی میں تمھارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔“ بے شمار جانوروں میں سے خاص طور پر ان جانوروں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ زیادہ تر یہی جانور لوگوں کے کھانے پینے، پہننے اور دوسری ضروریات میں استعمال ہوتے ہیں۔ لوہا بھی چونکہ انسانی ضروریات میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اس کے لیے بھی یہی الفاظ استعمال فرمائے: «‏‏‏‏وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ» [ الحدید: ۲۵ ] ”اور ہم نے لوہا اتارا جس میں سخت لڑائی (کا سامان) ہے اور لوگوں کے لیے بہت سے فائدے ہیں۔“ ➌ { يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ:} ایک پیدائش کے بعد دوسری پیدائش سے مراد نطفے سے لے کر مکمل انسان تک کے سارے مراحل ہیں۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۱۲ تا ۱۴)۔ ➍ { فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ:} اس سے مراد پیٹ کی تاریکی، رحم کی تاریکی اور اس جھلی کی تاریکی ہے جو بچے کے اوپر لپٹی ہوتی ہے۔ ماؤں کے پیٹوں میں اتنی تاریکیوں کے اندر تمھاری مختلف مرحلوں میں پیدائش، وہیں تمھارے لیے ہر ضرورت مہیا کرنا اور ہر صدمے اور چوٹ سے محفوظ رکھنا، پھر خیریت سے اس دنیا میں لے آنا اس ذات واحد ہی کی کاری گری ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ مرسلات (۲۰ تا ۲۳) اور سورۂ عبس (۱۷ تا ۲۰)۔ ➎ { ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ …:} یعنی جب تمھارا رب اللہ تعالیٰ ہے اور سب بادشاہی اسی کی ہے تو لازماً تمھارا الٰہ (معبود) بھی وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور کس طرح الٰہ ہو سکتا ہے، جو نہ تمھارا خالق، نہ مالک، نہ پروردگار، نہ بادشاہ اور نہ ہی اس کا ان کاموں میں کوئی حصہ، پھر تم ایسے معبود بنا کر کس طرح اور کدھر پھیرے جاتے ہو؟ معلوم ہوا انسان کی اصل فطرت توحید کا عقیدہ ہے۔ اس سے ہٹانے والا شیطان ہوتا ہے یا دوسرے لوگ جو اسے غلط راستے کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ اس میں آدمی کی غیرت کو ابھارا ہے کہ اپنی عقل اور اپنی مرضی استعمال کرنے کے بجائے اندھا دھند دوسروں کے کہنے پر غلط راستے پر جا رہے ہو، کچھ تو سوچو کہ تمھیں سیدھے راستے سے کس طرح ہٹایا اور کدھر کو لے جایا جا رہا ہے؟
اِنۡ تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنۡکُمۡ ۟ وَ لَا یَرۡضٰی لِعِبَادِہِ الۡکُفۡرَ ۚ وَ اِنۡ تَشۡکُرُوۡا یَرۡضَہُ لَکُمۡ ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ مَّرۡجِعُکُمۡ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کر و تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا آخرکار تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تم (سب سے) بے نیاز ہے، اور وه اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وه اسے تمہارے لئے پسند کرے گا۔ اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم سب کا لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔ تمہیں وه بتلا دے گا جو تم کرتے تھے۔ یقیناً وه دلوں تک کی باتوں کا واقف ہے
احمد رضا خان بریلوی
اگر تم ناشکری کرو تو بیشک اللہ بے نیاز ہے تم سے اور اپنے بندوں کی ناشکری اسے پسند نہیں، اور اگر شکر کرو تو اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف پھرنا ہے تو وہ تمہیں بتادے گا جو تم کرتے تھے بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اگر تم کفر (انکار و ناشکری کرو) تو بے شک وہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کیلئے (ناشکراپن) پسند نہیں کرتا اور اللہ کا تم شکر ادا کرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور پھر تم سب کی بازگشت تمہارے پروردگار کی طرف ہے وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو بے شک وہ سینوں کے رازوں کو جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اگر تم نا شکری کر و تو یقینا اللہ تم سے بہت بے پروا ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیںکرتااوراگر تم شکر کرو تووہ اسے تمھارے لیے پسندکرے گا اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، پھر تمھارا لوٹنا تمھارے رب ہی کی طرف ہے تو وہ تمھیں بتلائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ یقینا وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے اور اللہ سب سے بے نیاز ہے ‘۔ موسیٰ علیہ السلام کا فرمان قرآن میں منقول ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:8] ‏‏‏‏ ’ اگر تم اور روئے زمین کے سب جاندار اللہ سے کفر کرو تو اللہ کا کوئی نقصان نہیں وہ ساری مخلوق سے بےپرواہ اور پوری تعریفوں والا ہے ‘۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { اے میرے بندو! تمہارے سب اول و آخر انسان و جن مل ملا کر بدترین شخص کا سا دل بنا لو تو میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں آئے گی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2577] ‏‏‏‏ ہاں اللہ تمہاری ناشکری سے خوش نہیں نہ وہ اس کا تمہیں حکم دیتا ہے اور اگر تم اس کی شکر گزاری کرو گے تو وہ اس پر تم سے رضامند ہو جائے گا اور تمہیں اپنی اور نعمتیں عطا فرمائے گا۔ ہر شخص وہی پائے گا جو اس نے کیا ہو ایک کے بدلے دوسرا پکڑا نہ جائے گا اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ انسان کو دیکھو کہ اپنی حاجت کے وقت تو بہت ہی عاجزی انکساری سے اللہ کو پکارتا ہے اور اس سے فریاد کرتا رہتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:67] ‏‏‏‏، یعنی ’ جب دریا اور سمندر میں ہوتے ہیں اور وہاں کوئی آفت آتی دیکھتے ہیں تو جن جن کو اللہ کے سوا پکارتے تھے سب کو بھول جاتے ہیں اور خالص اللہ کو پکارنے لگتے ہیں لیکن نجات پاتے ہی منہ پھیر لیتے ہیں انسان ہے ہی ناشکرا ‘۔

پس فرماتا ہے کہ ’ جہاں دکھ درد ٹل گیا پھر تو ایسا ہو جاتا ہے گویا مصیبت کے وقت اس نے ہمیں پکارا ہی نہ تھا اس دعا اور گریہ و زاری کو بالکل فراموش کر جاتا ہے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَّسَّهُ» ۱؎ [10-يونس:12] ‏‏‏‏، یعنی ’ تکلیف کے وقت تو انسان ہمیں اٹھتے بیٹھتے لیٹتے ہر وقت بڑی حضور قلبی سے پکارتا رہتا ہے لیکن اس تکلیف کے ہٹتے ہی وہ بھی ہم سے ہٹ جاتا ہے گویا اس نے دکھ درد کے وقت ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ بلکہ عافیت کے وقت اللہ کے ساتھ شریک کرنے لگتا ہے ‘۔ پس اللہ فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگ اپنے کفر سے گو کچھ یونہی سا فائدہ اٹھا لیں ‘۔ اس میں ڈانٹ ہے اور سخت دھمکی ہے جیسے فرمایا «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» ۱؎ [14-ابراھیم:30] ‏‏‏‏ ’ کہدیجئیے کہ فائدہ حاصل کر لو آخری جگہ تو تمہاری جہنم ہی ہے ‘،اور فرمان ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ‏‏‏‏ ’ ہم انہیں کچھ فائدہ دیں گے پھر سخت عذابوں کی طرف بے بس کر دیں گے ‘۔
7۔ 1 اس کی تشریح کے لئے دیکھئے (وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ) 14۔ ابراہیم:8) کا حاشیہ۔
(آیت 7) ➊ { اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ:} کفر کا معنی ناشکری بھی ہے اور انکار بھی، یعنی اگر تم اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرو، جن کا اوپر ذکر ہوا ہے، یا ایمان کے بجائے کفر اختیار کرو تو یقینا اللہ تم سے بہت بے پروا ہے، وہ تمھارا کسی طرح بھی محتاج نہیں، نہ اسے تمھارے شکر یا ایمان کا کوئی فائدہ ہے اور نہ تمھاری نا شکری یا کفر کا کوئی نقصان، تم ہی ہر طرح سے اس کے محتاج ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ ابراہیم (۸)۔ ➋ { وَ لَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ:} ہاں، وہ اپنے بندوں کے لیے کفر اور ناشکری کو پسند نہیں کرتا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ یہ کہنے کے بجائے کہ {”وَلَا يَرْضٰي لَكُمُ الْكُفْرَ“} (وہ تمھارے لیے ناشکری کو پسند نہیں کرتا) یہ فرمایا کہ وہ اپنے عباد (بندوں) کے لیے ناشکری کو پسند نہیں کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی مالک اپنے غلاموں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتا، تم اپنے متعلق سوچ لو، کیا تم اپنے کسی غلام کی ناشکری اور بغاوت کو پسند کرو گے، حالانکہ غلام تمھارے جیسے انسان ہیں، تو اللہ اپنے غلاموں کی ناشکری اور کفر کو کیسے پسند فرمائے گا، جب کہ وہ اس کے پیدا کیے ہوئے اور ہر طرح سے اس کے محتاج ہیں؟ ➌ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت اور ارادہ اور چیز ہے اور اس کی رضا اور پسند دوسری چیز ہے۔ دنیا میں کوئی بھی کام اس کی مشیّت اور ارادے کے بغیر نہیں ہو سکتا، مگر اس نے انسانوں کو اور جنّوں کو ایک حد تک اختیار دیا ہے، وہ چاہیں تو اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اس پر ایمان لائیں اور اس کے احکام پر عمل کریں، یا چاہیں تو ناشکری کرتے ہوئے اس کے ساتھ کفر کریں اور اس کے احکام کی نافرمانی کریں۔ یہ اختیار دینے میں اس کی بے شمار حکمتیں ہیں، جن میں سے ایک بندوں کی آزمائش ہے، مگر وہ یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے بندے ہو کر وہ اس کی ناشکری اور نافرمانی کریں۔ مثلاً ابلیس اور تمام کفار کا کفر اس کی مشیّت اور ارادے کے ساتھ ہی ہے، وہ اللہ سے زبردست ہو کر نہیں بلکہ اس کے دیے ہوئے اختیار ہی کی وجہ سے کفر کر رہے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کو ان کا کفر کرنا پسند نہیں ہے۔ ➍ {وَ اِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ:يَرْضَهُ “} اصل میں {”يَرْضَاهُ“} ہے، {” اِنْ تَشْكُرُوْا “} شرط کی جزا ہونے کی وجہ سے اس پر جزم آئی، جس سے ”الف“ گر گیا۔{ ”هٗ“} ضمیر {” تَشْكُرُوْا “} کے ضمن میں پائے جانے والے شکر کی طرف جا رہی ہے، یعنی اگر تم شکر کرو تو اللہ تعالیٰ اس شکر کو تمھارے لیے پسند فرمائے گا۔ ➎ { وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى:} یعنی تم میں سے ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے، کسی دوسرے شخص کے کہنے پر یا اسے راضی رکھنے کے لیے اگر کفر اختیار کرے گا تو کوئی اس کے کفر کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ {” وَازِرَةٌ “} کے مؤنث ہونے کی وجہ جاننے اور مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ فاطر کی آیت (۱۸) کی تفسیر۔ ➏ { ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ …:} یعنی دنیا میں تمھیں شکر یا کفر کا اختیار ہے، مگر آخر کار تم سب کو واپس اللہ کے پاس جانا ہے، جس نے تمھیں شروع میں پیدا فرمایا۔ وہ تمھیں تمھارے انھی اعمال کی خبر اور جزا دے گا جو تم کرتے رہے، یہ نہیں ہوگا کہ کسی اور کے عمل تمھارے ذمے ڈال دیے جائیں، یا تمھارے نیک یا بد اعمال غائب کر دیے جائیں۔ ➐ { اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ:} یہ اس سے پہلے جملے کی علت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کو تم میں سے ہر شخص کے اعمال اس کے سامنے پیش کرنا کچھ مشکل نہیں، کیونکہ وہ تو سینوں کی باتوں تک کو پوری طرح جاننے والا ہے، پھر کوئی قول یا عمل اس سے کس طرح مخفی رہ سکتا ہے؟
وَ اِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہٗ مُنِیۡبًا اِلَیۡہِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَہٗ نِعۡمَۃً مِّنۡہُ نَسِیَ مَا کَانَ یَدۡعُوۡۤا اِلَیۡہِ مِنۡ قَبۡلُ وَ جَعَلَ لِلّٰہِ اَنۡدَادًا لِّیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ قُلۡ تَمَتَّعۡ بِکُفۡرِکَ قَلِیۡلًا ٭ۖ اِنَّکَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اُسے پکارتا ہے پھر جب اس کا رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اُس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پکار رہا تھا اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھیراتا ہے تاکہ اُس کی راہ سے گمراہ کرے (اے نبیؐ) اُس سے کہو کہ تھوڑے دن اپنے کفر سے لطف اٹھا لے، یقیناً تو دوزخ میں جانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انسان کو جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وه خوب رجوع ہو کر اپنے رب کو پکارتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس سے نعمت عطا فرمادیتا ہے تو وه اس سے پہلے جو دعا کرتا تھا اسے (بالکل) بھول جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے شریک مقرر کرنے لگتا ہے جس سے (اوروں کو بھی) اس کی راه سے بہکائے، آپ کہہ دیجئے! کہ اپنے کفر کا فائده کچھ دن اور اٹھالو، (آخر) تو دوزخیوں میں ہونے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے اپنے رب کو پکارتا ہے اسی طرف جھکا ہوا پھر جب اللہ نے اسے اپنے پاس سے کوئی نعمت دی تو بھول جاتا ہے جس لیے پہلے پکارا تھا اور اللہ کے برابر والے ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ اس کی راہ سے بہکادے تم فرماؤ تھوڑے دن اپنے کفر کے ساتھ برت لے بیشک تو دوزخیوں میں ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ دل سے رجوع کرکے اپنے پروردگار کو پکارتا ہے اور پھر جب وہ اپنی طرف سے اسے کوئی نعمت عطا کرتا ہے تو وہ اس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کیلئے وہ پہلے اسے پکار رہا تھا اور اللہ کیلئے ہمسر (شریک) ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ اس کے راستہ سے (لوگوں کو) گمراہ کرے۔ آپ(ص) کہہ دیجئے! تھوڑے دن اپنے کفر (ناشکرے پن) سے فائدہ اٹھا لے (انجامِ کار) یقیناً تو دوزخ والوں سے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس حال میں کہ اس کی طرف رجوع کرنے والا ہو تا ہے۔ پھر جب وہ اسے اپنی طرف سے کو ئی نعمت عطا کرتا ہے تو وہ اس (مصیبت) کو بھول جاتا ہے، جس کی جانب وہ اس سے پہلے پکارا کرتا تھااور اللہ کے لیے کئی شریک بنا لیتا ہے، تاکہ اس کے راستے سے گمرا ہ کردے۔ کہہ دے اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے، یقینا تو آگ والوں میں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے اور اللہ سب سے بے نیاز ہے ‘۔ موسیٰ علیہ السلام کا فرمان قرآن میں منقول ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:8] ‏‏‏‏ ’ اگر تم اور روئے زمین کے سب جاندار اللہ سے کفر کرو تو اللہ کا کوئی نقصان نہیں وہ ساری مخلوق سے بےپرواہ اور پوری تعریفوں والا ہے ‘۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { اے میرے بندو! تمہارے سب اول و آخر انسان و جن مل ملا کر بدترین شخص کا سا دل بنا لو تو میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں آئے گی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2577] ‏‏‏‏ ہاں اللہ تمہاری ناشکری سے خوش نہیں نہ وہ اس کا تمہیں حکم دیتا ہے اور اگر تم اس کی شکر گزاری کرو گے تو وہ اس پر تم سے رضامند ہو جائے گا اور تمہیں اپنی اور نعمتیں عطا فرمائے گا۔ ہر شخص وہی پائے گا جو اس نے کیا ہو ایک کے بدلے دوسرا پکڑا نہ جائے گا اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ انسان کو دیکھو کہ اپنی حاجت کے وقت تو بہت ہی عاجزی انکساری سے اللہ کو پکارتا ہے اور اس سے فریاد کرتا رہتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:67] ‏‏‏‏، یعنی ’ جب دریا اور سمندر میں ہوتے ہیں اور وہاں کوئی آفت آتی دیکھتے ہیں تو جن جن کو اللہ کے سوا پکارتے تھے سب کو بھول جاتے ہیں اور خالص اللہ کو پکارنے لگتے ہیں لیکن نجات پاتے ہی منہ پھیر لیتے ہیں انسان ہے ہی ناشکرا ‘۔

پس فرماتا ہے کہ ’ جہاں دکھ درد ٹل گیا پھر تو ایسا ہو جاتا ہے گویا مصیبت کے وقت اس نے ہمیں پکارا ہی نہ تھا اس دعا اور گریہ و زاری کو بالکل فراموش کر جاتا ہے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَّسَّهُ» ۱؎ [10-يونس:12] ‏‏‏‏، یعنی ’ تکلیف کے وقت تو انسان ہمیں اٹھتے بیٹھتے لیٹتے ہر وقت بڑی حضور قلبی سے پکارتا رہتا ہے لیکن اس تکلیف کے ہٹتے ہی وہ بھی ہم سے ہٹ جاتا ہے گویا اس نے دکھ درد کے وقت ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ بلکہ عافیت کے وقت اللہ کے ساتھ شریک کرنے لگتا ہے ‘۔ پس اللہ فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگ اپنے کفر سے گو کچھ یونہی سا فائدہ اٹھا لیں ‘۔ اس میں ڈانٹ ہے اور سخت دھمکی ہے جیسے فرمایا «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» ۱؎ [14-ابراھیم:30] ‏‏‏‏ ’ کہدیجئیے کہ فائدہ حاصل کر لو آخری جگہ تو تمہاری جہنم ہی ہے ‘،اور فرمان ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ‏‏‏‏ ’ ہم انہیں کچھ فائدہ دیں گے پھر سخت عذابوں کی طرف بے بس کر دیں گے ‘۔
8۔ 1 یا اس تکلیف کو بھول جاتا ہے جس کو دور کرنے کے لئے وہ دوسروں کو چھوڑ کر، اللہ سے دعا کرتا تھا یا اس رب کو بھول جاتا ہے، جسے وہ پکارتا تھا اور پھر شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
(آیت 8) ➊ { وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ:} اپنی وحدانیت اور کمال قدرت کے بہت سے دلائل اور انھیں دیکھنے کے بعد شکر یا کفر کرنے والوں کا انجام بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوش حالی اور بدحالی میں انسان کی طبیعت کا ذکر فرمایا، ساتھ ہی بتا دیا کہ دونوں حالتوں میں مومن و کافر اور عالم و جاہل برابر نہیں ہیں۔ آیت میں {” الْاِنْسَانَ “} سے مراد کافر و مشرک ہے، کیونکہ اس کے متعلق آگے آ رہا ہے: «‏‏‏‏وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا» کہ نعمت ملنے پر وہ اللہ کے لیے کئی شریک بنا لیتا ہے۔ جن مشرک انسانوں کا یہاں ذکر ہے وہ کم از کم مصیبت میں تو ایک اللہ کو پکارتے تھے، مگر ہمارے زمانے کے کئی اسلام کے دعوے دار مصیبت میں اور سمندر میں طوفان کے وقت بھی غیر اللہ کو پکارتے رہتے ہیں۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] ➋ { دَعَا رَبَّهٗ مُنِيْبًا اِلَيْهِ:} یعنی تکلیف اور مصیبت کے وقت وہ پورے خلوص کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس وقت اسے کوئی دوسرا معبود یاد نہیں رہتا، وہ سب سے مایوس ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ دلیل ہے کہ اس کے دل کی گہرائیوں میں یہ بات موجود ہے کہ وہ تکلیف اس کا کوئی حاجت روا یا مشکل کُشا یا داتا یا دستگیر دور نہیں کر سکتا، اسے دور کرنے والا صرف ایک اللہ ہے۔ {” مُنِيْبًا “} کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے غیروں کو پکارتا تھا، مصیبت کے وقت سب کو چھوڑ کر واپس اللہ کی طرف آجاتا ہے۔ ➌ { ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ:} نعمت عطا فرمانے سے مراد اس تکلیف کا دور کرنا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی نعمت مراد ہو سکتی ہے۔ ➍ {نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُوْۤا اِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ:اِلَيْهِ “} میں ضمیر {”هٗ“} سے مراد {” ضُرٌّ “} ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے: «وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآىِٕمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ» ‏‏‏‏ [ یونس: ۱۲ ] ”اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر یا بیٹھا ہوا یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کی طرف، جو اسے پہنچی ہو، پکارا ہی نہیں۔“ ➎ { وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ:} یعنی اللہ کی راہ (اسلام و توحید) سے وہ نہ صرف خود گمراہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور لوگوں سے کہتا پھرتا ہے کہ ہمیں تو فلاں آستانے سے شفا نصیب ہوئی تھی، فلاں بزرگ کی نظر کرم سے ہم مصیبت سے نکل آئے اور فلاں حضرت جی کی توجہ سے ہماری کشتی کنارے آ لگی۔ اس طرح یہ جاہل جھوٹی کہانیاں گھڑ کر بے بس اور بے اختیار مخلوق کو اللہ کا شریک بتا کر لوگوں کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔ ➏ {قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيْلًا …:} فرمایا، اس مشرک انسان کو کہہ دے کہ اپنے کفر و شرک کے ذریعے سے لوگوں کو گمراہ کر کے حاصل ہونے والی لذتوں سے معمولی فائدہ اٹھا لے، مگر یہ بالکل تھوڑی مدت کے لیے ہے، بہت جلد یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا اور تو آگ والوں میں شامل ہو کر ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنے والا ہے۔ آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۱۲)۔
اَمَّنۡ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیۡلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحۡذَرُ الۡاٰخِرَۃَ وَ یَرۡجُوۡا رَحۡمَۃَ رَبِّہٖ ؕ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ٪﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(کیا اِس شخص کی روش بہتر ہے یا اُس شخص کی) جو مطیع فرمان ہے، رات کی گھڑیوں میں کھڑا رہتا اور سجدے کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگاتا ہے؟ اِن سے پوچھو، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ (اپنے رب کی طرف سے)
احمد رضا خان بریلوی
کیا وہ جسے فرمانبرداری میں رات کی گھڑیاں گزریں سجود میں اور قیام میں آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے کیا وہ نافرمانوں جیسا ہو جائے گا تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
بھلا جو شخص رات کی گھڑیوں میں کبھی سجدہ کرکے اور کبھی قیام کرکے خدا کی عبادت کرتا ہے اور (اس کے باوجود) آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے؟ (تو کیا وہ شخص جو ایسا نہیں ہے یکساں ہو سکتے ہیں؟) کہیے کیا علم والے اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں؟ بے شک نصیحت تو صرف صاحبانِ عقل ہی حاصل کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
(کیا یہ بہترہے) یا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں سجدہ کرتے ہوئے اور قیا م کر تے ہوئے عبادت کرنے والا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے؟ کہہ دے کیا برابر ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے؟ نصیحت تو بس عقلوں والے ہی قبول کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرک اور موحد برابر نہیں ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جس کی حالت یہ ہو وہ مشرک کے برابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے «لَيْسُوْا سَوَاءً مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّـهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:113] ‏‏‏‏، یعنی ’ سب کے سب برابر کے نہیں، اہل کتاب میں وہ جماعت بھی ہے جو راتوں کے وقت قیام کی حالت میں آیات الہیہ کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدوں میں پڑے رہتے ہیں ‘۔ قنوت سے مراد یہاں پر نماز کا خشوع خضوع ہے۔ صرف قیام مراد نہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «قَانِتٌ» کے معنی مطیع اور فرمانبردار کے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ «آنَاءَ اللَّيْلِ» سے مراد آدھی رات سے ہے۔ منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مغرب عشاء کے درمیان کا وقت ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں۔ اول درمیانہ اور آخری شب مراد ہے۔ یہ عابد لوگ ایک طرف لرزاں و ترساں ہیں دوسری جانب امیدوار اور طمع کناں ہیں۔ نیک لوگوں پر زندگی میں تو خوف اللہ امید پر غالب رہتا ہے موت کے وقت خوف پرامید کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس اس کے انتقال کے وقت جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ { تو اپنے آپ کو کس حالت میں پاتا ہے؟ } اس نے کہا خوف و امید کی حالت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جس شخص کے دل میں ایسے وقت یہ دونوں چیزیں جمع ہو جائیں اس کی امید اللہ تعالیٰ پوری کرتا ہے اور اس کے خوف سے اسے نجات عطا فرماتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:983،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا ”یہ وصف صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ میں تھا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:355/5:ضعیف] ‏‏‏‏ فی الواقع آپ رضی اللہ عنہ رات کے وقت بکثرت تہجد پڑھتے رہتے تھے اور اس میں قرآن کریم کی لمبی قرأت کیا کرتے تھے یہاں تک کہ کبھی کبھی ایک ہی رکعت میں قرآن ختم کر دیتے تھے۔ جیسا کہ ابوعبید رحمہ اللہ سے مروی ہے۔ شاعر کہتا ہے۔ صبح کے وقت ان کے منہ نورانی چمک لیے ہوئے ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے تسبیح و تلاوت قرآن میں رات گذاری ہے۔ نسائی وغیرہ میں حدیث ہے کہ { جس نے ایک رات سو آیتیں پڑھ لیں اس کے نامہ اعمال میں ساری رات کی قنوت لکھی جاتی ہے }۔ [مسند احمد:103/4:حسن بالشواهد] ‏‏‏‏ پس ایسے لوگ اور مشرک جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں کسی طرح ایک مرتبے کے نہیں ہو سکتے، عالم اور بےعلم کا درجہ ایک نہیں ہو سکتا۔ ہر عقلمند پر ان کا فرق ظاہر ہے۔
9۔ 1 اور یہ اہل ایمان ہی ہیں، نہ کہ کفار۔ گو وہ اپنے آپ کو صاحب دانش و بصیرت ہی سمجھتے ہوں۔ لیکن جب وہ اپنی عقل و دانش کو استعمال کرکے غور و تدبر ہی نہیں کرتے اور عبرت و نصیحت ہی حاصل نہیں کرتے تو ایسے ہی ہے گویا وہ چوپایوں کی طرح عقل و دانش سے محروم ہیں۔
(آیت 9) ➊ {اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّيْلِ …: ” قَانِتٌ “} کا معنی عبادت کرنے والا بھی ہے، فرماں بردار بھی اور خشوع و عاجزی کرنے والا بھی۔ {” اَمَّنْ “} (یا وہ شخص) کے لفظ سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے کچھ الفاظ محذوف ہیں، یعنی {”أَ هٰذَا خَيْرٌ“} (کیا یہ مصیبت میں اپنے رب کو پکارنے والا اور نعمت عطا ہونے پر اسے بھول جانے والا بہتر ہے) {” اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ “} یا وہ شخص جو صرف دن کے وقت ہی نہیں بلکہ رات کی گھڑیوں میں بھی سجدے اور قیام کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے والا اور ہر حال میں اسی کا فرماں بردار ہے؟ جواب ظاہر ہے کہ یہ مومن (قانت) ہر لحاظ سے اس سے بہتر ہے۔ ➋ { يَحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ يَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ:} ایمان اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس سے امید کے درمیان ہے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس گئے جو موت (کے چل چلاؤ) میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ وَاللّٰهِ! يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنِّيْ أَرْجُو اللّٰهَ وَ إِنِّيْ أَخَافُ ذُنُوْبِيْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ لَا يَجْتَمِعَانِ فِيْ قَلْبِ عَبْدٍ فِيْ مِثْلِ هٰذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللّٰهُ مَا يَرْجُوْ وَ آمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ ] [ ترمذي، الجنائز، باب الرجاء باللّٰہ والخوف بالذنب عند الموت: ۹۸۳ ] ”تو اپنے آپ کو کس حال میں پاتا ہے؟“ اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا بھی ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس جیسے مقام پر کسی بندے کے دل میں یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہوتیں مگر اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عطا کر دیتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے اور اس چیز سے اسے امن عطا کر دیتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے۔“ ➌ {قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ …:} یہاں {” الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ “} (جاننے والے) ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو دن رات، خوش حالی و بدحالی میں ہر وقت ایک اللہ ہی کی عبادت کرنے والے اور اسی کے فرماں بردار ہیں اور {” وَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ “} (نہ جاننے والے) ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو تکلیف اور مصیبت میں تمام معبودوں سے واپس پلٹ کر ایک اللہ ہی کو پکارتے ہیں، مگر خوش حالی میں اسے بھول کر اللہ تعالیٰ کے لیے کئی شریک بنا لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جاننے کے باوجود کہ تمام اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، نعمت عطا ہونے پر اسے بھلا دیتے ہیں اور اس کے شریک بنا لیتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں نہ جاننے والے قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنے علم پر عمل نہیں کرتا وہ جاہل ({لَا يَعْلَمُ}) ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا» ‏‏‏‏ [ فاطر: ۲۸ ] ”اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف علماء (جاننے والے) ہی ڈرتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والے اللہ کے نزدیک علماء نہیں، خواہ ان کے پاس کتنی ڈگریاں اور کتنے عہدے ہوں اور خواہ انھوں نے کتنی کتابیں یا کتب خانے چاٹ رکھے ہوں۔ ➍ اس آیت سے علم اور اس پر عمل کرنے والے اہلِ علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللّٰهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَ آنَاءَ النَّهَارِ، وَ رَجُلٌ آتَاهُ اللّٰهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ] [ بخاري، التوحید، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : رجل آتاہ اللّٰہ القرآن…: ۷۵۲۹ ] ”دو چیزوں کے سوا رشک کرنا درست نہیں، ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن دیا تو وہ رات کی گھڑیوں میں اور دن کی گھڑیوں میں اس کی تلاوت کرتا ہے، اور ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے کھلا مال عطا کیا ہے تو وہ رات کی گھڑیوں اور دن کی گھڑیوں میں اسے خرچ کرتا ہے۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”بَابُ فَضْلِ الْعِلْمِ“} میں علم کی فضیلت میں دو آیات نقل فرمائی ہیں، ایک سورۂ مجادلہ کی: «يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ» ‏‏‏‏ [ المجادلۃ: ۱۱ ] ”اللہ ان لوگوں کو درجوں میں بلند کرے گاجو تم میں سے ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا۔“ اور دوسری سورۂ طٰہٰ کی: «‏‏‏‏وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا» ‏‏‏‏ [ طٰہٰ: ۱۱۴ ] ”اور کہہ اے میرے رب! مجھے علم میں زیادہ کر۔“ موسیٰ اور خضر علیھما السلام کا واقعہ بھی علم کی فضیلت کی دلیل ہے۔ (دیکھیے بخاری: ۷۴) ➎ { اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ:الْاَلْبَابِ”لُبٌّ“} کی جمع ہے، مغز، عقل۔ جمع ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”عقلوں والے“ کیا گیا ہے۔ ان عقلوں والوں سے مراد اہلِ ایمان ہیں نہ کہ کفار، گو وہ اپنے آپ کو کس قدر عقل و دانش والے سمجھتے ہوں، کیونکہ جب وہ اپنی عقلوں کو استعمال کر کے نصیحت حاصل ہی نہیں کرتے تو عقلوں والے کیسے ہوئے!؟ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کی طرح بلکہ ان سے بھی {”اضل“} قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۹) اور انبیاء (۴۶) کی تفسیر۔
قُلۡ یٰعِبَادِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃٌ ؕ وَ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ ؕ اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجۡرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اے نبیؐ) کہو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو، اپنے رب سے ڈرو جن لوگوں نے اِس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے اور خدا کی زمین وسیع ہے، صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دو کہ اے میرے ایمان والے بندو! اپنے رب سے ڈرتے رہو، جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیک بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشاده ہے صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بےشمار اجر دیا جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اے میرے بندو! جو ایمان لائے اپنے سے ڈرو، جنہوں نے بھلائی کی ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے اور اللہ کی زمین وسیع ہے صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیجئے! اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو! اپنے پروردگار (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ (اور یاد رکھو) جو لوگ اس دنیا میں نیک عمل کرتے ہیں ان کیلئے (آخرت میں) نیک صلہ ہے اور اللہ کی زمین وسیع (کشادہ) ہے بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو! اپنے رب سے ڈرو، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے اس دنیا میں نیکی کی، بڑی بھلائی ہے اور اللہ کی زمین وسیع ہے، صرف کامل صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر حال میں اللہ کی اطاعت لازمی ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنے رب کی اطاعت پر جمے رہنے کا اور ہر امر میں اس کی پاک ذات کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ ’ جس نے اس دنیا میں نیکی کی اس کو اس دنیا میں اور آنے والی آخرت میں نیکی ہی نیکی ملے گی۔ تم اگر ایک جگہ اللہ کی عبادت استقلال سے نہ کر سکو تو دوسری جگہ چلے جاؤ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے ‘۔ معصیت سے بھاگتے رہو شرک کو منظور نہ کرو۔ صابروں کو ناپ تول اور حساب کے بغیر اجر ملتا ہے جنت انہی کی چیز ہے۔ مجھے اللہ کی خالص عبادت کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھ سے یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اپنی تمام امت سے پہلے میں خود مسلمان ہو جاؤں اپنے آپ کو رب کے احکام کا عامل اور پابند کرلوں۔
10۔ 1 اس کی اطاعت کرکے، معاصی سے اجتناب کرکے اور عبادت و اطاعت کو اس کے لئے خالص کرکے۔ 10۔ 2 یہ تقویٰ کے فوائد ہیں۔ نیک بدلے سے مراد جنت اور اس کی ابدی نعمتیں ہیں۔ بعض اس کا مفہوم یہ کرتے ہیں، کہ جو نیکی کرتے ہیں ان کے لئے دنیا میں نیک بدلہ ہے ' یعنی اللہ انہیں دنیا میں صحت و عافیت، کامیابی اور غنیمت وغیرہ عطا فرماتا ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
(آیت 10) ➊ { قُلْ يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ:} سورت کے شروع سے توحید کا بیان آرہا ہے، اب بڑی محبت کے ساتھ ایمان والوں کو ”میرے بندو“ کہہ کر انھیں یہ پیغام دینے کا حکم دیا کہ صرف زبان سے توحید کا اقرار کافی نہیں، بلکہ اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔ {”تَقْوٰي“ ”وَقٰي يَقِيْ وِقَايَةً“} کا مصدر ہے، اس کا لفظی معنی ”بچنا“ ہے، مراد ایسے تمام کام چھوڑ دینا ہے جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر ہے اور ایسے تمام کام کرنا جن کے چھوڑنے سے اس کے عذاب کا ڈر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرو اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کرو۔ ➋ { لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ:حَسَنَةٌ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے۔{” فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا “} کا تعلق{” اَحْسَنُوْا “} کے ساتھ ہے، یعنی جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک اعمال کیے ان کے لیے عظیم بھلائی ہے۔ اس بھلائی سے مراد دنیا کی بھلائی بھی ہے اور آخرت کی بھلائی بھی، کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر دعا یہ تھی: [اَللّٰهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ] [ بخاري، الدعوات، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم ربنا …: ۶۳۸۹ ] ”اے اللہ! ہمیں اس دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچانا۔“ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۰۱) کی تفسیر۔ دنیا اور آخرت دونوں میں اس بھلائی کی تفصیل کے لیے سورۂ نحل (۹۷) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ ➌ {وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ:} یہ ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اگر کسی جگہ تم اللہ کے تقویٰ پر کار بند نہیں رہ سکتے اور اللہ کے دین پر عمل کرنے میں کوئی رکاوٹ ہے تو اللہ کی زمین وسیع ہے، کسی دوسری جگہ چلے جاؤ، جہاں آزادی سے اللہ کے احکام پر عمل کر سکو۔ اس جملے کی مفصل تفسیر کے لیے سورۂ نساء کی آیات (۹۷ تا ۱۰۰) اور ان کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ ➍ { اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ:} صبر کا لفظی معنی باندھنا ہے۔ اہلِ علم نے صبر کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں، اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر صبر، اس کی منع کر دہ چیزوں سے اجتناب پر صبر اور پیش آنے والی تکلیفوں اور مصیبتوں پر صبر۔ صابر وہ ہے جس کی خصلت ہی صبر ہو۔ فرمایا، جن لوگوں کی خصلت صبر ہے، صرف یہی لوگ ہیں جنھیں ان کا اجر کسی حساب کے بغیر دیا جائے گا۔ اس میں ہجرت کے دوران پیش آنے والی تکالیف پر صبر کی تلقین ہے اور اس پر بے حساب اجر کی بشارت ہے۔ بغیر حساب اجر سے مراد جنت ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ دنیا کی ہر نعمت خواہ کتنی ہو ختم ہونے والی ہے اور ختم ہونے والی ہر چیز کا حساب ہو سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ» [ المؤمن: ۴۰ ] ”اور جس نے کوئی نیک عمل کیا، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اس میں بے حساب رزق دیے جائیں گے۔“
قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اے نبیؐ) اِن سے کہو، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُس کی بندگی کروں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے عبادت کو خالص کر لوں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں نرا اس کا بندہ ہوکر،
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیجئے! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اس کیلئے خالص کرکے (مکمل اخلاص کے ساتھ) اس کی عبادت کروں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے بے شک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں، اس حال میں کہ دین کو اسی کے لیے خالص کر نے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر حال میں اللہ کی اطاعت لازمی ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنے رب کی اطاعت پر جمے رہنے کا اور ہر امر میں اس کی پاک ذات کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ ’ جس نے اس دنیا میں نیکی کی اس کو اس دنیا میں اور آنے والی آخرت میں نیکی ہی نیکی ملے گی۔ تم اگر ایک جگہ اللہ کی عبادت استقلال سے نہ کر سکو تو دوسری جگہ چلے جاؤ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے ‘۔ معصیت سے بھاگتے رہو شرک کو منظور نہ کرو۔ صابروں کو ناپ تول اور حساب کے بغیر اجر ملتا ہے جنت انہی کی چیز ہے۔ مجھے اللہ کی خالص عبادت کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھ سے یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اپنی تمام امت سے پہلے میں خود مسلمان ہو جاؤں اپنے آپ کو رب کے احکام کا عامل اور پابند کرلوں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 11){ قُلْ اِنِّيْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ …:} سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ» ‏‏‏‏ [الزمر: ۲ ] اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ کہہ دے مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں، اس حال میں کہ اپنی بندگی، اطاعت اور نیت کو اسی کے لیے خالص کرنے والا ہوں۔ تفصیل اسی سورت کی آیت (۲) میں دیکھیے۔
وَ اُمِرۡتُ لِاَنۡ اَکُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا فرماں بردار بن جاؤں
احمد رضا خان بریلوی
اور مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلے گردن رکھوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب مسلمانوں سے پہلے مسلمان ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ماننے والوں میں سے پہلا میں بنوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر حال میں اللہ کی اطاعت لازمی ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنے رب کی اطاعت پر جمے رہنے کا اور ہر امر میں اس کی پاک ذات کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ ’ جس نے اس دنیا میں نیکی کی اس کو اس دنیا میں اور آنے والی آخرت میں نیکی ہی نیکی ملے گی۔ تم اگر ایک جگہ اللہ کی عبادت استقلال سے نہ کر سکو تو دوسری جگہ چلے جاؤ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے ‘۔ معصیت سے بھاگتے رہو شرک کو منظور نہ کرو۔ صابروں کو ناپ تول اور حساب کے بغیر اجر ملتا ہے جنت انہی کی چیز ہے۔ مجھے اللہ کی خالص عبادت کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھ سے یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اپنی تمام امت سے پہلے میں خود مسلمان ہو جاؤں اپنے آپ کو رب کے احکام کا عامل اور پابند کرلوں۔
12۔ 1 پہلا اس معنی میں کہ آبائی دین کی مخالفت کرکے توحید کی دعوت سب سے پہلے آپ ہی نے پیش کی۔
(آیت 12) ➊ { وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِيْنَ:لِاَنْ اَكُوْنَ “} میں لام ”باء“ کے معنی میں ہے: {”أَيْ أُمِرْتُ بِأَنْ أَكُوْنَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِيْنَ“} یعنی اللہ کا پیغام پہنچانے والے کی حیثیت سے میرا کام صرف یہ نہیں کہ اس کا پیغام پہنچا دوں، بلکہ مجھے حکم ہے کہ اس کی فرماں برداری کرنے والوں میں سب سے پہلا فرماں بردار میں بنوں۔ میں ان جابر بادشاہوں کی طرح نہ بنوں جو لوگوں کو کئی کاموں کا حکم دیتے ہیں، مگر خود وہ کام نہیں کرتے، بلکہ میں تمھیں اللہ کے جو احکام پہنچاؤں، سب سے پہلے خود ان پر عمل کروں۔ ➋ { ” لِاَنْ اَكُوْنَ “} میں ”لام“ علت بیان کرنے کے لیے بھی ہو سکتا ہے، اس صورت میں دونوں آیات کا ترجمہ اس طرح ہو گا، کہہ دے مجھے تو حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں، اس حال میں کہ دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والا ہوں اور مجھے یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ میں تمام مسلمانوں میں سب سے پہلا بنوں (کیونکہ دین میں پیش قدمی اخلاص ہی سے حاصل ہوتی ہے)۔ مفسر ابو السعود نے کہا: {”وَ أُمِرْتُ بِذٰلِكَ لِأَجَلِ أَنْ أَكُوْنَ مُقَدِّمَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ لِأَنَّ إِحْرَازَ قَصَبِ السَّبْقِ فِي الدِّيْنِ بِالْإِخْلَاصِ فِيْهِ “}
قُلۡ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہو، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! کہ مجھے تو اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے بڑے دن کے عذاب کا خوف لگتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے اپنے رب سے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کہئے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو ایک بڑے دن (قیامت) کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے بے شک میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمانوں کے لئے قیامت کے دن کا عذاب ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ’ لوگوں میں اعلان کر دو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن عذاب الٰہی سے بے خوف نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو قیامت کے دن کے عذاب سے میں بھی بچ نہیں سکتا تو دوسرے لوگوں کو تو رب کی نافرمانی سے بہت زیادہ اجتناب کرنا چاہیئے۔ تم اپنے دین کا بھی اعلان کر دو کہ میں پختہ اور یکسوئی والا موحد ہوں۔ تم جس کی چاہو عبادت کرتے رہو ‘۔ اس میں بھی ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ اجازت۔ پورے نقصان میں وہ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اور اپنے والوں کو نقصان میں پھنسا دیا۔ قیامت کے دن ان میں جدائی ہو جائے گی۔ اگر ان کے اہل جنت میں گئے تو یہ دوزخ میں جل رہے ہیں اور ان سے الگ ہیں اور اگر سب جہنم میں گئے تو وہاں برائی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور رہیں اور محزون و مغموم ہیں۔ یہی واضح نقصان ہے۔ پھر ان کا حال جو جہنم میں ہو گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اوپر تلے آگ ہی آگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:41] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ ان کا اوڑھنا بچھونا سب آتش جہنم سے ہو گا۔ ظالموں کا یہی بدلہ ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [29-العنكبوت:55] ‏‏‏‏ ’ قیامت والے دن انہیں نیچے اوپر سے عذاب ہو رہا ہو گا۔ اور اوپر سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کا مزہ چکھو ‘۔ یہ اس لیے ظاہر و باہر کر دیا گیا اور کھول کھول کر اس وجہ سے بیان کیا گیا کہ اس حقیقی عذاب سے جو یقیناً آنے والا ہے میرے بندے خبردار ہو جائیں اور گناہوں اور نافرمانیوں کو چھوڑ دیں۔ میرے بندو میری پکڑ دھکڑ سے میرے عذاب و غضب سے میرے انتقام اور بدلے سے ڈرتے رہو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13){ قُلْ اِنِّيْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ …:} یعنی اے پیغمبر! کہہ دے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں اور اپنی عبادت اور اطاعت اس کے لیے خالص کرنے کے بجائے تمھاری طرح اس کا کوئی شریک بنا لوں تو میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ مطلب یہ کہ میرے جیسا شخص بھی (جسے اللہ تعالیٰ نے سید ولد آدم بنایا، جس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیے) اگر اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے شرک کا ارتکاب کر بیٹھے، تو اس عظیم دن کے عذاب سے ڈرتا ہے، تو اپنے متعلق تم خود سوچ لو۔ تفصیل سورۂ زمر (۶۴، ۶۵) اور سورۂ انعام (۱۴، ۱۵ اور ۸۱ تا ۸۸) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
قُلِ اللّٰہَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّہٗ دِیۡنِیۡ ﴿ۙ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہہ دو کہ میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُسی کی بندگی کروں گا
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! کہ میں تو خالص کر کے صرف اپنے رب ہی کی عبادت کرتا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ میں اللہ ہی کو پوجتا ہوں نرا اس کا بندہ ہوکر،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہئے کہ میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں اسی کیلئے اپنے دین کو خالص کرتے ہوئے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میں اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں، اس حال میں کہ اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کرنے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمانوں کے لئے قیامت کے دن کا عذاب ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ’ لوگوں میں اعلان کر دو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن عذاب الٰہی سے بے خوف نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو قیامت کے دن کے عذاب سے میں بھی بچ نہیں سکتا تو دوسرے لوگوں کو تو رب کی نافرمانی سے بہت زیادہ اجتناب کرنا چاہیئے۔ تم اپنے دین کا بھی اعلان کر دو کہ میں پختہ اور یکسوئی والا موحد ہوں۔ تم جس کی چاہو عبادت کرتے رہو ‘۔ اس میں بھی ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ اجازت۔ پورے نقصان میں وہ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اور اپنے والوں کو نقصان میں پھنسا دیا۔ قیامت کے دن ان میں جدائی ہو جائے گی۔ اگر ان کے اہل جنت میں گئے تو یہ دوزخ میں جل رہے ہیں اور ان سے الگ ہیں اور اگر سب جہنم میں گئے تو وہاں برائی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور رہیں اور محزون و مغموم ہیں۔ یہی واضح نقصان ہے۔ پھر ان کا حال جو جہنم میں ہو گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اوپر تلے آگ ہی آگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:41] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ ان کا اوڑھنا بچھونا سب آتش جہنم سے ہو گا۔ ظالموں کا یہی بدلہ ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [29-العنكبوت:55] ‏‏‏‏ ’ قیامت والے دن انہیں نیچے اوپر سے عذاب ہو رہا ہو گا۔ اور اوپر سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کا مزہ چکھو ‘۔ یہ اس لیے ظاہر و باہر کر دیا گیا اور کھول کھول کر اس وجہ سے بیان کیا گیا کہ اس حقیقی عذاب سے جو یقیناً آنے والا ہے میرے بندے خبردار ہو جائیں اور گناہوں اور نافرمانیوں کو چھوڑ دیں۔ میرے بندو میری پکڑ دھکڑ سے میرے عذاب و غضب سے میرے انتقام اور بدلے سے ڈرتے رہو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14) {قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ …:} لفظ {” اللّٰهَ “} کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، یعنی کہہ دے میں تو صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں، کسی اور کی عبادت نہ اسے اصل سمجھ کر کرتا ہوں نہ سفارشی یا واسطہ سمجھ کر۔ پچھلی آیت: «‏‏‏‏قُلْ اِنِّيْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ …» میں ایک اللہ کی عبادت کے امر کا اعلان کرنے کا حکم دیا گیا تھا، اس آیت میں اس پر اپنے عمل کے اعلان کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تکرار نہیں ہے۔
فَاعۡبُدُوۡا مَا شِئۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡخٰسِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَہۡلِیۡہِمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اَلَا ذٰلِکَ ہُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم اُس کے سوا جس جس کی بندگی کرنا چاہو کرتے رہو کہو، اصل دیوالیے تو وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو گھاٹے میں ڈال دیا خوب سن رکھو، یہی کھلا دیوالہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرتے رہو کہہ دیجئے! کہ حقیقی زیاں کار وه ہیں جو اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو قیامت کے دن نقصان میں ڈال دیں گے، یاد رکھو کہ کھلم کھلا نقصان یہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو تم اس کے سوا جسے چاہو پوجو تم فرماؤ پوری ہار انہیں جو اپنی جان اور اپنے گھر والے قیامت کے دن ہار بیٹھے ہاں ہاں یہی کھلی ہار ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم اس کے سوا جن کی چاہو عبادت (کرو) نیز کہہ دیجئے کہ اصلی خسارے والے تو وہ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن خسارے میں میں ڈالا آگاہ ہو جاؤ کہ یہی کھلا ہوا خسارہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو ۔کہہ دے بے شک اصل خسارہ اٹھانے والے تو وہ ہیں جنھوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ سن لو! یہی صریح خسارہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمانوں کے لئے قیامت کے دن کا عذاب ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ’ لوگوں میں اعلان کر دو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن عذاب الٰہی سے بے خوف نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو قیامت کے دن کے عذاب سے میں بھی بچ نہیں سکتا تو دوسرے لوگوں کو تو رب کی نافرمانی سے بہت زیادہ اجتناب کرنا چاہیئے۔ تم اپنے دین کا بھی اعلان کر دو کہ میں پختہ اور یکسوئی والا موحد ہوں۔ تم جس کی چاہو عبادت کرتے رہو ‘۔ اس میں بھی ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ اجازت۔ پورے نقصان میں وہ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اور اپنے والوں کو نقصان میں پھنسا دیا۔ قیامت کے دن ان میں جدائی ہو جائے گی۔ اگر ان کے اہل جنت میں گئے تو یہ دوزخ میں جل رہے ہیں اور ان سے الگ ہیں اور اگر سب جہنم میں گئے تو وہاں برائی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور رہیں اور محزون و مغموم ہیں۔ یہی واضح نقصان ہے۔ پھر ان کا حال جو جہنم میں ہو گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اوپر تلے آگ ہی آگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:41] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ ان کا اوڑھنا بچھونا سب آتش جہنم سے ہو گا۔ ظالموں کا یہی بدلہ ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [29-العنكبوت:55] ‏‏‏‏ ’ قیامت والے دن انہیں نیچے اوپر سے عذاب ہو رہا ہو گا۔ اور اوپر سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کا مزہ چکھو ‘۔ یہ اس لیے ظاہر و باہر کر دیا گیا اور کھول کھول کر اس وجہ سے بیان کیا گیا کہ اس حقیقی عذاب سے جو یقیناً آنے والا ہے میرے بندے خبردار ہو جائیں اور گناہوں اور نافرمانیوں کو چھوڑ دیں۔ میرے بندو میری پکڑ دھکڑ سے میرے عذاب و غضب سے میرے انتقام اور بدلے سے ڈرتے رہو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 15) ➊ { فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ:} اس میں ایک تو شرک اور مشرکین سے علیحدگی اور براء ت کا اعلان ہے کہ تم اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو، مجھ سے یہ توقع ہر گز نہ رکھو۔ سورۂ کافرون میں یہی مضمون تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ دوسرے اس میں مشرکین کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر میرے سمجھانے کے باوجود تم ان جھوٹے معبودوں کی بندگی پر ڈٹے ہوئے ہو تو ڈٹے رہو، مگر سزا بھگتنے پر بھی تیار رہو۔ تمھارے انجام کی ذمہ داری مجھ پر نہیں۔ ➋ {قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ …: ” الْخٰسِرِيْنَ “} میں الف لام کمال کے معنی کے لیے ہے، یعنی کامل اور اصل خسارے والے وہ ہیں۔ آدمی کو اپنی جان اور گھر والے سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ فرمایا، کہہ دے اصل خسارے والے لوگ وہ ہیں جنھوں نے شرک کرکے اور شرک کی تعلیم دے کر قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کا ایندھن بنایا، کیونکہ دنیا کے خسارے کا تومداوا ہو سکتا ہے مگر قیامت کے دن کے خسارے کا کوئی مداوا نہیں۔ ➌ { اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ:} مشرکین کی غباوَت اور کند ذہنی کو مد نظر رکھ کر ایک دفعہ پھر صاف لفظوں میں ان کے واضح خسارے کا اظہار فرمایا، تاکہ کسی جملے ہی سے وہ توحید کی طرف پلٹ آئیں۔
لَہُمۡ مِّنۡ فَوۡقِہِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنۡ تَحۡتِہِمۡ ظُلَلٌ ؕ ذٰلِکَ یُخَوِّفُ اللّٰہُ بِہٖ عِبَادَہٗ ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن پر آگ کی چھتریاں اوپر سے بھی چھائی ہوں گی اور نیچے سے بھی یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، پس اے میرے بندو، میرے غضب سے بچو
مولانا محمد جوناگڑھی
انہیں نیچے اوپر سے آگ کے (شعلے مثل) سائبان (کے) ڈھانک رہے ہوں گے۔ یہی (عذاب) ہے جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے، اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرتے رہو
احمد رضا خان بریلوی
ان کے اوپر آگ کے پہاڑ ہیں اور ان کے نیچے پہاڑ اس سے اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں اے میرے بندو! تم مجھ سے ڈرو
علامہ محمد حسین نجفی
ان (بدبختوں) کیلئے ان کے اوپر بھی آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی یہی وہ (عذاب) ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! مجھ سے ڈرو۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے لیے ان کے اوپر سے آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی سائبان ہوں گے۔ یہ ہے وہ جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اے میرے بندو! پس تم مجھ سے ڈرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمانوں کے لئے قیامت کے دن کا عذاب ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ’ لوگوں میں اعلان کر دو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن عذاب الٰہی سے بے خوف نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو قیامت کے دن کے عذاب سے میں بھی بچ نہیں سکتا تو دوسرے لوگوں کو تو رب کی نافرمانی سے بہت زیادہ اجتناب کرنا چاہیئے۔ تم اپنے دین کا بھی اعلان کر دو کہ میں پختہ اور یکسوئی والا موحد ہوں۔ تم جس کی چاہو عبادت کرتے رہو ‘۔ اس میں بھی ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ اجازت۔ پورے نقصان میں وہ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اور اپنے والوں کو نقصان میں پھنسا دیا۔ قیامت کے دن ان میں جدائی ہو جائے گی۔ اگر ان کے اہل جنت میں گئے تو یہ دوزخ میں جل رہے ہیں اور ان سے الگ ہیں اور اگر سب جہنم میں گئے تو وہاں برائی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور رہیں اور محزون و مغموم ہیں۔ یہی واضح نقصان ہے۔ پھر ان کا حال جو جہنم میں ہو گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اوپر تلے آگ ہی آگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:41] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ ان کا اوڑھنا بچھونا سب آتش جہنم سے ہو گا۔ ظالموں کا یہی بدلہ ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [29-العنكبوت:55] ‏‏‏‏ ’ قیامت والے دن انہیں نیچے اوپر سے عذاب ہو رہا ہو گا۔ اور اوپر سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کا مزہ چکھو ‘۔ یہ اس لیے ظاہر و باہر کر دیا گیا اور کھول کھول کر اس وجہ سے بیان کیا گیا کہ اس حقیقی عذاب سے جو یقیناً آنے والا ہے میرے بندے خبردار ہو جائیں اور گناہوں اور نافرمانیوں کو چھوڑ دیں۔ میرے بندو میری پکڑ دھکڑ سے میرے عذاب و غضب سے میرے انتقام اور بدلے سے ڈرتے رہو۔
16۔ 1 یعنی ان کے اوپر نیچے آگ کے طبق ہونگے، جو ان پر بھڑک رہے ہونگے (فتح القدیر) 16، 2 یعنی مذکور خسران مبین اور عذاب ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تاکہ وہ اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرکے اس انجام بد سے بچ جائیں۔
(آیت 16) ➊ {لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ …:” ظُلَلٌ”ظُلَّةٌ“} کی جمع ہے، سائبان، چھَتر، ڈھانپنے یا سایہ کرنے والی کوئی چیز، جس کی دیواریں نہ ہوں، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ» ‏‏‏‏ [ لقمان: ۳۲ ] ”اور جب انھیں سائبانوں جیسی کوئی موج ڈھانپ لیتی ہے۔“ یعنی ان کے اوپر اور نیچے ہر طرف آگ کے سائبان ہوں گے۔ نیچے والی آگ کی لپٹوں کو سائبان اس لیے کہا گیا کہ وہ کچھ اور لوگوں کے اوپر ہوں گی، کیونکہ جہنم میں کئی طبقے ہیں، جنھیں دَرکات کہا جاتا ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۴۵ ] ”بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آگ کی لپٹوں کو نیچے سے اوپر اٹھنے کی وجہ سے سائبان کہا گیا ہو۔ دوسری آیت میں نیچے والی آگ کو ان کے بچھونے اور اوپر والی آگ کو ان کے لحاف بتایا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۴۱ ] ”ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور ان کے اوپر کے لحاف ہوں گے۔“ اور ایک آیت میں فرمایا: «‏‏‏‏يَوْمَ يَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ» ‏‏‏‏ [ العنکبوت: ۵۵ ] ”جس دن عذاب انھیں ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ڈھانپ لے گا۔“ اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔ ➋ { ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ …:} یعنی یہ قیامت کا خسارہ اور آگ کے سائبان ہیں جن کے ساتھ اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، تو اے میرے بندو! مجھ سے ڈر جاؤ اور ہمیشہ ڈرتے رہو۔
وَ الَّذِیۡنَ اجۡتَنَبُوا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ یَّعۡبُدُوۡہَا وَ اَنَابُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الۡبُشۡرٰی ۚ فَبَشِّرۡ عِبَادِ ﴿ۙ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بخلاف اس کے جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا اُن کے لیے خوشخبری ہے پس (اے نبیؐ) بشارت دے دو میرے اُن بندوں کو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وه خوش خبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو بتوں کی پوجا سے بچے اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے انہیں کے لیے خوشخبری ہے تو خوشی سناؤ میرے ان بندوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن (خوش بخت) لوگوں نے طاغوت (معبودانِ باطل) کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کیا ان کیلئے خوشخبری ہے (اے نبی(ص)) میرے ان بندوں کو خوشخبری دے دو۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے طا غوت سے اجتناب کیا کہ اس کی عبادت کریں اور اللہ کی طرف رجوع کیا انھی کے لیے خوش خبری ہے، سو میرے بندوں کو بشارت دے دے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شرک سے مبرا عبادات ٭٭

مروی ہے کہ یہ آیت زید بن عمر بن نفیل، ابوذر اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ آیت جس طرح ان بزرگوں پر مشتمل ہے اسی طرح ہر اس شخص کو شامل کرتی ہے جس میں یہ پاک اوصاف ہوں یعنی بتوں سے بیزاری اور اللہ کی فرمانبرداری۔ یہ ہیں جن کے لیے دونوں جہان میں خوشیاں ہیں۔ بات سمجھ کر سن کر جب وہ اچھی ہو تو اس پر عمل کرنے والے مستحق مبارک باد ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم پیغمبر موسیٰ علیہ السلام سے تورات کے عطا فرمانے کے وقت فرمایا تھا «فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ‌ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا سَأُرِ‌يكُمْ دَارَ‌ الْفَاسِقِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:145] ‏‏‏‏ ’ اسے مضبوطی سے تھامو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ اس کی اچھائی کو مضبوط تھام لیں۔ عقلمند اور نیک راہ لوگوں میں بھلی باتوں کے قبول کرنے کا صحیح مادہ ضرور ہوتا ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 17) ➊ {وَ الَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ …:” الطَّاغُوْتَ “} کی لغوی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۲۵۶)۔ استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں، اصل میں لفظ {” الطَّاغُوْتَ “ } (بروزن {فَعْلُوْتٌ لَا فَاعُوْلٌ أَصْلُهُ طَغْيُوْتٌ أَوْ طَغْوُوْتٌ}) {”طُغْيَانٌ“} سے مشتق ہے، لہٰذا اس سے مراد شیطان بھی ہے اور بت بھی اور ہر وہ انسان بھی جو بندگی کی حد سے نکل کر اپنے آپ کو خدائی کے مقام پر رکھتا ہو۔ اس کی عبادت سے مراد محض اسے سجدہ کرنا نہیں بلکہ اسے مستقل بالذات آمر و مطاع سمجھتے ہوئے اس کے احکام کی بجاآوری بھی ہے۔ جوہری لکھتے ہیں: {”اَلطَّاغُوْتُ الْكَاهِنُ وَالشَّيْطَانُ وَ كُلُّ رَأْسٍ فِي الضَّلَالِ“} کہ اس سے مراد شیطان، کاہن اور ہر وہ چیز ہے جو گمراہی کا منبع بنے۔ امام راغب کہتے ہیں: {” هُوَ عِبَارَةٌ عَنْ كُلِّ مَعْبُوْدٍ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“} کہ وہ ہر اس چیز سے عبارت ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے۔ (روح) (اشرف الحواشی) ➋ معلوم ہوا توحید کے لیے صرف اللہ کی عبادت کافی نہیں بلکہ طاغوت سے کنارا کشی بھی لازم ہے، اس لیے کلمہ توحید {”لَا اِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“} میں پہلے تمام الٰہوں کی نفی ہے، پھر ایک اللہ کی عبادت کا اثبات ہے۔ ➌ { لَهُمُ الْبُشْرٰى:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس کی آیت (۶۴)۔ ➍ { لَهُمُ الْبُشْرٰى …: ” عِبَادِ “} اصل میں {”عِبَادِيْ“} ہے، آیات کے فواصل کی مناسبت کے لیے یاء کو حذف کر کے دال پر کسرہ باقی رکھا گیا ہے اور ترجمہ ”میرے بندوں کو“ کیا گیا ہے۔
الَّذِیۡنَ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدٰىہُمُ اللّٰہُ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی دانشمند ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو اس کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقلمند بھی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جو کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی اور یہ ہیں جن کو عقل ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو (ہر کہنے والے کی) بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ ہدایت دیتا ہے اور یہی صاحبانِ عقل ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کان لگا کر بات سنتے ہیں، پھر اس میں سب سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں ۔یہی لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقلوں والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شرک سے مبرا عبادات ٭٭

مروی ہے کہ یہ آیت زید بن عمر بن نفیل، ابوذر اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ آیت جس طرح ان بزرگوں پر مشتمل ہے اسی طرح ہر اس شخص کو شامل کرتی ہے جس میں یہ پاک اوصاف ہوں یعنی بتوں سے بیزاری اور اللہ کی فرمانبرداری۔ یہ ہیں جن کے لیے دونوں جہان میں خوشیاں ہیں۔ بات سمجھ کر سن کر جب وہ اچھی ہو تو اس پر عمل کرنے والے مستحق مبارک باد ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم پیغمبر موسیٰ علیہ السلام سے تورات کے عطا فرمانے کے وقت فرمایا تھا «فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ‌ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا سَأُرِ‌يكُمْ دَارَ‌ الْفَاسِقِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:145] ‏‏‏‏ ’ اسے مضبوطی سے تھامو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ اس کی اچھائی کو مضبوط تھام لیں۔ عقلمند اور نیک راہ لوگوں میں بھلی باتوں کے قبول کرنے کا صحیح مادہ ضرور ہوتا ہے ‘۔
18۔ 1 اَحسَنُ سے مراد محکم اور پختہ بات، یا سب سے اچھی بات، یا عقوبیت کے مقابلے میں درگزر اختیار کرتے ہیں۔ 18۔ 2 کیونکہ انہوں نے اپنی عقل سے فائدہ اٹھایا ہے، جب کہ دوسروں نے اپنی عقلوں سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
(آیت 18) ➊ {الَّذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ:} اس جملے کی تین تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ میرے ان بندوں کو بشارت دے جو ہر بات سنتے ہیں، مگر پیروی صرف قرآن و سنت کی کرتے ہیں، کیونکہ سب باتوں سے اچھی بات اللہ کی نازل کردہ بات ہے، جیسا کہ آگے آیت (۲۳) میں آ رہا ہے: «‏‏‏‏اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ» ”اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَحْسَنُ الْكَلاَمِ كَلاَمُ اللّٰهِ وَ أَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] [ نسائي، السھو، باب نوع من الذکر بعد التشھد: ۱۳۱۲، عن جابر رضی اللہ عنہ ] ”ہر کلام سے اچھا اللہ کا کلام ہے اور ہر طریقے سے اچھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔“ دوسری تفسیر یہ ہے کہ وہ قرآن سنتے ہیں جس میں کچھ احکام حسن (اچھے) ہیں اور کچھ اَحسن (زیادہ اچھے) ہیں، پھر وہ احسن کی پیروی کرتے ہیں۔ مثلاً قصاص لینا یا معاف کر دینا، زیادتی پر انتقام لینا یا صبر کرنا، قرض وصول کرنے میں مہلت دینا یا چھوڑ دینا، اگرچہ تینوں معاملات میں مذکور دونوں کام اچھے ہیں، مگر دوسرا کام پہلے سے زیادہ اچھا ہے۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ وہ اچھی بری سبھی باتیں سنتے ہیں، مگر کرتے وہی بات یا وہی کام ہیں جو سب سے اچھا ہو۔ ابن عطیہ نے ”المحرر الوجیز“ میں فرمایا: {”هُوَ عَامٌّ فِيْ جَمِيْعِ الْأَقْوَالِ وَالْقَصْدُ الثَّنَاءُ عَلٰی هٰؤُلَاءِ بِبَصَائِرَ وَ نَظْرٍ سَدِيْدٍ يُفَرِّقُوْنَ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَ الْبَاطِلِ وَ بَيْنَ الصَّوَابِ وَالْخَطَإِ فَيَتَّبِعُوْنَ الْأَحْسَنَ مِنْ ذٰلِكَ“} ”یہ تمام اقوال کے لیے عام ہے، مقصد ان لوگوں کی بصیرتوں اور درست غور و فکر کی تعریف ہے جس کے ساتھ وہ حق و باطل اور درست اور خطا کے درمیان فیصلہ کرتے ہیں، پھر اس میں سے احسن کی پیروی کرتے ہیں۔“ الفاظ عام ہونے کی وجہ سے تیسری تفسیر زیادہ ظاہر ہے۔ ➋{ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ …:} ہر قسم کے اقوال سن کر سب سے اچھی بات کی جستجو کر کے اس پر عمل کرنے والوں ہی کو اللہ تعالیٰ نے وہ لوگ قرار دیا جنھیں اس نے ہدایت دی اور صرف انھی کو عقلوں والے قرار دیا۔ ➌ اس آیت سے تقلید کی واضح تردید ہو رہی ہے، کیونکہ تقلید کا معنی ہے: {”أَخْذُ قَوْلِ الْغَيْرِ بِلَا دَلِيْلٍ“} یعنی اللہ اور اس کے رسول کے غیر کی بات بلا دلیل لے لینا۔ مقلد اپنے بنائے ہوئے پیشوا کے علاوہ اوّل تو کسی کی بات سننے پر آمادہ ہی نہیں ہوتا، اگر سن بھی لے تو اپنے پیشوا کی بات پر جما رہتا ہے۔ دوسری بات خواہ قرآن مجید کی آیت ہو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہو اور خواہ وہ کتنی ہی اچھی ہو، نہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے نہ مانتا ہے۔ جب کہ مومن ہر بات غور سے سن کر اس کے حسن و قبح کی جانچ پڑتال کرتا ہے اور احسن پر عمل کرتا ہے۔ جہنم میں جانے والے تمنا کریں گے کہ کاش! وہ دنیا میں سنتے یا سمجھتے ہوتے، مگر اس وقت جب ان کی تمنا پوری ہونے کی کوئی صورت نہ ہو گی، فرمایا: «‏‏‏‏وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ» ‏‏‏‏ [ الملک: ۱۰ ] ”اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے۔“ ایسے لوگ نہ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور نہ ان کا شمار ”اولوا الالباب“ میں ہو سکتا ہے۔
اَفَمَنۡ حَقَّ عَلَیۡہِ کَلِمَۃُ الۡعَذَابِ ؕ اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِی النَّارِ ﴿ۚ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اے نبیؐ) اُس شخص کو کون بچا سکتا ہے جس پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہو؟ کیا تم اُسے بچا سکتے ہو جو آگ میں گر چکا ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
بھلا جس شخص پر عذاب کی بات ﺛابت ہو چکی ہے، تو کیا آپ اسے جو دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا وہ جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی نجات والوں کے برابر ہوجائے گا تو کیا تم ہدایت دے کر آگ کے مستحق کو بچالو گے
علامہ محمد حسین نجفی
بھلا جس پر عذاب کا حکم ثابت ہو چکا تو کیا آپ اسے چھڑا سکتے ہیں جو (دوزخ کی) آگ میں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ شخص جس پر عذاب کی بات ثابت ہو چکی، پھر کیا تو اسے بچا لے گا جو آگ میں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک اعمال کے حامل لوگوں کے لئے محلات ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ جس کی بدبختی لکھی جا چکی ہے تو اسے کوئی بھی راہ راست نہیں دکھا سکتا، کون ہے جو اللہ کے گمراہ کئے ہوئے کو راہ راست دکھا سکے؟ تجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ تو ان کی رہبری کر کے انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ ہاں نیک بخت نیک اعمال نیک عقدہ لوگ قیامت کے دن جنت کے محلات میں مزے کریں گے، ان بالا خانوں میں جو کئی کئی منزلوں کے ہیں، تمام سامان آرائش سے آراستہ ہیں وسیع اور بلند خوبصورت اور جگمگ کرتے ہیں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنت میں ایسے محل ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے صاف دکھائی دیتا ہے }۔ ایک اعرابی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: { ان کے لیے جو نرم کلامی کریں کھانا کھلائیں اور راتوں کو جب لوگ میٹھی نیند میں ہوں یہ اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر گڑ گڑائیں۔ نمازیں پڑھیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2527،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے انہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بنایا ہے جو کھانا کھلائیں کلام کو نرم رکھیں پے در پے نفل روزے بکثرت رکھیں اور پچھلی راتوں کو تہجد پڑھیں }۔ ۱؎ [صحیح ابن خریمہ:2137:حسن] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے { جنتی جنت کے بالا خانوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے ستاروں کو دیکھتے ہو } اور روایت میں ہے { مشرقی مغربی کناروں کے ستارے جس طرح تمہیں دکھائی دیتے ہیں اسی طرح جنت کے وہ محلات تمہیں نظر آئیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6556] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { ان محلات کی یہ تعریفیں سن کر لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو نبیوں کے لیے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں! اور ان کے لئے جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کو سچا جانے} }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2556،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھتے رہتے ہیں اس وقت تک تو ہمارے دل نرم رہتے ہیں اور ہم آخرت کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب آپ کی مجلس سے اٹھ کر دنیوی کاروبار میں پھنس جاتے ہیں بال بچوں میں مشغول ہو جاتے ہیں تو اس وقت ہماری وہ حالت نہیں رہتی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم ہر وقت اسی حالت پر رہتے جو حالت تمہاری میرے سامنے ہوتی ہے تو فرشتے اپنے ہاتھوں سے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہارے گھروں میں آ کر تم سے ملاقاتیں کرتے۔ سنو اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں بخشے }۔ ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنت کی بنیاد کس چیز کی ہے؟ فرمایا: { ایک اینٹ سونے کی ایک چاندی کی۔ اس کا چونا خالص مشک ہے اس کی کنکریاں لولو اور یاقوت ہیں۔ اس کی مٹی زعفران ہے۔ اس میں جو داخل ہو گیا وہ مالا مال ہو گیا۔ جس کے بعد بے مال ہونے کا خطرہ ہی نہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں ہی رہے گا وہاں سے نکالے جانے کا امکان ہی نہیں۔ نہ موت کا کھٹکا ہے، ان کے کپڑے گلتے سڑتے نہیں، ان کی جوانی دوامی ہے۔ سنو! تین شخصوں کی دعا مردود نہیں ہوتی عادل بادشاہ، روزے دار اور مظلوم۔ ان کی دعا ابر پر اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ رب العزت فرماتا ہے مجھے اپنی عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ مدت کے بعد ہو } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3598،قال الشيخ الألباني:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ ان محلات کے درمیان چشمے بہہ رہے ہیں اور وہ بھی ایسے کہ جہاں چاہیں پانی پہنچائیں جب اور جتنا چاہیں بہاؤ رہے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کا وعدہ اپنے مومن بندوں سے یقیناً اللہ تعالیٰ کی ذات وعدہ خلافی سے پاک ہے۔
19۔ 1 نبی صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس بات کی شدید خواہش رکھتے تھے کہ آپ کی قوم کے سب لوگ ایمان لے آئیں اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی اور آپ کو بتلایا کہ آپ کی اپنی جگہ بالکل صحیح اور بجا ہے لیکن جس پر اس کی تقدیر غالب آگئی اور اللہ کا کلمہ اس کے حق میں ثابت ہوگیا، اسے آپ جہنم کی آگ سے بچانے پر قادر نہیں ہیں۔
(آیت 19){ اَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ …:} تو کیا وہ شخص جس (کے شیطان کی پیروی اور کفر پر اصرار اور ضد اور عناد کی وجہ سے اس) پر عذاب کی بات ثابت ہو چکی اور جسے اللہ تعالیٰ آگ میں ڈالنے کا فیصلہ فرما چکا (دیکھیے سورۂ ص: ۸۵) تو اے نبی! کیا تو اسے بچالے گا جو آگ میں ہے؟ نہیں! تو ہر گز نہیں بچا سکے گا۔ پھر جسے تو نہ بچا سکا تو اور کون ہے جو اسے آگ سے بچا سکے گا؟ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ بے شک آپ کی شدید خواہش ہے کہ سب لوگ ایمان لے آئیں مگر ایمان لانے کی توفیق دینا یا نہ دینا آپ کے اختیار میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ» ‏‏‏‏ [ القصص: ۵۶ ] ”بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے۔“
لٰکِنِ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ لَہُمۡ غُرَفٌ مِّنۡ فَوۡقِہَا غُرَفٌ مَّبۡنِیَّۃٌ ۙ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۬ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ ؕ لَا یُخۡلِفُ اللّٰہُ الۡمِیۡعَادَ ﴿۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈر کر رہے اُن کے لیے بلند عمارتیں ہیں منزل پر منزل بنی ہوئی، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں وه لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے باﻻ خانے ہیں جن کے اوپر بھی بنے بنائے باﻻ خانے ہیں (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ رب کا وعده ہے اور وه وعده خلافی نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
لیکن جو اپنے رب سے ڈرے ان کے لیے بالا خانے ہیں ان پر بالا خانے بنے ان کے نیچے نہریں بہیں، اللہ کا وعدہ، اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا،
علامہ محمد حسین نجفی
البتہ جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کیلئے ایسے بالا خانے ہیں کہ جن کے اوپر اور بالا خانے بنے ہوئے ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کبھی (اپنے) وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
لیکن وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، ان کے لیے بالاخانے ہیں، جن کے اوپر خوب بنائے ہوئے بالاخانے ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہ رہی ہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک اعمال کے حامل لوگوں کے لئے محلات ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ جس کی بدبختی لکھی جا چکی ہے تو اسے کوئی بھی راہ راست نہیں دکھا سکتا، کون ہے جو اللہ کے گمراہ کئے ہوئے کو راہ راست دکھا سکے؟ تجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ تو ان کی رہبری کر کے انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ ہاں نیک بخت نیک اعمال نیک عقدہ لوگ قیامت کے دن جنت کے محلات میں مزے کریں گے، ان بالا خانوں میں جو کئی کئی منزلوں کے ہیں، تمام سامان آرائش سے آراستہ ہیں وسیع اور بلند خوبصورت اور جگمگ کرتے ہیں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنت میں ایسے محل ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے صاف دکھائی دیتا ہے }۔ ایک اعرابی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: { ان کے لیے جو نرم کلامی کریں کھانا کھلائیں اور راتوں کو جب لوگ میٹھی نیند میں ہوں یہ اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر گڑ گڑائیں۔ نمازیں پڑھیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2527،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے انہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بنایا ہے جو کھانا کھلائیں کلام کو نرم رکھیں پے در پے نفل روزے بکثرت رکھیں اور پچھلی راتوں کو تہجد پڑھیں }۔ ۱؎ [صحیح ابن خریمہ:2137:حسن] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے { جنتی جنت کے بالا خانوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے ستاروں کو دیکھتے ہو } اور روایت میں ہے { مشرقی مغربی کناروں کے ستارے جس طرح تمہیں دکھائی دیتے ہیں اسی طرح جنت کے وہ محلات تمہیں نظر آئیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6556] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { ان محلات کی یہ تعریفیں سن کر لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو نبیوں کے لیے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں! اور ان کے لئے جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کو سچا جانے} }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2556،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھتے رہتے ہیں اس وقت تک تو ہمارے دل نرم رہتے ہیں اور ہم آخرت کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب آپ کی مجلس سے اٹھ کر دنیوی کاروبار میں پھنس جاتے ہیں بال بچوں میں مشغول ہو جاتے ہیں تو اس وقت ہماری وہ حالت نہیں رہتی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم ہر وقت اسی حالت پر رہتے جو حالت تمہاری میرے سامنے ہوتی ہے تو فرشتے اپنے ہاتھوں سے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہارے گھروں میں آ کر تم سے ملاقاتیں کرتے۔ سنو اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں بخشے }۔ ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنت کی بنیاد کس چیز کی ہے؟ فرمایا: { ایک اینٹ سونے کی ایک چاندی کی۔ اس کا چونا خالص مشک ہے اس کی کنکریاں لولو اور یاقوت ہیں۔ اس کی مٹی زعفران ہے۔ اس میں جو داخل ہو گیا وہ مالا مال ہو گیا۔ جس کے بعد بے مال ہونے کا خطرہ ہی نہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں ہی رہے گا وہاں سے نکالے جانے کا امکان ہی نہیں۔ نہ موت کا کھٹکا ہے، ان کے کپڑے گلتے سڑتے نہیں، ان کی جوانی دوامی ہے۔ سنو! تین شخصوں کی دعا مردود نہیں ہوتی عادل بادشاہ، روزے دار اور مظلوم۔ ان کی دعا ابر پر اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ رب العزت فرماتا ہے مجھے اپنی عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ مدت کے بعد ہو } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3598،قال الشيخ الألباني:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ ان محلات کے درمیان چشمے بہہ رہے ہیں اور وہ بھی ایسے کہ جہاں چاہیں پانی پہنچائیں جب اور جتنا چاہیں بہاؤ رہے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کا وعدہ اپنے مومن بندوں سے یقیناً اللہ تعالیٰ کی ذات وعدہ خلافی سے پاک ہے۔
20۔ 1 جو اس نے مومن بندوں کے لئے کیا ہے اور جو یقینا پورا ہوگا، کہ اللہ سے وعدہ خلافی ممکن نہیں۔
(آیت 20) ➊ { لٰكِنِ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ …:} جہنمیوں کے ذکر کے ساتھ ہی متقیوں کا حسن انجام بیان فرمایا، تاکہ ترہیب کے ساتھ ترغیب بھی جاری رہے۔ علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا يُرٰی ظُهُوْرُهَا مِنْ بُطُوْنِهَا وَ بُطُوْنُهَا مِنْ ظُهُوْرِهَا فَقَامَ إِلَيْهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ لِمَنْ هِيَ يَا نَبِيَّ اللّٰهِ!؟ قَالَ هِيَ لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَ أَدَامَ الصِّيَامَ وَ صَلّٰی لِلّٰهِ بِاللَّيْلِ وَ النَّاسُ نِيَامٌ ] [ ترمذي، صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ غرف الجنۃ: ۲۵۲۷، و قال الألباني حسن ] ”جنت میں ایسے اونچے محل ہیں جن کے باہر کے حصے ان کے اندر کے حصوں سے اور اندر کے حصے باہر کے حصوں سے دکھائی دیتے ہیں۔“ ایک اعرابی نے اٹھ کر پوچھا: ”اے اللہ کے نبی! وہ کن کے لیے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے لیے جو پاکیزہ گفتگو کریں اور کھانا کھلائیں اور روزوں پر ہمیشگی کریں اور اللہ کے لیے نماز پڑھیں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں۔“ ➋ { مِنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ …:} یعنی متقی لوگوں کے لیے اونچے محل ہیں، جن سے مزید بلندی پر اور اونچے محل ہیں، ان کی بلندی کا ذکر سورۂ فرقان کی آیت (۷۵) کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ ➌ {” مَبْنِيَّةٌ”بَنٰي يَبْنِيْ بِنَاءً“} سے اسم مفعول ہے۔ ”بنائے ہوئے“ سے مراد نہایت خوبی سے بنائے ہوئے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّةِ، مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ لَبِنَةُ ذَهَبٍ وَ لَبِنَةُ فِضَّةٍ، وَمِلاَطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ، وَ حَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوْتُ، وَ تُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ، مَنْ يَّدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَ لَا يَبْأَسُ، وَ يَخْلُدُ وَ لَا يَمُوْتُ، لَا تَبْلٰی ثِيَابُهُ وَ لَا يَفْنٰی شَبَابُهُ ] [ مسند أحمد: 305/2، ح: ۸۰۶۳، قال المحقق صحیح بطرقہ و شواہدہ ] ”یا رسول اللہ! ہمیں جنت کے متعلق بتائیں کہ وہ کس چیز کی بنی ہوئی ہے؟“ فرمایا: ”ایک اینٹ سونے کی، ایک اینٹ چاندی کی، اس کا گارا مہکنے والی کستوری ہے، اس کی کنکریاں لؤلؤ اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی زعفران ہے۔ جو اس میں داخل ہو گا خوش حال رہے گا، کبھی بدحال نہیں ہو گا، ہمیشہ زندہ رہے گا، کبھی فوت نہیں ہو گا، نہ اس کے کپڑے کبھی بوسیدہ ہوں گے اور نہ ہی اس کی جوانی ختم ہو گی۔“ ➍ {” مَبْنِيَّةٌ “} (بنائے ہوئے) کے لفظ سے ظاہر ہے کہ جنت کے وہ محل بنائے جا چکے ہیں اور جنت متقی بندوں کے لیے تیار کی جاچکی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۳۳ ] ”(جنت) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔“
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَکَہٗ یَنَابِیۡعَ فِی الۡاَرۡضِ ثُمَّ یُخۡرِجُ بِہٖ زَرۡعًا مُّخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہٗ ثُمَّ یَہِیۡجُ فَتَرٰىہُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ یَجۡعَلُہٗ حُطَامًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکۡرٰی لِاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿٪۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں، پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئیں، پھر آخرکار اللہ اُن کو بھس بنا دیتا ہے در حقیقت اِس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچاتا ہے، پھر اسی کے ذریعہ سے مختلف قسم کی کھیتیاں اگاتا ہے پھر وه خشک ہو جاتی ہیں اور آپ انہیں زرد رنگ دیکھتے ہیں پھر انہیں ریزه ریزه کر دیتا ہے، اس میں عقل مندوں کے لئے بہت زیاده نصیحت ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے زمین میں چشمے بنائے پھر اس سے کھیتی نکالتا ہے کئی رنگت کی پھر سوکھ جاتی ہے تو تُو دیکھے کہ وہ پیلی پڑ گئی پھر اسے ریزہ ریزہ کردیتا ہے، بیشک اس میں دھیان کی بات ہے عقل مندوں کو
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور پھر زیرِ زمین اس کے چشمے جاری کر دیتا ہے پھر اس سے مختلف قسم کی رنگ برنگی کھیتیاں برآمد کرتا ہے پھر وہ (پک کر) خشک ہونے لگتی ہیں تم انہیں زرد دیکھتے ہو پھر انہیں ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں صاحبانِ عقل کیلئے نصیحت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر اسے چشموں کی صورت زمین میں چلایا، پھر وہ اس کے ساتھ کھیتی نکالتا ہے، جس کے رنگ مختلف ہیں،پھر وہ پک کر تیار ہو جاتی ہے، پھر تو اسے دیکھتا ہے پیلی ہونے والی، پھر وہ اسے چورا بنا دیتا ہے، بے شک اس میں عقلوں والوں کے لیے یقینا بڑی نصیحت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زندگی کی بہترین مثال ٭٭

زمین میں جو پانی ہے وہ درحقیقت آسمان سے اترا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [25-الفرقان:48] ‏‏‏‏ ’ ہم آسمان سے پانی اتارتے ہیں یہ پانی زمین پی لیتی ہے اور اندر ہی اندر وہ پھیل جاتا ہے۔ پھر حسب حاجت کسی چشمہ سے اللہ تعالیٰ اسے نکالتا ہے اور چشمے جاری ہو جاتے ہیں ‘۔ جو پانی زمین کے میل سے کھارہ ہو جاتا ہے وہ کھارہ ہی رہتا ہے۔ اسی طرح آسمانی پانی برف کی شکل میں پہاڑوں پر جم جاتا ہے۔ جسے پہاڑ چوس لیتے ہیں اور پھر ان میں سے جھرنے بہ نکلتے ہیں۔ ان چشموں اور آبشاروں کا پانی کھیتوں میں پہنچتا ہے۔ جس سے کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں جو مختلف قسم کے رنگ و بو کی اور طرح طرح کے مزے اور شکل و صورت کی ہوتی ہیں۔ پھر آخری وقت میں ان کی جوانی بڑھاپے سے اور سبزی زردے سے بدل جاتی ہے۔ پھر خشک ہو جاتی ہے اور کاٹ لی جاتی ہے۔ کیا اس میں عقل مندوں کے لیے بصیرت و نصیحت نہیں؟ کیا وہ اتنا نہیں دیکھتے کہ اسی طرح دنیا ہے۔ آج ایک جوان اور خوبصورت نظر آتی ہے کل بڑھیا اور بدصورت ہو جاتی ہے۔ آج ایک شخص نوجوان طاقت مند ہے کل وہی بوڑھا کھوسٹ اور کمزور نظر آتا ہے۔ پھر آخر موت کے پنجے میں پھنستا ہے۔ پس عقلمند انجام پر نظر رکھیں بہتر وہ ہے جس کا انجام بہتر ہو۔ اکثر جگہ دنیا کی زندگی کی مثال بارش سے پیدا شدہ کھیتی کے ساتھ دے گئی ہے جیسے «وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا» ۱؎ [18-الكهف:45] ‏‏‏‏ میں ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ جس کا سینہ اسلام کے لیے کھل گیا، ذرا سوچو! جس نے رب کے پاس سے نور پا لیا وہ اور سخت سینے اور تنگ دل والا برابر ہو سکتا ہے۔ حق پر قائم اور حق سے دور یکساں ہو سکتے ہیں؟ ‘ جیسے فرمای ا «اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:122] ‏‏‏‏، ’ وہ شخص جو مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کر دیا اور اسے نور عطا فرمایا جسے اپنے ساتھ لیے ہوئے لوگوں میں چل پھر رہا ہے اور یہ اور وہ جو اندھیریوں میں گھرا ہوا ہے جن سے چھٹکارا محال ہے۔ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ‘ پس یہاں بھی بطور نصیحت بیان فرمایا کہ ’ جن کے دل اللہ کے ذکر سے نرم نہیں پڑتے احکام الٰہی کو ماننے کے لیے نہیں کھلتے رب کے سامنے عاجزی نہیں کرتے بلکہ سنگدل اور سخت دل ہیں ان کے لیے ویل ہے خرابی اور افسوس و حسرت ہے یہ بالکل گمراہ ہیں ‘۔
21۔ 1 یعنی بارش کے ذریعے سے پانی آسمان سے اترتا ہے، پھر وہ زمین میں جذب ہوجاتا ہے پھر چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا تالابوں اور نہروں میں جمع ہوجاتا ہے۔ 21۔ 2 یعنی شادابی اور ترو تازگی کے بعد وہ کھیتیاں سوکھ جاتی اور زرد ہوجاتی ہیں اور پھر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہیں۔ جس طرح لکڑی کی ٹہنیاں خشک ہو کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں۔
(آیت 21) ➊ { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً …: ” يَنَابِيْعَ”يَنْبُوْعٌ“} کی جمع ہے، جس کا معنی چشمہ بھی ہے اور بہت پانی والا نالہ بھی۔ (قاموس) ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ زمین میں موجود پانی کا اصل آسمان ہی سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًا» [ الفرقان: ۴۸ ] ”اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا۔“ آسمان سے اترنے کے بعد یہ پانی زمین کی تہوں میں چلا جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ضرورت کے مطابق جس طرح چاہتا ہے چلاتا ہے اور چھوٹے یا بڑے چشموں کی صورت میں باہر نکالتا ہے، جس سے ندی نالے اور دریا بنتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏فَسَلَكَهٗ يَنَابِيْعَ فِي الْاَرْضِ» ”پھر اسے چشموں کی صورت میں زمین میں چلایا۔“ ➋ آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ آگ کے عذاب اور ہمیشہ ہمیشہ کی جنت کے ذکر کے ساتھ ہی دنیا کی زندگی کی زیب و زینت اور خوش حالی کے عارضی اور نا پائیدار ہونے کا ذکر فرمایا۔ آسمان سے اترنے والے پانی کے ساتھ پیدا ہونے والی کھیتی کا جو حال اس آیت میں بیان ہوا ہے یہی حال انسان کا ہے، وہ پہلے بچہ ہوتا ہے، پھر جوان ہوتا ہے، پھر پختہ ہو کر بوڑھا ہو جاتا ہے، آخر کار دنیا سے سدھار جاتا ہے۔ دنیا کی ہر چیز کا یہی حال ہے، اس کی سب زینتیں عارضی اور چند روزہ ہیں، اس کے ہر کمال کو زوال ہے اور اس کی ہر چیز کو آخر کار فنا ہونا ہے۔ اس آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۲۴)، کہف (۴۵) اور حدید (۲۰)۔ ➌ {ثُمَّ يُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ:} مختلف رنگوں سے مراد مختلف رنگ بھی ہیں، مثلاً سبز، سرخ، زرد وغیرہ اور مختلف قسمیں بھی، مثلاً گندم، جَو اور چنے وغیرہ۔ یہ دلیل ہے کہ ایک ہی پانی اور ایک ہی زمین سے مختلف رنگوں اور ذائقوں کی کھیتیاں پیدا کرنا اندھے بہرے مادے کا کام نہیں، بلکہ ایک قادر و مختار ہستی کا کام ہے۔ دیکھیے سورۂ رعد (۴)۔ ➍ {ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا: ”هَاجَ يَهِيْجُ هَيْجًا وَ هِيَاجًا وَ هَيْجَانًا الشَّيْءُ“} کسی چیز کا ابھرنا، حرکت کرنا۔ {”هَاجَ النَّبْتُ“} کھیتی کا خشک ہونا۔ ➎ { ثُمَّ يَجْعَلُهٗ حُطَامًا:” حَطِمَ } (س) {الشَّيْءُ حَطَمًا“} کسی چیز کا ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جانا۔ {” حُطَامًا”فُتَاتًا“} کا ہم وزن اور ہم معنی ہے، ریزہ ریزہ شدہ، چورا۔ اس آیت میں {” ثُمَّ يَجْعَلُهٗ حُطَامًا “} (پھر وہ اسے چورا بنا دیتا ہے) فرمایا، جب کہ سورۂ حدید میں فرمایا: «ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا» ‏‏‏‏ [ الحدید: ۲۰ ] ”پھر وہ چورا بن جاتی ہے۔“ یہ فرق اس لیے ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت و صنعت کی بات ہو رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اسے چشموں کی صورت میں زمین میں چلایا، پھر یہاں مختلف رنگوں کی کھیتی اُگانے اور اس کے پکنے کا ذکر ہے، اس لیے فرمایا، پھر وہ اسے چورا بنا دیتا ہے اور سورۂ حدید میں {” الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا “} (دنیا کی زندگی) سے بات کا آغاز ہوا ہے، اس لیے آخر میں فرمایا، پھر وہ چورا بن جاتی ہے۔ ➏ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى …: ” لَذِكْرٰى “} میں تنکیر تعظیم کے لیے ہے، یعنی اس میں عقلوں والوں کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے کہ ان کی زندگی بھی اس کھیتی کی طرح نا پائیدار اور فنا ہونے والی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا انھیں دوبارہ اسی طرح زندہ کر ے گا جس طرح وہ مردہ زمین کو پانی کے ذریعے سے زندہ کر دیتا ہے۔
اَفَمَنۡ شَرَحَ اللّٰہُ صَدۡرَہٗ لِلۡاِسۡلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ فَوَیۡلٌ لِّلۡقٰسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مِّنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے (اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس نے اِن باتوں سے کوئی سبق نہ لیا؟) تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہو گئے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا وه شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نےاسلام کے لئے کھول دیا ہے پس وه اپنے پروردگار کی طرف سے ایک نور پر ہے اور ہلاکی ہے ان پر جن کے دل یاد الٰہی سے (اﺛر نہیں لیتے بلکہ) سخت ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یادِ خدا کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں وہ کھلی گمراہی میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ شخص جس کے سینہ کو اللہ نے (قبولِ) اسلام کیلئے کھول دیا ہے اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نور (ہدایت) پر ہے (قسی القلب لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے) بربادی ہے ان کیلئے جن کے دل ذکرِ خدا سے سخت ہوگئے ہیں یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے، سو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر ہے (کسی سخت دل کافر جیسا ہو سکتا ہے؟) پس ان کے لیے ہلاکت ہے جن کے دل اللہ کی یاد کی طرف سے سخت ہیں، یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زندگی کی بہترین مثال ٭٭

زمین میں جو پانی ہے وہ درحقیقت آسمان سے اترا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [25-الفرقان:48] ‏‏‏‏ ’ ہم آسمان سے پانی اتارتے ہیں یہ پانی زمین پی لیتی ہے اور اندر ہی اندر وہ پھیل جاتا ہے۔ پھر حسب حاجت کسی چشمہ سے اللہ تعالیٰ اسے نکالتا ہے اور چشمے جاری ہو جاتے ہیں ‘۔ جو پانی زمین کے میل سے کھارہ ہو جاتا ہے وہ کھارہ ہی رہتا ہے۔ اسی طرح آسمانی پانی برف کی شکل میں پہاڑوں پر جم جاتا ہے۔ جسے پہاڑ چوس لیتے ہیں اور پھر ان میں سے جھرنے بہ نکلتے ہیں۔ ان چشموں اور آبشاروں کا پانی کھیتوں میں پہنچتا ہے۔ جس سے کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں جو مختلف قسم کے رنگ و بو کی اور طرح طرح کے مزے اور شکل و صورت کی ہوتی ہیں۔ پھر آخری وقت میں ان کی جوانی بڑھاپے سے اور سبزی زردے سے بدل جاتی ہے۔ پھر خشک ہو جاتی ہے اور کاٹ لی جاتی ہے۔ کیا اس میں عقل مندوں کے لیے بصیرت و نصیحت نہیں؟ کیا وہ اتنا نہیں دیکھتے کہ اسی طرح دنیا ہے۔ آج ایک جوان اور خوبصورت نظر آتی ہے کل بڑھیا اور بدصورت ہو جاتی ہے۔ آج ایک شخص نوجوان طاقت مند ہے کل وہی بوڑھا کھوسٹ اور کمزور نظر آتا ہے۔ پھر آخر موت کے پنجے میں پھنستا ہے۔ پس عقلمند انجام پر نظر رکھیں بہتر وہ ہے جس کا انجام بہتر ہو۔ اکثر جگہ دنیا کی زندگی کی مثال بارش سے پیدا شدہ کھیتی کے ساتھ دے گئی ہے جیسے «وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا» ۱؎ [18-الكهف:45] ‏‏‏‏ میں ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ جس کا سینہ اسلام کے لیے کھل گیا، ذرا سوچو! جس نے رب کے پاس سے نور پا لیا وہ اور سخت سینے اور تنگ دل والا برابر ہو سکتا ہے۔ حق پر قائم اور حق سے دور یکساں ہو سکتے ہیں؟ ‘ جیسے فرمای ا «اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:122] ‏‏‏‏، ’ وہ شخص جو مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کر دیا اور اسے نور عطا فرمایا جسے اپنے ساتھ لیے ہوئے لوگوں میں چل پھر رہا ہے اور یہ اور وہ جو اندھیریوں میں گھرا ہوا ہے جن سے چھٹکارا محال ہے۔ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ‘ پس یہاں بھی بطور نصیحت بیان فرمایا کہ ’ جن کے دل اللہ کے ذکر سے نرم نہیں پڑتے احکام الٰہی کو ماننے کے لیے نہیں کھلتے رب کے سامنے عاجزی نہیں کرتے بلکہ سنگدل اور سخت دل ہیں ان کے لیے ویل ہے خرابی اور افسوس و حسرت ہے یہ بالکل گمراہ ہیں ‘۔
22۔ 1 یعنی جس کو قبول حق اور خیر کا راستہ اپنانے کی توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل جائے پس وہ اس شرح صدر کی وجہ سے رب کی روشنی پر ہو، کیا یہ اس جیسا ہوسکتا ہے جس کا دل اسلام کے لئے سخت اور اس کا سینہ تنگ ہو اور وہ گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹک رہا ہو۔
(آیت 22) ➊ {اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ …:} شرح صدر کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انعام کی آیت (۱۲۵) اس آیت میں بیان فرمایا کہ مومن و کافر اور فرماں بردار و نافرمان کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ {”مَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ“} مبتدا ہے، اس کی خبر محذوف ہے، جو بعد کے جملے سے خود بخود سمجھ میں آ رہی ہے: {”أَيْ كَمَنْ هُوَ قَاسِي الْقَلْبِ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ“} یعنی وہ شخص جس کا دل اللہ تعالیٰ نے قبول اسلام کے لیے کھول دیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے ہدایت کی روشنی پر گامزن ہے اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جس کا دل اللہ کی یاد کی طرف سے پتھر کی طرح سخت ہو چکا ہے اور اسے اپنا پروردگار یاد ہی نہیں؟ قرآن مجید میں کئی مقامات پر ایسے مبتدا کی خبر مذکور بھی ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى» ‏‏‏‏ [ الرعد: ۱۹ ] ”پھر کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف اتارا گیا وہی حق ہے، اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے؟“ اور فرمایا: «‏‏‏‏اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ» ‏‏‏‏ [ محمد: ۱۴ ] ”تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہے اس شخص کی طرح ہے جس کے لیے اس کے برے اعمال مزیّن کر دیے گئے اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی؟“ ➋ {فَوَيْلٌ لِّلْقٰسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ …: ”اَلْقَاسِيَةُ“ ”قَسَا يَقْسُوْ قَسْوَةً“} سے اسم فاعل مؤنث ہے۔ {”قَسْوَةٌ“} کے مفہوم کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۷۴): «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔ ➌ { اُولٰٓىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ: } اس سے بڑی گمراہی کیا ہو گی کہ کوئی شخص اپنے مالک ہی سے منہ موڑلے۔
اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ٭ۖ تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ ۚ ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَ قُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے، جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں آخر میں ان کے جسم اور دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں، یہ ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت جس کے ذریعہ جسے چاہے راه راست پر لگا دیتا ہے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ ہی راه بھلا دے اس کا ہادی کوئی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے دوہرے بیان والی اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑتے ہیں یادِ خدا کی طرف رغبت میں یہ اللہ کی ہدایت ہے راہ دکھائے اس سے جسے چاہے، اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ ہی نے بہترین کلام نازل کیا ہے یعنی ایسی کتاب جس کی آیتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں (اور) بار بار دہرائی جاتی ہیں اس (کے پڑھنے) سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں پھر ان کے جسم اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم (مائل) ہو جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ذریعہ سے وہ جس کی چاہتا ہے راہنمائی کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اس کیلئے کوئی راہنما نہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے، (ایسی آیات )جو باربار دہرائی جانے والی ہیں، اس سے ان لوگوں کی کھالوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، جس کے ساتھ وہ جسے چاہتا ہے راہ پر لے آتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم کی تاثیر ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی اس کتاب قرآن کریم کی تعریف میں فرماتا ہے کہ ’ اس بہترین کتاب کو اس نے نازل فرمایا ہے جو سب کی سب متشابہ ہیں اور جس کی آیتیں مکرر ہیں تاکہ فہم سے قریب تر ہو جائے ‘۔ ایک آیت دوسری کے مشابہ اور ایک حرف دوسرے سے ملتا جلتا۔ اس سورت کی آیتیں اس سورت سے اور اس کی اس سے ملی جلی۔ ایک ایک ذکر کئی کئی جگہ اور پھر بے اختلاف بعض آیتیں ایک ہی بیان میں بعض میں جو مذکور ہے اس کی ضد کا ذکر بھی انہیں کے ساتھ ہے مثلاً مومنوں کے ذکر کے ساتھ ہی کافروں کا ذکر، جنت کے ساتھ ہی دوزخ کا بیان وغیرہ۔ دیکھئیے ابرار کے ذکر کے ساتھ ہی فجار کا بیان ہے «‏‏‏‏إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ» ‏‏‏‏ [82-الانفطار:14،13] ‏‏‏‏۔ سجین کے ساتھ ہی علیین کا بیان ہے «كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [83-المطففين:7] ‏‏‏‏ «كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ» ۱؎ [83-المطففين:18] ‏‏‏‏۔ متقین کے ساتھ ہی طاعین کا بیان ہے «هَٰذَا ذِكْرٌ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَآبٍ» ۱؎ [38-ص:49] ‏‏‏‏ «هَٰذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ» ۱؎ [38-ص:55] ‏‏‏‏۔ ذکر جنت کے ساتھ ہی تذکرہ جہنم ہے۔ یعنی معنی ہیں مثانی کے اور متشابہ ان آیتوں کو کہتے ہیں وہ تو یہ ہے اور «ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ» ۱؎ [3-آل عمران:7] ‏‏‏‏ میں اور ہی معنی ہیں۔ اس کی پاک اور بااثر آیتوں کا مومنوں کے دل پر نور پڑتا ہے وہ انہیں سنتے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں سزاؤں اور دھمکیوں کو سن کر ان کا کلیجہ کپکپانے لگتا ہے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انتہائی عاجزی اور بہت ہی بڑی گریہ و زاری سے ان کے دل اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اس کی رحمت و لطف پر نظریں ڈال کر امیدیں بندھ جاتی ہیں۔ ان کا حال سیاہ دلوں سے بالکل جداگانہ ہے۔ یہ رب کے کلام کو نیکیوں سے سنتے ہیں۔ وہ گانے بجانے پر سر دھنستے ہیں۔ یہ آیات قرآنی سے ایمان میں بڑھتے ہیں۔ وہ انہیں سن کر اور کفر کے زینے پر چڑھتے ہیں یہ روتے ہوئے سجدوں میں گر پڑتے ہیں۔ وہ مذاق اڑاتے ہوئے اکڑتے ہیں۔ فرمان قرآن ہے «اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ» ۱؎ [8-الانفال:4-2] ‏‏‏‏، یعنی ’ یاد الٰہی مومنوں کے دلوں کو دہلا دیتی ہے، وہ ایمان و توکل میں بڑھ جاتے ہیں، نماز و زکوٰۃ و خیرات کا خیال رکھتے ہیں، سچے با ایمان یہی ہیں، درجے، مغفرت اور بہترین روزیاں یہی پائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُ‌وا بِآيَاتِ رَ‌بِّهِمْ لَمْ يَخِرُّ‌وا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا» ۱؎ [25-الفرقان:73] ‏‏‏‏ یعنی ’ بھلے لوگ آیات قرآنیہ کو بہروں اندھوں کی طرح نہیں سنتے پڑھتے کہ ان کی طرف نہ تو صحیح توجہ ہو نہ ارادہ عمل ہو بلکہ یہ کان لگا کر سنتے ہیں دل لگا کر سمجھتے ہیں غور و فکر سے معانی اور مطلب تک رسائی حاصل کرتے ہیں ‘۔ اب توفیق ہاتھ آتی ہے سجدے میں گر پڑتے ہیں اور تعمیل کے لیے کمربستہ ہو جاتے ہیں۔ یہ خود اپنی سمجھ سے کام کرنے والے ہوتے ہیں دوسروں کی دیکھا دیکھی جہالت کے پیچھے پڑے نہیں رہتے۔ تیسرا وصف ان میں برخلاف دوسروں کے یہ ہے کہ قرآن کے سننے کے وقت با ادب رہتے ہیں۔ حضور علیہ السلام کی تلاوت سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جسم و روح ذکر اللہ کی طرف جھک آتے تھے ان میں خشوع و خضوع پیدا ہو جاتا تھا لیکن یہ نہ تھا کہ چیخنے چلانے اور ہاہڑک کرنے لگیں اور اپنی صوفیت جتائیں بلکہ ثبات سکون ادب اور خشیت کے ساتھ کلام اللہ سنتے دل جمعی اور سکون حاصل کرتے اسی وجہ سے مستحق تعریف اور سزاوار توصیف ہوئے رضی اللہ عنہم۔

عبدالرزاق میں ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اولیاء اللہ کی صفت یہی ہے کہ قرآن سن کر ان کے دل موم ہو جائیں اور ذکر اللہ کی طرف وہ جھک جائیں ان کے دل ڈر جائیں ان کی آنکھیں آنسو بہائیں اور طبیعت میں سکون پیدا ہو جائے۔ یہ نہیں کہ عقل جاتی رہے حالت طاری ہو جائے۔ نیک و بد کا ہوش نہ رہے۔ یہ بدعتیوں کے افعال ہیں کہ ہا ہو کرنے لگتے ہیں اور کودتے اچھلتے اور پکڑے پھاڑتے ہیں یہ شیطانی حرکت ہے۔ ذکر اللہ سے مراد وعدہ اللہ بھی بیان کیا گیا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے ’ یہ ہیں صفتیں ان لوگوں کی جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے۔ ان کے خلاف جنہیں پاؤ سمجھ لو کہ اللہ نے انہیں گمراہ کر دیا ہے اور یقین رکھو کہ رب جنہیں ہدایت دینا چاہیئے انہیں کوئی راہ راست نہیں دکھا سکتا ‘۔
23۔ 1 اَحْسَنُ الْحَدِیْثِ سے مراد قرآن مجید ہے، ملتی جلتی کا مطلب، اس کے سارے حصے حسن کلام، اعجاز و بلاغت صحت معانی وغیرہ خوبیوں میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یا یہ بھی سابقہ کتب آسمانی سے ملتا ہے یعنی ان کے مشابہ ہے مثانی، جس میں قصص و واقعات اور مواعظ و احکام کو بار بار دہرایا گیا ہے۔ 23۔ 2 کیونکہ وہ ان وعیدوں کو اور تخویف و تہدید کو سمجھتے ہیں جو نافرمانوں کے لئے اس میں ہے۔
(آیت 23) ➊ { اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ …:” نَزَّلَ “} کے مفہوم میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنا پایا جاتا ہے، جیساکہ فرمایا: «وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا» ‏‏‏‏ [ بني إسرائیل: ۱۰۶ ] ”اور عظیم قرآن، ہم نے اس کو جدا جدا کرکے (نازل) کیا، تاکہ تو اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور ہم نے اسے نازل کیا، (تھوڑا تھوڑا) نازل کرنا۔“ {” اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ “} سے مراد اللہ کا کلام ہے، کیونکہ مخلوق کا کلام کبھی بھی خالق کے کلام جیسے حسن والا نہیں ہو سکتا اور نہ مخلوق اس کی مثال پیش کر سکتی ہے۔ (دیکھیے سورۂ بقرہ: ۲۳، ۲۴){ ” الْحَدِيْثِ “} کا معنی ”نئی“ ہے، چونکہ بات بھی نئی ہوتی ہے، اس لیے اسے ”حدیث“ کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے کلام کرتا ہے اور اس کا کلام حدیث اور محدث (نیا) ہوتا ہے۔ (دیکھیے سورۂ انبیاء: ۲۔ شعراء: ۵) بعض لوگوں نے یونانی فلسفیوں کا یہ قاعدہ تسلیم کر لیا کہ ہر محل حوادث حادث ہوتا ہے، یعنی جس سے کوئی نئی چیز صادر ہو وہ ہمیشہ سے موجود ہستی نہیں ہو سکتی۔ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سننے، دیکھنے، اترنے چڑھنے، کلام کرنے، ہنسنے، غرض بے شمار صفات کا انکار کر دیا، یا ان کی تاویل کی، حالانکہ یہ قاعدہ قرآن کریم کے صریح خلاف ہے۔ قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اس کے باوجود وہ سمیع بھی ہے بصیر بھی، خالق بھی ہے رزاق بھی، خوش بھی ہوتا ہے ناراض بھی اور کلام بھی کرتا ہے اور ظاہر ہے کلام الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے، جن میں ترتیب اور حدوث پایا جاتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہر آن نئی سے نئی حالت اور نئی سے نئی شان میں ہے، فرمایا: «‏‏‏‏يَسْـَٔلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ» ‏‏‏‏ [ الرحمٰن: ۲۹ ] ” اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔“ یونانی فلسفی چونکہ آسمانی ہدایت کی روشنی سے محروم تھے، اس لیے ان کا فلسفہ قرآن و حدیث سے متصادم ہے اور ان کے ماننے والے قرآن و حدیث پر ایمان کے دعوے کے باوجود ان میں مذکور صفات الٰہی کو ماننے سے دل میں شدید تنگی محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں جو صریح تحریف ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۴۳)، توبہ (۶)، کہف (۱۰۹)، انبیاء (۲) اور سورۂ شعراء (۵)۔ ➋ { كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا:} اس مقام پر پورے قرآن کو{ ” كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا “} کہا گیا ہے، یعنی قرآن مجید کی تمام آیات مضامین و معانی میں، تمام خبروں کے سچا ہونے اور تمام احکام کے حق ہونے میں ایک دوسری سے ملتی جلتی اور ایک دوسری کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ اگر ایک جگہ بات مختصر ہے تو دوسری جگہ مفصل ہے، کہیں بھی کوئی اختلاف یا تناقض نہیں ہے، فرمایا: «وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا» ‏‏‏‏ [ النساء: ۸۲ ] ”اور اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔“ اسی طرح فصاحت و بلاغت اور حسن و خوبی میں بھی سب ایک جیسی ہیں۔ تیئیس (۲۳) سالوں کے طویل عرصہ میں تھوڑی تھوڑی آیات نازل ہونے کے باوجود کسی بھی مقام پر نہ ان کی حسن و خوبی اور فصاحت و بلاغت میں کوئی تفاوت ہے اور نہ کہیں اس کے جلال اور دبدبے میں کوئی کمی ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۸۲) دوسرے مقام پر قرآن کی بعض آیات کو محکم اور بعض کو {متشابه} کہا گیا ہے، اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۷)۔ ➌ {” مَثَانِيَ”ثَنٰي يَثْنِيْ“} ({رَمٰي يَرْمِيْ}) کے اسم مفعول {”مَثْنِيَّةٌ“} بروزن {”مَرْمِيَّةٌ“} کی جمع ہے، معنی دوہرا کرنا یا دہرانا ہے۔ یعنی اس کتاب کی آیات بار بار دہرائی جانے والی ہیں، جنھیں عقائد، احکام، قصص اور ترغیب و ترہیب کو ذہن نشین کرانے کے لیے بار بار، کہیں ایک ہی طرح اور کہیں مختلف انداز میں دہرایا گیا ہے، تاکہ خوب ذہن نشین ہو جائیں اور اگر ایک جگہ بات پوری طرح سمجھ میں نہ آئے تو دوسری جگہ خوب واضح ہو جائے۔ لطف یہ کہ نہ اس کے مختلف مضامین بار بار دہرانے سے طبیعت اکتاتی ہے اور نہ ہی کوئی ایک سورت یا آیت بار بار پڑھنے سے دل سیر ہوتا ہے۔ {” مَثَانِيَ “} کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ عموماً کسی بات کے ذکر کے ساتھ اس کے مقابل کا بھی ذکر ہے، مثلاً ایمان و کفر، جنت و جہنم، ابرار و فجار، ترغیب و ترہیب اور رحمت و عذاب وغیرہ۔ ➍ {تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ …:} یعنی جب ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے جلال و قہر کا، یا اس کے عذاب کا ذکر ہوتا ہے تو خوف کی وجہ سے اپنے رب سے ڈرنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر جب اس کی رحمت و مغفرت کا ذکر آتا ہے تو ان کے چمڑے اور دل امید کی بدولت نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف جھک جاتے ہیں۔ {” تَلِيْنُ “} کے ضمن میں {”تَمِيْلُ“} کا معنی ہونے کی وجہ سے اسے {” اِلٰى “} کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اس کیفیت کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۲تا۴)، مومنون (۵تا ۱۶) اور سورۂ مائدہ (۸۳، ۸۴)۔
اَفَمَنۡ یَّتَّقِیۡ بِوَجۡہِہٖ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ قِیۡلَ لِلظّٰلِمِیۡنَ ذُوۡقُوۡا مَا کُنۡتُمۡ تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب اُس شخص کی بد حالی کا تم کیا اندازہ کر سکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا؟ ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ اُس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
بھلا جو شخص قیامت کے دن کے بدترین عذاب کی سپر (ڈھال) اپنے منھ کو بنائے گا۔ (ایسے) ﻇالموں سے کہا جائے گا کہ اپنے کیے کا (وبال) چکھو
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا وہ جو قیامت کے دن برے عذاب کی ڈھال نہ پائے گا اپنے چہرے کے سوا نجات والے کی طرح ہوجائے گا اور ظالموں سے فرمایا جائے گا اپنا کمایا چکھو
علامہ محمد حسین نجفی
بھلا وہ (احمق) شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرہ سے اپنے آپ کو سخت عذاب سے بچاتا ہے؟ (اس عذاب سے محفوظ شخص کی مانند ہو سکتا ہے؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ (آج) مزہ چکھو اس کمائی کا جو تم کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرے کے ساتھ بد ترین عذاب سے بچے گا (وہ جنتی جیسا ہو سکتا ہے؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا چکھو جو تم کمایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
روزِ قیامت کا احوال ٭٭

ایک وہ جسے اس ہنگامہ خیز دن میں امن و امان حاصل ہو اور ایک وہ جسے اپنے منہ پر عذاب کے تھپڑ کھانے پڑتے ہوں برابر ہو سکتے ہیں؟ جیسے فرمایا «أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [67-الملك:22] ‏‏‏‏ ’ اوندھے منہ، منہ کے بل چلنے والا اور راست قامت اپنے پیروں سیدھی راہ چلتے والا برابر نہیں ‘۔ «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:48] ‏‏‏‏ ’ ان کفار کو تو قیامت کے دن اوندھے منہ گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آگ کا مزہ چکھو ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «أَفَمَن يُلْقَىٰ فِي النَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِي آمِنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ۱؎ [41-فصلت:40] ‏‏‏‏ ’ جہنم میں داخل کیا جانے والا بدنصیب اچھا یا امن و امان سے قیامت کا دن گذارنے والا اچھا؟ ‘ یہاں اس آیت کا مطلب یہی ہے لیکن ایک قسم کا ذکر کر کے دوسری قسم کے بیان کو چھوڑ دیا کیونکہ اسی سے وہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے یہ بات شعراء کے کلام میں برابر پائی جاتی ہے۔ اگلے لوگوں نے بھی اللہ کی باتوں کو نہ مانا تھا اور رسولوں کو جھوٹا کہا تھا پھر دیکھو کہ ان پر کس طرح ان کی بے خبری میں مار پڑی؟ عذاب اللہ نے انہیں دنیا میں بھی ذلیل و خوار کیا اور آخرت کے سخت عذاب بھی ان کے لیے باقی ہیں۔ ’ پس تمہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ اشرف رسل صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے اور نہ ماننے کی وجہ سے تم پر کہیں ان سے بھی بدتر عذاب برس نہ پڑیں۔ تم اگر ذی علم ہو تو ان کے حالات اور تذکرے تمہاری نصیحت کے لیے کافی ہیں ‘۔
24۔ 1 یعنی کیا یہ شخص، اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو قیامت والے دن بالکل بےخوف اور امن میں ہوگا؟ یعنی محذوف عبارت ملا کر اس کا مفہوم ہوگا۔
(آیت 24) ➊ {” اَفَمَنْ يَّتَّقِيْ بِوَجْهِهٖ “} کی خبر محذوف ہے (جیسا کہ اس سے پہلے آیت: ۱۹ میں گزر چکا ہے): {”أَيْ كَمَنْ هُوَ آمِنٌ مِنَ الْعَذَابِ، أَوْ كَمَنْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ“} یعنی تو کیا وہ شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرے کے ساتھ بدترین عذاب سے بچے گا، وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو عذاب سے بے خوف ہو گا، یا جو اہلِ جنت سے ہو گا؟ جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اَفَمَنْ يُّلْقٰى فِي النَّارِ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِيْۤ اٰمِنًا يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ» [ حٰمٓ السجدۃ: ۴۰ ] ”تو کیا وہ شخص جو آگ میں پھینکا جائے بہتر ہے، یاجو امن کی حالت میں قیامت کے دن آئے؟“ مزید دیکھیے سورۂ قمر (۴۸) اور سورۂ ملک (۲۲)۔ ➋ دنیا میں آدمی کو آگ یا کسی بھی تکلیف دہ چیز کا سامنا ہو تو وہ اپنے چہرے کو اس سے بچانے کے لیے ہاتھوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ قیامت کے دن چونکہ جہنمیوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں گے، اس لیے وہ عذاب سے بچنے کے لیے چار و ناچار چہروں ہی کو ڈھال بنائیں گے، یعنی بد ترین عذاب کے تھپیڑے سیدھے ان کے منہ پر پڑیں گے۔ ➌ {وَ قِيْلَ لِلظّٰلِمِيْنَ ذُوْقُوْا …:} یعنی وہ اپنے چہرے کے ساتھ عذاب سے بچیں گے، مگر اس سے انھیں کچھ بچاؤ حاصل نہ ہو گا، بلکہ آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی۔ آگے یہ کہنے کے بجائے کہ ”ان سے کہا جائے گا“ فرمایا ”ان ظالموں سے کہا جائے گا“ مقصد یہ بات واضح کرنا ہے کہ ان کے عذاب کا باعث ان کا ظلم ہو گا اور ان سے کہا جائے گا کہ اپنی کمائی کا وبال چکھو۔
کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَاَتٰىہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے پہلے بھی بہت سے لوگ اسی طرح جھٹلا چکے ہیں آخر اُن پر عذاب ایسے رخ سے آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ جا سکتا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا، پھر ان پر وہاں سے عذاب آپڑا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا
احمد رضا خان بریلوی
ان سے اگلوں نے جھٹلایا تو انہیں عذاب آیا جہاں سے انہیں خبر نہ تھی
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے (حق کو) جھٹلایا آخر ان پر وہاں سے عذاب آیا جدھر سے ان کو خیال نہ تھا۔
عبدالسلام بن محمد
ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے تو ان پر وہاں سے عذاب آیا کہ وہ سوچتے نہ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
روزِ قیامت کا احوال ٭٭

ایک وہ جسے اس ہنگامہ خیز دن میں امن و امان حاصل ہو اور ایک وہ جسے اپنے منہ پر عذاب کے تھپڑ کھانے پڑتے ہوں برابر ہو سکتے ہیں؟ جیسے فرمایا «أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [67-الملك:22] ‏‏‏‏ ’ اوندھے منہ، منہ کے بل چلنے والا اور راست قامت اپنے پیروں سیدھی راہ چلتے والا برابر نہیں ‘۔ «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:48] ‏‏‏‏ ’ ان کفار کو تو قیامت کے دن اوندھے منہ گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آگ کا مزہ چکھو ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «أَفَمَن يُلْقَىٰ فِي النَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِي آمِنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ۱؎ [41-فصلت:40] ‏‏‏‏ ’ جہنم میں داخل کیا جانے والا بدنصیب اچھا یا امن و امان سے قیامت کا دن گذارنے والا اچھا؟ ‘ یہاں اس آیت کا مطلب یہی ہے لیکن ایک قسم کا ذکر کر کے دوسری قسم کے بیان کو چھوڑ دیا کیونکہ اسی سے وہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے یہ بات شعراء کے کلام میں برابر پائی جاتی ہے۔ اگلے لوگوں نے بھی اللہ کی باتوں کو نہ مانا تھا اور رسولوں کو جھوٹا کہا تھا پھر دیکھو کہ ان پر کس طرح ان کی بے خبری میں مار پڑی؟ عذاب اللہ نے انہیں دنیا میں بھی ذلیل و خوار کیا اور آخرت کے سخت عذاب بھی ان کے لیے باقی ہیں۔ ’ پس تمہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ اشرف رسل صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے اور نہ ماننے کی وجہ سے تم پر کہیں ان سے بھی بدتر عذاب برس نہ پڑیں۔ تم اگر ذی علم ہو تو ان کے حالات اور تذکرے تمہاری نصیحت کے لیے کافی ہیں ‘۔
25۔ 1 اور انہیں ان عذابوں سے کوئی نہیں بچاسکا۔
(آیت 25) {كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ …:} رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والوں کو متنبہ کرنے کے لیے فرمایا کہ ان سے پہلے لوگوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا تو ان پر وہاں سے عذاب آیا کہ وہ سوچتے بھی نہ تھے۔ مثلاً زلزلے سے ان کے مکانوں کی چھتیں ان پر گر پڑیں۔ (دیکھیے نحل: ۲۶) بعض پر پتھراؤ والی ہوا بھیجی گئی، بعض کو چیخ نے پکڑ لیا، بعض کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور بعض کو غرق کر دیا گیا۔ (دیکھیے عنکبوت: ۴۰)
فَاَذَاقَہُمُ اللّٰہُ الۡخِزۡیَ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اللہ نے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا، اور آخرت کا عذاب تو اس سے شدید تر ہے، کاش یہ لوگ جانتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگانی دنیا میں رسوائی کا مزه چکھایا اور ابھی آخرت کا تو بڑا بھاری عذاب ہے کاش کہ یہ لوگ سمجھ لیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مز ہ چکھایا اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے بڑا، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے
علامہ محمد حسین نجفی
تو خدا نے ان کو اس دنیاوی زندگی میں ذلت و رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے کاش وہ لوگ جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
پس اللہ نے انھیں دنیا کی زندگی میں رسوائی چکھائی اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ بڑا ہے۔ کاش! وہ جانتے ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
روزِ قیامت کا احوال ٭٭

ایک وہ جسے اس ہنگامہ خیز دن میں امن و امان حاصل ہو اور ایک وہ جسے اپنے منہ پر عذاب کے تھپڑ کھانے پڑتے ہوں برابر ہو سکتے ہیں؟ جیسے فرمایا «أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [67-الملك:22] ‏‏‏‏ ’ اوندھے منہ، منہ کے بل چلنے والا اور راست قامت اپنے پیروں سیدھی راہ چلتے والا برابر نہیں ‘۔ «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:48] ‏‏‏‏ ’ ان کفار کو تو قیامت کے دن اوندھے منہ گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آگ کا مزہ چکھو ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «أَفَمَن يُلْقَىٰ فِي النَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِي آمِنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ۱؎ [41-فصلت:40] ‏‏‏‏ ’ جہنم میں داخل کیا جانے والا بدنصیب اچھا یا امن و امان سے قیامت کا دن گذارنے والا اچھا؟ ‘ یہاں اس آیت کا مطلب یہی ہے لیکن ایک قسم کا ذکر کر کے دوسری قسم کے بیان کو چھوڑ دیا کیونکہ اسی سے وہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے یہ بات شعراء کے کلام میں برابر پائی جاتی ہے۔ اگلے لوگوں نے بھی اللہ کی باتوں کو نہ مانا تھا اور رسولوں کو جھوٹا کہا تھا پھر دیکھو کہ ان پر کس طرح ان کی بے خبری میں مار پڑی؟ عذاب اللہ نے انہیں دنیا میں بھی ذلیل و خوار کیا اور آخرت کے سخت عذاب بھی ان کے لیے باقی ہیں۔ ’ پس تمہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ اشرف رسل صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے اور نہ ماننے کی وجہ سے تم پر کہیں ان سے بھی بدتر عذاب برس نہ پڑیں۔ تم اگر ذی علم ہو تو ان کے حالات اور تذکرے تمہاری نصیحت کے لیے کافی ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 26) ➊ { فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْيَ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا …:} دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ان عذابوں کے ذریعے سے انھیں رسوائی چکھائی اور آخرت کا عذاب ان سے کہیں زیادہ بڑا ہے، کیونکہ آخرت کی آگ دنیا کی آگ سے ستر (۷۰) گنا زیادہ حرارت والی ہے، پھر دنیا کا عذاب تو ختم ہونے والا ہے، مگر آخرت کا عذاب ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ آخرت کا عذاب رسوائی میں بھی کہیں زیادہ ہے۔ دیکھیے سورۂ حمٰ السجدہ (۱۶)۔ ➋ { لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی وہ یہ بات جانتے ہی نہ تھے کہ آخرت کا عذاب کہیں زیادہ بڑا ہے، ورنہ وہ اس سے بے خوف نہ ہوتے۔ معلوم ہوا کہ اگر انھوں نے علم کے باوجود نافرمانی کی تو حقیقت میں وہ علم نہ تھا بلکہ جہل تھا، کیونکہ علم وہ ہے جو عمل پر آمادہ کرے۔
وَ لَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿ۚ۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالیں دی ہیں کہ یہ ہوش میں آئیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر قسم کی مثالیں بیان کر دیں ہیں کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کر لیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی کہاوت بیان فرمائی کہ کسی طرح انہیں دھیان ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور بے شک ہم نے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں پیش کی ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کی ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فیصلے روز قیامت کو ہوں گے ٭٭

چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آ جاتی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چنانچہ ارشاد ہے «ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ» ۱؎ [30-الروم:28] ‏‏‏‏ ’ اللہ نے تمہارے لیے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں جنہیں تم خود اپنے آپ میں بہت اچھی طرح جانتے بوجھتے ہو ‘۔ ایک اور آیت میں ہ ے «وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:43] ‏‏‏‏ ’ ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں علماء ہی انہیں بخوبی سمجھ سکتے ہیں ‘۔ ’ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی اور کوئی کمی نہیں واضح دلیلیں اور روشن حجتیں ہیں۔ یہ اس لیے کہ اسے پڑھ کر سن کر لوگ اپنا بچاؤ کر لیں۔ اس کے عذاب کی آیتوں کو سامنے رکھ کر برائیاں چھوڑیں اور اس کے ثواب کی آیتوں کی طرف نظریں رکھ کر نیک اعمال میں محنت کریں ‘۔ اس کے بعد جناب باری عزاسمہ موحد اور مشرک کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ ایک تو وہ غلام جس کے مالک بہت سارے ہوں اور وہ بھی آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں اور دوسرا وہ غلام جو خالص صرف ایک ہی شخص کی ملکیت کا ہو اس کے سوا اس پر دوسرے کسی کا کوئی اختیار نہ ہو۔ کیا یہ دونوں تمہارے نزدیک یکساں ہیں؟ ہرگز نہیں ‘۔ اسی طرح موحد جو صرف ایک «اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی ہی عبادت کرتا ہے۔ اور مشرک جس نے اپنے معبود بہت سے بنا رکھے ہیں۔ ان دونوں میں بھی کوئی نسبت نہیں۔ کہاں یہ مخلص موحد؟ کہاں یہ در بہ در بھٹکنے والا مشرک؟ اس ظاہر باہر روشن اور صاف مثال کے بیان پر بھی رب العالمین کی حمد و ثنا کرنی چاہیئے کہ اس نے اپنے بندوں کو اس طرح سمجھا دیا کہ معاملہ بالکل صاف ہو جائے۔ شرک کی بدی اور توحید کی خوبی ہر ایک کے ذہن میں آ جائے۔ اب رب کے ساتھ وہی شرک کریں گے جو محض بےعلم ہوں جن میں سمجھ بوجھ بالکل ہی نہ ہو۔ اس کے بعد کی آیت کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد پڑھ کر پھر دوسری آیت «وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:144] ‏‏‏‏ کی آخر آیت تک تلاوت کر کے لوگوں کو بتایا تھا۔ مطلب آیت شریفہ کا یہ ہے کہ ’ سب اس دنیا سے جانے والے ہیں اور آخرت میں اپنے رب کے پاس جمع ہونے والے ہیں۔ وہاں اللہ تعالیٰ مشرکوں اور موحدوں میں صاف فیصلہ کر دے گا اور حق ظاہر ہو جائے گا۔ اس سے اچھے فیصلے والا اور اس سے زیادہ علم والا کون ہے؟ ایمان اخلاص اور توحید و سنت والے نجات پائیں گے۔ شرک و کفر انکار و تکذیب والے سخت سزائیں اٹھائیں گے ‘۔ اسی طرح جن دو شخصوں میں جو جھگڑا اور اختلاف دنیا میں تھا روز قیامت وہ اللہ عادل کے سامنے پیش ہو کر فیصلہ ہو گا۔ { اس آیت کے نازل ہونے پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ قیامت کے دن پھر سے جھگڑے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یقیناً } تو عبداللہ نے کہا پھر تو سخت مشکل ہے }۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

مسند احمد کی اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ { آیت «ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ» ۱؎ [102-التکاثر:8] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر اس دن تم سے اللہ کی نعمتوں کا سوال کیا جائے گا ‘، کے نازل ہونے پر آپ رضی اللہ عنہ ہی نے سوال کیا کہ ”وہ کون سی نعمتیں ہیں جن کی بابت ہم سے حساب لیا جائے گا؟ ہم تو کھجوریں کھا کر اور پانی پی کر گزارہ کر رہے ہیں۔‏‏‏‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب نہیں ہیں تو عنقریب بہت سی نعمتیں ہو جائیں گی } }۔ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن الاسناد] ‏‏‏‏۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ مسند کی اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ { زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے آیت «اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:30] ‏‏‏‏ کے نازل ہونے پر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جو جھگڑے ہمارے دنیا میں تھے وہ دوبارہ وہاں قیامت میں دوہرائے جائیں گے؟ ساتھ ہی گناہوں کی بھی پرستش ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں وہ ضرور دوہرائے جائیں گے۔ اور ہر شخص کو اس کا حق پورا پورا دلوایا جائے گا }۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا پھر تو سخت مشکل کام ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے پہلے پڑوسیوں کے آپس میں جھگڑے پیش ہوں گے } [مسند احمد:151/4:حسن] ‏‏‏‏۔ اور حدیث میں ہے { اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سب جھگڑوں کا فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔ یہاں تک کہ دوبکریاں جو لڑی ہوں گی اور ایک نے دوسری کو سینگ مارے ہوں گے ان کا بدلہ بھی دلوایا جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/3:حسن لغیره] ‏‏‏‏

مسند ہی کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ { جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ } سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا خبر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ٹھیک ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اور وہ قیامت کے دن ان میں بھی انصاف کرے گا } }۔۱؎ [مسند احمد:162/5:حسن] ‏‏‏‏ مسند بزار میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم اور خائن بادشاہ سے اس کی رعیت قیامت کے دن جھگڑا کرے گی اور اس پر وہ غالب آ جائے گی اور اللہ کا فرمان صادر ہو گا کہ جاؤ اسے جہنم کا ایک رکن بنا دو }۔ ۱؎ [مسند بزار:1644:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کے ایک راوی اغلب بن تمیم کا حافظہ جیسا چاہیئے ایسا نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر سچا جھوٹے سے، ہر مظلوم ظالم سے، ہر ہدایت والا گمراہی والے سے، ہر کمزور زورآور سے اس روز جھگڑے گا۔‏‏‏‏“ ابن مندہ رحمتہ اللہ اپنی کتاب الروح میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت لائے کہ ”لوگ قیامت کے دن جھگڑیں گے یہاں تک کہ روح اور جسم کے درمیان بھی جھگڑا ہوگا۔ روح تو جسم کو الزام دے گی کہ تونے یہ سب برائیاں کیں اور جسم روح سے کہے گا ساری چاہت اور شرارت تیری ہی تھی۔ ایک فرشتہ ان میں فیصلہ کرے گا کہے گا سنو! ایک آنکھوں والا انسان ہے لیکن اپاہج بالکل لولا لنگڑا چلنے پھرنے سے معذور۔ دوسرا آدمی اندھا ہے لیکن اسکے پیر سلامت ہیں چلتا پھرتا ہے دونوں ایک باغ میں ہیں۔ لنگڑا اندھے سے کہتا ہے بھائی یہ باغ تو میووں اور پھلوں سے لدا ہوا ہے۔ لیکن میرے تو پاؤں نہیں جو میں جاکر یہ پھل توڑ لوں۔ اندھا کہتا ہے آ میرے پاؤں ہیں میں تجھے اپنی پیٹھ پر چڑھا لیتا ہوں اور لے چلتا ہوں۔ چنانچہ یہ دونوں اس طرح پہنچے اور جی کھول کر پھل توڑے، بتاؤ ان دونوں میں مجرم کون ہے؟ جسم و روح دونوں جواب دیتے ہیں کہ جرم دونوں کا ہے۔ فرشتہ کہتا ہے بس اب تو تم نے اپنا فیصلہ آپ کردیا۔ یعنی جسم گویا سواری ہے اور روح اس پر سوار ہے۔‏‏‏‏“

ابن ابی حاتم میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس آیت کے نازل ہونے پر ہم تعجب میں تھے کہ ہم میں اور اہل کتاب میں تو جھگڑا ہے ہی نہیں پھر آخر روز قیامت میں کس سے جھگڑے ہوں گے؟ اس کے بعد جب آپس کے فتنے شروع ہو گئے تو ہم نے سمجھ لیا کہ یہی آپس کے جھگڑے ہیں جو اللہ کے ہاں پیش ہوں گے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اہل قبلہ غیر اہل قبلہ سے جھگڑیں گے اور ابن زید رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ مراد اہل اسلام اور اہل کفر کا جھگڑا ہے۔ لیکن ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ فی الواقع یہ آیت عام ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم اور فضل و رحم سے تفسیر محمدی کا تیسواں [ ۲۳ ] ‏‏‏‏ پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور ہماری تقصیر کی معافی کا سبب اس تفسیر کو بنا دے۔ ہمیں اپنے پاک کلام کی تلاوت کا ذوق، اس کے معنی کے سمجھنے کا شوق عطا فرمائے، علم و عمل کی توفیق دے، عذاب سے نجات دے، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین!
27۔ 1 یعنی لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں باتیں بیٹھ جائیں اور وہ نصیحت حاصل کریں۔
(آیت 27){ وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ …:} مثال کے ساتھ بات کرنے سے وہ بات جلد سمجھ میں آجاتی ہے اور خوب ذہن نشین ہو جاتی ہے، خصوصاً ایسی مثالیں جن کا آدمی کی اپنی زندگی اور گردوپیش کی اشیاء سے تعلق ہو اور اسے روز مرہ ان سے واسطہ پڑتا ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر قسم کی مثالیں بیان فرمائی ہیں، جیسا کہ اپنی توحید سمجھانے کے لیے آدمیوں کو خود ان کی مثالیں دے کر سمجھایا۔ دیکھیے سورۂ روم (۲۸) اور نحل (۷۵ـ، ۷۶)۔
قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا غَیۡرَ ذِیۡ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے، جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے، تاکہ یہ برے انجام سے بچیں
مولانا محمد جوناگڑھی
قرآن ہے عربی میں جس میں کوئی کجی نہیں، ہو سکتا ہے کہ وه پرہیزگاری اختیار کر لیں
احمد رضا خان بریلوی
عربی زبان کا قرآن جس میں اصلاً کجی نہیں کہ کہیں وہ ڈریں
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کَجی نہیں ہے تاکہ وہ (ڈریں) پرہیزگاری اختیار کریں۔ اللہ نے ایک مثال بیان کی ہے کہ ایک غلام ہے جس کے کئی بد اخلاق مالک ہیں اور ایک دوسرا شخص ہے جو پورا ایک مالک کا ہے (ان دونوں) کا حال یکساں ہے؟ الحمد ﷲ! مگر اکثر لوگ (یہ حقیقت) جانتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
واضح قرآن ،جس میں کوئی کجی نہیں، تاکہ وہ بچ جائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فیصلے روز قیامت کو ہوں گے ٭٭

چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آ جاتی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چنانچہ ارشاد ہے «ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ» ۱؎ [30-الروم:28] ‏‏‏‏ ’ اللہ نے تمہارے لیے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں جنہیں تم خود اپنے آپ میں بہت اچھی طرح جانتے بوجھتے ہو ‘۔ ایک اور آیت میں ہ ے «وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:43] ‏‏‏‏ ’ ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں علماء ہی انہیں بخوبی سمجھ سکتے ہیں ‘۔ ’ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی اور کوئی کمی نہیں واضح دلیلیں اور روشن حجتیں ہیں۔ یہ اس لیے کہ اسے پڑھ کر سن کر لوگ اپنا بچاؤ کر لیں۔ اس کے عذاب کی آیتوں کو سامنے رکھ کر برائیاں چھوڑیں اور اس کے ثواب کی آیتوں کی طرف نظریں رکھ کر نیک اعمال میں محنت کریں ‘۔ اس کے بعد جناب باری عزاسمہ موحد اور مشرک کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ ایک تو وہ غلام جس کے مالک بہت سارے ہوں اور وہ بھی آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں اور دوسرا وہ غلام جو خالص صرف ایک ہی شخص کی ملکیت کا ہو اس کے سوا اس پر دوسرے کسی کا کوئی اختیار نہ ہو۔ کیا یہ دونوں تمہارے نزدیک یکساں ہیں؟ ہرگز نہیں ‘۔ اسی طرح موحد جو صرف ایک «اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی ہی عبادت کرتا ہے۔ اور مشرک جس نے اپنے معبود بہت سے بنا رکھے ہیں۔ ان دونوں میں بھی کوئی نسبت نہیں۔ کہاں یہ مخلص موحد؟ کہاں یہ در بہ در بھٹکنے والا مشرک؟ اس ظاہر باہر روشن اور صاف مثال کے بیان پر بھی رب العالمین کی حمد و ثنا کرنی چاہیئے کہ اس نے اپنے بندوں کو اس طرح سمجھا دیا کہ معاملہ بالکل صاف ہو جائے۔ شرک کی بدی اور توحید کی خوبی ہر ایک کے ذہن میں آ جائے۔ اب رب کے ساتھ وہی شرک کریں گے جو محض بےعلم ہوں جن میں سمجھ بوجھ بالکل ہی نہ ہو۔ اس کے بعد کی آیت کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد پڑھ کر پھر دوسری آیت «وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:144] ‏‏‏‏ کی آخر آیت تک تلاوت کر کے لوگوں کو بتایا تھا۔ مطلب آیت شریفہ کا یہ ہے کہ ’ سب اس دنیا سے جانے والے ہیں اور آخرت میں اپنے رب کے پاس جمع ہونے والے ہیں۔ وہاں اللہ تعالیٰ مشرکوں اور موحدوں میں صاف فیصلہ کر دے گا اور حق ظاہر ہو جائے گا۔ اس سے اچھے فیصلے والا اور اس سے زیادہ علم والا کون ہے؟ ایمان اخلاص اور توحید و سنت والے نجات پائیں گے۔ شرک و کفر انکار و تکذیب والے سخت سزائیں اٹھائیں گے ‘۔ اسی طرح جن دو شخصوں میں جو جھگڑا اور اختلاف دنیا میں تھا روز قیامت وہ اللہ عادل کے سامنے پیش ہو کر فیصلہ ہو گا۔ { اس آیت کے نازل ہونے پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ قیامت کے دن پھر سے جھگڑے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یقیناً } تو عبداللہ نے کہا پھر تو سخت مشکل ہے }۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

مسند احمد کی اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ { آیت «ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ» ۱؎ [102-التکاثر:8] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر اس دن تم سے اللہ کی نعمتوں کا سوال کیا جائے گا ‘، کے نازل ہونے پر آپ رضی اللہ عنہ ہی نے سوال کیا کہ ”وہ کون سی نعمتیں ہیں جن کی بابت ہم سے حساب لیا جائے گا؟ ہم تو کھجوریں کھا کر اور پانی پی کر گزارہ کر رہے ہیں۔‏‏‏‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب نہیں ہیں تو عنقریب بہت سی نعمتیں ہو جائیں گی } }۔ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن الاسناد] ‏‏‏‏۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ مسند کی اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ { زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے آیت «اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:30] ‏‏‏‏ کے نازل ہونے پر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جو جھگڑے ہمارے دنیا میں تھے وہ دوبارہ وہاں قیامت میں دوہرائے جائیں گے؟ ساتھ ہی گناہوں کی بھی پرستش ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں وہ ضرور دوہرائے جائیں گے۔ اور ہر شخص کو اس کا حق پورا پورا دلوایا جائے گا }۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا پھر تو سخت مشکل کام ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے پہلے پڑوسیوں کے آپس میں جھگڑے پیش ہوں گے } [مسند احمد:151/4:حسن] ‏‏‏‏۔ اور حدیث میں ہے { اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سب جھگڑوں کا فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔ یہاں تک کہ دوبکریاں جو لڑی ہوں گی اور ایک نے دوسری کو سینگ مارے ہوں گے ان کا بدلہ بھی دلوایا جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/3:حسن لغیره] ‏‏‏‏

مسند ہی کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ { جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ } سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا خبر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ٹھیک ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اور وہ قیامت کے دن ان میں بھی انصاف کرے گا } }۔۱؎ [مسند احمد:162/5:حسن] ‏‏‏‏ مسند بزار میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم اور خائن بادشاہ سے اس کی رعیت قیامت کے دن جھگڑا کرے گی اور اس پر وہ غالب آ جائے گی اور اللہ کا فرمان صادر ہو گا کہ جاؤ اسے جہنم کا ایک رکن بنا دو }۔ ۱؎ [مسند بزار:1644:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کے ایک راوی اغلب بن تمیم کا حافظہ جیسا چاہیئے ایسا نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر سچا جھوٹے سے، ہر مظلوم ظالم سے، ہر ہدایت والا گمراہی والے سے، ہر کمزور زورآور سے اس روز جھگڑے گا۔‏‏‏‏“ ابن مندہ رحمتہ اللہ اپنی کتاب الروح میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت لائے کہ ”لوگ قیامت کے دن جھگڑیں گے یہاں تک کہ روح اور جسم کے درمیان بھی جھگڑا ہوگا۔ روح تو جسم کو الزام دے گی کہ تونے یہ سب برائیاں کیں اور جسم روح سے کہے گا ساری چاہت اور شرارت تیری ہی تھی۔ ایک فرشتہ ان میں فیصلہ کرے گا کہے گا سنو! ایک آنکھوں والا انسان ہے لیکن اپاہج بالکل لولا لنگڑا چلنے پھرنے سے معذور۔ دوسرا آدمی اندھا ہے لیکن اسکے پیر سلامت ہیں چلتا پھرتا ہے دونوں ایک باغ میں ہیں۔ لنگڑا اندھے سے کہتا ہے بھائی یہ باغ تو میووں اور پھلوں سے لدا ہوا ہے۔ لیکن میرے تو پاؤں نہیں جو میں جاکر یہ پھل توڑ لوں۔ اندھا کہتا ہے آ میرے پاؤں ہیں میں تجھے اپنی پیٹھ پر چڑھا لیتا ہوں اور لے چلتا ہوں۔ چنانچہ یہ دونوں اس طرح پہنچے اور جی کھول کر پھل توڑے، بتاؤ ان دونوں میں مجرم کون ہے؟ جسم و روح دونوں جواب دیتے ہیں کہ جرم دونوں کا ہے۔ فرشتہ کہتا ہے بس اب تو تم نے اپنا فیصلہ آپ کردیا۔ یعنی جسم گویا سواری ہے اور روح اس پر سوار ہے۔‏‏‏‏“

ابن ابی حاتم میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس آیت کے نازل ہونے پر ہم تعجب میں تھے کہ ہم میں اور اہل کتاب میں تو جھگڑا ہے ہی نہیں پھر آخر روز قیامت میں کس سے جھگڑے ہوں گے؟ اس کے بعد جب آپس کے فتنے شروع ہو گئے تو ہم نے سمجھ لیا کہ یہی آپس کے جھگڑے ہیں جو اللہ کے ہاں پیش ہوں گے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اہل قبلہ غیر اہل قبلہ سے جھگڑیں گے اور ابن زید رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ مراد اہل اسلام اور اہل کفر کا جھگڑا ہے۔ لیکن ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ فی الواقع یہ آیت عام ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم اور فضل و رحم سے تفسیر محمدی کا تیسواں [ ۲۳ ] ‏‏‏‏ پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور ہماری تقصیر کی معافی کا سبب اس تفسیر کو بنا دے۔ ہمیں اپنے پاک کلام کی تلاوت کا ذوق، اس کے معنی کے سمجھنے کا شوق عطا فرمائے، علم و عمل کی توفیق دے، عذاب سے نجات دے، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین!
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 28){ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ …: ” قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۲) {” غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ “} میں تنوین کی وجہ سے نفی عام ہو گئی ہے، یعنی اس میں کسی قسم کی کوئی کجی نہیں۔ یہ مفہوم {”غَيْرَ مُعَوَّجٍ“} (جو کجی والا نہیں) سے حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ کہف کی آیت (۱) یہ دونوں آیات اگلی آیت میں آنے والی مثال کے لیے تمہید کے طور پر بیان ہوئی ہیں۔
ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیۡہِ شُرَکَآءُ مُتَشٰکِسُوۡنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ۚ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک شخص تو وہ ہے جس کی ملکیت میں بہت سے کج خلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دوسرا شخص پورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے کیا ان دونوں کا حال یکساں ہو سکتاہے؟ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے ایک وه شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں، اور دوسرا وه شخص جو صرف ایک ہی کا (غلام) ہے، کیا یہ دونوں صفت میں یکساں ہیں، اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے۔ بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ سمجھتے نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام میں کئی بدخو آقا شریک اور ایک نرے ایک مولیٰ کا، کیا ان دونوں کا حال ایک سا ہے سب خوبیاں اللہ کو بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر(ص)) بے شک آپ نے بھی مرنا ہے اور وہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے ایک آدمی کی مثال بیان کی جس میں ایک دوسرے سے جھگڑنے والے کئی شریک ہیں اور ایک اور آدمی کی جو سالم ایک ہی آدمی کا ہے، کیا دونوں مثال میں برابر ہیں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فیصلے روز قیامت کو ہوں گے ٭٭

چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آ جاتی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چنانچہ ارشاد ہے «ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ» ۱؎ [30-الروم:28] ‏‏‏‏ ’ اللہ نے تمہارے لیے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں جنہیں تم خود اپنے آپ میں بہت اچھی طرح جانتے بوجھتے ہو ‘۔ ایک اور آیت میں ہ ے «وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:43] ‏‏‏‏ ’ ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں علماء ہی انہیں بخوبی سمجھ سکتے ہیں ‘۔ ’ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی اور کوئی کمی نہیں واضح دلیلیں اور روشن حجتیں ہیں۔ یہ اس لیے کہ اسے پڑھ کر سن کر لوگ اپنا بچاؤ کر لیں۔ اس کے عذاب کی آیتوں کو سامنے رکھ کر برائیاں چھوڑیں اور اس کے ثواب کی آیتوں کی طرف نظریں رکھ کر نیک اعمال میں محنت کریں ‘۔ اس کے بعد جناب باری عزاسمہ موحد اور مشرک کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ ایک تو وہ غلام جس کے مالک بہت سارے ہوں اور وہ بھی آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں اور دوسرا وہ غلام جو خالص صرف ایک ہی شخص کی ملکیت کا ہو اس کے سوا اس پر دوسرے کسی کا کوئی اختیار نہ ہو۔ کیا یہ دونوں تمہارے نزدیک یکساں ہیں؟ ہرگز نہیں ‘۔ اسی طرح موحد جو صرف ایک «اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی ہی عبادت کرتا ہے۔ اور مشرک جس نے اپنے معبود بہت سے بنا رکھے ہیں۔ ان دونوں میں بھی کوئی نسبت نہیں۔ کہاں یہ مخلص موحد؟ کہاں یہ در بہ در بھٹکنے والا مشرک؟ اس ظاہر باہر روشن اور صاف مثال کے بیان پر بھی رب العالمین کی حمد و ثنا کرنی چاہیئے کہ اس نے اپنے بندوں کو اس طرح سمجھا دیا کہ معاملہ بالکل صاف ہو جائے۔ شرک کی بدی اور توحید کی خوبی ہر ایک کے ذہن میں آ جائے۔ اب رب کے ساتھ وہی شرک کریں گے جو محض بےعلم ہوں جن میں سمجھ بوجھ بالکل ہی نہ ہو۔ اس کے بعد کی آیت کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد پڑھ کر پھر دوسری آیت «وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:144] ‏‏‏‏ کی آخر آیت تک تلاوت کر کے لوگوں کو بتایا تھا۔ مطلب آیت شریفہ کا یہ ہے کہ ’ سب اس دنیا سے جانے والے ہیں اور آخرت میں اپنے رب کے پاس جمع ہونے والے ہیں۔ وہاں اللہ تعالیٰ مشرکوں اور موحدوں میں صاف فیصلہ کر دے گا اور حق ظاہر ہو جائے گا۔ اس سے اچھے فیصلے والا اور اس سے زیادہ علم والا کون ہے؟ ایمان اخلاص اور توحید و سنت والے نجات پائیں گے۔ شرک و کفر انکار و تکذیب والے سخت سزائیں اٹھائیں گے ‘۔ اسی طرح جن دو شخصوں میں جو جھگڑا اور اختلاف دنیا میں تھا روز قیامت وہ اللہ عادل کے سامنے پیش ہو کر فیصلہ ہو گا۔ { اس آیت کے نازل ہونے پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ قیامت کے دن پھر سے جھگڑے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یقیناً } تو عبداللہ نے کہا پھر تو سخت مشکل ہے }۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

مسند احمد کی اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ { آیت «ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ» ۱؎ [102-التکاثر:8] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر اس دن تم سے اللہ کی نعمتوں کا سوال کیا جائے گا ‘، کے نازل ہونے پر آپ رضی اللہ عنہ ہی نے سوال کیا کہ ”وہ کون سی نعمتیں ہیں جن کی بابت ہم سے حساب لیا جائے گا؟ ہم تو کھجوریں کھا کر اور پانی پی کر گزارہ کر رہے ہیں۔‏‏‏‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب نہیں ہیں تو عنقریب بہت سی نعمتیں ہو جائیں گی } }۔ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن الاسناد] ‏‏‏‏۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ مسند کی اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ { زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے آیت «اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:30] ‏‏‏‏ کے نازل ہونے پر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جو جھگڑے ہمارے دنیا میں تھے وہ دوبارہ وہاں قیامت میں دوہرائے جائیں گے؟ ساتھ ہی گناہوں کی بھی پرستش ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں وہ ضرور دوہرائے جائیں گے۔ اور ہر شخص کو اس کا حق پورا پورا دلوایا جائے گا }۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا پھر تو سخت مشکل کام ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے پہلے پڑوسیوں کے آپس میں جھگڑے پیش ہوں گے } [مسند احمد:151/4:حسن] ‏‏‏‏۔ اور حدیث میں ہے { اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سب جھگڑوں کا فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔ یہاں تک کہ دوبکریاں جو لڑی ہوں گی اور ایک نے دوسری کو سینگ مارے ہوں گے ان کا بدلہ بھی دلوایا جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/3:حسن لغیره] ‏‏‏‏

مسند ہی کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ { جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ } سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا خبر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ٹھیک ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اور وہ قیامت کے دن ان میں بھی انصاف کرے گا } }۔۱؎ [مسند احمد:162/5:حسن] ‏‏‏‏ مسند بزار میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم اور خائن بادشاہ سے اس کی رعیت قیامت کے دن جھگڑا کرے گی اور اس پر وہ غالب آ جائے گی اور اللہ کا فرمان صادر ہو گا کہ جاؤ اسے جہنم کا ایک رکن بنا دو }۔ ۱؎ [مسند بزار:1644:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کے ایک راوی اغلب بن تمیم کا حافظہ جیسا چاہیئے ایسا نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر سچا جھوٹے سے، ہر مظلوم ظالم سے، ہر ہدایت والا گمراہی والے سے، ہر کمزور زورآور سے اس روز جھگڑے گا۔‏‏‏‏“ ابن مندہ رحمتہ اللہ اپنی کتاب الروح میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت لائے کہ ”لوگ قیامت کے دن جھگڑیں گے یہاں تک کہ روح اور جسم کے درمیان بھی جھگڑا ہوگا۔ روح تو جسم کو الزام دے گی کہ تونے یہ سب برائیاں کیں اور جسم روح سے کہے گا ساری چاہت اور شرارت تیری ہی تھی۔ ایک فرشتہ ان میں فیصلہ کرے گا کہے گا سنو! ایک آنکھوں والا انسان ہے لیکن اپاہج بالکل لولا لنگڑا چلنے پھرنے سے معذور۔ دوسرا آدمی اندھا ہے لیکن اسکے پیر سلامت ہیں چلتا پھرتا ہے دونوں ایک باغ میں ہیں۔ لنگڑا اندھے سے کہتا ہے بھائی یہ باغ تو میووں اور پھلوں سے لدا ہوا ہے۔ لیکن میرے تو پاؤں نہیں جو میں جاکر یہ پھل توڑ لوں۔ اندھا کہتا ہے آ میرے پاؤں ہیں میں تجھے اپنی پیٹھ پر چڑھا لیتا ہوں اور لے چلتا ہوں۔ چنانچہ یہ دونوں اس طرح پہنچے اور جی کھول کر پھل توڑے، بتاؤ ان دونوں میں مجرم کون ہے؟ جسم و روح دونوں جواب دیتے ہیں کہ جرم دونوں کا ہے۔ فرشتہ کہتا ہے بس اب تو تم نے اپنا فیصلہ آپ کردیا۔ یعنی جسم گویا سواری ہے اور روح اس پر سوار ہے۔‏‏‏‏“

ابن ابی حاتم میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس آیت کے نازل ہونے پر ہم تعجب میں تھے کہ ہم میں اور اہل کتاب میں تو جھگڑا ہے ہی نہیں پھر آخر روز قیامت میں کس سے جھگڑے ہوں گے؟ اس کے بعد جب آپس کے فتنے شروع ہو گئے تو ہم نے سمجھ لیا کہ یہی آپس کے جھگڑے ہیں جو اللہ کے ہاں پیش ہوں گے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اہل قبلہ غیر اہل قبلہ سے جھگڑیں گے اور ابن زید رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ مراد اہل اسلام اور اہل کفر کا جھگڑا ہے۔ لیکن ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ فی الواقع یہ آیت عام ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم اور فضل و رحم سے تفسیر محمدی کا تیسواں [ ۲۳ ] ‏‏‏‏ پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور ہماری تقصیر کی معافی کا سبب اس تفسیر کو بنا دے۔ ہمیں اپنے پاک کلام کی تلاوت کا ذوق، اس کے معنی کے سمجھنے کا شوق عطا فرمائے، علم و عمل کی توفیق دے، عذاب سے نجات دے، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین!
29۔ 1 اس میں مشرک (اللہ کا شریک ٹھہرانے والے) اور مخلص (صرف ایک اللہ کے لئے عبادت کرنے والے) کی مثال بیان کی گئی ہے یعنی ایک غلام ہے جو کئی شخصوں کے درمیان مشترکہ ہے، چناچہ وہ آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں اور ایک غلام ہے جس کا مالک صرف ایک ہی شخص ہے، اس کی ملکیت میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں غلام برابر ہوسکتے ہیں؟ نہیں یقینا نہیں۔ اسی طرح وہ مشرک جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کرتا ہے اور وہ مخلص مومن، جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا برابر نہیں ہوسکتے۔ 29۔ 2 اس بات پر کہ اس نے حجت قائم کردی۔ 29۔ 3 اسی لئے اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔
(آیت 29) ➊ { ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا …:”رَجُلٌ شَكِسٌ“} ضدی، بدخلق، جھگڑنے والا آدمی۔ {” مُتَشٰكِسُوْنَ “} باب تفاعل سے جمع مذکر اسم فاعل ہے، اس باب میں تشارک پایا جاتا ہے، ایک دوسرے سے ضد کرنے والے، جھگڑنے والے۔ یہ مشرک اور موحّد کی مثال ہے، مشرک جو کئی معبودوں کی عبادت کرتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی ہے جو کئی آقاؤں کا غلام ہے، جو اس کے مالک ہونے میں شریک ہیں اور سب بدخو، ضدی اور ایک دوسرے سے جھگڑنے والے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ غلام اسی کے کام میں لگا رہے اور ہر ایک اسے اپنے مطلب کا حکم دیتا ہے، اسے دوسروں کے کام سے کوئی سروکار نہیں، وہ حیران ہے کہ کس کا حکم بجا لائے۔ پھر ان میں سے کوئی بھی اس غلام کی ضروریات کا ذمہ دار بننے کے لیے تیار نہیں، بلکہ ہر ایک اسے دوسرے کے حوالے کرتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ وہ ان میں سے کسی کو خوش کر سکتا ہے نہ اس کی کوئی حاجت یا ضرورت پوری ہوتی ہے۔ اس کی زندگی جس قدر تنگ ہو گی، بخوبی ظاہر ہے۔ اس کے مقابلے میں موحّد کی مثال اس آدمی کی ہے جو صرف ایک آقا کا غلام ہے، اسی کی خدمت کرتا ہے اور اسی کے سامنے اپنی ہر حاجت اور ضرورت پیش کرتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ آدمی نہایت اطمینان اور سکون کی زندگی بسر کر ے گا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ایک غلام جو کئی کا ہو، کوئی اس کو اپنا نہ سمجھے تو اس کی پوری خبر نہ لے اور ایک غلام جو سارا ایک کا ہو، وہ اس کو اپنا سمجھے اور پوری خبر لے، یہ مثال ہے ان کی جو ایک رب کے بندے ہیں اور جو کئی رب کے بندے ہیں۔“ (موضح) ➋ { اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ:} یہاں {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} کا مطلب یہ ہے کہ ان مشرکوں میں سے کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں، بلکہ یا تو وہ تسلیم کریں گے کہ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے، یا پھر خاموشی اختیار کریں گے، دونوں صورتوں میں توحید کی خوبی اور شرک کی برائی ثابت ہو جائے گی۔ اس پر فرمایا، سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ایسی بہترین اور آسان مثال کے ساتھ توحید کا مسئلہ واضح فرمایا۔ ➌ { بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی ایک آقا کی غلامی اور بہت سے آقاؤں کی غلامی کا فرق ماننے کے باوجود اکثر لوگ ایک اللہ کی عبادت اور بہت سے معبودوں کی عبادت کا فرق نہیں جانتے، اس لیے شرک میں گرفتار رہتے ہیں۔
اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّہُمۡ مَّیِّتُوۡنَ ﴿۫۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اے نبیؐ) تمہیں بھی مرنا ہے اور اِن لوگوں کو بھی مرنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جھگڑوگے (اور وہ حق و باطل کا فیصلہ کرے گا)۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تو مرنے والا ہے اور بے شک وہ بھی مرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فیصلے روز قیامت کو ہوں گے ٭٭

چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آ جاتی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چنانچہ ارشاد ہے «ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ» ۱؎ [30-الروم:28] ‏‏‏‏ ’ اللہ نے تمہارے لیے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں جنہیں تم خود اپنے آپ میں بہت اچھی طرح جانتے بوجھتے ہو ‘۔ ایک اور آیت میں ہ ے «وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:43] ‏‏‏‏ ’ ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں علماء ہی انہیں بخوبی سمجھ سکتے ہیں ‘۔ ’ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی اور کوئی کمی نہیں واضح دلیلیں اور روشن حجتیں ہیں۔ یہ اس لیے کہ اسے پڑھ کر سن کر لوگ اپنا بچاؤ کر لیں۔ اس کے عذاب کی آیتوں کو سامنے رکھ کر برائیاں چھوڑیں اور اس کے ثواب کی آیتوں کی طرف نظریں رکھ کر نیک اعمال میں محنت کریں ‘۔ اس کے بعد جناب باری عزاسمہ موحد اور مشرک کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ ایک تو وہ غلام جس کے مالک بہت سارے ہوں اور وہ بھی آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں اور دوسرا وہ غلام جو خالص صرف ایک ہی شخص کی ملکیت کا ہو اس کے سوا اس پر دوسرے کسی کا کوئی اختیار نہ ہو۔ کیا یہ دونوں تمہارے نزدیک یکساں ہیں؟ ہرگز نہیں ‘۔ اسی طرح موحد جو صرف ایک «اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی ہی عبادت کرتا ہے۔ اور مشرک جس نے اپنے معبود بہت سے بنا رکھے ہیں۔ ان دونوں میں بھی کوئی نسبت نہیں۔ کہاں یہ مخلص موحد؟ کہاں یہ در بہ در بھٹکنے والا مشرک؟ اس ظاہر باہر روشن اور صاف مثال کے بیان پر بھی رب العالمین کی حمد و ثنا کرنی چاہیئے کہ اس نے اپنے بندوں کو اس طرح سمجھا دیا کہ معاملہ بالکل صاف ہو جائے۔ شرک کی بدی اور توحید کی خوبی ہر ایک کے ذہن میں آ جائے۔ اب رب کے ساتھ وہی شرک کریں گے جو محض بےعلم ہوں جن میں سمجھ بوجھ بالکل ہی نہ ہو۔ اس کے بعد کی آیت کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد پڑھ کر پھر دوسری آیت «وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:144] ‏‏‏‏ کی آخر آیت تک تلاوت کر کے لوگوں کو بتایا تھا۔ مطلب آیت شریفہ کا یہ ہے کہ ’ سب اس دنیا سے جانے والے ہیں اور آخرت میں اپنے رب کے پاس جمع ہونے والے ہیں۔ وہاں اللہ تعالیٰ مشرکوں اور موحدوں میں صاف فیصلہ کر دے گا اور حق ظاہر ہو جائے گا۔ اس سے اچھے فیصلے والا اور اس سے زیادہ علم والا کون ہے؟ ایمان اخلاص اور توحید و سنت والے نجات پائیں گے۔ شرک و کفر انکار و تکذیب والے سخت سزائیں اٹھائیں گے ‘۔ اسی طرح جن دو شخصوں میں جو جھگڑا اور اختلاف دنیا میں تھا روز قیامت وہ اللہ عادل کے سامنے پیش ہو کر فیصلہ ہو گا۔ { اس آیت کے نازل ہونے پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ قیامت کے دن پھر سے جھگڑے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یقیناً } تو عبداللہ نے کہا پھر تو سخت مشکل ہے }۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

مسند احمد کی اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ { آیت «ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ» ۱؎ [102-التکاثر:8] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر اس دن تم سے اللہ کی نعمتوں کا سوال کیا جائے گا ‘، کے نازل ہونے پر آپ رضی اللہ عنہ ہی نے سوال کیا کہ ”وہ کون سی نعمتیں ہیں جن کی بابت ہم سے حساب لیا جائے گا؟ ہم تو کھجوریں کھا کر اور پانی پی کر گزارہ کر رہے ہیں۔‏‏‏‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب نہیں ہیں تو عنقریب بہت سی نعمتیں ہو جائیں گی } }۔ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن الاسناد] ‏‏‏‏۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ مسند کی اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ { زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے آیت «اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:30] ‏‏‏‏ کے نازل ہونے پر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جو جھگڑے ہمارے دنیا میں تھے وہ دوبارہ وہاں قیامت میں دوہرائے جائیں گے؟ ساتھ ہی گناہوں کی بھی پرستش ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں وہ ضرور دوہرائے جائیں گے۔ اور ہر شخص کو اس کا حق پورا پورا دلوایا جائے گا }۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا پھر تو سخت مشکل کام ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے پہلے پڑوسیوں کے آپس میں جھگڑے پیش ہوں گے } [مسند احمد:151/4:حسن] ‏‏‏‏۔ اور حدیث میں ہے { اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سب جھگڑوں کا فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔ یہاں تک کہ دوبکریاں جو لڑی ہوں گی اور ایک نے دوسری کو سینگ مارے ہوں گے ان کا بدلہ بھی دلوایا جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/3:حسن لغیره] ‏‏‏‏

مسند ہی کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ { جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ } سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا خبر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ٹھیک ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اور وہ قیامت کے دن ان میں بھی انصاف کرے گا } }۔۱؎ [مسند احمد:162/5:حسن] ‏‏‏‏ مسند بزار میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم اور خائن بادشاہ سے اس کی رعیت قیامت کے دن جھگڑا کرے گی اور اس پر وہ غالب آ جائے گی اور اللہ کا فرمان صادر ہو گا کہ جاؤ اسے جہنم کا ایک رکن بنا دو }۔ ۱؎ [مسند بزار:1644:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کے ایک راوی اغلب بن تمیم کا حافظہ جیسا چاہیئے ایسا نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر سچا جھوٹے سے، ہر مظلوم ظالم سے، ہر ہدایت والا گمراہی والے سے، ہر کمزور زورآور سے اس روز جھگڑے گا۔‏‏‏‏“ ابن مندہ رحمتہ اللہ اپنی کتاب الروح میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت لائے کہ ”لوگ قیامت کے دن جھگڑیں گے یہاں تک کہ روح اور جسم کے درمیان بھی جھگڑا ہوگا۔ روح تو جسم کو الزام دے گی کہ تونے یہ سب برائیاں کیں اور جسم روح سے کہے گا ساری چاہت اور شرارت تیری ہی تھی۔ ایک فرشتہ ان میں فیصلہ کرے گا کہے گا سنو! ایک آنکھوں والا انسان ہے لیکن اپاہج بالکل لولا لنگڑا چلنے پھرنے سے معذور۔ دوسرا آدمی اندھا ہے لیکن اسکے پیر سلامت ہیں چلتا پھرتا ہے دونوں ایک باغ میں ہیں۔ لنگڑا اندھے سے کہتا ہے بھائی یہ باغ تو میووں اور پھلوں سے لدا ہوا ہے۔ لیکن میرے تو پاؤں نہیں جو میں جاکر یہ پھل توڑ لوں۔ اندھا کہتا ہے آ میرے پاؤں ہیں میں تجھے اپنی پیٹھ پر چڑھا لیتا ہوں اور لے چلتا ہوں۔ چنانچہ یہ دونوں اس طرح پہنچے اور جی کھول کر پھل توڑے، بتاؤ ان دونوں میں مجرم کون ہے؟ جسم و روح دونوں جواب دیتے ہیں کہ جرم دونوں کا ہے۔ فرشتہ کہتا ہے بس اب تو تم نے اپنا فیصلہ آپ کردیا۔ یعنی جسم گویا سواری ہے اور روح اس پر سوار ہے۔‏‏‏‏“

ابن ابی حاتم میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس آیت کے نازل ہونے پر ہم تعجب میں تھے کہ ہم میں اور اہل کتاب میں تو جھگڑا ہے ہی نہیں پھر آخر روز قیامت میں کس سے جھگڑے ہوں گے؟ اس کے بعد جب آپس کے فتنے شروع ہو گئے تو ہم نے سمجھ لیا کہ یہی آپس کے جھگڑے ہیں جو اللہ کے ہاں پیش ہوں گے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اہل قبلہ غیر اہل قبلہ سے جھگڑیں گے اور ابن زید رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ مراد اہل اسلام اور اہل کفر کا جھگڑا ہے۔ لیکن ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ فی الواقع یہ آیت عام ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم اور فضل و رحم سے تفسیر محمدی کا تیسواں [ ۲۳ ] ‏‏‏‏ پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور ہماری تقصیر کی معافی کا سبب اس تفسیر کو بنا دے۔ ہمیں اپنے پاک کلام کی تلاوت کا ذوق، اس کے معنی کے سمجھنے کا شوق عطا فرمائے، علم و عمل کی توفیق دے، عذاب سے نجات دے، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین!
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 30) ➊ { اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ:} یعنی اگر یہ نہیں مانتے تو نہ مانیں، ہمیشہ نہ تجھے رہنا ہے نہ ان کو، یقینا تو مرنے والا ہے اور یقینا وہ بھی مرنے والے ہیں۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وعدہ اور بشارت ہے کہ آپ کی دنیا کی محنت و مشقت اور تمام رنج ختم ہونے والے ہیں اور آپ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے اور ہمیشہ کی راحت و آرام والی جنت میں جانے والے ہیں، اور کافروں کے لیے وعید ہے کہ ان کی مہلت ختم ہونے والی ہے اور وہ اپنے رب کے سامنے پیش ہو کر اپنے کفر و شرک کا حساب دینے والے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمانوں کو ان کی موت یاد دلا کر اس کی تیاری کی یاد دہانی بھی ہے۔ ➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں گے، تاکہ آپ کی موت کے متعلق لوگوں میں اختلاف واقع نہ ہو اور وہ آپ کی پرستش نہ کرنے لگیں، جیسا کہ پہلی امتوں میں اپنے انبیاء کی وفات کے متعلق اختلاف واقع ہوا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر اکثر لوگوں نے تسلیم نہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں، جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ اس موقع پر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت اور سورۂ آل عمران کی آیت (۱۴۴): «‏‏‏‏وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ» ‏‏‏‏ پڑھ کر اعلان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔ [ دیکھیے بخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب: ۳۶۶۷، ۳۶۶۸] سورۂ آل عمران کی آیت (۱۴۴) کی تفسیر بھی دیکھ لیں۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ نے اپنے موقف سے رجوع کر لیا اور تمام صحابہ کا اتفاق ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل اور کفن دے کر دفن کر دیا، ورنہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کبھی دفن نہ کرتے۔ افسوس! قرآن کی واضح آیات اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے اجماع کے باوجود کچھ لوگوں کو اصرار ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی دنیوی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں۔ چنانچہ ایک صاحب لکھتے ہیں: ”انبیاء کی موت ایک آن کے لیے ہوتی ہے، پھر انھیں حیات عطا فرمائی جاتی ہے۔“ سوال یہ ہے کہ اگر اس حیات سے مراد برزخ کی زندگی ہے تو وہ تو نیک و بد سب کو عطا ہوتی ہے اور برزخ میں جزا و سزا کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے انبیاء کی شان سب سے اونچی ہے اور ان کو عطا ہونے والے انعامات بھی بے حساب ہیں، اس زندگی سے کسی کو بھی انکار نہیں، مگر اس کے لیے موت ضروری ہے، کیونکہ یہ موت کے بعد شروع ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایک آن کے بعد انھیں دنیوی زندگی عطا کر دی جاتی ہے، تو پھر انبیاء کے جاں نثار صحابہ انھیں دفن کیوں کر دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار کے دن فوت ہوئے اور بدھ کے دن آپ کو دفن کیا گیا، تو کیا اس وقت تک وہ آن پوری نہ ہوئی تھی اور صحابہ کو معلوم نہ ہوا تھا کہ آپ کو پھر حیات عطا ہو چکی ہے۔ کیا انھوں نے یہ جانتے ہوئے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن کرنے پر اتفاق کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ دفن کر دیا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ ہونے کے باوجود خاموشی کے ساتھ دفن ہو گئے؟ «فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا» ‏‏‏‏ [ النساء: ۷۸ ] ”تو ان لوگوں کو کیا ہے کہ قریب نہیں ہیں کہ کوئی بات سمجھیں۔“
ثُمَّ اِنَّکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿٪۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخرکار قیامت کے روز تم سب اپنے رب کے حضور اپنا اپنا مقدمہ پیش کرو گے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تم سب کے سب قیامت والے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے
احمد رضا خان بریلوی
پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے
علامہ محمد حسین نجفی
پس اس شخص سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوگا جو خدا پر جھوٹ باندھے اور جب سچائی اس کے پاس آئے تو وہ اسے جھٹلائے۔ کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے؟
عبدالسلام بن محمد
پھر بے شک تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فیصلے روز قیامت کو ہوں گے ٭٭

چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آ جاتی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چنانچہ ارشاد ہے «ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ» ۱؎ [30-الروم:28] ‏‏‏‏ ’ اللہ نے تمہارے لیے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں جنہیں تم خود اپنے آپ میں بہت اچھی طرح جانتے بوجھتے ہو ‘۔ ایک اور آیت میں ہ ے «وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:43] ‏‏‏‏ ’ ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں علماء ہی انہیں بخوبی سمجھ سکتے ہیں ‘۔ ’ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی اور کوئی کمی نہیں واضح دلیلیں اور روشن حجتیں ہیں۔ یہ اس لیے کہ اسے پڑھ کر سن کر لوگ اپنا بچاؤ کر لیں۔ اس کے عذاب کی آیتوں کو سامنے رکھ کر برائیاں چھوڑیں اور اس کے ثواب کی آیتوں کی طرف نظریں رکھ کر نیک اعمال میں محنت کریں ‘۔ اس کے بعد جناب باری عزاسمہ موحد اور مشرک کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ ایک تو وہ غلام جس کے مالک بہت سارے ہوں اور وہ بھی آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں اور دوسرا وہ غلام جو خالص صرف ایک ہی شخص کی ملکیت کا ہو اس کے سوا اس پر دوسرے کسی کا کوئی اختیار نہ ہو۔ کیا یہ دونوں تمہارے نزدیک یکساں ہیں؟ ہرگز نہیں ‘۔ اسی طرح موحد جو صرف ایک «اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی ہی عبادت کرتا ہے۔ اور مشرک جس نے اپنے معبود بہت سے بنا رکھے ہیں۔ ان دونوں میں بھی کوئی نسبت نہیں۔ کہاں یہ مخلص موحد؟ کہاں یہ در بہ در بھٹکنے والا مشرک؟ اس ظاہر باہر روشن اور صاف مثال کے بیان پر بھی رب العالمین کی حمد و ثنا کرنی چاہیئے کہ اس نے اپنے بندوں کو اس طرح سمجھا دیا کہ معاملہ بالکل صاف ہو جائے۔ شرک کی بدی اور توحید کی خوبی ہر ایک کے ذہن میں آ جائے۔ اب رب کے ساتھ وہی شرک کریں گے جو محض بےعلم ہوں جن میں سمجھ بوجھ بالکل ہی نہ ہو۔ اس کے بعد کی آیت کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد پڑھ کر پھر دوسری آیت «وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:144] ‏‏‏‏ کی آخر آیت تک تلاوت کر کے لوگوں کو بتایا تھا۔ مطلب آیت شریفہ کا یہ ہے کہ ’ سب اس دنیا سے جانے والے ہیں اور آخرت میں اپنے رب کے پاس جمع ہونے والے ہیں۔ وہاں اللہ تعالیٰ مشرکوں اور موحدوں میں صاف فیصلہ کر دے گا اور حق ظاہر ہو جائے گا۔ اس سے اچھے فیصلے والا اور اس سے زیادہ علم والا کون ہے؟ ایمان اخلاص اور توحید و سنت والے نجات پائیں گے۔ شرک و کفر انکار و تکذیب والے سخت سزائیں اٹھائیں گے ‘۔ اسی طرح جن دو شخصوں میں جو جھگڑا اور اختلاف دنیا میں تھا روز قیامت وہ اللہ عادل کے سامنے پیش ہو کر فیصلہ ہو گا۔ { اس آیت کے نازل ہونے پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ قیامت کے دن پھر سے جھگڑے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یقیناً } تو عبداللہ نے کہا پھر تو سخت مشکل ہے }۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

مسند احمد کی اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ { آیت «ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ» ۱؎ [102-التکاثر:8] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر اس دن تم سے اللہ کی نعمتوں کا سوال کیا جائے گا ‘، کے نازل ہونے پر آپ رضی اللہ عنہ ہی نے سوال کیا کہ ”وہ کون سی نعمتیں ہیں جن کی بابت ہم سے حساب لیا جائے گا؟ ہم تو کھجوریں کھا کر اور پانی پی کر گزارہ کر رہے ہیں۔‏‏‏‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب نہیں ہیں تو عنقریب بہت سی نعمتیں ہو جائیں گی } }۔ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن الاسناد] ‏‏‏‏۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ مسند کی اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ { زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے آیت «اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:30] ‏‏‏‏ کے نازل ہونے پر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جو جھگڑے ہمارے دنیا میں تھے وہ دوبارہ وہاں قیامت میں دوہرائے جائیں گے؟ ساتھ ہی گناہوں کی بھی پرستش ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں وہ ضرور دوہرائے جائیں گے۔ اور ہر شخص کو اس کا حق پورا پورا دلوایا جائے گا }۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا پھر تو سخت مشکل کام ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے پہلے پڑوسیوں کے آپس میں جھگڑے پیش ہوں گے } [مسند احمد:151/4:حسن] ‏‏‏‏۔ اور حدیث میں ہے { اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سب جھگڑوں کا فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔ یہاں تک کہ دوبکریاں جو لڑی ہوں گی اور ایک نے دوسری کو سینگ مارے ہوں گے ان کا بدلہ بھی دلوایا جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/3:حسن لغیره] ‏‏‏‏

مسند ہی کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ { جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ } سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا خبر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ٹھیک ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اور وہ قیامت کے دن ان میں بھی انصاف کرے گا } }۔۱؎ [مسند احمد:162/5:حسن] ‏‏‏‏ مسند بزار میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم اور خائن بادشاہ سے اس کی رعیت قیامت کے دن جھگڑا کرے گی اور اس پر وہ غالب آ جائے گی اور اللہ کا فرمان صادر ہو گا کہ جاؤ اسے جہنم کا ایک رکن بنا دو }۔ ۱؎ [مسند بزار:1644:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کے ایک راوی اغلب بن تمیم کا حافظہ جیسا چاہیئے ایسا نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر سچا جھوٹے سے، ہر مظلوم ظالم سے، ہر ہدایت والا گمراہی والے سے، ہر کمزور زورآور سے اس روز جھگڑے گا۔‏‏‏‏“ ابن مندہ رحمتہ اللہ اپنی کتاب الروح میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت لائے کہ ”لوگ قیامت کے دن جھگڑیں گے یہاں تک کہ روح اور جسم کے درمیان بھی جھگڑا ہوگا۔ روح تو جسم کو الزام دے گی کہ تونے یہ سب برائیاں کیں اور جسم روح سے کہے گا ساری چاہت اور شرارت تیری ہی تھی۔ ایک فرشتہ ان میں فیصلہ کرے گا کہے گا سنو! ایک آنکھوں والا انسان ہے لیکن اپاہج بالکل لولا لنگڑا چلنے پھرنے سے معذور۔ دوسرا آدمی اندھا ہے لیکن اسکے پیر سلامت ہیں چلتا پھرتا ہے دونوں ایک باغ میں ہیں۔ لنگڑا اندھے سے کہتا ہے بھائی یہ باغ تو میووں اور پھلوں سے لدا ہوا ہے۔ لیکن میرے تو پاؤں نہیں جو میں جاکر یہ پھل توڑ لوں۔ اندھا کہتا ہے آ میرے پاؤں ہیں میں تجھے اپنی پیٹھ پر چڑھا لیتا ہوں اور لے چلتا ہوں۔ چنانچہ یہ دونوں اس طرح پہنچے اور جی کھول کر پھل توڑے، بتاؤ ان دونوں میں مجرم کون ہے؟ جسم و روح دونوں جواب دیتے ہیں کہ جرم دونوں کا ہے۔ فرشتہ کہتا ہے بس اب تو تم نے اپنا فیصلہ آپ کردیا۔ یعنی جسم گویا سواری ہے اور روح اس پر سوار ہے۔‏‏‏‏“

ابن ابی حاتم میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس آیت کے نازل ہونے پر ہم تعجب میں تھے کہ ہم میں اور اہل کتاب میں تو جھگڑا ہے ہی نہیں پھر آخر روز قیامت میں کس سے جھگڑے ہوں گے؟ اس کے بعد جب آپس کے فتنے شروع ہو گئے تو ہم نے سمجھ لیا کہ یہی آپس کے جھگڑے ہیں جو اللہ کے ہاں پیش ہوں گے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اہل قبلہ غیر اہل قبلہ سے جھگڑیں گے اور ابن زید رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ مراد اہل اسلام اور اہل کفر کا جھگڑا ہے۔ لیکن ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ فی الواقع یہ آیت عام ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم اور فضل و رحم سے تفسیر محمدی کا تیسواں [ ۲۳ ] ‏‏‏‏ پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور ہماری تقصیر کی معافی کا سبب اس تفسیر کو بنا دے۔ ہمیں اپنے پاک کلام کی تلاوت کا ذوق، اس کے معنی کے سمجھنے کا شوق عطا فرمائے، علم و عمل کی توفیق دے، عذاب سے نجات دے، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین!
31۔ 1 یعنی اے پیغمبر! آپ بھی اور آپ کے مخالف بھی، سب موت سے ہمکنار ہو کر اس دنیا سے ہمارے پاس آخرت میں آئیں گے۔ دنیا میں تو توحید اور شرک کا فیصلہ تمہارے درمیان نہیں ہوسکا اور تم اس بارے میں جھگڑتے ہی رہے لیکن یہاں میں اس کا فیصلہ کروں گا اور مخلص موحدین کو جنت میں اور مشرکین و جاحدین اور مکذبین کو جہنم میں داخل کروں گا۔
(آیت 31) ➊ { ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ …:} اس سے پہلی اور بعد میں آنے والی آیات کے مطابق اس جھگڑے سے مراد مشرکین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے جھگڑا ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا مقدمہ پیش کریں گے کہ یا اللہ! میں نے ان لوگوں کو تیرا پیغام پہنچایا مگر انھوں نے مجھے جھٹلا دیا۔ (دیکھیے فرقان: ۳۰) اور مشرکین قسمیں کھا کر دنیا میں اپنے مشرک ہونے کا انکار کر دیں گے، وہ کہیں گے: «‏‏‏‏وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنعام: ۲۳ ] ”اللہ کی قسم! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔“ پھر فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوگا جو ان پر نبی کی شہادت کے علاوہ ایمان والوں کی، فرشتوں کی، زمین و آسمان کی اور خود ان مشرکوں کے ہاتھ پاؤں، زبانوں اور دوسرے اعضا کی شہادتوں کے ساتھ ان کا جرم ثابت کر کے ان کے انجام کا فیصلہ فرمائے گا۔ ➋ آیت کے الفاظ عام ہونے کی وجہ سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے ہونے والے تمام جھگڑے بھی اس میں شامل ہیں، جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان ہوں گے، یا مشرکین اور ان کے معبودوں یا بڑے لوگوں اور ان کے فرماں برداروں کے درمیان ہوں گے، یا بادشاہوں اور ان کی رعایا کے درمیان ہوں گے، یا مظلوموں اور ظالموں کے درمیان ہوں گے، خواہ وہ دونوں مسلمان ہوں، حتیٰ کہ آدمی کا اپنے اعضا سے بھی جھگڑا ہو گا۔ (دیکھیے حٰم السجدہ: ۲۱) اس لیے اکثر مفسرین نے اس آیت کو عام رکھا ہے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل کیا ہے: {” يُخَاصِمُ الصَّادِقُ الْكَاذِبَ، وَالْمَظْلُوْمُ الظَّالِمَ، وَالْمُهْتَدِي الضَّالَّ وَالضَّعِيْفُ الْمُسْتَكْبِرَ “} [ طبري: ۳۰۳۸۳ ] ”یعنی سچا جھوٹے سے، مظلوم ظالم سے، ہدایت والا گمراہ سے اور کمزور متکبر سے جھگڑے گا۔“ زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ لَمَّا نَزَلَتْ: «‏‏‏‏ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ» ‏‏‏‏ قَالَ الزُّبَيْرُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَتُكَرَّرُ عَلَيْنَا الْخُصُوْمَةُ بَعْدَ الَّذِيْ كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ إِنَّ الْأَمْرَ إِذًا لَشَدِيْدٌ ] [ ترمذي، التفسیر، باب و من سورۃ الزمر: ۳۲۳۶، قال الترمذي حسن صحیح وقال الألباني حسن الإسناد ] ”جب یہ آیت: «ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ» ‏‏‏‏ اتری تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا دنیا میں جھگڑے ہونے کے بعد وہ جھگڑے دوبارہ ہمارے درمیان ہوں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس وقت تو معاملہ بہت سخت ہو گا۔“
فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَذَبَ عَلَی اللّٰہِ وَ کَذَّبَ بِالصِّدۡقِ اِذۡ جَآءَہٗ ؕ اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اُسے جھٹلا دیا کیا ایسے کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے؟ اور سچا دین جب اس کے پاس آئے تو اسے جھوٹا بتائے؟ کیا ایسے کفار کے لیے جہنم ٹھکانا نہیں ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور حق کو جھٹلائے جب اس کے پاس آئے، کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی تو یہی لوگ پرہیزگار ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ بولا اور سچ کو جھٹلایا جب وہ اس کے پاس آیا، کیا ان کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی سزا اور موحدین کی جزا ٭٭

مشرکین نے اللہ پر بہت جھوٹ بولا تھا اور طرح طرح کے الزام لگائے تھے، کبھی اس کے ساتھ دوسرے معبود بتاتے تھے، کبھی فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں شمار کرنے لگتے تھے، کبھی مخلوق میں سے کسی کو اس کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے، جن تمام باتوں سے اس کی بلند و بالا ذات پاک اور برتر تھی۔ ساتھ ہی ان میں دوسری بدخصلت یہ بھی تھی کہ جو حق انبیاء علیہم السلام کی زبانی اللہ تعالیٰ نازل فرماتا یہ اسے بھی جھٹلاتے، پس فرمایا کہ ’ یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں ‘۔ پھر جو سزا انہیں ہونی ہے اس سے انہیں آگاہ کر دیا کہ ’ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہے،جو مرتے دم تک انکار و تکذیب پر ہی رہیں ‘۔

ان کی بدخصلت اور سزا کا ذکر کر کے پھر مومنوں کی نیک خو اور ان کی جزا کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ جو سچائی کو لایا اور اسے سچا مانا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ السلام اور ہر وہ شخص جو کلمہ توحید کا اقراری ہو۔ اور تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی ماننے والی ان کی مسلمان امت ‘۔ یہ قیامت کے دن یہی کہیں گے کہ جو تم نے ہمیں دیا اور جو فرمایا ہم اسی پر عمل کرتے رہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت میں داخل ہیں۔ آپ بھی سچائی کے لانے والے، اگلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل ہوا تھا اسے ماننے والے تھے اور ساتھ ہی یہی وصف تمام ایمان داروں کا تھا کہ وہ اللہ پر فرشتوں پر کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان رکھنے والے تھے۔

ربیع بن انس کی قرأت میں «وَالَّذِيْنَ جَاءُ وْابالصِّدْقِ» ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں سچائی کو لانے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اسے سچ ماننے والے مسلمان ہیں یہی متقی پرہیزگار اور پارسا ہیں۔ جو اللہ سے ڈرتے رہے اور شرک کفر سے بچتے رہے۔ ان کے لیے جنت میں جو وہ چاہیں سب کچھ ہے۔ جب طلب کریں گے پائیں گے۔ یہی بدلہ ہے ان پاک باز لوگوں کا، رب ان کی برائیاں تو معاف فرما دیتا ہے اور نیکیاں قبول کر لیتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں «‏‏‏‏أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ» ۱؎ [46-الأحقاف:16] ‏‏‏‏، ’ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی نیکیاں ہم قبول کر لیتے ہیں اور برائیوں سے درگزر فرما لیتے ہیں۔ یہ جنتوں میں رہیں گے۔ انہیں بالکل سچا اور صحیح صحیح وعدہ دیا جاتا ہے ‘۔
32۔ 1 یعنی دعویٰ کرے کہ اللہ کے اولاد ہے یا اس کا شریک ہے یا اس کی بیوی ہے دراں حالیکہ وہ ان سب چیزوں سے پاک ہے۔ 23۔ 2 جس میں توحید، احکام و فرائض ہیں، عقیدہ بعث و نشور ہے، محرمات سے اجتناب ہے، مومنین کے لئے خوشخبری اور کافروں کے لئے سزائیں ہیں۔ یہ دین و شریعت جو حضرت محمد رسول اللہ لے کر آئے، اسے جھوٹا بتلائے۔
(آیت 32) ➊ { فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ:} ظلم کا معنی اندھیرا ہے، کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ کہیں اور رکھنا بھی اور کسی کا حق دوسرے کو دے دینا بھی ظلم ہے، کیونکہ آدمی اندھیرے میں کسی چیز کو اس کی اصل جگہ نہیں رکھ سکتا۔ ➋ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ سے مراد شرک یعنی اس کے ساتھ کسی اور کی عبادت کرنا ہے، جس کی کئی صورتیں اس سورت کے شروع سے یہاں تک بیان ہوئی ہیں۔ مثلاً اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے کچھ اولیاء کی عبادت کرنا، فرشتوں کو یا مسیح و عزیر علیھما السلام کو یا کسی اور کو اللہ کی اولاد قرار دینا، مصیبت اور تکلیف کے وقت صرف اللہ تعالیٰ کو پکارنا اور اس کی طرف سے کوئی نعمت عطا ہونے پر اسے بھول کر اس کے شریک بنا کر لوگوں کو گمراہ کرنا اور طاغوت کی عبادت کرنا وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے سب کا رد فرما کر اس آیت میں خلاصہ بیان فرمایا، اس لیے آیت کی ابتدا ”فاء“ کے ساتھ فرمائی کہ پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹ بولا اور اس کا حق دوسروں کو دے دیا؟ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی کچھ تفصیل ان آیات کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں، سورۂ انعام (۲۱)، اعراف (۳۷)، ہود (۱۸) اور عنکبوت (۶۸)۔ ➌ { وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ:} صدق کا معنی وہ بات ہے جو واقعہ کے مطابق ہو، سچی ہو، یہاں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی توحید، آخرت اور رسالت ہے۔ یعنی اگر کسی شخص کے پاس سچی بات نہ پہنچے تو اس کا عذر ہو سکتا ہے، مگر جس شخص کے پاس حق اور صدق آ جائے اور وہ اس پر غور و فکر کی زحمت کیے بغیر اسے سنتے ہی جھٹلا دے، یا اسے سمجھنے کے باوجود عناد کی وجہ سے اس کے آنے کے ساتھ ہی اسے جھٹلا دے، یعنی جو شخص اللہ پر جھوٹ بولے اور سچی بات سنتے ہی اسے جھٹلا دے اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ ➍ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر ایک اور طریقے سے کی ہے: ”یعنی اگر نبی نے جھوٹ خدا کا نام لیا تو اس سے برا کون؟ اور اگر وہ سچا تھا اور تم نے جھٹلایا تو تم سے برا کون؟“ (موضح) اس تفسیر کے مطابق {” مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ “} کا مصداق اور ہے اور {” وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ “} کا مصداق اور، جب کہ پہلی تفسیر کے مطابق دونوں صفات ایک ہی شخص کی ہیں۔ ➎ {اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ:مَثْوًى”ثَوٰي يَثْوِيْ ثَوَاءً وَثُوِيًّا“} بروزن {”مَضٰي يَمْضِيْ مَضَاءً وَ مُضِيًّا“} سے اسم ظرف ہے، رہنا، ٹھہرنا۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت (۶۸) یہ کہنے کے بجائے کہ ”کیا ان کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں؟“ یہ فرمایا کہ ”کیا ان کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں؟“ مقصود اس بات کا اظہار ہے کہ ان کا ٹھکانا جہنم ہونے کی وجہ ان کا کفر یعنی حق بات کو چھپانا اور اس کا انکار کرنا ہے۔ ➏ {”اَلْكَافِرِيْنَ“} جمع لانے سے ظاہر ہے کہ {” مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ “} (جس نے اللہ پر جھوٹ بولا) میں {”مَنْ“} عموم کے لیے ہے، یعنی اس سے مراد ایک شخص نہیں بلکہ ایسے تمام لوگ ہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتے اور سچی بات کو جھٹلاتے ہیں۔
وَ الَّذِیۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَ صَدَّقَ بِہٖۤ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جنہوں نے اس کو سچ مانا، وہی عذاب سے بچنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو سچے دین کو ﻻئے اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ پارسا ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی
علامہ محمد حسین نجفی
ان کیلئے پروردگار کے پاس وہ سب کچھ ہے جو وہ چاہیں گے یہ نیکوکاروں کی جزا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ شخص جو سچ لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ بچنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی سزا اور موحدین کی جزا ٭٭

مشرکین نے اللہ پر بہت جھوٹ بولا تھا اور طرح طرح کے الزام لگائے تھے، کبھی اس کے ساتھ دوسرے معبود بتاتے تھے، کبھی فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں شمار کرنے لگتے تھے، کبھی مخلوق میں سے کسی کو اس کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے، جن تمام باتوں سے اس کی بلند و بالا ذات پاک اور برتر تھی۔ ساتھ ہی ان میں دوسری بدخصلت یہ بھی تھی کہ جو حق انبیاء علیہم السلام کی زبانی اللہ تعالیٰ نازل فرماتا یہ اسے بھی جھٹلاتے، پس فرمایا کہ ’ یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں ‘۔ پھر جو سزا انہیں ہونی ہے اس سے انہیں آگاہ کر دیا کہ ’ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہے،جو مرتے دم تک انکار و تکذیب پر ہی رہیں ‘۔

ان کی بدخصلت اور سزا کا ذکر کر کے پھر مومنوں کی نیک خو اور ان کی جزا کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ جو سچائی کو لایا اور اسے سچا مانا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ السلام اور ہر وہ شخص جو کلمہ توحید کا اقراری ہو۔ اور تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی ماننے والی ان کی مسلمان امت ‘۔ یہ قیامت کے دن یہی کہیں گے کہ جو تم نے ہمیں دیا اور جو فرمایا ہم اسی پر عمل کرتے رہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت میں داخل ہیں۔ آپ بھی سچائی کے لانے والے، اگلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل ہوا تھا اسے ماننے والے تھے اور ساتھ ہی یہی وصف تمام ایمان داروں کا تھا کہ وہ اللہ پر فرشتوں پر کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان رکھنے والے تھے۔

ربیع بن انس کی قرأت میں «وَالَّذِيْنَ جَاءُ وْابالصِّدْقِ» ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں سچائی کو لانے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اسے سچ ماننے والے مسلمان ہیں یہی متقی پرہیزگار اور پارسا ہیں۔ جو اللہ سے ڈرتے رہے اور شرک کفر سے بچتے رہے۔ ان کے لیے جنت میں جو وہ چاہیں سب کچھ ہے۔ جب طلب کریں گے پائیں گے۔ یہی بدلہ ہے ان پاک باز لوگوں کا، رب ان کی برائیاں تو معاف فرما دیتا ہے اور نیکیاں قبول کر لیتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں «‏‏‏‏أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ» ۱؎ [46-الأحقاف:16] ‏‏‏‏، ’ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی نیکیاں ہم قبول کر لیتے ہیں اور برائیوں سے درگزر فرما لیتے ہیں۔ یہ جنتوں میں رہیں گے۔ انہیں بالکل سچا اور صحیح صحیح وعدہ دیا جاتا ہے ‘۔
33۔ 1 اس سے پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ مراد ہیں جو سچا دین لے کر آئے۔ بعض کے نزدیک یہ عام ہے اور اس سے ہر وہ شخص مراد ہے جو توحید کی دعوت دیتا اور اللہ کی شریعت کی طرف کی رہنمائی کرتا ہے۔ 33۔ 2 بعض اس سے حضرت ابوبکر صدیق مراد لیتے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لائے۔ بعض نے اسے بھی عام رکھا ہے، جس میں سب مومن شامل ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں اور آپ کو سچا مانتے ہیں۔
(آیت 33) ➊ { وَ الَّذِيْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ:الَّذِيْ “ } سے مراد پہلے گروہ کے بالمقابل گروہ ہے اور پہلی آیت کے{ ”مَنْ“} کی طرح اس آیت میں{ ” الَّذِيْ “} عموم کے لیے ہے، اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہر وہ شخص ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت لے کر اٹھ کھڑا ہو، کیونکہ یہ لوگ سچی بات لانے والے بھی ہیں اور اسے سچ ماننے والے بھی۔ سچ لے کر آنے کے ساتھ اس کی تصدیق کی شرط اس لیے لگائی کہ بعض اوقات آدمی سچ بیان کر دیتا ہے، مگر اپنے تکبر کی وجہ سے اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا، اس لیے تعریف کے قابل وہی ہے جس میں صدق اور تصدیق دونوں پائی جائیں، کیونکہ اس کا صدق اس کے علم کی دلیل ہے اور تصدیق اس کی تواضع اور تکبر سے پاک ہونے کی دلیل ہے۔ (سعدی) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”جو سچی بات لے کر آیا وہ نبی اور جس نے سچ مانا وہ مومن ہے۔“ (موضح) اس تفسیر کے مطابق دونوں کا مصداق الگ الگ ہے، اس لیے بعض مفسرین نے سچی بات لانے والے سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لیے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس امت میں سب سے پہلے سچی بات لے کر آئے اور اس کی تصدیق کرنے والے سے مراد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ لیے ہیں، کیونکہ وہ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ اگرچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ تمام مومن بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور وہ تمام داعی بھی سچی بات لانے والوں میں شامل ہیں جنھوں نے اسلام کی دعوت دی۔ ➋ {اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ:} یعنی یہی لوگ شرک سے بچنے والے اور جہنم سے بچے رہنے والے ہیں۔
لَہُمۡ مَّا یَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۚۖ۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہیں اپنے رب کے ہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے یہ ہے نیکی کرنے والوں کی جزا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے لیے ان کے رب کے پاس (ہر) وه چیز ہے جو یہ چاہیں، نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہی ڈر والے ہیں، ان کے لےیے ہے، جو وہ چاہیں اپنے رب کے پاس، نیکوں کا یہی صلہ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ اللہ ان کے بدترین اعمال کو معاف کرے اور انہیں ان کے بہترین اعمال کی جزا عطا فرمائے۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ کچھ ہے جو وہ چاہیں گے، یہی نیکی کرنے والوں کی جزا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی سزا اور موحدین کی جزا ٭٭

مشرکین نے اللہ پر بہت جھوٹ بولا تھا اور طرح طرح کے الزام لگائے تھے، کبھی اس کے ساتھ دوسرے معبود بتاتے تھے، کبھی فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں شمار کرنے لگتے تھے، کبھی مخلوق میں سے کسی کو اس کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے، جن تمام باتوں سے اس کی بلند و بالا ذات پاک اور برتر تھی۔ ساتھ ہی ان میں دوسری بدخصلت یہ بھی تھی کہ جو حق انبیاء علیہم السلام کی زبانی اللہ تعالیٰ نازل فرماتا یہ اسے بھی جھٹلاتے، پس فرمایا کہ ’ یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں ‘۔ پھر جو سزا انہیں ہونی ہے اس سے انہیں آگاہ کر دیا کہ ’ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہے،جو مرتے دم تک انکار و تکذیب پر ہی رہیں ‘۔

ان کی بدخصلت اور سزا کا ذکر کر کے پھر مومنوں کی نیک خو اور ان کی جزا کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ جو سچائی کو لایا اور اسے سچا مانا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ السلام اور ہر وہ شخص جو کلمہ توحید کا اقراری ہو۔ اور تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی ماننے والی ان کی مسلمان امت ‘۔ یہ قیامت کے دن یہی کہیں گے کہ جو تم نے ہمیں دیا اور جو فرمایا ہم اسی پر عمل کرتے رہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت میں داخل ہیں۔ آپ بھی سچائی کے لانے والے، اگلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل ہوا تھا اسے ماننے والے تھے اور ساتھ ہی یہی وصف تمام ایمان داروں کا تھا کہ وہ اللہ پر فرشتوں پر کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان رکھنے والے تھے۔

ربیع بن انس کی قرأت میں «وَالَّذِيْنَ جَاءُ وْابالصِّدْقِ» ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں سچائی کو لانے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اسے سچ ماننے والے مسلمان ہیں یہی متقی پرہیزگار اور پارسا ہیں۔ جو اللہ سے ڈرتے رہے اور شرک کفر سے بچتے رہے۔ ان کے لیے جنت میں جو وہ چاہیں سب کچھ ہے۔ جب طلب کریں گے پائیں گے۔ یہی بدلہ ہے ان پاک باز لوگوں کا، رب ان کی برائیاں تو معاف فرما دیتا ہے اور نیکیاں قبول کر لیتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں «‏‏‏‏أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ» ۱؎ [46-الأحقاف:16] ‏‏‏‏، ’ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی نیکیاں ہم قبول کر لیتے ہیں اور برائیوں سے درگزر فرما لیتے ہیں۔ یہ جنتوں میں رہیں گے۔ انہیں بالکل سچا اور صحیح صحیح وعدہ دیا جاتا ہے ‘۔
34۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بھی معاف فرما دے گا، ان کے درجے بھی بلند فرمائے گا، کیونکہ ہر مسلمان کی اللہ سے یہی خواہش ہوتی ہے علاوہ ازیں جنت میں جانے کے بعد ہر مطلوب چیز بھی ملے گی۔ 34۔‎2 محسنین کا ایک مفہوم تو یہ ہے جو نیکیاں کرنے والے ہیں دوسرا وہ جو اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں جیسے حدیث میں احسان کی تعریف کی گئی ہے ان تعبد اللہ کانک تراہ فانہ لم تکن تراہ فانہ یراک تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ تصور ممکن نہ ہو تو یہ ضرور ذہن میں رہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے تیسرا جو لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کرتے ہیں چوتھا ہر نیک عمل کو اچھے طریقے سے خشوع و خضوع سے اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کرتے ہیں کثرت کے بجائے اس میں حسن کا خیال رکھتے ہیں۔
(آیت 34) ➊ {لَهُمْ مَّا يَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ:} چونکہ وہ دنیا میں وہ کام کر تے رہے جو ان کا رب چاہتا تھا، اس لیے اس کے بدلے میں رب تعالیٰ کے ہاں انھیں وہ کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے، فرمایا: «‏‏‏‏هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ» ‏‏‏‏ [ الرحمٰن: ۶۰ ] ”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے۔“ ➋ { ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِيْنَ:} یہاں کچھ عبارت محذوف ہے: {”لِأَنَّهُمْ كَانُوْا مُحْسِنِيْنَ“} کیونکہ وہ نیکی کرنے والے تھے اور نیکی کرنے والوں کی یہی جزا ہے۔ ”احسان“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۵۸)، یوسف (۳۶) اور قصص (۱۴ اور ۷۷)۔
لِیُکَفِّرَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا وَ یَجۡزِیَہُمۡ اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تاکہ جو بد ترین اعمال انہوں نے کیے تھے انہیں اللہ ان کے حساب سے ساقط کر دے اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے اُن کے لحاظ سے اُن کو اجر عطا فرمائے
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کردے اور جو نیک کام انہوں نے کیے ہیں ان کا اچھا بدلہ عطا فرمائے
احمد رضا خان بریلوی
تاکہ اللہ ان سے اتار دے برے سے برا کام جو انہوں نے کیا اور انہیں ان کے ثواب کا صلہ دے اچھے سے اچھے کام پر جو وہ کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا اللہ اپنے بندہ کیلئے کافی نہیں ہے؟ اور یہ لوگ آپ کو اللہ کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں اور جس کو خدا گمراہی میں چھوڑ دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ اللہ ان سے وہ بد ترین عمل دور کر دے جو انھوں نے کیے اور انھیں ان کا اجر ان بہترین اعمال کے مطابق دے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی سزا اور موحدین کی جزا ٭٭

مشرکین نے اللہ پر بہت جھوٹ بولا تھا اور طرح طرح کے الزام لگائے تھے، کبھی اس کے ساتھ دوسرے معبود بتاتے تھے، کبھی فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں شمار کرنے لگتے تھے، کبھی مخلوق میں سے کسی کو اس کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے، جن تمام باتوں سے اس کی بلند و بالا ذات پاک اور برتر تھی۔ ساتھ ہی ان میں دوسری بدخصلت یہ بھی تھی کہ جو حق انبیاء علیہم السلام کی زبانی اللہ تعالیٰ نازل فرماتا یہ اسے بھی جھٹلاتے، پس فرمایا کہ ’ یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں ‘۔ پھر جو سزا انہیں ہونی ہے اس سے انہیں آگاہ کر دیا کہ ’ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہے،جو مرتے دم تک انکار و تکذیب پر ہی رہیں ‘۔

ان کی بدخصلت اور سزا کا ذکر کر کے پھر مومنوں کی نیک خو اور ان کی جزا کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ جو سچائی کو لایا اور اسے سچا مانا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ السلام اور ہر وہ شخص جو کلمہ توحید کا اقراری ہو۔ اور تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی ماننے والی ان کی مسلمان امت ‘۔ یہ قیامت کے دن یہی کہیں گے کہ جو تم نے ہمیں دیا اور جو فرمایا ہم اسی پر عمل کرتے رہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت میں داخل ہیں۔ آپ بھی سچائی کے لانے والے، اگلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل ہوا تھا اسے ماننے والے تھے اور ساتھ ہی یہی وصف تمام ایمان داروں کا تھا کہ وہ اللہ پر فرشتوں پر کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان رکھنے والے تھے۔

ربیع بن انس کی قرأت میں «وَالَّذِيْنَ جَاءُ وْابالصِّدْقِ» ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں سچائی کو لانے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اسے سچ ماننے والے مسلمان ہیں یہی متقی پرہیزگار اور پارسا ہیں۔ جو اللہ سے ڈرتے رہے اور شرک کفر سے بچتے رہے۔ ان کے لیے جنت میں جو وہ چاہیں سب کچھ ہے۔ جب طلب کریں گے پائیں گے۔ یہی بدلہ ہے ان پاک باز لوگوں کا، رب ان کی برائیاں تو معاف فرما دیتا ہے اور نیکیاں قبول کر لیتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں «‏‏‏‏أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ» ۱؎ [46-الأحقاف:16] ‏‏‏‏، ’ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی نیکیاں ہم قبول کر لیتے ہیں اور برائیوں سے درگزر فرما لیتے ہیں۔ یہ جنتوں میں رہیں گے۔ انہیں بالکل سچا اور صحیح صحیح وعدہ دیا جاتا ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 35) ➊ { لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِيْ عَمِلُوْا:لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ “} محذوف فعل {”أَعْطَاهُمْ ذٰلِكَ“} کے متعلق ہے، یعنی اللہ تعالیٰ انھیں یہ جزا دے گا، تاکہ وہ ان سے وہ بدترین عمل دور کر دے جو انھوں نے کیے…۔ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کے ساتھ عدل سے بڑھ کر فضل کا معاملہ فرمائے گا۔ عدل یہ ہے کہ نیکیوں اور برائیوں کو برابر شمار کرکے جزا دی جائے، جب کہ فضل یہ ہے کہ برائی صرف ایک لکھی جائے اور نیکی دس گنا سے سات سو گنا یا بے حساب لکھی جائے، فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ» ‏‏‏‏ [ الزمر: ۱۰ ] ”صرف کامل صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔“ اسی فضل کی بدولت اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں کے سب سے برے اعمال دور کر دے گا۔ جب سب سے برے اعمال دور ہو گئے تو کم برے اعمال بھی دور کر دے گا۔ چنانچہ اگر وہ پہلے کافر ہیں تو اسلام لانے کی بدولت پہلے گناہ معاف کر دے گا، اگر مسلمان تھے تو توبہ، ہجرت، حج اور ان کے تقویٰ کی وجہ سے ان کے تمام گناہ دور کر دے گا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ يُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ» ‏‏‏‏ [ الأنفال: ۲۹ ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمھارے لیے (حق و باطل میں) فرق کرنے کی بڑی قوت بنا دے گا اور تم سے تمھاری برائیاں دور کر دے گا اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔“ مزید دیکھیے سورۂ مائدہ (۶۵)، سورۂ محمد (۲)، تغابن (۹)، عنکبوت (۷) اور احقاف (۱۶)۔ ➋ { وَ يَجْزِيَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ:} یعنی انھیں ان کے اعمال کا بدلا ان کے ان اعمال کے لحاظ سے دیا جائے گا جو ان کے نامہ اعمال میں بہترین ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے کم تر درجے کے اعمال بھی بہترین بنا دیے جائیں گے اور ایک نیکی کا بدلا دس گنا سے سات سو گنا تک بلکہ بغیر حساب کے دیا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ نحل (۹۶، ۹۷) اور طور (۲۱)۔
اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبۡدَہٗ ؕ وَ یُخَوِّفُوۡنَکَ بِالَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿ۚ۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اے نبیؐ) کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟ یہ لوگ اُس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں حالانکہ اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اُسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟ یہ لوگ آپ کو اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں اور جسے اللہ گمراه کر دےاس کی رہنمائی کرنے واﻻ کوئی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں اور تمہیں ڈراتے ہیں اس کے سوا اوروں سے اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کی کوئی ہدایت کرنے والا نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جسے خدا ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے اور وہ تجھے ان سے ڈراتے ہیں جو اس کے سوا ہیں اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے ٭٭

ایک قرأت میں «اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عِبَادَهُ» ہے، یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے ‘۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2349،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی بہکا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ والا ہے اس پر بھروسہ کرنے والے کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی طرف جھک جانے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ اس سے بڑھ کر عزت والا کوئی نہیں ‘۔

اسی طرح اس سے بڑھ کر انتقام پر قادر بھی کوئی نہیں۔ جو اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ اس کے رسولوں سے لڑتے بھڑتے ہیں یقیناً وہ انہیں سخت سزائیں دے گا۔ مشرکین کی مزید جہالت بیان ہو رہی ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے پھر بھی ایسے معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں جو کسی نفع نقصان کے مالک نہیں جنہیں کسی امر کا کوئی اختیار نہیں۔ حدیث شریف میں ہے { اللہ کو یاد کر وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد رکھ تو اسے ہر وقت اپنے پاس پائے گا۔ آسانی کے وقت رب کی نعمتوں کا شکر گذار رہ سختی کے وقت وہ تیرے کام آئے گا۔ جب کچھ مانگ تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کر تو اسی سے مدد طلب کر یقین رکھ کر اگر تمام دنیا مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ سب تجھے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور سب جمع ہو کر تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ نے مقدر میں نہ لکھا ہو تو ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔ صحیفے خشک ہو چکے قلمیں اٹھالی گئیں۔ یقین اور شکر کے ساتھ نیکیوں میں مشغول رہا کر تکلیفوں میں صبر کرنے پر بڑی نیکیاں ملتی ہیں۔ مدد صبر کے ساتھ ہے۔ غم و رنج کے ساتھ ہی خوشی اور فراخی ہے۔ ہر سختی اپنے اندر آسانی کو لیے ہوئے ہے }۔۱؎ [مسند احمد:307/1:صحیح] ‏‏‏‏ ’ تو کہدے کہ مجھے اللہ بس ہے۔ بھروسہ کرن والے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا تھا «إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [11-هود:54-56] ‏‏‏‏ ’ جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ اے ہود ہمارے خیال سے تو تمہیں ہمارے کسی معبود نے کسی خرابی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے تمام معبودان باطل سے بیزار ہوں۔ تم سب مل کر میرے ساتھ جو داؤ گھات تم سے ہو سکتے ہیں سب کر لو اور مجھے مطلق مہلت نہ دو۔ سنو میرا توکل میرے رب پر ہے جو دراصل تم سب کا بھی رب ہے۔ روئے زمین پر جتنے چلنے پھرنے والے ہیں سب کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ میرا رب صراط مستقیم پر ہے ‘۔ رسول اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جو شخص سب سے زیادہ قوی ہونا چاہے وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور جو سب سے زیادہ غنی بننا چاہے وہ اس چیز پر جو اللہ کے ہاتھ میں ہے زیادہ اعتماد رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو خود اس کے ہاتھ میں ہے اور جو سب سے زیادہ بزرگ ہونا چاہے وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا رہے }۔ ۱؎ [مسند عبد بن حمید:675:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر مشرکین کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ اچھا تم اپنے طریقے پر عمل کرتے چلے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر عامل ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں ذلیل و خوار کون ہوتا ہے؟ اور آخرت کے دائمی عذاب میں گرفتار کون ہوتا ہے؟‘ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
36۔ 1 اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ عام ہے، تمام انبیاء (علیہم السلام) اور مومنین اس میں شامل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کو غیر اللہ سے ڈراتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ جب آپ کا حامی و ناصر ہو تو آپ کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ ان سب کے مقابلے میں آپ کو کافی ہے۔ 36۔ 2 جو اس گمراہی سے نکال کر ہدایت کے راستے پر لگا دے۔
(آیت 36) ➊ { اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ:} اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ وہ مومنوں کو جنت میں جو چاہیں گے عطا کرے گا اور ان کے بدترین اعمال دور کر ے گا، ساتھ ہی بیان فرمایا کہ دنیا میں بھی وہ انھیں تمام کاموں کے لیے کافی ہو جائے گا اور تمام دشمنوں سے بھی کافی ہو جائے گا۔ اس بات کو نہایت قوت اور زور سے بیان کرنے کے لیے اسے سوالیہ انداز میں بیان فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟ یعنی یقینا وہ اپنے بندے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور اپنے ہر بندے کے لیے کافی ہے۔ ➋ { وَ يُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ…:} کافر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے معبودوں سے ڈراتے اور کہتے کہ ہمارے معبودوں کی برائی سے باز رہ، ورنہ وہ تجھے نقصان پہنچائیں گے اور تجھے دیوانہ بنا دیں گے، جیسا کہ اس زمانے کے مشرک اور قبروں کے مجاور و گدی نشین، جو نام کے مسلمان ہیں اور بزرگوں اور ولیوں کو پکارتے ہیں، ان کی نذریں نیازیں دیتے ہیں، دور دور سے جا کر ان کی قبروں پر میلے لگاتے ہیں، ہاتھ باندھ کر بڑی عاجزی سے ان کے آگے کھڑے ہوتے ہیں، بعض قبروں کے گرد طواف کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں، غرض ہر طرح کی عبادت کرتے ہیں، تو جب کوئی انھیں منع کرے اور ان سے کہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو تو اپنے معبودوں سے ڈراتے ہیں کہ فلاں شخص نے ان کو نہ مانا تو وہ تباہ و برباد ہو گیا، اس کا یہ نقصان ہو گیا۔ ایسی باتوں سے احمق و نادان ڈر جاتے ہیں اور ان کی پوجا کرنے لگ جاتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ» یعنی یہ لوگ گمراہ ہیں اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔
وَ مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ مُّضِلٍّ ؕ اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِعَزِیۡزٍ ذِی انۡتِقَامٍ ﴿۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جسے وہ ہدایت دے اُسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں، کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جسے وه ہدایت دے اسے کوئی گمراه کرنے واﻻ نہیں کیا اللہ تعالیٰ غالب اور بدلہ لینے واﻻ نہیں ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی بہکانے والا نہیں، کیا اللہ عزت والا بدلہ لینے والا نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا اللہ زبردست (اور) انتقام لینے والا نہیں ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اور جسے اللہ راہ پر لے آئے، پھر اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، کیا اللہ سب پر غالب، انتقام لینے والا نہیں ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے ٭٭

ایک قرأت میں «اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عِبَادَهُ» ہے، یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے ‘۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2349،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی بہکا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ والا ہے اس پر بھروسہ کرنے والے کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی طرف جھک جانے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ اس سے بڑھ کر عزت والا کوئی نہیں ‘۔

اسی طرح اس سے بڑھ کر انتقام پر قادر بھی کوئی نہیں۔ جو اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ اس کے رسولوں سے لڑتے بھڑتے ہیں یقیناً وہ انہیں سخت سزائیں دے گا۔ مشرکین کی مزید جہالت بیان ہو رہی ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے پھر بھی ایسے معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں جو کسی نفع نقصان کے مالک نہیں جنہیں کسی امر کا کوئی اختیار نہیں۔ حدیث شریف میں ہے { اللہ کو یاد کر وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد رکھ تو اسے ہر وقت اپنے پاس پائے گا۔ آسانی کے وقت رب کی نعمتوں کا شکر گذار رہ سختی کے وقت وہ تیرے کام آئے گا۔ جب کچھ مانگ تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کر تو اسی سے مدد طلب کر یقین رکھ کر اگر تمام دنیا مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ سب تجھے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور سب جمع ہو کر تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ نے مقدر میں نہ لکھا ہو تو ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔ صحیفے خشک ہو چکے قلمیں اٹھالی گئیں۔ یقین اور شکر کے ساتھ نیکیوں میں مشغول رہا کر تکلیفوں میں صبر کرنے پر بڑی نیکیاں ملتی ہیں۔ مدد صبر کے ساتھ ہے۔ غم و رنج کے ساتھ ہی خوشی اور فراخی ہے۔ ہر سختی اپنے اندر آسانی کو لیے ہوئے ہے }۔۱؎ [مسند احمد:307/1:صحیح] ‏‏‏‏ ’ تو کہدے کہ مجھے اللہ بس ہے۔ بھروسہ کرن والے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا تھا «إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [11-هود:54-56] ‏‏‏‏ ’ جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ اے ہود ہمارے خیال سے تو تمہیں ہمارے کسی معبود نے کسی خرابی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے تمام معبودان باطل سے بیزار ہوں۔ تم سب مل کر میرے ساتھ جو داؤ گھات تم سے ہو سکتے ہیں سب کر لو اور مجھے مطلق مہلت نہ دو۔ سنو میرا توکل میرے رب پر ہے جو دراصل تم سب کا بھی رب ہے۔ روئے زمین پر جتنے چلنے پھرنے والے ہیں سب کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ میرا رب صراط مستقیم پر ہے ‘۔ رسول اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جو شخص سب سے زیادہ قوی ہونا چاہے وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور جو سب سے زیادہ غنی بننا چاہے وہ اس چیز پر جو اللہ کے ہاتھ میں ہے زیادہ اعتماد رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو خود اس کے ہاتھ میں ہے اور جو سب سے زیادہ بزرگ ہونا چاہے وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا رہے }۔ ۱؎ [مسند عبد بن حمید:675:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر مشرکین کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ اچھا تم اپنے طریقے پر عمل کرتے چلے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر عامل ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں ذلیل و خوار کون ہوتا ہے؟ اور آخرت کے دائمی عذاب میں گرفتار کون ہوتا ہے؟‘ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
37۔ 1 جو اس کو ہدایت سے نکال کر گمراہی کے گڑھے میں ڈال دے یعنی ہدایت اور گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے، جس کو چاہے گمراہ کر دے اور جس چاہے ہدایت سے نوازے۔ 37۔ 2 کیوں نہیں، یقینا ہے۔ اس لئے کہ اگر یہ لوگ کفر وعناد سے باز نہ آئے، تو یقینا وہ اپنے دوستوں کی حمایت میں ان سے انتقام لے گا اور انہیں عبرت ناک انجام سے دو چار کرے گا۔
(آیت 37) ➊ { وَ مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ:} اور جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے، پھر کوئی اسے گمراہ کرنے والا نہیں۔ شیطان یا اس کے پیروکار اپنے حاجت رواؤں یا مشکل کُشاؤں سے اسے جس قدر بھی ڈرائیں وہ کبھی نہ ان سے ڈرتا ہے اور نہ وہ اللہ کے سوا کسی سے امید رکھتا ہے۔ کفار کا اپنے خداؤں سے ڈرانے کے ذکر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۵۴)، انعام (۸۰ تا ۸۲) اور سورۂ قمر (۹)۔ ➋{ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِعَزِيْزٍ ذِي انْتِقَامٍ:} کیا اللہ تعالیٰ سب پر غالب نہیں کہ جو اس کی پناہ میں ہو کوئی اس کی ہوا کی طرف بھی نہیں دیکھ سکتا؟ اور کیا وہ اپنی اور اپنے دوستوں کی خاطر بہت بڑے انتقام والا نہیں ({انْتِقَامٍ} کی تنوین تعظیم کے لیے ہے) کہ اس کے اور اس کے دوستوں کے دشمنوں کو اس کے زبردست انتقام سے کوئی نہیں بچا سکتا؟ یقینا وہ سب پر غالب بھی ہے اور بہت بڑے انتقام والا بھی: نہ جا اس کے تحمل پر کہ بے ڈھب ہے گرفت اس کی ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلۡ اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ہَلۡ ہُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖۤ اَوۡ اَرَادَنِیۡ بِرَحۡمَۃٍ ہَلۡ ہُنَّ مُمۡسِکٰتُ رَحۡمَتِہٖ ؕ قُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ؕ عَلَیۡہِ یَتَوَکَّلُ الۡمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے اِن سے کہو، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو، مجھے اُس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچا لیں گی؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اُسی پر بھروسہ کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً وه یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ آپ ان سے کہئیے کہ اچھا یہ تو بتاؤ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ تعالی مجھے نقصان پہنچانا چاہے توکیا یہ اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربانی کا اراده کرے تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ آپ کہہ دیں کہ اللہ مجھے کافی ہے، توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم ان سے پوچھو آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے اللہ نے تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا وہ اس کی بھیجی تکلیف ٹال دیں گے یا وہ مجھ پر مہر (رحم) فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی مہر کو روک رکھیں گے تم فرماؤ اللہ مجھے بس ہے بھروسے والے اس پر بھروسہ کریں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر آپ(ص) اُن سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو وہ یقینا کہیں گے کہ اللہ نے آپ(ص) کہیے! تمہارا کیا خیال ہے؟ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ مجھے کچھ نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کی جانب سے نقصان کو دور کر دیں گے؟ یا اگر اللہ مجھ پر کچھ رحمت کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں؟ بس آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ میرے لئے اللہ کافی ہے۔ بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور یقینا اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ کہہ تو کیا تم نے دیکھا کہ وہ ہستیاں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے تو کیا وہ اس کے نقصان کو ہٹانے والی ہیں؟ یا وہ مجھ پر کوئی مہربانی کرنا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روکنے والی ہیں؟ کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اسی پر بھروسا کرنے والے بھروسا کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے ٭٭

ایک قرأت میں «اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عِبَادَهُ» ہے، یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے ‘۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2349،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی بہکا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ والا ہے اس پر بھروسہ کرنے والے کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی طرف جھک جانے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ اس سے بڑھ کر عزت والا کوئی نہیں ‘۔

اسی طرح اس سے بڑھ کر انتقام پر قادر بھی کوئی نہیں۔ جو اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ اس کے رسولوں سے لڑتے بھڑتے ہیں یقیناً وہ انہیں سخت سزائیں دے گا۔ مشرکین کی مزید جہالت بیان ہو رہی ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے پھر بھی ایسے معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں جو کسی نفع نقصان کے مالک نہیں جنہیں کسی امر کا کوئی اختیار نہیں۔ حدیث شریف میں ہے { اللہ کو یاد کر وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد رکھ تو اسے ہر وقت اپنے پاس پائے گا۔ آسانی کے وقت رب کی نعمتوں کا شکر گذار رہ سختی کے وقت وہ تیرے کام آئے گا۔ جب کچھ مانگ تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کر تو اسی سے مدد طلب کر یقین رکھ کر اگر تمام دنیا مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ سب تجھے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور سب جمع ہو کر تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ نے مقدر میں نہ لکھا ہو تو ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔ صحیفے خشک ہو چکے قلمیں اٹھالی گئیں۔ یقین اور شکر کے ساتھ نیکیوں میں مشغول رہا کر تکلیفوں میں صبر کرنے پر بڑی نیکیاں ملتی ہیں۔ مدد صبر کے ساتھ ہے۔ غم و رنج کے ساتھ ہی خوشی اور فراخی ہے۔ ہر سختی اپنے اندر آسانی کو لیے ہوئے ہے }۔۱؎ [مسند احمد:307/1:صحیح] ‏‏‏‏ ’ تو کہدے کہ مجھے اللہ بس ہے۔ بھروسہ کرن والے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا تھا «إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [11-هود:54-56] ‏‏‏‏ ’ جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ اے ہود ہمارے خیال سے تو تمہیں ہمارے کسی معبود نے کسی خرابی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے تمام معبودان باطل سے بیزار ہوں۔ تم سب مل کر میرے ساتھ جو داؤ گھات تم سے ہو سکتے ہیں سب کر لو اور مجھے مطلق مہلت نہ دو۔ سنو میرا توکل میرے رب پر ہے جو دراصل تم سب کا بھی رب ہے۔ روئے زمین پر جتنے چلنے پھرنے والے ہیں سب کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ میرا رب صراط مستقیم پر ہے ‘۔ رسول اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جو شخص سب سے زیادہ قوی ہونا چاہے وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور جو سب سے زیادہ غنی بننا چاہے وہ اس چیز پر جو اللہ کے ہاتھ میں ہے زیادہ اعتماد رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو خود اس کے ہاتھ میں ہے اور جو سب سے زیادہ بزرگ ہونا چاہے وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا رہے }۔ ۱؎ [مسند عبد بن حمید:675:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر مشرکین کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ اچھا تم اپنے طریقے پر عمل کرتے چلے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر عامل ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں ذلیل و خوار کون ہوتا ہے؟ اور آخرت کے دائمی عذاب میں گرفتار کون ہوتا ہے؟‘ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
38۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ سوال ان کے سامنے پیش کیا، تو انہوں نے کہا کہ واقعی وہ اللہ کی تقدیر کو نہیں ٹال سکتے، البتہ وہ سفارش کریں گے، جس پر یہ ٹکڑا نازل ہوا کہ مجھے تو میرے معاملات میں اللہ ہی کافی ہے۔ 38۔ 2 جب سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے تو پھر دوسروں پر بھروسہ کرنے کا کیا فائدہ؟ اس لئے اہل ایمان صرف اس پر توکل کرتے ہیں، اس کے سوا کسی پر اعتماد نہیں۔
(آیت 38) ➊ { وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ …:} اس آیت میں مشرکین کی جہالت اور ان کے قول و عمل کے تضاد کو اجاگر کیا ہے۔ فرمایا، اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقینا کہیں گے، اللہ تعالیٰ نے۔ اس اقرار کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جب خالق وہ ہے تو مالک بھی وہی ہے، پھر کسی اور کے پاس کسی طرح کے نفع یا نقصان کا کیا اختیار ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس اقرار کے بعد انھیں اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کے نفع یا نقصان کااختیار نہ رکھنے کا اقرار کروانے کے لیے فرمایا، ان سے کہیے کہ پھر یہ بتاؤ کہ وہ ہستیاں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف یا نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے تو کیا وہ اس کی تکلیف یا نقصان کو ہٹا سکتی ہیں، یا اگر وہ مجھ پر کوئی مہربانی فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے کفار کا جواب یہاں ذکر نہیں فرمایا۔ یا تو اس لیے کہ اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ جب خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے تو کوئی دوسرا اس کے ارادے کے خلاف کیا کر سکتا ہے، یا اس لیے کہ مشرک یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے معبود کچھ اختیار نہیں رکھتے، یہ نہیں کہیں گے کہ وہ نہ تکلیف دور کریں گے اور نہ اس کی رحمت کو روک سکیں گے، بلکہ لاجواب ہو کر خاموشی اختیار کریں گے۔ ➋ { قُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ …:} یعنی کافر اس سوال کے جواب میں خاموش رہیں تو آپ خود فرما دیں کہ مجھے تو اللہ کافی ہے، تمام بھروسا کرنے والے اسی پر بھروسا کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمام بھروسا کرنے والوں کو اسی پر بھروسا کرنا لازم ہے، کیونکہ جب کسی بات کا زیادہ زور سے حکم دینا ہو تو اسے خبر کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے، مثلاً کہنا ہو کہ آج سب لوگ فلاں جگہ عصر کی نماز پڑھیں، تو کہا جائے گا، آج سب لوگ عصر کی نماز فلاں جگہ پڑھ رہے ہیں یا پڑھیں گے۔ ➌ {هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ …:} اللہ کے سوا ہستیوں کو مؤنث کے صیغے کے ساتھ ذکر کرنے سے ان کے بے اختیار ہونے کا اظہار اور ان کی تحقیر مراد ہے۔ ➍ ”اللہ کے سوا نفع یا نقصان کا کوئی بھی مالک نہیں“ یہ مضمون اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے قرآن مجید میں جا بجا بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ رعد (۱۴ تا ۱۶)، فرقان (۳)، انعام (۱۷) اور سورۂ یونس (۱۰۶، ۱۰۷)۔
قُلۡ یٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰی مَکَانَتِکُمۡ اِنِّیۡ عَامِلٌ ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان سے صاف کہو کہ "اے میری قوم کے لوگو، تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جاؤ، میں اپنا کام کرتا رہوں گا، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے کہ اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کیے جاؤ میں بھی عمل کر رہا ہوں، ابھی ابھی تم جان لوگے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ، اے میری قوم! اپنی جگہ کام کیے جاؤ میں اپنا کام کرتا ہوں تو آگے جان جاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! اے میری قوم! تم اپنی جگہ (اپنے طریقہ پر) کام کئے جاؤ۔ میں اپنا کام کرتا ہوں عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کرو، بے شک میں بھی عمل کرنے والا ہوں، پھر تم جلد ہی جان لو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے ٭٭

ایک قرأت میں «اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عِبَادَهُ» ہے، یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے ‘۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2349،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی بہکا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ والا ہے اس پر بھروسہ کرنے والے کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی طرف جھک جانے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ اس سے بڑھ کر عزت والا کوئی نہیں ‘۔

اسی طرح اس سے بڑھ کر انتقام پر قادر بھی کوئی نہیں۔ جو اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ اس کے رسولوں سے لڑتے بھڑتے ہیں یقیناً وہ انہیں سخت سزائیں دے گا۔ مشرکین کی مزید جہالت بیان ہو رہی ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے پھر بھی ایسے معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں جو کسی نفع نقصان کے مالک نہیں جنہیں کسی امر کا کوئی اختیار نہیں۔ حدیث شریف میں ہے { اللہ کو یاد کر وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد رکھ تو اسے ہر وقت اپنے پاس پائے گا۔ آسانی کے وقت رب کی نعمتوں کا شکر گذار رہ سختی کے وقت وہ تیرے کام آئے گا۔ جب کچھ مانگ تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کر تو اسی سے مدد طلب کر یقین رکھ کر اگر تمام دنیا مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ سب تجھے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور سب جمع ہو کر تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ نے مقدر میں نہ لکھا ہو تو ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔ صحیفے خشک ہو چکے قلمیں اٹھالی گئیں۔ یقین اور شکر کے ساتھ نیکیوں میں مشغول رہا کر تکلیفوں میں صبر کرنے پر بڑی نیکیاں ملتی ہیں۔ مدد صبر کے ساتھ ہے۔ غم و رنج کے ساتھ ہی خوشی اور فراخی ہے۔ ہر سختی اپنے اندر آسانی کو لیے ہوئے ہے }۔۱؎ [مسند احمد:307/1:صحیح] ‏‏‏‏ ’ تو کہدے کہ مجھے اللہ بس ہے۔ بھروسہ کرن والے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا تھا «إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [11-هود:54-56] ‏‏‏‏ ’ جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ اے ہود ہمارے خیال سے تو تمہیں ہمارے کسی معبود نے کسی خرابی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے تمام معبودان باطل سے بیزار ہوں۔ تم سب مل کر میرے ساتھ جو داؤ گھات تم سے ہو سکتے ہیں سب کر لو اور مجھے مطلق مہلت نہ دو۔ سنو میرا توکل میرے رب پر ہے جو دراصل تم سب کا بھی رب ہے۔ روئے زمین پر جتنے چلنے پھرنے والے ہیں سب کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ میرا رب صراط مستقیم پر ہے ‘۔ رسول اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جو شخص سب سے زیادہ قوی ہونا چاہے وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور جو سب سے زیادہ غنی بننا چاہے وہ اس چیز پر جو اللہ کے ہاتھ میں ہے زیادہ اعتماد رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو خود اس کے ہاتھ میں ہے اور جو سب سے زیادہ بزرگ ہونا چاہے وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا رہے }۔ ۱؎ [مسند عبد بن حمید:675:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر مشرکین کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ اچھا تم اپنے طریقے پر عمل کرتے چلے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر عامل ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں ذلیل و خوار کون ہوتا ہے؟ اور آخرت کے دائمی عذاب میں گرفتار کون ہوتا ہے؟‘ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
39۔ 1 یعنی اگر تم میری اس دعوت توحید کو قبول نہیں کرتے جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے، تو ٹھیک ہے، تمہاری مرضی، تم اپنی اس حالت پر قائم رہو جس پر تم ہو، میں اس حالت میں رہتا ہوں جس میں مجھے اللہ نے رکھا ہے۔
(آیت 40،39){ قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۳۵) {” عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ “} (وہ عذاب جو اسے رسوا کر دے گا) سے مراد دنیا کا عذاب اور {” عَذَابٌ مُّقِيْمٌ “} (ہمیشہ رہنے والا عذاب) سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔
مَنۡ یَّاۡتِیۡہِ عَذَابٌ یُّخۡزِیۡہِ وَ یَحِلُّ عَلَیۡہِ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ کس پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ کس پر رسوا کرنے واﻻ عذاب آتا ہے اور کس پر دائمی مار اور ہمیشگی کی سزا ہوتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے گا اور کس پر اترتا ہے عذاب کہ رہ پڑے گا
علامہ محمد حسین نجفی
کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کس پر دائمی عذاب اترتا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کہ کون ہے جس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر ہمیشہ رہنے والا عذاب اترتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے ٭٭

ایک قرأت میں «اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عِبَادَهُ» ہے، یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے ‘۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2349،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی بہکا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ والا ہے اس پر بھروسہ کرنے والے کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی طرف جھک جانے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ اس سے بڑھ کر عزت والا کوئی نہیں ‘۔

اسی طرح اس سے بڑھ کر انتقام پر قادر بھی کوئی نہیں۔ جو اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ اس کے رسولوں سے لڑتے بھڑتے ہیں یقیناً وہ انہیں سخت سزائیں دے گا۔ مشرکین کی مزید جہالت بیان ہو رہی ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے پھر بھی ایسے معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں جو کسی نفع نقصان کے مالک نہیں جنہیں کسی امر کا کوئی اختیار نہیں۔ حدیث شریف میں ہے { اللہ کو یاد کر وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد رکھ تو اسے ہر وقت اپنے پاس پائے گا۔ آسانی کے وقت رب کی نعمتوں کا شکر گذار رہ سختی کے وقت وہ تیرے کام آئے گا۔ جب کچھ مانگ تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کر تو اسی سے مدد طلب کر یقین رکھ کر اگر تمام دنیا مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ سب تجھے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور سب جمع ہو کر تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ نے مقدر میں نہ لکھا ہو تو ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔ صحیفے خشک ہو چکے قلمیں اٹھالی گئیں۔ یقین اور شکر کے ساتھ نیکیوں میں مشغول رہا کر تکلیفوں میں صبر کرنے پر بڑی نیکیاں ملتی ہیں۔ مدد صبر کے ساتھ ہے۔ غم و رنج کے ساتھ ہی خوشی اور فراخی ہے۔ ہر سختی اپنے اندر آسانی کو لیے ہوئے ہے }۔۱؎ [مسند احمد:307/1:صحیح] ‏‏‏‏ ’ تو کہدے کہ مجھے اللہ بس ہے۔ بھروسہ کرن والے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا تھا «إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [11-هود:54-56] ‏‏‏‏ ’ جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ اے ہود ہمارے خیال سے تو تمہیں ہمارے کسی معبود نے کسی خرابی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے تمام معبودان باطل سے بیزار ہوں۔ تم سب مل کر میرے ساتھ جو داؤ گھات تم سے ہو سکتے ہیں سب کر لو اور مجھے مطلق مہلت نہ دو۔ سنو میرا توکل میرے رب پر ہے جو دراصل تم سب کا بھی رب ہے۔ روئے زمین پر جتنے چلنے پھرنے والے ہیں سب کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ میرا رب صراط مستقیم پر ہے ‘۔ رسول اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جو شخص سب سے زیادہ قوی ہونا چاہے وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور جو سب سے زیادہ غنی بننا چاہے وہ اس چیز پر جو اللہ کے ہاتھ میں ہے زیادہ اعتماد رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو خود اس کے ہاتھ میں ہے اور جو سب سے زیادہ بزرگ ہونا چاہے وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا رہے }۔ ۱؎ [مسند عبد بن حمید:675:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر مشرکین کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ اچھا تم اپنے طریقے پر عمل کرتے چلے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر عامل ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں ذلیل و خوار کون ہوتا ہے؟ اور آخرت کے دائمی عذاب میں گرفتار کون ہوتا ہے؟‘ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
40۔ 1 جس سے واضح ہوجائے گا کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ اس سے مراد دنیا کا عذاب ہے جیسا کہ جنگ بدر میں ہوا کافروں کے ستر آدمی قتل اور ستر ہی آدمی قید ہوئے حتی کہ فتح مکہ کے بعد غلبہ وتمکن بھی مسلمانوں کو حاصل ہوگیا جس کے بعد کافروں کے لیے سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ باقی نہ رہا 4۔ 2 اس سے مراد عذاب جہنم ہے جس میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالۡحَقِّ ۚ فَمَنِ اہۡتَدٰی فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیۡہَا ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿٪۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اے نبیؐ) ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کر دی ہے اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا اپنے لیے کرے گا اور جو بھٹکے گا اُس کے بھٹکنے کا وبال اُسی پر ہوگا، تم اُن کے ذمہ دار نہیں ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ پر ہم نے حق کے ساتھ یہ کتاب لوگوں کے لیے نازل فرمائی ہے، پس جو شخص راه راست پر آجائے اس کے اپنے لیے نفع ہے اور جو گمراه ہوجائے اس کی گمراہی کا (وبال) اسی پر ہے، آپ ان کے ذمہ دار نہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے تم پر یہ کتاب لوگوں کی ہدایت کو حق کے ساتھ اتاری تو جس نے راہ پائی تو اپنے بھلے کو اور جو بہکا وہ اپنے ہی برے کو بہکا اور تم کچھ ان کے ذمہ دار نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) بیشک ہم نے یہ کتاب سب انسانوں (کی ہدایت) کیلئے حق کے ساتھ آپ(ص) پر اتاری ہے جو ہدایت حاصل کرے گا تو وہ اپنے لئے کرے گا اور جو گمراہی اختیار کرے گا تو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر پڑے گا آپ(ص) ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ ہم نے تجھ پر یہ کتاب لوگوں کے لیے حق کے ساتھ نازل کی ہے، پھر جو سیدھے راستے پر چلا سو اپنی جان کے لیے اور جو گمراہ ہوا تو اسی پر گمراہ ہوگا اور تو ہرگز ان پر کوئی ذمہ دار نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیند اور موت کے وقت ارواح کا قبض کرنا ٭٭

اللہ تعالیٰ رب العزت اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ ’ ہم نے تجھ پر اس قرآن کو سچائی اور راستی کے ساتھ تمام جن و انس کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا ہے ‘۔ اس کے فرمان کو مان کر راہ راست حاصل کرنے والے اپنا ہی نفع کریں گے اور اس کے ہوتے ہوئے بھی دوسری غلط راہوں پر چلنے والے اپنا ہی بگاڑیں گے تو اس امر کا ذمے دار نہیں کہ خواہ مخواہ ہر شخص اسے مان ہی لے۔ «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ‏‏‏‏ ’ تیرے ذمے صرف اس کا پہنچا دینا ہے۔ حساب لینے والے ہم ہیں ‘، ’ ہم ہر موجود میں جو چاہیں تصرف کرتے رہتے ہیں، وفات کبریٰ جس میں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے انسان کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وفات صغریٰ جو نیند کے وقت ہوتی ہے ہمارے ہی قبضے میں ہے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَ‌حْتُم بِالنَّهَارِ‌ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰ أَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْ‌جِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ وَهُوَ الْقَاهِرُ‌ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْ‌سِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُ‌سُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّ‌طُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [6-الأنعام:60-61] ‏‏‏‏، یعنی ’ وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو جانتا ہے پھر تمہیں دن میں اٹھا بٹھاتا ہے تاکہ مقرر کیا ہوا وقت پورا کر دیا جائے پھر تم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دے گا۔ وہی اپنے سب بندوں پر غالب ہے وہی تم پر نگہبان فرشتے بھیجتا ہے۔ تاوقتیکہ تم میں سے کسی کی موت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ تقصیر اور کمی نہیں کرتے ‘۔ پس ان دونوں آیتوں میں بھی یہی ذکر ہوا ہے پہلے چھوٹی موت کو پھر بڑی موت کو بیان فرمایا۔ یہاں پہلے بڑی وفات کو پھر چھوٹی وفات کو ذکر کیا۔ اس سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ملاء اعلیٰ میں یہ روحیں جمع ہوتی ہیں جیسے کہ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب تم میں سے کوئی بستر پر سونے کو جائے تو اپنے تہ بند کے اندرونی حصے سے اسے جھاڑ لے، نہ جانے اس پر کیا کچھ ہو پھر یہ دعا پڑھے «بِاسْمِكَ رَبِّـي وَضَعْـتُ جَنْـبي، وَبِكَ أَرْفَعُـه، فَإِن أَمْسَـكْتَ نَفْسـي فارْحَـمْها، وَإِنْ أَرْسَلْتَـها فاحْفَظْـها بِمـا تَحْفَـظُ بِه عِبـادَكَ الصّـالِحـين» یعنی اے میرے پالنے والے رب تیرے ہی پاک نام کی برکت سے میں لیٹتا ہوں اور تیری ہی رحمت میں جاگوں گا۔ اگر تو میری روح کو روک لے تو اس پر رحم فرما اور اگر تو اسے بھیج دے تو اس کی ایسی ہی حفاظت کرنا جیسی تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے}۔۱؎ [صحیح بخاری:6320] ‏‏‏‏

بعض سلف کا قول ہے کہ ”مردوں کی روحیں جب وہ مریں اور زندوں کی روحیں جب وہ سوئیں قبض کر لی جاتی ہیں اور ان میں آپس میں تعارف ہوتا ہے۔ جب تک اللہ چاہے پھر مردوں کی روحیں تو روک لی جاتی ہیں اور دوسری روحیں مقررہ وقت تک کے لیے چھوڑ دی جاتی ہیں۔ یعنی مرنے کے وقت تک۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مردوں کی روحیں اللہ تعالیٰ روک لیتا ہے اور زندوں کی روحیں واپس بھیج دیتا ہے اور اس میں کبھی غلطی نہیں ہوتی غور و فکر کے جو عادی ہیں وہ اسی ایک بات میں قدرت الٰہی کے بہت سے دلائل پا لیتے ہیں۔‏‏‏‏“
41۔ 1 نبی کو اہل مکہ کا کفر پر اصرار بڑا گراں گزرتا تھا، اس میں آپ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کا کام صرف اس کتاب کو بیان کردینا ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے، ان کی ہدایت کے آپ مکلف نہیں ہیں۔ اگر وہ ہدایت کا راستہ اپنا لیں گے تو اس میں انہیں کا فائدہ ہے اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو خود ہی نقصان اٹھائیں گے۔ وکیل کے معنی مکلف اور ذمے دار کے ہیں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہدایت کے ذمے دار نہیں ہیں اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی ایک قدرت بالغہ اور صنعت عجیبہ کا تذکرہ فرما رہا ہے جس کا مشاہدہ ہر روز انسان کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب وہ سو جاتا ہے تو اس کی روح اللہ کے حکم سے گویا نکل جاتی ہے کیونکہ اس کے احساس و ادراک کی قوت ختم ہوجاتی ہے اور جب وہ بیدار ہوتا ہے تو روح اس میں گویا دوبارہ بھیج دی جاتی ہے جس سے اس کے حواس بحال ہوجاتے ہیں البتہ جس کی زندگی کے دن پورے ہوچکے ہوتے ہیں اس کی روح واپس نہیں آتی اور وہ موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے اس کو بعض مفسرین نے وفات کبری اور وفات صغری سے بھی تعبیر کیا ہے۔
(آیت 41) {اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ …:} کفار کے کفر پر اصرار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت غم ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے۔ اب جو شخص صحیح راستے پر چلے گا اس کا فائدہ خود اسی کو ہے اور جو گمراہ ہو گا اس کا وبال اسی پر ہے، آپ پر اس کی ذمہ داری نہیں، آپ کا فرض صرف پیغام حق پہنچانا ہے، وہ آپ نے ادا کر دیا، آگے معاملہ اللہ کے سپرد کریں، جس کے ہاتھ میں مارنا، زندہ کرنا، سلانا اور جگانا سب کچھ ہے۔
اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الۡاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوۡتِہَا وَ الَّتِیۡ لَمۡ تَمُتۡ فِیۡ مَنَامِہَا ۚ فَیُمۡسِکُ الَّتِیۡ قَضٰی عَلَیۡہَا الۡمَوۡتَ وَ یُرۡسِلُ الۡاُخۡرٰۤی اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اُس کی روح نیند میں قبض کر لیتا ہے، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے اُسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں انہیں ان کے سوتے میں پھر جس پر موت کا حکم فرمادیا اسے روک رکھتا ہے اور دوسری ایک میعاد مقرر تک چھوڑ دیتا ہے بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور جن کی موت (ابھی) نہیں آئی (تو ان کی روحیں) نیند کے وقت قبض کرتا ہے پھر جن (روحوں کی) موت کا فیصلہ کرتا ہے انہیں روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ مدت تک چھوڑ دیتا ہے۔ بیشک اس میں غور و فکر کرنے والوں کیلئے (قدرتِ خدا کی) نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان کو بھی جو نہیں مریں ان کی نیند میں، پھر اسے روک لیتا ہے جس پر اس نے موت کا فیصلہ کیا اور دوسری کو ایک مقرر وقت تک بھیج دیتا ہے۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیند اور موت کے وقت ارواح کا قبض کرنا ٭٭

اللہ تعالیٰ رب العزت اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ ’ ہم نے تجھ پر اس قرآن کو سچائی اور راستی کے ساتھ تمام جن و انس کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا ہے ‘۔ اس کے فرمان کو مان کر راہ راست حاصل کرنے والے اپنا ہی نفع کریں گے اور اس کے ہوتے ہوئے بھی دوسری غلط راہوں پر چلنے والے اپنا ہی بگاڑیں گے تو اس امر کا ذمے دار نہیں کہ خواہ مخواہ ہر شخص اسے مان ہی لے۔ «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ‏‏‏‏ ’ تیرے ذمے صرف اس کا پہنچا دینا ہے۔ حساب لینے والے ہم ہیں ‘، ’ ہم ہر موجود میں جو چاہیں تصرف کرتے رہتے ہیں، وفات کبریٰ جس میں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے انسان کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وفات صغریٰ جو نیند کے وقت ہوتی ہے ہمارے ہی قبضے میں ہے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَ‌حْتُم بِالنَّهَارِ‌ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰ أَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْ‌جِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ وَهُوَ الْقَاهِرُ‌ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْ‌سِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُ‌سُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّ‌طُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [6-الأنعام:60-61] ‏‏‏‏، یعنی ’ وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو جانتا ہے پھر تمہیں دن میں اٹھا بٹھاتا ہے تاکہ مقرر کیا ہوا وقت پورا کر دیا جائے پھر تم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دے گا۔ وہی اپنے سب بندوں پر غالب ہے وہی تم پر نگہبان فرشتے بھیجتا ہے۔ تاوقتیکہ تم میں سے کسی کی موت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ تقصیر اور کمی نہیں کرتے ‘۔ پس ان دونوں آیتوں میں بھی یہی ذکر ہوا ہے پہلے چھوٹی موت کو پھر بڑی موت کو بیان فرمایا۔ یہاں پہلے بڑی وفات کو پھر چھوٹی وفات کو ذکر کیا۔ اس سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ملاء اعلیٰ میں یہ روحیں جمع ہوتی ہیں جیسے کہ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب تم میں سے کوئی بستر پر سونے کو جائے تو اپنے تہ بند کے اندرونی حصے سے اسے جھاڑ لے، نہ جانے اس پر کیا کچھ ہو پھر یہ دعا پڑھے «بِاسْمِكَ رَبِّـي وَضَعْـتُ جَنْـبي، وَبِكَ أَرْفَعُـه، فَإِن أَمْسَـكْتَ نَفْسـي فارْحَـمْها، وَإِنْ أَرْسَلْتَـها فاحْفَظْـها بِمـا تَحْفَـظُ بِه عِبـادَكَ الصّـالِحـين» یعنی اے میرے پالنے والے رب تیرے ہی پاک نام کی برکت سے میں لیٹتا ہوں اور تیری ہی رحمت میں جاگوں گا۔ اگر تو میری روح کو روک لے تو اس پر رحم فرما اور اگر تو اسے بھیج دے تو اس کی ایسی ہی حفاظت کرنا جیسی تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے}۔۱؎ [صحیح بخاری:6320] ‏‏‏‏

بعض سلف کا قول ہے کہ ”مردوں کی روحیں جب وہ مریں اور زندوں کی روحیں جب وہ سوئیں قبض کر لی جاتی ہیں اور ان میں آپس میں تعارف ہوتا ہے۔ جب تک اللہ چاہے پھر مردوں کی روحیں تو روک لی جاتی ہیں اور دوسری روحیں مقررہ وقت تک کے لیے چھوڑ دی جاتی ہیں۔ یعنی مرنے کے وقت تک۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مردوں کی روحیں اللہ تعالیٰ روک لیتا ہے اور زندوں کی روحیں واپس بھیج دیتا ہے اور اس میں کبھی غلطی نہیں ہوتی غور و فکر کے جو عادی ہیں وہ اسی ایک بات میں قدرت الٰہی کے بہت سے دلائل پا لیتے ہیں۔‏‏‏‏“
42۔ 1 یہ وفات کبریٰ ہے کہ روح قبض کرلی جاتی ہے، واپس نہیں آتی۔ 42۔ 2 یعنی جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا، تو سونے کے وقت ان کی روح بھی قبض کر کے انہیں وفات صغریٰ سے دو چار کردیا جاتا ہے۔ 42۔ 3 یہ وہی وفات کبریٰ ہے، جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس میں روح روک لی جاتی ہے۔ 42۔ 4 یعنی جب تک ان کا وقت نہیں آتا، اس وقت تک کے لئے روحیں واپس ہوتی رہتی ہیں، یہ وفات صغریٰ ہے، یہی مضمون سورة الانعام میں بیان کیا گیا ہے تاہم وہاں وفات صغری کا ذکر پہلے اور وفات کبری کا بعد میں ہے جب کہ یہاں اس کے برعکس ہے۔ 42۔ 5 یعنی روح کا قبض اور اس کا ارسال، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور قیامت والے دن وہ مردوں کو بھی یقینا زندہ فرمائے گا۔
(آیت 42) ➊ { اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا …:} اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ آدمی کی جان موت کے وقت بھی قبض کرتا ہے اور نیند کے وقت بھی۔ گویا نیند بھی ایک طرح کی موت ہے، مگر اس میں روح قبض ہونے کے باوجود جسم کے ساتھ اس کا ایسا تعلق باقی رہتا ہے جس سے نبض چلتی، کھانا ہضم ہوتا اور سانس جاری رہتا ہے۔ اس تعلق کی پوری حقیقت ہم نہیں جانتے، کیونکہ روح کے معاملات کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، فرمایا: «وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَ مَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا» ‏‏‏‏ [ بني إسرائیل: ۸۵ ] ”اور وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمھیں علم میں سے بہت تھوڑے کے سوا نہیں دیا گیا۔“ مگر اس کی ایک ادنیٰ سی مثال، جو پوری مثال نہیں ہے، بجلی کا کرنٹ ہے کہ اس کا مرکز کسی جگہ ہوتا ہے مگر ہزاروں میل دور اس کا تعلق کسی اور چیز سے بھی ہوتا ہے، جیسے ریڈیو، ٹیلی وژن، ریموٹ وغیرہ۔ اس سے عذاب قبر پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ موت کے بعد روح قبض ہونے کے باوجود اس کا جسم کے ساتھ اللہ کے حکم سے کوئی ایسا تعلق رہتا ہے کہ اس پر قبر میں عذاب و ثواب کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے، انسان اپنے ناقص علم کی وجہ سے اسے سمجھ نہیں سکتا۔ اس لیے بعض لوگوں نے عذاب قبر کا انکار ہی کر دیا، حالانکہ قرآن و حدیث میں اس کے صاف دلائل موجود ہیں اور مومن کا کام یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہر حال میں مانے، خواہ اس کی کیفیت اسے بتائی جائے یا نہ بتائی جائے۔ ➋ نیند کی حالت میں جان قبض ہونے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر موت کا لفظ استعمال فرمایا، اگرچہ یہ بڑی اور آخری موت سے پہلے موت کی ایک قسم ہے، جو زندگی میں آدمی پر بار بار آتی اور جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ هُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ وَ يَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ» ‏‏‏‏ [ الأنعام: ۶۰ ] ”اور وہی ہے جو تمھیں رات کو قبض کر لیتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم نے دن میں کمایا۔“ حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ إِذَا أَوٰی إِلٰی فِرَاشِهِ قَالَ بِاسْمِكَ أَمُوْتُ وَ أَحْيَا وَ إِذَا قَامَ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَ إِلَيْهِ النُّشُوْرُ ] [ بخاري، الدعوات، باب ما یقول إذا نام: ۶۳۱۲ ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے توکہتے: ”تیرے ہی نام کے ساتھ مرتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں۔“ اور جب بیدار ہوتے توکہتے: ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں زندگی بخشی، اس کے بعد کہ اس نے ہمیں موت دی اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔“ ➌ بعض اہلِ علم نے یہاں روح کی دو قسمیں بنائی ہیں، ایک روح حیوانی اور ایک روح نفسانی اور بعض نے نفس کو الگ اور روح کو الگ قرار دیا ہے، مگر یہ بات قرآن یا حدیث سے ثابت نہیں، بلکہ جس طرح قرآن مجید میں نیند کے وقت نفسوں کو قبض کرنے کا ذکر ہے اسی طرح بخاری، ابوداؤد، نسائی اور مسند احمد وغیرہ میں نیند کے وقت ارواح کو قبض کرنے کا ذکر ہے۔ چنانچہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ رضی اللہ عنھم کے رات کے سفر کے دوران سو جانے کا اور سورج نکلنے کے بعد بیدار ہونے کا ذکر کیا ہے، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِيْنَ شَاءَ، وَ رَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِيْنَ شَاءَ] [بخاري، مواقیت الصلاۃ، باب الأذان بعد ذھاب الوقت: ۵۹۵ ] ”اللہ تعالیٰ نے تمھاری ارواح کو قبض کر لیا جب چاہا اور انھیں تمھیں واپس کر دیا جب چاہا۔“ اس بحث سے معلوم ہوا نیند کے وقت قبض ہونے والی چیز نفس بھی کہلاتی ہے اور روح بھی۔ ➍ { وَ يُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى:} مقرر وقت سے مراد بڑی اور آخری موت ہے۔ ➎ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ:} غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں، جن میں سب سے پہلی تو اللہ کا وحدہ لا شریک لہ ہونا ہے کہ موت و حیات اور سلانے اور جگانے کا سلسلہ صرف اس کے ہاتھ میں ہے، اگر اس کا کوئی شریک ہوتا تو یہ اختیار یا اس کا کچھ حصہ اس کے پاس بھی ہوتا، اس لیے ہر طرح کی عبادت کا حق دار اللہ تعالیٰ ہے، یہی دلیل اللہ کے خلیل علیہ السلام نے پیش فرمائی تھی: «‏‏‏‏رَبِّيَ الَّذِيْ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ» [ البقرۃ: ۲۵۸ ] ”میرا رب وہ ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے۔“ دوسری نشانی یہ ہے کہ جو پروردگار ہر روز موت دیتا ہے اور مرنے کے بعد زندگی عطا کرتا ہے وہ قیامت کے دن بھی تمام مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے اور یقینا انھیں زندہ کرے گا اور وہی اکیلا سب کا فیصلہ کرے گا، کوئی اس کی مرضی کے بغیر سفارش بھی نہیں کر سکے گا، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔
اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ شُفَعَآءَ ؕ قُلۡ اَوَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یَمۡلِکُوۡنَ شَیۡئًا وَّ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اُس خدا کو چھوڑ کر اِن لوگوں نے دوسروں کو شفیع بنا رکھا ہے؟ ان سے کہو، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ اُن کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی نہ ہوں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان لوگوں نے اللہ تعالی کے سوا (اوروں) کو سفارشی مقرر کر رکھا ہے؟ آپ کہہ دیجیئے! کہ گو وه کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
کیا انہوں نے اللہ کے مقابل کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں تم فرماؤ کیا اگرچہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ عقل رکھیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو شفیع (سفارشی) بنا رکھا ہے آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ اگرچہ وہ (سفارشی) نہ کسی چیز کے مالک ہوں اور نہ ہی عقل و شعور رکھتے ہوں؟
عبدالسلام بن محمد
یا انھوں نے اللہ کے سوا کچھ سفارشی بنا لیے ہیں۔ کہہ دے کیا اگرچہ وہ کبھی نہ کسی چیز کے مالک ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی مذمت ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی مذمت بیان فرماتا ہے کہ ’ وہ بتوں اور معبودان باطلہ کو اپنا سفارشی اور شفیع سمجھتے ہیں، اس کی نہ کوئی دلیل ہے نہ حجت اور دراصل انہیں نہ کچھ اختیار ہے نہ عقل و شعور۔ نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان، وہ تو پتھر اور جمادات ہیں جو حیوانوں میں درجہا بدتر ہیں ‘۔ اس لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ’ ان سے کہہ دو، کوئی نہیں جو اللہ کے سامنے لب ہلا سکے آواز اٹھا سکے جب تک کہ اس کی مرضی نہ پالے اور اجازت حاصل نہ کر لے، ساری شفاعتوں کا مالک وہی ہے، زمین و آسمان کا بادشاہ تنہا وہی ہے۔ قیامت کے دن تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،۔ اس وقت وہ عدل کے ساتھ تم سب میں سچے فیصلے کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا ‘۔ ان کافروں کی یہ حالت ہے کہ توحید کا کلمہ سننا انہیں ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر سن کر ان کے دل تنگ ہو جاتے ہیں۔ اس کا سننا بھی انہیں پسند نہیں۔ ان کا جی اس میں نہیں لگتا۔ کفر و تکبر انہیں روک دیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ يَسْتَكْبِرُونَ» [37-الصافات:35] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان سے جب کہا جاتا تھا کہ اللہ ایک کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے اور ماننے سے جی چراتے تھے ‘۔ چونکہ ان کے دل حق کے منکر ہیں اس لیے باطل کو بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔ جہاں بتوں کا اور دوسرے اللہ کا ذکر آیا، ان کی باچھیں کھل گئیں۔
43۔ 1 یعنی شفاعت کا اختیار تو کجا، انہیں تو شفاعت کے معنی و مفہوم کا بھی پتہ نہیں، کیونکہ وہ پتھر ہیں۔ یا بیخبر ہیں
(آیت 43) ➊ { اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ:} یعنی بجائے اس کے کہ یہ لوگ موت اور نیند کی کیفیت سے کوئی سبق حاصل کریں اور ہر معاملے کا مختار صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھیں، انھوں نے کچھ دوسرے معبود بنا لیے ہیں، جنھیں وہ اللہ کے حضور سفارشی سمجھتے ہیں۔ ➋ {قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا يَمْلِكُوْنَ شَيْـًٔا وَّ لَا يَعْقِلُوْنَ:كَانُوْا “} کی وجہ سے {” لَا يَمْلِكُوْنَ شَيْـًٔا “} کی نفی میں استمرار پیدا ہو گیا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”کیا اگرچہ وہ کبھی نہ کسی چیز کے مالک ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں۔“ یعنی کیا پھر بھی یہ لوگ انھیں اپنا سفارشی سمجھ کر ان کی پوجا کرتے رہیں گے، ان کے نام کی نذر و نیاز مانتے رہیں گے اور اپنی دعاؤں میں ان کا وسیلہ ڈالتے رہیں گے؟ ظاہر ہے جن ہستیوں کو بھی یہ پکارتے ہیں وہ نہ ان کی بات سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں، کیونکہ سمجھی تو وہی بات جاتی ہے جو سننے میں آئے، بلکہ وہ فوت شدہ ہیں زندہ نہیں ہیں، خود انھیں اپنے متعلق علم نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ نحل (۲۰، ۲۱)، فاطر (۱۳، ۱۴) اور احقاف (۵، ۶)۔
قُلۡ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیۡعًا ؕ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہو، شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے پھر اُسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے۔ تمام آسمانوں اور زمین کا راج اسی کے لیے ہے تم سب اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ شفاعت تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، پھر تمہیں اسی کی طرف پلٹنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے کہ شفاعت پوری کی پوری اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے (اور) اسی کیلئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے شفاعت ساری کی ساری اللہ ہی کے اختیار میں ہے، آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، پھر تم اسی کی طرف لو ٹائے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی مذمت ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی مذمت بیان فرماتا ہے کہ ’ وہ بتوں اور معبودان باطلہ کو اپنا سفارشی اور شفیع سمجھتے ہیں، اس کی نہ کوئی دلیل ہے نہ حجت اور دراصل انہیں نہ کچھ اختیار ہے نہ عقل و شعور۔ نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان، وہ تو پتھر اور جمادات ہیں جو حیوانوں میں درجہا بدتر ہیں ‘۔ اس لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ’ ان سے کہہ دو، کوئی نہیں جو اللہ کے سامنے لب ہلا سکے آواز اٹھا سکے جب تک کہ اس کی مرضی نہ پالے اور اجازت حاصل نہ کر لے، ساری شفاعتوں کا مالک وہی ہے، زمین و آسمان کا بادشاہ تنہا وہی ہے۔ قیامت کے دن تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،۔ اس وقت وہ عدل کے ساتھ تم سب میں سچے فیصلے کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا ‘۔ ان کافروں کی یہ حالت ہے کہ توحید کا کلمہ سننا انہیں ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر سن کر ان کے دل تنگ ہو جاتے ہیں۔ اس کا سننا بھی انہیں پسند نہیں۔ ان کا جی اس میں نہیں لگتا۔ کفر و تکبر انہیں روک دیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ يَسْتَكْبِرُونَ» [37-الصافات:35] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان سے جب کہا جاتا تھا کہ اللہ ایک کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے اور ماننے سے جی چراتے تھے ‘۔ چونکہ ان کے دل حق کے منکر ہیں اس لیے باطل کو بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔ جہاں بتوں کا اور دوسرے اللہ کا ذکر آیا، ان کی باچھیں کھل گئیں۔
44۔ 1 یعنی شفاعت کی تمام اقسام کا مالک صرف اللہ ہی ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش ہی نہیں کرسکے گا، پھر صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کیوں نہ کی جائے تاکہ وہ راضی ہوجائے اور شفاعت کے لئے کوئی سہارا ڈھونڈھنے کی ضرورت ہی نہ رہے۔
(آیت 44) {قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيْعًا …:} لفظ {” لِّلّٰهِ “} پہلے آنے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا۔ یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ سفارش کی تمام صورتوں کا مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر ہی نہیں سکتا، اس لیے اسی کو پکارنا چاہیے، کیونکہ وہ اجازت دے گا تو کوئی سفارش کرے گا۔ سفارش ہی نہیں آسمان و زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، کسی اور کا دخل نہ سفارش میں ہے نہ بادشاہی میں، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی اللہ کے روبرو سفارش ہے، پر اللہ کے حکم سے، نہ کہ تمھارے کہے سے، جب موت آئے کسی کے کہے سے عزرائیل نہیں چھوڑتا۔“ (موضح) (یاد رہے! ملک الموت کا نام عزرائیل کتاب و سنت سے ثابت نہیں) شفاعت کے متعلق دیکھیے آیت الکرسی (بقرہ: ۲۵۵) کی تفسیر۔
وَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحۡدَہُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اِذَا ذُکِرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں، اور جب اُس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت کایقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا (اور کا) ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے دل سمٹ جاتے ہیں ان کے جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر ہوتا ہے جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب خدا کی توحید (اس کی وحدت و یکتائی) کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل کڑھنے لگتے ہیں اور جب اس کے دوسرے (مزعومہ شرکاء) کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ یکایک خوش ہو جاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی مذمت ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی مذمت بیان فرماتا ہے کہ ’ وہ بتوں اور معبودان باطلہ کو اپنا سفارشی اور شفیع سمجھتے ہیں، اس کی نہ کوئی دلیل ہے نہ حجت اور دراصل انہیں نہ کچھ اختیار ہے نہ عقل و شعور۔ نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان، وہ تو پتھر اور جمادات ہیں جو حیوانوں میں درجہا بدتر ہیں ‘۔ اس لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ’ ان سے کہہ دو، کوئی نہیں جو اللہ کے سامنے لب ہلا سکے آواز اٹھا سکے جب تک کہ اس کی مرضی نہ پالے اور اجازت حاصل نہ کر لے، ساری شفاعتوں کا مالک وہی ہے، زمین و آسمان کا بادشاہ تنہا وہی ہے۔ قیامت کے دن تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،۔ اس وقت وہ عدل کے ساتھ تم سب میں سچے فیصلے کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا ‘۔ ان کافروں کی یہ حالت ہے کہ توحید کا کلمہ سننا انہیں ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر سن کر ان کے دل تنگ ہو جاتے ہیں۔ اس کا سننا بھی انہیں پسند نہیں۔ ان کا جی اس میں نہیں لگتا۔ کفر و تکبر انہیں روک دیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ يَسْتَكْبِرُونَ» [37-الصافات:35] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان سے جب کہا جاتا تھا کہ اللہ ایک کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے اور ماننے سے جی چراتے تھے ‘۔ چونکہ ان کے دل حق کے منکر ہیں اس لیے باطل کو بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔ جہاں بتوں کا اور دوسرے اللہ کا ذکر آیا، ان کی باچھیں کھل گئیں۔
45۔ 1 یا کفر اور استکبار، مطلب یہ ہے کہ مشرکین سے جب یہ کہا جائے کہ معبود صرف ایک ہی ہے تو ان کے دل یہ بات ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ 45۔ 1 ہاں جب یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں بھی معبود ہیں یا وہ بھی آخر اللہ کے نیک بندے ہیں وہ بھی کچھ اختیار رکھتے ہیں وہ بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرسکتے ہیں تو پھر مشرکین بڑے خوش ہوتے ہیں منحرفین کا یہی حال آج بھی ہے جب ان سے کہا جائے کہ صرف یا اللہ مدد کہو کیونکہ اس کے سوا کوئی مدد کرنے پر قادر نہیں ہے تو سیخ پا ہوجاتے ہیں یہ جملہ ان کے لیے سخت ناگوار ہوتا ہے لیکن جب یا علی مدد یا یارسول اللہ مدد کہا جائے اسی طرح دیگر مردوں سے استمداد واستغاثہ کیا جائے مثلا یا شیخ عبد القادر شیئ اللہ وغیرہ تو پھر ان کے دل کی کلیاں کھل اٹھتی ہیں۔ فتشابھت قلوبھم۔
(آیت 45) ➊ {وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ …: ”اِشْمَأَزَّ“} نفرت سے بھر گیا، تنگ پڑ گیا۔ یہ بات دنیا بھر کے مشرکوں میں مشترک ہے، خواہ وہ نام کے مسلمان کیوں نہ ہوں کہ کوئی شخص اکیلے اللہ کا اور اس کی کبریائی اور توحید کا ذکر کرے تو ان کے دل نفرت سے بھر جاتے ہیں اور تنگ پڑ جاتے ہیں اور ان کے چہروں پر ناگواری اور نفرت کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ شخص اولیاء اور بزرگوں کو نہیں مانتا، اسی لیے صرف اللہ ہی کی بات کرتا چلا جاتا ہے، نہ کسی ولی کی قوت و تصرف کا ذکر کرتا ہے جو (ان کے خیال میں) اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا تیر راستے سے واپس ہٹا لاتے ہیں اور نہ کسی دستگیر یا گنج بخش یا مشکل کُشا کی دستگیری یا مشکل کُشائی کا بیان کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا» [ بني إسرائیل: ۴۶ ] ”اور جب تو قرآن میں اپنے رب کا، اکیلے اسی کا ذکر کرتا ہے تو وہ بدکتے ہوئے اپنی پیٹھوں پر پھر جاتے ہیں۔“ ➋ { الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ:} یعنی اکیلے اللہ کے ذکر پر ان کے دلوں کے تنگ پڑنے کی وجہ آخرت پر یقین نہ ہونا ہے، اگر آخرت پر یقین ہوتا اور وہ ایمان رکھتے کہ ہمیں اس دن اس اکیلے کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے تو وہ ایسا کبھی نہ کرتے۔ ➌ {وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ …: ” يَسْتَبْشِرُوْنَ“} باب استفعال میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یعنی بہت خوش ہو جاتے ہیں، جیسا کہ {” اشْمَاَزَّتْ “} میں حروف کی زیادتی ان کی نفرت اور دل کی تنگی کے زیادہ ہونے کا اظہار کرتی ہے۔ {”اِشْمِئْزَازٌ“} اور {”اِسْتِبْشَارٌ“} کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اکیلے اللہ کے ذکر پر دل کی تنگی میں اور من دون اللہ کے ذکر پر اس کی خوشی میں وہ انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔ {” اِذَا “} مفاجات کے لیے ہے ”اچانک“ یعنی جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اس کے بغیر اس کے سوا اور ہستیوں کا ذکر کیا جائے اور ان کی جھوٹی سچی کرامات بیان ہونا شروع ہوں تو اچانک ان کے چہروں پر خوشی پھیل جاتی ہے۔ مفسر آلوسی نے روح المعانی میں اپنا تجربہ لکھا ہے کہ ایک دن میں نے ایک آدمی سے کہا جو اپنی کسی مشکل میں کسی فوت شدہ سے استغاثہ کر رہا تھا اور اسے پکار کر کہہ رہا تھا کہ اے فلاں! میری مدد کر۔ میں نے اس سے کہا، تم ”یا اللہ“ کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «‏‏‏‏وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۸۶ ] ”اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔“ تو وہ شخص سخت غصے میں آ گیا۔ بعد میں لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ کہتا تھا، یہ شخص اولیاء کا منکر ہے۔ کچھ لوگوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اس نے کہا، اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت ولی جلدی سن لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں گمراہی سے محفوظ رکھے۔
قُلِ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ عٰلِمَ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ اَنۡتَ تَحۡکُمُ بَیۡنَ عِبَادِکَ فِیۡ مَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہو، خدایا! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، حاضر و غائب کے جاننے والے، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے! کہ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے کھلے کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان امور کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وه الجھ رہے تھے
احمد رضا خان بریلوی
تم عرض کرو اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے نہاں اور عیاں کے جاننے والے تو اپنے بندوں میں فیصلہ فرمائے گا جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! اے اللہ! اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے (اور) اے غائب و حاضر کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ان چیزوں کے بارے میں جن میں وہ باہم اختلاف کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
تو کہہ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! ہر چھپی اور کھلی کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صبح و شام کے بعض و ظائف ٭٭

مشرکین کو جو نفرت توحید سے ہے اور جو محبت شرک سے ہے اسے بیان فرما کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» فرماتا ہے کہ ’ تو صرف اللہ تعالیٰ واحد کو ہی پکار جو آسمان و زمین کا خالق ہے اور اس وقت اس نے انہیں پیدا کیا ہے جبکہ نہ یہ کچھ تھے نہ ان کا کوئی نمونہ تھا۔ وہ ظاہر و باطن چھپے کھلے کا عالم ہے۔ یہ لوگ جو جو اختلافات اپنے آپس میں کرتے تھے سب کا فیصلہ اس دن ہو گا جب یہ قبروں سے نکلیں اور میدان قیامت میں آئیں گے ‘۔

{ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس دعا سے «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» “ یعنی اللہ اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اسے حاضر و غائب کئے جانے والے تو ہی اپنے بندوں کے اختلاف کا فیصلہ کرنے والا ہے جس جس چیز میں اختلاف کیا گیا ہے تو مجھے ان سب میں اپنے فضل سے حق راہ دکھا تو جسے چاہے سیدھی راہ کی رہنمائی کرتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:770] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو بندہ اس دعا کو پڑھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فرشتوں سے فرمائے گا کہ میرے اس بندے نے مجھ سے عہد لیا ہے اس عہد کو پورا کرو۔ چنانچہ اسے جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔ وہ دعا یہ ہے، «‏‏‏‏اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنْ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِي مِنْ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» ‏‏‏‏ } یعنی { اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اے غائب و حاضر کے جاننے والے میں اس دنیا میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میری گواہی ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور میری یہ بھی شہادت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ تو اگر مجھے میری ہی طرف سونپ دے گا تو میں برائی سے قریب اور بھلائی سے دور پڑ جاؤں گا۔ اللہ مجھے صرف تیری رحمت ہی کا سہارا اور بھروسہ ہے پس تو بھی مجھ سے عہد کر جسے تو قیامت کے دن پورا کرے یقیناً تو عہد شکن نہیں }۔ اس حدیث کے راوی سہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن عبدالرحمٰن سے جب کہا کہ عون اس طرح یہ حدیث بیان کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ ہماری تو پردہ نشین بچیوں کو بھی یہ حدیث یاد ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:412/1:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک کاغذ نکالا اور فرمایا کہ { یہ دعا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونہ پیدا کرنے والے چھپی کھلی کے جاننے والے تو ہرچیز کا رب ہے اور ہرچیز کا معبود ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں اور فرشتے بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔ میں شیطان سے اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں اپنی جان پر کوئی گناہ کروں یا کسی اور مسلمان کی طرف کسی گناہ کو لے جاؤں۔ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اس دعا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو سکھایا تھا اسے سونے کے وقت پڑھا کرتے تھے }۔ ۱؎ [مسند احمد:171/2:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ابو راشد حبرائی رحمہ اللہ نے کوئی حدیث سننے کی خواہش سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک کتاب نکال کر ان کے سامنے رکھ دی اور فرمایا یہ ہے جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ہے میں نے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں صبح و شام کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ پڑھو، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَہہ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوء‬ أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» } }؎ [سنن ترمذي:3529،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اس دعا کے پڑھنے کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح شام اور سوتے وقت حکم دیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3592،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ دوسری آیت میں ظالموں سے مراد مشرکین ہیں۔ فرماتا ہے کہ ’ اگر ان کے پاس روئے زمین کے خزانے اتنے ہی اور ہوں تو بھی یہ قیامت کے بدترین عذاب کے بدلے انہیں اپنے فدیئے میں اور اپنی جان کے بدلے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن اس دن کوئی فدیہ اور بدلہ قبول نہ کیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں ‘۔ جیسے کہ اور آیت میں بیان فرما دیا ہے، ’ آج اللہ کے وہ عذاب ان کے سامنے آئیں گے کہ کبھی انہیں ان کا خیال بھی نہ گذرا تھا جو جو حرام کاریاں بدکاریاں گناہ اور برائیاں انہوں نے دنیا میں کی تھیں اب سب کی سب اپنے آگے موجود پائیں گے دنیا میں جس سزا کا ذکر سن کر مذاق کرتے تھے آج وہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی ‘۔
46۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کی نماز کے آغاز میں یہ پڑھا کرتے تھے اللھم رب چبریل ومیکائیل واسرفیل فاطر السموات والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم۔
(آیت 46) ➊ { قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} کفار کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مشقتیں اٹھائیں اور ان کی ضد، عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ کو جو تکلیفیں پہنچیں اور توحید کے واضح دلائل کے سامنے لاجواب ہو کر بھی وہ جس طرح شرک پر ڈٹے رہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے حکم دیا گیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور سارا معاملہ اس کے سپرد کریں، کیونکہ وہی آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے، ہر چیز پر قادر ہے اور مخلوق کے تمام حاضر و غائب احوال کو جاننے والا ہے۔ اس لیے ان اسماء و صفات کے وسیلے سے اس سے دعا کریں کہ جب تیری توحید جیسی روشن اور واضح بات میں بھی جھگڑے ہونے لگے اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے اور حاضر و غائب کو جاننے والے کا وقار بھی دلوں میں نہ رہا تو اب تجھی سے فریاد ہے، تو ہی ان جھگڑوں کا فیصلہ فرمائے گا۔ ➋ ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات قیام کرتے تو اپنی نماز کا افتتاح کس چیز سے کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات اٹھتے تو اپنی نماز کا افتتاح اس دعا سے کرتے: [ اَللّٰهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيْلَ وَ مِيْكَائِيْلَ وَ إِسْرَافِيْلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ اهْدِنِيْ لِمَا اخْتُلِفَ فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِيْ مَنْ تَشَاءُ إِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ] [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم و دعائہ باللیل: ۷۷۰ ] ”اے اللہ! اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے! اے حاضر و غائب کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے، مجھے حق کی ان تمام باتوں میں اپنے اذن سے سیدھی راہ پر لگا جن میں اختلاف کیا گیا ہے، کیونکہ تو ہی سیدھے راستے پر لگاتا ہے جسے چاہتا ہے۔“ ابوراشد حُبرانی کہتے ہیں، میں نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے کہا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے اس میں سے کچھ ہمیں بیان کریں تو انھوں نے میرے سامنے ایک کتاب نکال کر کہا، یہ ہے وہ کتاب جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ہے۔ میں نے دیکھا تو اس میں لکھا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ مجھے سکھائیں کہ میں صبح اور شام کو کیا پڑھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! یہ پڑھو: [ اَللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَ الْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَ مَلِيْكَهُ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ وَ مِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَ شِرْكِهِ وَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِيْ سُوْءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلٰی مُسْلِمٍ ] [ ترمذي، الدعوات، باب دعاء علمہ صلی اللہ علیہ وسلم أبا بکر…: ۳۵۲۹، و قال الألباني صحیح ] ”اے اللہ! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، غائب و حاضر کو جاننے والے! تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اے ہر چیز کے رب اور اس کے بادشاہ! میں تجھ سے اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے نفس پر کسی برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلم کا برا کروں۔“
وَ لَوۡ اَنَّ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ لَافۡتَدَوۡا بِہٖ مِنۡ سُوۡٓءِ الۡعَذَابِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مَا لَمۡ یَکُوۡنُوۡا یَحۡتَسِبُوۡنَ ﴿۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر اِن ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو، اور اتنی ہی اور بھی، تو یہ روز قیامت کے برے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر ﻇلم کرنے والوں کے پاس وه سب کچھ ہو جو روئے زمین پر ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو، تو بھی بدترین سزا کے بدلے میں قیامت کے دن یہ سب کچھ دے دیں، اور ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وه ﻇاہر ہوگا جس کا گمان بھی انہیں نہ تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ظالموں کے لیے ہوتا جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کے ساتھ اس جیسا تو یہ سب چھڑائی (چھڑانے) میں دیتے روز ِ قیامت کے بڑے عذاب سے اور انہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے (کفر و شرک کرکے) ظلم کیا اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنی اور بھی تو وہ یہ سب کچھ قیامت کے دن برے عذاب سے بچنے کیلئے فدیہ دے دیں اور (اس دن) اللہ کی طرف سے وہ کچھ ظاہر ہوگا جس کا انہیں گمان بھی نہیں تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہو تو قیامت کے دن برے عذاب سے (بچنے کے لیے) وہ ضرور اسے فدیے میں دے دیں، اور ان کے لیے اللہ کی طرف سے وہ کچھ سامنے آجائے گا جس کا وہ گمان نہیں کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صبح و شام کے بعض و ظائف ٭٭

مشرکین کو جو نفرت توحید سے ہے اور جو محبت شرک سے ہے اسے بیان فرما کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» فرماتا ہے کہ ’ تو صرف اللہ تعالیٰ واحد کو ہی پکار جو آسمان و زمین کا خالق ہے اور اس وقت اس نے انہیں پیدا کیا ہے جبکہ نہ یہ کچھ تھے نہ ان کا کوئی نمونہ تھا۔ وہ ظاہر و باطن چھپے کھلے کا عالم ہے۔ یہ لوگ جو جو اختلافات اپنے آپس میں کرتے تھے سب کا فیصلہ اس دن ہو گا جب یہ قبروں سے نکلیں اور میدان قیامت میں آئیں گے ‘۔

{ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس دعا سے «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» “ یعنی اللہ اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اسے حاضر و غائب کئے جانے والے تو ہی اپنے بندوں کے اختلاف کا فیصلہ کرنے والا ہے جس جس چیز میں اختلاف کیا گیا ہے تو مجھے ان سب میں اپنے فضل سے حق راہ دکھا تو جسے چاہے سیدھی راہ کی رہنمائی کرتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:770] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو بندہ اس دعا کو پڑھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فرشتوں سے فرمائے گا کہ میرے اس بندے نے مجھ سے عہد لیا ہے اس عہد کو پورا کرو۔ چنانچہ اسے جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔ وہ دعا یہ ہے، «‏‏‏‏اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنْ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِي مِنْ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» ‏‏‏‏ } یعنی { اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اے غائب و حاضر کے جاننے والے میں اس دنیا میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میری گواہی ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور میری یہ بھی شہادت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ تو اگر مجھے میری ہی طرف سونپ دے گا تو میں برائی سے قریب اور بھلائی سے دور پڑ جاؤں گا۔ اللہ مجھے صرف تیری رحمت ہی کا سہارا اور بھروسہ ہے پس تو بھی مجھ سے عہد کر جسے تو قیامت کے دن پورا کرے یقیناً تو عہد شکن نہیں }۔ اس حدیث کے راوی سہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن عبدالرحمٰن سے جب کہا کہ عون اس طرح یہ حدیث بیان کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ ہماری تو پردہ نشین بچیوں کو بھی یہ حدیث یاد ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:412/1:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک کاغذ نکالا اور فرمایا کہ { یہ دعا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونہ پیدا کرنے والے چھپی کھلی کے جاننے والے تو ہرچیز کا رب ہے اور ہرچیز کا معبود ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں اور فرشتے بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔ میں شیطان سے اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں اپنی جان پر کوئی گناہ کروں یا کسی اور مسلمان کی طرف کسی گناہ کو لے جاؤں۔ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اس دعا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو سکھایا تھا اسے سونے کے وقت پڑھا کرتے تھے }۔ ۱؎ [مسند احمد:171/2:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ابو راشد حبرائی رحمہ اللہ نے کوئی حدیث سننے کی خواہش سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک کتاب نکال کر ان کے سامنے رکھ دی اور فرمایا یہ ہے جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ہے میں نے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں صبح و شام کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ پڑھو، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَہہ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوء‬ أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» } }؎ [سنن ترمذي:3529،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اس دعا کے پڑھنے کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح شام اور سوتے وقت حکم دیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3592،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ دوسری آیت میں ظالموں سے مراد مشرکین ہیں۔ فرماتا ہے کہ ’ اگر ان کے پاس روئے زمین کے خزانے اتنے ہی اور ہوں تو بھی یہ قیامت کے بدترین عذاب کے بدلے انہیں اپنے فدیئے میں اور اپنی جان کے بدلے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن اس دن کوئی فدیہ اور بدلہ قبول نہ کیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں ‘۔ جیسے کہ اور آیت میں بیان فرما دیا ہے، ’ آج اللہ کے وہ عذاب ان کے سامنے آئیں گے کہ کبھی انہیں ان کا خیال بھی نہ گذرا تھا جو جو حرام کاریاں بدکاریاں گناہ اور برائیاں انہوں نے دنیا میں کی تھیں اب سب کی سب اپنے آگے موجود پائیں گے دنیا میں جس سزا کا ذکر سن کر مذاق کرتے تھے آج وہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی ‘۔
47۔ 1 لیکن پھر بھی وہ قبول نہیں ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر وضاحت ہے (فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) 3۔ ال عمران:85) ' وہ زمین بھر سونا بھی بدلے میں دے دیں، تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ ولا یوخذ منہا عدل وہاں معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ 47۔ 1 یعنی عذاب کی شدت اور اس کی ہولناکیاں اور اس کی انواع واقسام ایسی ہوں گی کہ کبھی ان کے گمان میں نہ آئی ہوں گی۔
(آیت 47) ➊ {وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا …:} ظلم کرنے والوں سے مراد مشرک ہیں، انھی کا ذکر مسلسل آ رہا ہے۔ مشرکین کے اقوال و احوال کا ذکر اور ان کا رد کرنے کے بعد ان کا انجام بیان فرمایا کہ آخرت کے دن اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہو تو قیامت کے دن کے برے عذاب سے بچنے کے لیے اسے ضرور ہی فدیے میں دے دیں گے اور ان کی خواہش ہو گی کہ یہ سب کچھ دے کر ان کی جان عذاب سے بچ جائے۔ (دیکھیے یونس: ۵۴) مگر ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۸ اور ۱۲۳)، آل عمران (۹۱)، مائدہ (۳۶، ۳۷)، انعام (۷۰)، رعد (۱۸) اور سورۂ حدید (۱۵)۔ ➋ { وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ …:} یعنی جس طرح جنت والوں کو وہ نعمتیں ملیں گی جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی آدمی کے دل میں ان کا خیال آیا (دیکھیے سجدہ: ۱۷) ایسے ہی کفار کے سامنے اللہ کی طرف سے ایسے ایسے عذاب آئیں گے جن کا وہ گمان بھی نہ کرتے تھے۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ وہ قیامت کے دن اپنے متعلق جو جھوٹی امیدیں رکھے ہوئے تھے اور اپنے حاجت رواؤں اور مشکل کُشاؤں کی دستگیری کے متعلق ان کے جو گمان تھے اس دن ان کے سامنے اللہ کی طرف سے اس کے برعکس وہ کچھ پیش آئے گا جس کا وہ گمان بھی نہیں کرتے تھے اور جن اعمال کو وہ نیکیاں سمجھتے تھے وہ برائیوں کی صورت میں ان کے سامنے ظاہر ہوں گے۔ سفیان ثوری سے مروی ہے کہ انھوں نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا: {”وَيْلٌ لِأَهْلِ الرِّيَاءِ، وَيْلٌ لِأَهْلِ الرِّيَاءِ“} ”دکھاوے والوں کے لیے ہلاکت ہے، دکھاوے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔“ (الوسیط) کیونکہ قیامت کے دن انھیں امید کے برعکس معاملہ پیش آئے گا، جیسا کہ ریا کار عالم، شہید اور سخی والی حدیث میں مذکور ہے۔
وَ بَدَا لَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہاں اپنی کمائی کے سارے برے نتائج ان پر کھل جائیں گے اور وہی چیز ان پر مسلط ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس کی برائیاں ان پر کھل پڑیں گی اور جس کا وه مذاق کرتے تھے اور وه انہیں آ گھیرے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور ان پر اپنی کمائی ہوئی برائیاں کھل گئیں اور ان پر آپڑا وہ جس کی ہنسی بناتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہاں ان پر ان کی کمائی کی برائیاں ظاہر ہو جائیں گی اور انہیں وہ (عذاب) گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے لیے ان (اعمال) کی برائیاں ظاہر ہو جائیں گی جو انھوں نے کمائے اور انھیں وہ چیز گھیر لے گی جسے وہ مذاق کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صبح و شام کے بعض و ظائف ٭٭

مشرکین کو جو نفرت توحید سے ہے اور جو محبت شرک سے ہے اسے بیان فرما کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» فرماتا ہے کہ ’ تو صرف اللہ تعالیٰ واحد کو ہی پکار جو آسمان و زمین کا خالق ہے اور اس وقت اس نے انہیں پیدا کیا ہے جبکہ نہ یہ کچھ تھے نہ ان کا کوئی نمونہ تھا۔ وہ ظاہر و باطن چھپے کھلے کا عالم ہے۔ یہ لوگ جو جو اختلافات اپنے آپس میں کرتے تھے سب کا فیصلہ اس دن ہو گا جب یہ قبروں سے نکلیں اور میدان قیامت میں آئیں گے ‘۔

{ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس دعا سے «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» “ یعنی اللہ اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اسے حاضر و غائب کئے جانے والے تو ہی اپنے بندوں کے اختلاف کا فیصلہ کرنے والا ہے جس جس چیز میں اختلاف کیا گیا ہے تو مجھے ان سب میں اپنے فضل سے حق راہ دکھا تو جسے چاہے سیدھی راہ کی رہنمائی کرتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:770] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو بندہ اس دعا کو پڑھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فرشتوں سے فرمائے گا کہ میرے اس بندے نے مجھ سے عہد لیا ہے اس عہد کو پورا کرو۔ چنانچہ اسے جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔ وہ دعا یہ ہے، «‏‏‏‏اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنْ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِي مِنْ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» ‏‏‏‏ } یعنی { اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اے غائب و حاضر کے جاننے والے میں اس دنیا میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میری گواہی ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور میری یہ بھی شہادت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ تو اگر مجھے میری ہی طرف سونپ دے گا تو میں برائی سے قریب اور بھلائی سے دور پڑ جاؤں گا۔ اللہ مجھے صرف تیری رحمت ہی کا سہارا اور بھروسہ ہے پس تو بھی مجھ سے عہد کر جسے تو قیامت کے دن پورا کرے یقیناً تو عہد شکن نہیں }۔ اس حدیث کے راوی سہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن عبدالرحمٰن سے جب کہا کہ عون اس طرح یہ حدیث بیان کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ ہماری تو پردہ نشین بچیوں کو بھی یہ حدیث یاد ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:412/1:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک کاغذ نکالا اور فرمایا کہ { یہ دعا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونہ پیدا کرنے والے چھپی کھلی کے جاننے والے تو ہرچیز کا رب ہے اور ہرچیز کا معبود ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں اور فرشتے بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔ میں شیطان سے اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں اپنی جان پر کوئی گناہ کروں یا کسی اور مسلمان کی طرف کسی گناہ کو لے جاؤں۔ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اس دعا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو سکھایا تھا اسے سونے کے وقت پڑھا کرتے تھے }۔ ۱؎ [مسند احمد:171/2:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ابو راشد حبرائی رحمہ اللہ نے کوئی حدیث سننے کی خواہش سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک کتاب نکال کر ان کے سامنے رکھ دی اور فرمایا یہ ہے جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ہے میں نے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں صبح و شام کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ پڑھو، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَہہ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوء‬ أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» } }؎ [سنن ترمذي:3529،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اس دعا کے پڑھنے کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح شام اور سوتے وقت حکم دیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3592،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ دوسری آیت میں ظالموں سے مراد مشرکین ہیں۔ فرماتا ہے کہ ’ اگر ان کے پاس روئے زمین کے خزانے اتنے ہی اور ہوں تو بھی یہ قیامت کے بدترین عذاب کے بدلے انہیں اپنے فدیئے میں اور اپنی جان کے بدلے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن اس دن کوئی فدیہ اور بدلہ قبول نہ کیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں ‘۔ جیسے کہ اور آیت میں بیان فرما دیا ہے، ’ آج اللہ کے وہ عذاب ان کے سامنے آئیں گے کہ کبھی انہیں ان کا خیال بھی نہ گذرا تھا جو جو حرام کاریاں بدکاریاں گناہ اور برائیاں انہوں نے دنیا میں کی تھیں اب سب کی سب اپنے آگے موجود پائیں گے دنیا میں جس سزا کا ذکر سن کر مذاق کرتے تھے آج وہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی ‘۔
48۔ 1 یعنی دنیا میں جن محارم و ما ثم کا وہ ارتکاب کرتے رہے تھے، اس کی سزا ان کے سامنے آجائے گی۔ 48۔ 2 وہ عذاب انہیں گھیر لے گا جسے وہ دنیا میں ناممکن سمجھتے تھے، اس لئے کہ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
(آیت 48) {وَ بَدَا لَهُمْ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا …:} اور ان کے سامنے ان کے اعمال کی برائیاں یعنی ان کے برے نتائج ظاہر ہو جائیں گے اور وہی عذاب جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے انھیں چاروں طرف سے گھیر لے گا۔ [ أَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ ]
فَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ۫ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰہُ نِعۡمَۃً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلۡمٍ ؕ بَلۡ ہِیَ فِتۡنَۃٌ وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہی انسان جب ذرا سی مصیبت اِسے چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے! نہیں، بلکہ یہ آزمائش ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیں تو کہنے لگتا ہے کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں، بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں بلاتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں کہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے بلکہ وہ تو آزمائش ہے مگر ان میں بہتوں کو علم نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے اور پھر جب ہم اسے اپنی جانب سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو مجھے اپنے علم و ہنر کی بنا پر دی گئی ہے بلکہ وہ ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو کہتا ہے یہ مجھے ایک علم کی بنیاد ہی پر دی گئی ہے۔ بلکہ وہ ایک آزمائش ہے اور لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا ناشکرا پن ٭٭

اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ ’ مشکل کے وقت تو وہ آہ و زاری شروع کر دیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہو جاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہو گئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا ‘۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ کے نزدیک اس کا مستحق تھا ہی۔ میری اپنی عقلمندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ بات یوں نہیں بلکہ دراصل یہ ہماری طرف کی آزمائش ہے گو ہمیں ازل سے علم حاصل ہے لیکن تاہم ہم اسے ظہور میں لانا چاہتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس نعمت کا یہ شکر ادا کرتا ہے یا ناشکری؟ لیکن یہ لوگ بےعلم ہیں۔ دعوے کرتے ہیں منہ سے بات نکال دیتے ہیں لیکن اصلیت سے بے خبر ہیں، یہی دعویٰ اور یہی قول ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی کیا اور کہا، لیکن ان کا قول صحیح ثابت نہ ہوا اور ان نعمتوں نے، کسی اور چیز نے اور ان کے اعمال نے انہیں کوئی نفع نہ دیا، جس طرح ان پر وبال ٹوٹ پڑا اسی طرح ان پر بھی ایک دن ان کی بداعمالیوں کا وبال آ پڑے گا اور یہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔ نہ تھکا اور ہرا سکتے ہیں ‘۔ جیسے کہ قارون سے اس کی قوم نے کہا تھا «إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ» [28-القص:76-78] ‏‏‏‏ ’ کہ اس قدر اکڑ نہیں اللہ تعالیٰ خود پسندوں کو محبوب نہیں رکھتا۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو خرچ کر کے آخرت کی تیاری کر اور وہاں کا سامان مہیا کر۔ اس دنیا میں بھی فائدہ اٹھاتا رہ اور جیسے اللہ نے تیرے ساتھ سلوک کیا ہے، تو بھی لوگوں کے ساتھ احسان کرتا رہ۔ زمین میں فساد کرنے والا مت بن اللہ تعالیٰ مفسدوں سے محبت نہیں کرتا ‘۔ اس پر قارون نے جواب دیا کہ ان تمام نعمتوں اور جاہ و دولت کو میں نے اپنی دانائی اور علم و ہنر سے حاصل کیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ کیا اسے یہ معلوم نہیں کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور اس سے زیادہ جمع جتھا والوں کو میں نے ہلاک و برباد کر دیا ہے، مجرم اپنے گناہوں کے بارے میں پوچھے نہ جائیں گے ‘۔

الغرض مال و اولاد پر پھول کر اللہ کو بھول جانا یہ شیوہ کفر ہے۔ کفار کا قول تھا کہ ہم مال و اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہو گا، ’ کیا انہیں اب تک یہ معلوم نہیں کہ رزق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے جس کیلئے چاہے کشادگی کرے اور جس پر چاہے تنگی کرے۔ اس میں ایمان والوں کیلئے طرح طرح کی عبرتیں اور دلیلیں ہیں ‘۔
49۔ 1 یہ انسان کا بہ اعتبار جنس ذکر ہے یعنی انسانوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ جب ان کو بیماری فقر و فاقہ یا کوئی اور تکلیف پہنچتی ہے تو اس سے نجات پانے کے لیے اللہ سے دعائیں کرتا اور اس کے سامنے گڑگڑاتا ہے۔ 49۔ 2 یعنی نعمت ملتے ہی سرکشی اور طغیان کا راستہ اختیار کرلیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں اللہ کا کیا احسان؟ یہ تو میری اپنی دانائی کا نتیجہ ہے۔ یا جو علم و ہنر میرے پاس ہے، اس کی بدولت یہ نعمتیں حاصل ہوئی ہیں یا مجھے معلوم تھا کہ دنیا میں یہ چیزیں مجھے ملیں گی کیونکہ اللہ کے ہاں میرا بہت مقام ہے۔ 49۔ 3 یعنی بات وہ نہیں ہے جو تو سمجھ رہا یا بیان کر رہا ہے بلکہ یہ نعمتیں تیرے لیے امتحان اور آزمائش ہیں کہ تو شکر کرتا ہے یا کفر؟ 49۔ 4 اس بات سے کہ یہ اللہ کی طرف سے استدراج اور امتحان ہے۔
(آیت 49) ➊ { فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ …: ”خَوَّلَ يُخَوِّلُ“} کسی معاوضے کے بغیر کوئی عطیہ دینا۔ اس آیت میں مشرک انسان کی ایک اور قبیح صفت بیان کی گئی ہے کہ جب اسے کوئی بڑی تکلیف پہنچتی ہے، مثلاً فقر یا بیماری یا سیلاب یا طوفان وغیرہ، تو اپنے جھوٹے معبودوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کو پکارتا ہے، ({” ثُمَّ “} تراخی کے لیے ہے، جس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ نعمت کچھ مدت کے بعد ملتی ہے) پھر ایک مدت تک اس تکلیف میں رہنے اور بار بار لیٹے، بیٹھے اور کھڑے ہر حال میں اس سے فریاد کرنے اور اسے پکارنے کے بعد جب وہ اسے اس تکلیف سے نجات کی نعمت، یا کوئی بھی نعمت محض اپنے خاص فضل سے عطا کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو سرے سے بھول جاتا ہے اور کہتا ہے، یہ تو مجھے صرف ایک علم کی بنا پر دی گئی ہے، مثلاً فقر کے بعد مال ملتا ہے تو کہتا ہے، یہ میرے دولت کمانے کے ہنر کی وجہ سے ملا ہے، اگر بیماری کے بعد شفا مل جائے تو کہتا ہے، یہ میری یا فلاں صاحب کی طب میں مہارت کی وجہ سے ملی ہے۔ ➋ { اِنَّمَاۤ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ:} ”مجھے یہ (نعمت) ایک علم کی بنیاد پر دی گئی ہے“ یعنی اپنے رب کے سارے احسان بھلا کر اس قدر بیگانہ ہو جاتا ہے کہ نعمت دینے والے کا نام تک لینا گوارا نہیں کرتا، بلکہ کہتا ہے ”مجھے یہ نعمت دی گئی ہے“ یہ احسان فراموشی اور نمک حرامی کی انتہا ہے، کوئی اس سے پوچھے، کیا تیرے باپ نے تجھے یہ نعمت دی ہے؟ ➌ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے پہلے اسی سورت کی آیت (۸) میں یہی الفاظ ”واؤ“ کے ساتھ آئے ہیں: «‏‏‏‏فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ» ‏‏‏‏ یہاں ”فاء“ کے ساتھ {” فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ “} لانے میں کیا حکمت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے (واللہ اعلم) کہ ”فاء“ کے ذریعے سے اس جملے کا تعلق {” وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ “} کے ساتھ ہے، درمیان کے جملے معترضہ ہیں، یعنی ان جاہلوں کا تضاد دیکھو کہ کبھی ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ اللہ اکیلے کے ذکر پر ان کے دل نفرت سے بھر جاتے اور سخت تنگ پڑ جاتے ہیں اور اس کے غیر کے ذکر پر ان کے دل کی کلی کھل اٹھتی ہے اور وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں (اور دوسرے وقت ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ) پھر جب انھیں کوئی بڑی تکلیف پہنچتی ہے {” فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا “} تو اسی اللہ کو پکارتے ہیں جس کے ذکر پر ان کے دل تنگ پڑ جاتے تھے اور ان غیروں کا نام بھی نہیں لیتے جن کے ذکر پر وہ بہت خوش ہو جاتے تھے۔ ➍ { بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ:} یعنی وہ نعمت اسے اس کے علم کی بنا پر نہیں بلکہ آزمائش کے لیے دی گئی ہے کہ وہ عطا کرنے والے کا شکر ادا کرتا ہے یا اس کی نعمت کی ناشکری اور کفر و شرک پر اصرار کرتا ہے۔ ➎ { وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی اکثر لوگ نہیں جانتے کہ مال و جاہ، صحت و قوت بلکہ ہر ایک نعمت محض اللہ کے فضل سے عطا ہوتی ہے، اس میں کسی کی عقل یا علم کا کوئی دخل نہیں، کیونکہ بہت سے علم و عقل والے کنگال، بیمار اور کمزور ہوتے ہیں، انھیں کہیں پناہ نہیں ملتی اور بہت سے علم و عقل سے عاری مال و دولت، صحت و قوت اور بے شمار نعمتوں سے مالا مال ہوتے ہیں۔ ”اکثر لوگ“ اس لیے فرمایا کہ تھوڑے لوگ اس حقیقت کو جانتے ہیں، پھر ان میں سے بعض تو ایمان لے آتے ہیں اور ہر حال میں اپنے رب پر صابر و شاکر رہتے ہیں اور بعض جاننے کے باوجود ضد اور عناد سے ناشکری اور کفر اختیار کرتے ہیں۔ یہ بھی {” لَا يَعْلَمُوْنَ “} ہی میں داخل ہیں، کیونکہ جو علم عمل سے آراستہ نہ ہو وہ لاعلمی ہی ہے۔ {” لَا يَعْلَمُوْنَ “} میں یہ بھی داخل ہے کہ اکثر لوگ نہیں جانتے کہ نعمتوں کی یہ فراوانی اگر شکر اور ایمان کا باعث نہ بنے تو اللہ کے راضی ہونے یا ان کے نعمتوں کے حق دار ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ استدراج ہے اور ان کے ذریعے سے ان پر حجت تمام ہو رہی ہے۔
قَدۡ قَالَہَا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہی بات ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی کہہ چکے ہیں، مگر جو کچھ وہ کماتے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آیا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سے اگلے بھی یہی بات کہہ چکے ہیں پس ان کی کارروائی ان کے کچھ کام نہ آئی
احمد رضا خان بریلوی
ان سے اگلے بھی ایسے ہی کہہ چکے تو ان کا کمایا ان کے کچھ کام نہ آیا،
علامہ محمد حسین نجفی
ایسی بات ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پہلے تھے تو (ہماری گرفت کے وقت) ان کی کوئی کمائی ان کے کام نہ آئی۔
عبدالسلام بن محمد
بلا شبہ یہی بات ان لوگوں نے کہی جو ان سے پہلے تھے تو ان کے کام نہ آیا جو وہ کمایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا ناشکرا پن ٭٭

اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ ’ مشکل کے وقت تو وہ آہ و زاری شروع کر دیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہو جاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہو گئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا ‘۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ کے نزدیک اس کا مستحق تھا ہی۔ میری اپنی عقلمندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ بات یوں نہیں بلکہ دراصل یہ ہماری طرف کی آزمائش ہے گو ہمیں ازل سے علم حاصل ہے لیکن تاہم ہم اسے ظہور میں لانا چاہتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس نعمت کا یہ شکر ادا کرتا ہے یا ناشکری؟ لیکن یہ لوگ بےعلم ہیں۔ دعوے کرتے ہیں منہ سے بات نکال دیتے ہیں لیکن اصلیت سے بے خبر ہیں، یہی دعویٰ اور یہی قول ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی کیا اور کہا، لیکن ان کا قول صحیح ثابت نہ ہوا اور ان نعمتوں نے، کسی اور چیز نے اور ان کے اعمال نے انہیں کوئی نفع نہ دیا، جس طرح ان پر وبال ٹوٹ پڑا اسی طرح ان پر بھی ایک دن ان کی بداعمالیوں کا وبال آ پڑے گا اور یہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔ نہ تھکا اور ہرا سکتے ہیں ‘۔ جیسے کہ قارون سے اس کی قوم نے کہا تھا «إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ» [28-القص:76-78] ‏‏‏‏ ’ کہ اس قدر اکڑ نہیں اللہ تعالیٰ خود پسندوں کو محبوب نہیں رکھتا۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو خرچ کر کے آخرت کی تیاری کر اور وہاں کا سامان مہیا کر۔ اس دنیا میں بھی فائدہ اٹھاتا رہ اور جیسے اللہ نے تیرے ساتھ سلوک کیا ہے، تو بھی لوگوں کے ساتھ احسان کرتا رہ۔ زمین میں فساد کرنے والا مت بن اللہ تعالیٰ مفسدوں سے محبت نہیں کرتا ‘۔ اس پر قارون نے جواب دیا کہ ان تمام نعمتوں اور جاہ و دولت کو میں نے اپنی دانائی اور علم و ہنر سے حاصل کیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ کیا اسے یہ معلوم نہیں کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور اس سے زیادہ جمع جتھا والوں کو میں نے ہلاک و برباد کر دیا ہے، مجرم اپنے گناہوں کے بارے میں پوچھے نہ جائیں گے ‘۔

الغرض مال و اولاد پر پھول کر اللہ کو بھول جانا یہ شیوہ کفر ہے۔ کفار کا قول تھا کہ ہم مال و اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہو گا، ’ کیا انہیں اب تک یہ معلوم نہیں کہ رزق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے جس کیلئے چاہے کشادگی کرے اور جس پر چاہے تنگی کرے۔ اس میں ایمان والوں کیلئے طرح طرح کی عبرتیں اور دلیلیں ہیں ‘۔
50۔ 1 جس طرح قارون نے بھی کہا تھا، لیکن بالاآخر وہ اپنے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ فما اغنی میں ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے اور نافیہ بھی دونوں طرح معنی صحیح ہے۔
(آیت 50) ➊ { قَدْ قَالَهَا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ:} یعنی ان کفار قریش اور ان کے زمانے اور بعد میں آنے والے کفار سے پہلے بھی بہت سے لوگوں کا یہی عقیدہ اور یہی کہنا تھا، جیسا کہ قارون کو اس کی قوم نے نصیحت کی تو اس نے کہا: «‏‏‏‏اِنَّمَاۤ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِيْ» ‏‏‏‏ [ القصص: ۷۸ ] ”(یہ سب کچھ) مجھے تو ایک علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو میرے پاس ہے۔“ قارون کے واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۷۶ تا ۸۲)۔ ➋ { فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ:} یعنی یہ کہنے والوں پر کہ ”ہمیں سب کچھ ہمارے علم کی بنا پر دیا گیا ہے“ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا، جیسا کہ قارون کو اس کے مال و محلات سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا، تو انھوں نے جو مال، اولاد کمائے تھے اور جو دنیوی مہارت حاصل کی تھی وہ ان کے کسی کام نہ آئی۔