بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 8
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 8
آیت نمبر: 8 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہٗ مُنِیۡبًا اِلَیۡہِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَہٗ نِعۡمَۃً مِّنۡہُ نَسِیَ مَا کَانَ یَدۡعُوۡۤا اِلَیۡہِ مِنۡ قَبۡلُ وَ جَعَلَ لِلّٰہِ اَنۡدَادًا لِّیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ قُلۡ تَمَتَّعۡ بِکُفۡرِکَ قَلِیۡلًا ٭ۖ اِنَّکَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ ﴿۸﴾
انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اُسے پکارتا ہے پھر جب اس کا رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اُس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پکار رہا تھا اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھیراتا ہے تاکہ اُس کی راہ سے گمراہ کرے (اے نبیؐ) اُس سے کہو کہ تھوڑے دن اپنے کفر سے لطف اٹھا لے، یقیناً تو دوزخ میں جانے والا ہے
اور انسان کو جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وه خوب رجوع ہو کر اپنے رب کو پکارتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس سے نعمت عطا فرمادیتا ہے تو وه اس سے پہلے جو دعا کرتا تھا اسے (بالکل) بھول جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے شریک مقرر کرنے لگتا ہے جس سے (اوروں کو بھی) اس کی راه سے بہکائے، آپ کہہ دیجئے! کہ اپنے کفر کا فائده کچھ دن اور اٹھالو، (آخر) تو دوزخیوں میں ہونے واﻻ ہے
اور جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے اپنے رب کو پکارتا ہے اسی طرف جھکا ہوا پھر جب اللہ نے اسے اپنے پاس سے کوئی نعمت دی تو بھول جاتا ہے جس لیے پہلے پکارا تھا اور اللہ کے برابر والے ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ اس کی راہ سے بہکادے تم فرماؤ تھوڑے دن اپنے کفر کے ساتھ برت لے بیشک تو دوزخیوں میں ہے،
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ دل سے رجوع کرکے اپنے پروردگار کو پکارتا ہے اور پھر جب وہ اپنی طرف سے اسے کوئی نعمت عطا کرتا ہے تو وہ اس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کیلئے وہ پہلے اسے پکار رہا تھا اور اللہ کیلئے ہمسر (شریک) ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ اس کے راستہ سے (لوگوں کو) گمراہ کرے۔ آپ(ص) کہہ دیجئے! تھوڑے دن اپنے کفر (ناشکرے پن) سے فائدہ اٹھا لے (انجامِ کار) یقیناً تو دوزخ والوں سے ہے۔
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس حال میں کہ اس کی طرف رجوع کرنے والا ہو تا ہے۔ پھر جب وہ اسے اپنی طرف سے کو ئی نعمت عطا کرتا ہے تو وہ اس (مصیبت) کو بھول جاتا ہے، جس کی جانب وہ اس سے پہلے پکارا کرتا تھااور اللہ کے لیے کئی شریک بنا لیتا ہے، تاکہ اس کے راستے سے گمرا ہ کردے۔ کہہ دے اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے، یقینا تو آگ والوں میں سے ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے اور اللہ سب سے بے نیاز ہے ‘۔ موسیٰ علیہ السلام کا فرمان قرآن میں منقول ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:8] ‏‏‏‏ ’ اگر تم اور روئے زمین کے سب جاندار اللہ سے کفر کرو تو اللہ کا کوئی نقصان نہیں وہ ساری مخلوق سے بےپرواہ اور پوری تعریفوں والا ہے ‘۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { اے میرے بندو! تمہارے سب اول و آخر انسان و جن مل ملا کر بدترین شخص کا سا دل بنا لو تو میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں آئے گی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2577] ‏‏‏‏ ہاں اللہ تمہاری ناشکری سے خوش نہیں نہ وہ اس کا تمہیں حکم دیتا ہے اور اگر تم اس کی شکر گزاری کرو گے تو وہ اس پر تم سے رضامند ہو جائے گا اور تمہیں اپنی اور نعمتیں عطا فرمائے گا۔ ہر شخص وہی پائے گا جو اس نے کیا ہو ایک کے بدلے دوسرا پکڑا نہ جائے گا اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ انسان کو دیکھو کہ اپنی حاجت کے وقت تو بہت ہی عاجزی انکساری سے اللہ کو پکارتا ہے اور اس سے فریاد کرتا رہتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:67] ‏‏‏‏، یعنی ’ جب دریا اور سمندر میں ہوتے ہیں اور وہاں کوئی آفت آتی دیکھتے ہیں تو جن جن کو اللہ کے سوا پکارتے تھے سب کو بھول جاتے ہیں اور خالص اللہ کو پکارنے لگتے ہیں لیکن نجات پاتے ہی منہ پھیر لیتے ہیں انسان ہے ہی ناشکرا ‘۔

پس فرماتا ہے کہ ’ جہاں دکھ درد ٹل گیا پھر تو ایسا ہو جاتا ہے گویا مصیبت کے وقت اس نے ہمیں پکارا ہی نہ تھا اس دعا اور گریہ و زاری کو بالکل فراموش کر جاتا ہے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَّسَّهُ» ۱؎ [10-يونس:12] ‏‏‏‏، یعنی ’ تکلیف کے وقت تو انسان ہمیں اٹھتے بیٹھتے لیٹتے ہر وقت بڑی حضور قلبی سے پکارتا رہتا ہے لیکن اس تکلیف کے ہٹتے ہی وہ بھی ہم سے ہٹ جاتا ہے گویا اس نے دکھ درد کے وقت ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ بلکہ عافیت کے وقت اللہ کے ساتھ شریک کرنے لگتا ہے ‘۔ پس اللہ فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگ اپنے کفر سے گو کچھ یونہی سا فائدہ اٹھا لیں ‘۔ اس میں ڈانٹ ہے اور سخت دھمکی ہے جیسے فرمایا «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» ۱؎ [14-ابراھیم:30] ‏‏‏‏ ’ کہدیجئیے کہ فائدہ حاصل کر لو آخری جگہ تو تمہاری جہنم ہی ہے ‘،اور فرمان ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ‏‏‏‏ ’ ہم انہیں کچھ فائدہ دیں گے پھر سخت عذابوں کی طرف بے بس کر دیں گے ‘۔

📖 احسن البیان

8۔ 1 یا اس تکلیف کو بھول جاتا ہے جس کو دور کرنے کے لئے وہ دوسروں کو چھوڑ کر، اللہ سے دعا کرتا تھا یا اس رب کو بھول جاتا ہے، جسے وہ پکارتا تھا اور پھر شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 8) ➊ { وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ:} اپنی وحدانیت اور کمال قدرت کے بہت سے دلائل اور انھیں دیکھنے کے بعد شکر یا کفر کرنے والوں کا انجام بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوش حالی اور بدحالی میں انسان کی طبیعت کا ذکر فرمایا، ساتھ ہی بتا دیا کہ دونوں حالتوں میں مومن و کافر اور عالم و جاہل برابر نہیں ہیں۔ آیت میں {” الْاِنْسَانَ “} سے مراد کافر و مشرک ہے، کیونکہ اس کے متعلق آگے آ رہا ہے: «‏‏‏‏وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا» کہ نعمت ملنے پر وہ اللہ کے لیے کئی شریک بنا لیتا ہے۔ جن مشرک انسانوں کا یہاں ذکر ہے وہ کم از کم مصیبت میں تو ایک اللہ کو پکارتے تھے، مگر ہمارے زمانے کے کئی اسلام کے دعوے دار مصیبت میں اور سمندر میں طوفان کے وقت بھی غیر اللہ کو پکارتے رہتے ہیں۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] ➋ { دَعَا رَبَّهٗ مُنِيْبًا اِلَيْهِ:} یعنی تکلیف اور مصیبت کے وقت وہ پورے خلوص کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس وقت اسے کوئی دوسرا معبود یاد نہیں رہتا، وہ سب سے مایوس ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ دلیل ہے کہ اس کے دل کی گہرائیوں میں یہ بات موجود ہے کہ وہ تکلیف اس کا کوئی حاجت روا یا مشکل کُشا یا داتا یا دستگیر دور نہیں کر سکتا، اسے دور کرنے والا صرف ایک اللہ ہے۔ {” مُنِيْبًا “} کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے غیروں کو پکارتا تھا، مصیبت کے وقت سب کو چھوڑ کر واپس اللہ کی طرف آجاتا ہے۔ ➌ { ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ:} نعمت عطا فرمانے سے مراد اس تکلیف کا دور کرنا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی نعمت مراد ہو سکتی ہے۔ ➍ {نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُوْۤا اِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ:اِلَيْهِ “} میں ضمیر {”هٗ“} سے مراد {” ضُرٌّ “} ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے: «وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآىِٕمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ» ‏‏‏‏ [ یونس: ۱۲ ] ”اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر یا بیٹھا ہوا یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کی طرف، جو اسے پہنچی ہو، پکارا ہی نہیں۔“ ➎ { وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ:} یعنی اللہ کی راہ (اسلام و توحید) سے وہ نہ صرف خود گمراہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور لوگوں سے کہتا پھرتا ہے کہ ہمیں تو فلاں آستانے سے شفا نصیب ہوئی تھی، فلاں بزرگ کی نظر کرم سے ہم مصیبت سے نکل آئے اور فلاں حضرت جی کی توجہ سے ہماری کشتی کنارے آ لگی۔ اس طرح یہ جاہل جھوٹی کہانیاں گھڑ کر بے بس اور بے اختیار مخلوق کو اللہ کا شریک بتا کر لوگوں کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔ ➏ {قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيْلًا …:} فرمایا، اس مشرک انسان کو کہہ دے کہ اپنے کفر و شرک کے ذریعے سے لوگوں کو گمراہ کر کے حاصل ہونے والی لذتوں سے معمولی فائدہ اٹھا لے، مگر یہ بالکل تھوڑی مدت کے لیے ہے، بہت جلد یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا اور تو آگ والوں میں شامل ہو کر ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنے والا ہے۔ آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۱۲)۔
← پچھلی آیت (7) پوری سورۃ اگلی آیت (9) →