پھر اپنی کمائی کے برے نتائج انہوں نے بھگتے، اور اِن لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں وہ عنقریب اپنی کمائی کے برے نتائج بھگتیں گے، یہ ہمیں عاجز کر دینے والے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ان کی تمام برائیاں ان پر آ پڑیں، اوران میں سے بھی جو گناه گار ہیں ان کی کی ہوئی برائیاں بھی اب ان پر آ پڑیں گی، یہ (ہمیں) ہرا دینے والے نہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو ان پر پڑ گئیں ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ جو ان میں ظالم عنقریب ان پر پڑیں گی ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ قابو سے نہیں نکل سکتے
علامہ محمد حسین نجفی
تو انہوں نے جو کچھ کمایا تھا اس کے برے نتائج ان تک پہنچے اور جو ان لوگوں میں سے ظالم ہیں ان تک بھی۔ ان کی برائی کے برے نتائج پہنچیں گے اور وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ان پر ان (اعمال) کے وبال آپڑے جو انھوں نے کمائے اور وہ لوگ جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا ان پر بھی جلد ہی ان (اعمال) کے وبال آ پڑیں گے جو انھوں نے کمائے اور وہ ہرگز عاجز کرنے والے نہیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا ناشکرا پن ٭٭
اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ ’ مشکل کے وقت تو وہ آہ و زاری شروع کر دیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہو جاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہو گئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا ‘۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ کے نزدیک اس کا مستحق تھا ہی۔ میری اپنی عقلمندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ بات یوں نہیں بلکہ دراصل یہ ہماری طرف کی آزمائش ہے گو ہمیں ازل سے علم حاصل ہے لیکن تاہم ہم اسے ظہور میں لانا چاہتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس نعمت کا یہ شکر ادا کرتا ہے یا ناشکری؟ لیکن یہ لوگ بےعلم ہیں۔ دعوے کرتے ہیں منہ سے بات نکال دیتے ہیں لیکن اصلیت سے بے خبر ہیں، یہی دعویٰ اور یہی قول ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی کیا اور کہا، لیکن ان کا قول صحیح ثابت نہ ہوا اور ان نعمتوں نے، کسی اور چیز نے اور ان کے اعمال نے انہیں کوئی نفع نہ دیا، جس طرح ان پر وبال ٹوٹ پڑا اسی طرح ان پر بھی ایک دن ان کی بداعمالیوں کا وبال آ پڑے گا اور یہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔ نہ تھکا اور ہرا سکتے ہیں ‘۔ جیسے کہ قارون سے اس کی قوم نے کہا تھا «إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ» [28-القص:76-78] ’ کہ اس قدر اکڑ نہیں اللہ تعالیٰ خود پسندوں کو محبوب نہیں رکھتا۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو خرچ کر کے آخرت کی تیاری کر اور وہاں کا سامان مہیا کر۔ اس دنیا میں بھی فائدہ اٹھاتا رہ اور جیسے اللہ نے تیرے ساتھ سلوک کیا ہے، تو بھی لوگوں کے ساتھ احسان کرتا رہ۔ زمین میں فساد کرنے والا مت بن اللہ تعالیٰ مفسدوں سے محبت نہیں کرتا ‘۔ اس پر قارون نے جواب دیا کہ ان تمام نعمتوں اور جاہ و دولت کو میں نے اپنی دانائی اور علم و ہنر سے حاصل کیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ کیا اسے یہ معلوم نہیں کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور اس سے زیادہ جمع جتھا والوں کو میں نے ہلاک و برباد کر دیا ہے، مجرم اپنے گناہوں کے بارے میں پوچھے نہ جائیں گے ‘۔
الغرض مال و اولاد پر پھول کر اللہ کو بھول جانا یہ شیوہ کفر ہے۔ کفار کا قول تھا کہ ہم مال و اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہو گا، ’ کیا انہیں اب تک یہ معلوم نہیں کہ رزق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے جس کیلئے چاہے کشادگی کرے اور جس پر چاہے تنگی کرے۔ اس میں ایمان والوں کیلئے طرح طرح کی عبرتیں اور دلیلیں ہیں ‘۔
51۔ 1 برائیوں سے مراد ان کی برائیوں کی جزا ہے ان کو مشاکلت کے اعتبار سے سیئات کہا گیا ہے ورنہ برائی کی جزا برائی نہیں ہے جیسے وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا میں ہے فتح القدیر 49۔ 2 یہ کفار مکہ کو تنبیہ ہے چناچہ ایسا ہی ہوا یہ بھی گزشتہ قوموں کی طرح قحط قتل واسارت وغیرہ سے دو چار ہوئے اللہ کی طرف سے آئے ہوئے ان عذابوں کو یہ روک نہیں سکے۔
(آیت 51) ➊ { فَاَصَابَهُمْ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا: ” سَيِّاٰتُ “} سے مراد ان کے اعمال کے برے نتائج اور وبال ہیں، یعنی ان کے اعمالِ بد کے نتائج ان پر مختلف عذابوں کی صورت میں آ پڑے۔ ➋ { وَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ …:} یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے اور بعد کے تمام کفار کو تنبیہ ہے کہ اگر پہلے لوگوں کی طرح وہ بھی ناشکری اور ظلم (کفر و شرک) سے باز نہ آئے تو ان کے اعمال کے برے نتائج بہت جلد ان پر آ پڑیں گے۔ ➌ { وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِيْنَ: ” بِمُعْجِزِيْنَ “} کی باء نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”وہ ہر گز عاجز کرنے والے نہیں ہیں۔“ یعنی جب ان کے اعمال کے برے نتائج اور وبال مختلف عذابوں کی صورت میں ان پر آئے تو یہ نہ انھیں روک سکیں گے اور نہ کسی صورت یہ ہو گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس کرکے اس کی گرفت سے نکل کر بھاگ جائیں، یا چھپ جائیں۔ چنانچہ ان میں سے جو زندہ رہے ان پر دنیا ہی میں قحط، خوف، جنگ، قید اور قتل کی صورت میں اللہ کے عذاب آئے اور فوت ہونے والوں کے لیے عذاب شدید انتظار میں ہے۔
اور کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے؟ اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے روزی کشاده کر دیتا ہے اور تنگ (بھی)، ایمان ﻻنے والوں کے لیے اس میں (بڑی بڑی) نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ روزی کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ فرماتا ہے، بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے بے شک اس میں ایمان والوں کیلئے (قدرت کی) بڑی نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا انھوں نے نہیں جانا کہ اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں ان لوگوںکے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا ناشکرا پن ٭٭
اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ ’ مشکل کے وقت تو وہ آہ و زاری شروع کر دیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہو جاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہو گئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا ‘۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ کے نزدیک اس کا مستحق تھا ہی۔ میری اپنی عقلمندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ بات یوں نہیں بلکہ دراصل یہ ہماری طرف کی آزمائش ہے گو ہمیں ازل سے علم حاصل ہے لیکن تاہم ہم اسے ظہور میں لانا چاہتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس نعمت کا یہ شکر ادا کرتا ہے یا ناشکری؟ لیکن یہ لوگ بےعلم ہیں۔ دعوے کرتے ہیں منہ سے بات نکال دیتے ہیں لیکن اصلیت سے بے خبر ہیں، یہی دعویٰ اور یہی قول ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی کیا اور کہا، لیکن ان کا قول صحیح ثابت نہ ہوا اور ان نعمتوں نے، کسی اور چیز نے اور ان کے اعمال نے انہیں کوئی نفع نہ دیا، جس طرح ان پر وبال ٹوٹ پڑا اسی طرح ان پر بھی ایک دن ان کی بداعمالیوں کا وبال آ پڑے گا اور یہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔ نہ تھکا اور ہرا سکتے ہیں ‘۔ جیسے کہ قارون سے اس کی قوم نے کہا تھا «إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ» [28-القص:76-78] ’ کہ اس قدر اکڑ نہیں اللہ تعالیٰ خود پسندوں کو محبوب نہیں رکھتا۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو خرچ کر کے آخرت کی تیاری کر اور وہاں کا سامان مہیا کر۔ اس دنیا میں بھی فائدہ اٹھاتا رہ اور جیسے اللہ نے تیرے ساتھ سلوک کیا ہے، تو بھی لوگوں کے ساتھ احسان کرتا رہ۔ زمین میں فساد کرنے والا مت بن اللہ تعالیٰ مفسدوں سے محبت نہیں کرتا ‘۔ اس پر قارون نے جواب دیا کہ ان تمام نعمتوں اور جاہ و دولت کو میں نے اپنی دانائی اور علم و ہنر سے حاصل کیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ کیا اسے یہ معلوم نہیں کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور اس سے زیادہ جمع جتھا والوں کو میں نے ہلاک و برباد کر دیا ہے، مجرم اپنے گناہوں کے بارے میں پوچھے نہ جائیں گے ‘۔
الغرض مال و اولاد پر پھول کر اللہ کو بھول جانا یہ شیوہ کفر ہے۔ کفار کا قول تھا کہ ہم مال و اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہو گا، ’ کیا انہیں اب تک یہ معلوم نہیں کہ رزق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے جس کیلئے چاہے کشادگی کرے اور جس پر چاہے تنگی کرے۔ اس میں ایمان والوں کیلئے طرح طرح کی عبرتیں اور دلیلیں ہیں ‘۔
49۔ 1 یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں بھی اللہ کی توحید کے دلائل ہیں یعنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں صرف اسی کا حکم و تصرف چلتا ہے اسی کی تدبیر موثر اور کارگر ہے اسی لیے وہ جس کو چاہتا ہے رزق فراواں سے نواز دیتا ہے اور جس کو حاہتا ہے فقر وتنگ دستی میں مبتلا کردیتا ہے اس کے ان فیصلوں میں جو اس کی حکمت ومشیت پر مبنی ہوتے ہیں کوئی دخل انداز ہوسکتا ہے نہ ان میں رد وبدل کرسکتا ہے تاہم یہ نشانیاں صرف اہل ایمان ہی کے لیے ہیں کیونکہ وہی ان پر غور وفکر کر کے ان سے فائدہ اٹھاتے اور اللہ کی مغفرت حاصل کرتے ہیں۔
(آیت 52) ➊ {اَوَ لَمْ يَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ …:} پچھلی آیات میں بیان ہوا ہے کہ موجودہ اور پہلے کفار کا دھوکے میں مبتلا ہونے کا باعث انھیں عطا ہونے والا مال اور دوسری نعمتیں ہیں۔ انھوں نے اپنی جہالت سے یہ سمجھا کہ مال و دولت کی کثرت ان کی اپنی مہارت و قابلیت اور علم و عقل کا نتیجہ ہے اور یہ ان کے حق پر ہونے کی اور اللہ تعالیٰ کے ان پر خوش ہونے کی دلیل ہے۔ فرمایا، نہ رزق کی کشادگی کسی شخص کے علم و عقل یا مہار ت پر موقوف ہے نہ اس کا تنگ ہونا کسی کے علم و عقل یا مہارت کی کمی کی وجہ سے ہے اور نہ اس کی زیادتی یا کمی اللہ تعالیٰ کے خوش یا ناخوش ہونے کی دلیل ہے، بلکہ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی مشیّت پر موقوف ہے، وہ جس کا رزق جب چاہتا ہے فراخ کر دیتا ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بد اور جب چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے، نیک ہو یا بد اور اس کی حکمت اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اگر رزق علم و عقل اور مہارت و قابلیت پر موقوف ہوتا تو کوئی عالم و عاقل رزق کی تنگی میں مبتلا نہ ہوتا اور نہ ہی کسی جاہل یا کم عقل کو رزق یا دوسری نعمتوں کی فراوانی حاصل ہوتی۔ ➋ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} یعنی رزق کی فراخی اور تنگی میں ایمان والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، کیونکہ اس سے وہی فائدہ اٹھاتے اور عبرت حاصل کرتے ہیں، کیونکہ وہی ایمان رکھتے ہیں کہ رزق فراخ کرنے والا اور اسے تنگ کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے اور وہ یہ فیصلہ کسی کے نیک یا بد ہونے کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی حکمت و رحمت کے تحت کرتا ہے، کیونکہ وہ اپنے بندوں کا حال بہتر جانتا ہے۔ کبھی وہ اپنے بندے کا رزق تنگ کر دیتا ہے کہ اگر اس کا رزق فراخ کر دیا تو یہ سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے گا، کبھی اس کا امتحان مقصود ہوتا ہے کہ آیا وہ اس فقر و فاقہ میں صبر کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کا شکوہ کرتا اور اسے کوسنا شروع کر دیتا ہے۔ کبھی وہ دل جوئی اور انعام کے طور پر یا حجت تمام کرنے کے لیے رزق فراخ کر دیتا ہے۔
(اے نبیؐ) کہہ دو کہ اے میرے بندو، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، وہ تو غفور و رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ اے میرے بندو! جنہوں نے (گناہ پر گناہ کرکے) اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بے شک اللہ سب گناہوں کو بخش دیتا ہے کیونکہ وہ بڑا بخشنے والا (اور) بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بے شک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے۔ بے شک وہی تو بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭
اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68] ، یہ اور آیت نازل ہوئی }۔۱؎ [صحیح بخاری:4810]
مسند احمد کی حدیث میں ہے { حضور علیہ السلام فرماتے ہیں { مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے }۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: { خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:275/5:ضعیف] مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ } اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد] ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ۱؎ [11-ھود:46] اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ۔ ۱؎ [مسند احمد:454/6:ضعیف] پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ۱؎ [9-التوبة:104] ’ کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ‘۔ اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:110] ، ’ جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا ‘۔
منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:145-146] یعنی ’ ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں ‘۔ مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدة:73] کہ ’ اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [5-المائدة:74] ’ یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے ‘۔ ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ’ جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے ‘۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے { جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3470] یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ’ یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے ‘۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔“
طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ ۱؎ [2-البقرہ:255] آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [16-النحل:90] ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ہے، یعنی ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو ‘۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم]
(ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے) { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره] { سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2748] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے } اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے }۔ ۱؎ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف] آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:80/1:ضعیف] عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔“ جناب باری نے فرمایا ’ جا تو ان پر مسلط ہے ‘۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی ‘۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ’ بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے ‘، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا ‘۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔“ اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے ‘۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا ‘۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ’ توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے ‘، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ’ میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں ‘۔ [ابن ابی حاتم]
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ { جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ» (سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں }۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا } ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا }۔ ۱؎ [سیرۃ ابن اسحاق] بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ’ وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں ‘۔ جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔“ بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ’ اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:512/2:صحیح] جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا ‘۔
53۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی وسعت کا بیان ہے۔ اسراف کے معنی ہیں گناہوں کی کثرت اور اس میں افراط۔ ' اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ' کا مطلب ہے کہ ایمان لانے سے قبل یا توبہ و استغفار کا احساس پیدا ہونے سے پہلے کتنے بھی گناہ کئے ہوں، انسان یہ نہ سمجھے کہ میں بہت زیادہ گنہگار ہوں، مجھے اللہ تعالیٰ کیونکر معاف کرے گا؟ بلکہ سچے دل سے اگر ایمان قبول کرلے گا یا توبہ کرلے گا تو اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف فرما دے گا۔ شان نزول کی روایت سے بھی یہی مفہوم ثابت ہوتا ہے کچھ کافر و مشرک تھے جنہوں نے کثرت سے قتل اور زنا کاری کا ارتکاب کیا تھا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت صحیح ہے لیکن ہم لوگ بہت زیادہ خطا کار ہیں اگر ہم ایمان لے آئیں تو کیا وہ سب معاف ہوجائیں گے جس پر اس آیت کا نزول ہوا۔ صحیح بخاری، تفسیر سورة زمر۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ کی رحمت و مغفرت کی امید پر خوب گناہ کیے جاؤ اس کے احکام و فرائض کی مطلق پروا نہ کرو اور اس کے حدود اور ضابطوں کو بےدردی سے پامال کرو اس طرح اس کے غضب و انتقام کو دعوت دے کر اس کی رحمت و مغفرت کی امید رکھنا نہایت نادانش مندی اور خام خیالی ہے یہ تخم حنظل بو کر ثمرات و فواکہ کی امید رکھنے کے مترادف ہے ایسے لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ جہاں اپنے بندوں کے لیے غفور رحیم ہے وہاں وہ نافرمانوں کے لیے عزیز ذو انتقام بھی ہے چناچہ قرآن کریم میں منعدد جگہ ان دونوں پہلوؤں کو ساتھ ساتھ بیان کیا گیا مثلا نبیء عبادی انی انا الغفور الرحیم وان عذابی ہو العذاب الالیم (الحجر) غالبا یہی توبہ کر کے صحیح معنوں میں اس کا بندہ بن جائے گا اس کے گناہ اگر سمندر کے جھاگ کے برابر بھی ہوں گے تو معاف فرما دے گا وہ اپنے بندوں کے لیے یقینا غفور رحیم ہے جیسے حدیث میں سو آدمیوں کے قاتل کی توبہ کا واقعہ ہے۔
(آیت 53) ➊ {قُلْ …:} سورت کی ابتدا سے یہاں تک مختلف طریقوں سے شرک کی تردید اور مشرکین کو وعید کا ایک لمبا سلسلہ چلا آ رہا ہے، جس کی پروا بظاہر کافر و مشرک لوگ نہیں کرتے، مگر اللہ تعالیٰ کے اس قدر پرزور کلام سے ان کے دلوں میں خوف کا پیدا ہونا ایک فطری چیز ہے، جو حد سے بڑھ جائے تو نتیجہ یاس اور ناامیدی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہر جگہ ڈرانے کے ساتھ بشارت کا بیان بھی ضرور فرماتا ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ اس کے بندے ناامید ہو کر اس کی جناب میں آنے کی جرأت ہی نہ کریں، اور بشارت اور ترغیب کے ساتھ ترہیب اور ڈرانے کا بیان بھی فرماتا ہے، تاکہ وہ بے خوف نہ ہو جائیں، جیسا کہ جراح نشتر بھی لگاتا ہے اور مرہم بھی رکھتا ہے، پھر پرہیز کی تاکید کرتا ہے اور بد پرہیزی کے انجام سے ڈراتا ہے، فرمایا: «نَبِّئْ عِبَادِيْۤ اَنِّيْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ (49) وَ اَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ» [ الحجر: ۴۹، ۵۰ ] ”میرے بندوں کو خبر دے دے کہ بے شک میں ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والاہوں۔ اور یہ بھی کہ بے شک میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔“ اور فرمایا: «وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ» [ الرعد: ۶ ] ”اور بے شک تیرا رب یقینا لوگوں کے لیے ان کے ظلم کے باوجود بڑی بخشش والا ہے اور بلاشبہ تیرا رب یقینا بہت سخت سزا والا ہے۔“ یہاں بھی وعید کے لمبے سلسلے کے بعد اپنے بندوں کو {” لَا تَقْنَطُوْا “} کے ساتھ اپنی رحمت کی امید دلائی اور بعد کی آیات میں انھیں جلد از جلد توبہ کی تلقین فرما کر وقت ہاتھ سے نکلنے سے ڈرایا ہے۔ ➋ {يٰعِبَادِيْ:} بندے مومن ہوں یا کافر، سب اللہ کے بندے ہیں، اس لیے قرآن مجید میں {”عِبَادِيْ“} کا لفظ دونوں کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسا کہ مومن و کافر دونوں فریقوں کو اپنے بندے قرار دیا: «اِنَّهٗ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْ عِبَادِيْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا» [ المؤمنون: ۱۰۹ ] ”بے شک حقیقت یہ ہے کہ میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے۔“ اور کفار کو اپنے بندے کہا: «وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ» [ الفرقان: ۱۷ ] ”اور جس دن وہ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، اکٹھا کرے گا، پھر کہے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا وہ خود راستے سے بھٹک گئے تھے؟“ اور دیکھیے سورۂ زمر (۱۶) مگر اس کا اکثر استعمال اللہ کے مخلص اور مومن بندوں کے لیے ہوا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ» [ الحجر: ۴۲ ] ”بے شک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں۔“ ➌ {الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ:} اس آیت میں {” يٰعِبَادِيْ“} سے مراد قرآن مجید کے اکثر استعمال کے خلاف کفار و مشرکین ہیں، اس کی دلیل اس کے بعد کی آیات ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ» [الزمر: ۵۴ ] ”اور اس کے مطیع ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ جائے، پھر تمھاری مدد نہیں کی جائے گی۔“ اور ان کا یہ کہنا: «وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ» [ الزمر: ۵۶ ] ”اور بے شک میں تو مذاق کرنے والوں سے تھا۔“ اور یہ آیت: «بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰيٰتِيْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ» [ الزمر: ۵۹ ] ”کیوں نہیں،بے شک تیرے پاس میری آیات آئیں تو تو نے انھیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو انکار کرنے والوں میں سے تھا۔“ صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ یہ آیات کچھ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئیں، چنانچہ انھوں نے فرمایا: [ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ كَانُوْا قَدْ قَتَلُوْا وَ أَكْثَرُوْا، وَ زَنَوْا وَ أَكْثَرُوْا، فَأَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقَالُوْا إِنَّ الَّذِيْ تَقُوْلُ وَ تَدْعُوْ إِلَيْهِ لَحَسَنٌ لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً، فَنَزَلَ: «وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا يَزْنُوْنَ» [الفرقان: ۶۸] وَ نَزَلَ: «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ» [الزمر: ۵۳] ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «یا عبادی الذین أسرفوا…» : ۴۸۱۰ ] ”مشرکین میں سے کچھ لوگ جنھوں نے قتل کیے تھے اور بہت کیے تھے اور زنا کیا تھا اور بہت کیا تھا، پھر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”آپ جو بات کہتے ہیں اور جس کی دعوت دیتے ہیں یقینا وہ بہت اچھی ہے، اگر آپ ہمیں بتائیں کہ ہم نے جو کچھ کیا اس کا کوئی کفارہ ہے؟“ تو یہ آیت اتری: «وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا يَزْنُوْنَ» [ الفرقان: ۶۸ ] ”اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور اس جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے قتل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔“ (یعنی اس کے بعد کی آیات میں ہے: «اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [ الفرقان: ۷۰ ] ”مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور عمل کیا نیک عمل، تو یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“) اور یہ آیت اتری: «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ» ”کہہ دے اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ۔“ ➍ ”اسراف“ کا معنی کسی بھی چیز میں حد سے گزرنا ہے، عموماً اس کا استعمال خرچ کرنے میں ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَ لَمْ يَقْتُرُوْا» [ الفرقان: ۶۷ ] ”اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں۔“ یہاں اس سے مراد کفر و شرک کرکے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی ہے۔ {” عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ “} کا مطلب یہ ہے کہ تمھاری زیادتی کا نقصان تم ہی کو ہے، اللہ تعالیٰ کو یا کسی اور کو نہیں، اس لیے اس زیادتی کے مداوے کی فکر بھی تمھی کو ہونی چاہیے، جیسا کہ فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ» [ یونس: ۲۳ ] ”اے لوگو! تمھاری سرکشی تمھاری جانوں ہی پر ہے۔“ ➎ {لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ: ”قَنِطَ يَقْنَطُ قُنُوْطًا“} (ع، ض) ناامید ہونا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو کئی طرح سے گناہوں کی بخشش کی امید دلائی ہے۔ تفسیر رازی نے وہ دس وجہیں بیان کی ہیں: (1) {” يٰعِبَادِيْ “} (اے میرے بندو!) بندہ غلام کو کہتے ہیں۔ غلام بے چارہ مسکین، عاجز اور محتاج ہوتا ہے، اس کی مسکنت اور بے چارگی اسے مالک کے رحم و کرم کا حق دار بناتی ہے۔ (2) اللہ تعالیٰ نے {” يٰعِبَادِيْ“} (اے میرے بندو!) کہہ کر ان کی نسبت اپنی طرف فرمائی اور جسے اللہ تعالیٰ اپنا کہہ دے اس کے ناامید ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ (3) {” اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ “} كا مطلب يہ ہے كہ انهوں نے جو گناه کیے ان كا نقصان انھی كو ہے، الله تعالی كا اس سے کچھ نهيں بگڑا، اس ليے كوئی وجہ نہيں كہ وہ ان کی توبہ قبول نہ کرے۔ (4) {” لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ “} میں صریح الفاظ کے ساتھ ناامید ہونے سے منع فرمایا۔ (5) {” يٰعِبَادِيْ“} (اے میرے بندو!) کے ساتھ خطاب کے بعد کلام کا تقاضا یہ تھا کہ کہا جاتا: {”لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَتِيْ“} (کہ میری رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ) مگر {”مِنْ رَّحْمَتِيْ“} کے بجائے فرمایا: {” مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ “} (اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ) کیونکہ لفظ {” اللّٰهِ “} اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سب سے بڑا اور اس کی تمام صفات کا جامع نام ہے۔ تمام صفات کمال کی جامع ہستی سے ناامید ہونا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ (6) {اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا:} کہنا تو یہ تھا کہ {”إِنَّهُ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ“} (بے شک وہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے) مگر دوبارہ اپنا نام لے کر فرمایا: {” اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا “} (کہ بے شک اللہ تعالیٰ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے) دوبارہ اپنا گرامی قدر نام ذکر کرنے اور {” اِنَّ “} کے ساتھ اس کی تاکید سے مغفرت کے وعدے میں مبالغے کا اظہار ہو رہا ہے۔ (7) {جَمِيْعًا: ” الذُّنُوْبَ “} میں الف لام استغراق کے لیے ہے، اس لیے تمام گناہوں کی مغفرت کے وعدے کے لیے {” يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ “} ہی کافی تھا، مگر {” جَمِيْعًا “} کے ساتھ مزید تاکید فرما دی کہ اللہ تعالیٰ توبہ کے ساتھ تمام گناہ، حتیٰ کہ شرک جیسے اکبر الکبائر کو بھی بخش دیتا ہے، جیسا کہ اگلی آیت میں {”اَنِيْبُوْۤا “} اور {” اَسْلِمُوْا “} وغیرہ الفاظ کے ساتھ وضاحت آ رہی ہے۔ (8) {اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ:” الْغَفُوْرُ “ ”غَفَرَ يَغْفِرُ“} کا اصل معنی پردہ ڈالنا ہے اور {” الْغَفُوْرُ “} اس سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ بندوں کے گناہوں پر بہت زیادہ پردہ ڈالنے والا ہے۔ یہ عذاب کا باعث بننے والی چیزوں کو دور کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ (9) {” الرَّحِيْمُ “ ”رُحْمٌ“} سے مبالغے کا صیغہ ہے کہ وہ بے حد رحم کرنے والا ہے۔ یہ مغفرت کے بعد مزید رحمت کے نتیجے میں عطا ہونے والی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ان دونوں کا فرق شعراوی نے ایک مقام پر ایک مثال کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی ہے، اگرچہ یہ مکمل نہیں ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی چور کو چوری کرتے ہوئے پکڑ لیتا ہے، اب وہ اسے سزا دے یا دلوا سکتا ہے، مگر وہ اس کی منتوں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کے وعدے کی وجہ سے اس کی چوری پر پردہ ڈال دیتا ہے اور کسی کو اس کی اطلاع نہیں دیتا، یہ مغفرت ہے۔ پھر وہ اس کی حالت زار پر رحم کرتے ہوئے اسے کچھ رقم دے کر کاروبار میں کھڑا کر دیتا ہے، یہ اس پر رحم ہے۔ (10) {” اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ “} میں {” هُوَ “} ضمیر فصل اور خبر {” الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ “} پر الف لام کی وجہ سے کلام میں تاکید اور حصر پیدا ہو گیا۔ یعنی اس کے سوا کوئی نہ غفور ہے نہ رحیم، اس سے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے کمال کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ تمام وجوہ اللہ تعالیٰ کی کمال مغفرت و رحمت پر اور بندوں کے اس سے کسی حال میں بھی ناامید نہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان میں سے وافر حصہ عطا فرمائے۔ (آمین) ➏ {اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا …: ” وَ اَنِيْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ “} اور بعد کی آیات سے ظاہر ہے کہ یہ وعدہ صرف ان لوگوں سے ہے جو توبہ کریں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی یہی تفسیر اختیار فرمائی ہے، کیونکہ اگر وہ کافر و مشرک ہے تو کفر و شرک سے توبہ کرنے اور اسلام قبول کرنے کے بغیر اس کی بخشش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر وہ مسلمان ہے تو اس کے تمام گناہوں کی معافی کا وعدہ توبہ یا اس کے قائم مقام اعمال کے ساتھ ہے، ورنہ اس کی بخشش اللہ تعالیٰ کی مشیّت پر موقوف ہے، وہ جسے چاہے گا بخش دے گا، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ» [ النساء: ۱۱۶ ] ”بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا۔“ اگر یہ کہا جائے کہ ہر مسلمان کے تمام گناہ توبہ کے بغیر معاف ہو جائیں گے تو شریعت کے احکام کی کوئی وقعت باقی نہیں رہتی۔ البتہ اس بات میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس مسلمان کے گناہ چاہے گا سزا دیے بغیر معاف کر دے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا، مگر آخر کار ہر موحّد مسلمان کو جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ اس وقت کفار خواہش کریں گے کہ کاش! وہ بھی مسلمان ہوتے، خواہ کسی درجے کے ہوتے، کیونکہ کفار پر اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتیں حرام کر دی ہیں۔ دیکھیے سورۂ حجر کی آیت (۲) کی تفسیر۔ اگر بخشش کا یہ معنی کیا جائے کہ آخر کار تمام مسلمان جنت میں جائیں گے تو {” اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا “} (بے شک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے) سے صرف کافر مستثنیٰ ہوں گے کہ ان کے گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوں گے۔ ➐ اس آیت اور بعد کی آیات سے اللہ تعالیٰ کی بے انتہا رحمت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ توبہ کرنے والوں کو کس قدر معاف فرمانے والا ہے۔ سورۂ فرقان (۶۹، ۷۰) میں شرک، قتل ناحق اور زنا کرنے والوں کے ساتھ توبہ، ایمان اور عمل صالح کے بعد ان کی گزشتہ برائیوں کو نیکیوں میں بدل دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس لیے کسی بندے کو اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے، خواہ اس کے گناہوں سے زمین و آسمان بھرے ہوئے ہوں۔ صرف اللہ کی طرف پلٹنے اور اس کے سامنے اعتراف کے بعد توبہ کی ضرورت ہے، وہ سب گناہ معاف فرما دے گا، کیونکہ اسے اپنے بندوں کی توبہ بہت ہی محبوب ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: «اَلَمْ يَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ» [ التوبۃ: ۱۰۴ ] ”کیا انھوں نے نہیں جانا کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔“ اور فرمایا: «وَ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [ النساء: ۱۱۰ ] ”اور جو بھی کوئی برا کام کرے، یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے وہ اللہ کوبے حد بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔“ منافقین کے متعلق فرمایا: «اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيْرًا (145) اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا» [ النساء: ۱۴۵، ۱۴۶ ] ”بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور تو ہرگز ان کا کوئی مدد گار نہ پائے گا۔ مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی۔“ اور فرمایا: «لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَ اِنْ لَّمْ يَنْتَهُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [ المائدۃ: ۷۳ ] ”بلاشبہ یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا بے شک اللہ تین میں سے تیسرا ہے، حالانکہ کوئی بھی معبود نہیں مگر ایک معبود، اور اگر وہ اس سے باز نہ آئے جو وہ کہتے ہیں تو یقینا ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا انھیں ضرور درد ناک عذاب پہنچے گا۔“ پھر انھی کے متعلق فرمایا: «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [ المائدۃ: ۷۴ ] ”توکیا وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے، اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے {” قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ “} کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی مغفرت کی دعوت دی جنھوں نے کہا مسیح خود اللہ ہے اور جنھوں نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے اور جنھوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور جنھوں نے کہا اللہ فقیر ہے اور جنھوں نے کہا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے اور جنھوں نے کہا اللہ تین میں تیسرا ہے، ان سب سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [ المائدۃ: ۷۴ ] ”توکیا وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے، اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ پھر اسے بھی توبہ کی دعوت دی جس نے ان سے بھی بڑی بات کہی: «اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى» [ النازعات: ۲۴ ] ”میں تمھارا سب سے اونچا رب ہوں۔“ اور جس نے کہا: «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [ القصص: ۳۸ ] ”میں نے اپنے سوا تمھارے لیے کوئی معبود نہیں جانا۔“ چنانچہ فرمایا: «وَ اِنِّيْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى» [ طٰہٰ: ۸۲ ] ”اور بے شک میں یقینا اس کو بہت بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھے راستے پر چلے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”جو شخص اس کے بعد بھی اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے اس نے اللہ کی کتاب کا انکار کیا، لیکن بندہ توبہ نہیں کر سکتا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس پر مہربانی فرمائے۔“ مسلمانوں کو آگ سے بھری ہوئی خندقوں میں ڈالنے والوں (اصحاب الاخدود) کے متعلق فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ» [ البروج: ۱۰ ] ”یقینا وہ لوگ جنھوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو آزمائش میں ڈالا، پھر انھوں نے توبہ نہیں کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔“ حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس جود و کرم کو دیکھو! ان لوگوں نے اس کے دوستوں کو قتل کیا اور وہ انھیں توبہ اور مغفرت کی دعوت دے رہا ہے۔“ (ابن کثیر) قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کی بہت سی آیات ہیں۔ احادیثِ صحیحہ میں ننانوے آدمیوں کے بعد سوویں آدمی کے قاتل کی توبہ کا ذکر معروف ہے، جسے نیک لوگوں کی بستی کی طرف جاتے ہوئے راستے میں موت آ گئی۔ [ دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل، إن کثر قتلہ: ۲۷۶۶ ] اسی طرح اللہ تعالیٰ کا بندے کی توبہ پر اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہونے کا ذکر ہے جو اپنی گم شدہ اونٹنی ملنے پر خوشی کی شدت میں اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے بے اختیار کہہ اٹھتا ہے: ”یا اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب“ اور خوشی کی شدت میں خطا کر جاتا ہے۔ [ دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب في الحض علی التوبۃ والفرح بھا: ۲۷۴۷ ] اسی طرح اس بندے کا ذکر ہے جس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ وہ اس کے فوت ہونے کے بعد اس کی لاش کو جلا کر اس کی راکھ کچھ پانی میں بہا دیں اور کچھ ہوا میں اڑا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کرکے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ تو اس نے کہا: ”یا اللہ! تیرے ڈر سے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ [ دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب في سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…: ۲۷۵۶ ] پھر اللہ تعالیٰ کا یہ بھی کرم ہے کہ بندہ جتنی بار بھی گناہ کرے، پھر اس کے بعد جتنی بار توبہ کرے وہ معاف فرما دیتا ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَالَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی أَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ يَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ! اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی عَبْدِيْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ يَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ! اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی أَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ يَأْخُذُ بِالذَّنْبِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ ] [ مسلم، التوبۃ، باب قبول التوبۃ من الذنوب…: ۲۷۵۸ ] ”ایک بندے نے گناہ کیا، پھر اس نے کہا: ”اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا، پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔“ پھر اس نے دوبارہ گناہ کیا اور کہا: ”اے میرے رب!مجھے میرا گناہ بخش دے۔“ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔“ پھر ایک بار اور اس نے گناہ کیا اور کہا: ”اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے۔“ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے گناہ کیا پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔ (میرے بندے!) تو جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا۔“
پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور مطیع بن جاؤ اُس کے قبل اِس کے کہ تم پر عذاب آ جائے اور پھر کہیں سے تمہیں مدد نہ مل سکے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آ جائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنے رب کی طرف رجوع لاؤ اور اس کے حضور گردن رکھو قبل اس کے کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ قبل اس کے کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ اور اس کے مطیع ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے، پھر تمھاری مدد نہیں کی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭
اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68] ، یہ اور آیت نازل ہوئی }۔۱؎ [صحیح بخاری:4810]
مسند احمد کی حدیث میں ہے { حضور علیہ السلام فرماتے ہیں { مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے }۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: { خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:275/5:ضعیف] مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ } اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد] ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ۱؎ [11-ھود:46] اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ۔ ۱؎ [مسند احمد:454/6:ضعیف] پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ۱؎ [9-التوبة:104] ’ کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ‘۔ اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:110] ، ’ جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا ‘۔
منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:145-146] یعنی ’ ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں ‘۔ مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدة:73] کہ ’ اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [5-المائدة:74] ’ یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے ‘۔ ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ’ جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے ‘۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے { جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3470] یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ’ یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے ‘۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔“
طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ ۱؎ [2-البقرہ:255] آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [16-النحل:90] ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ہے، یعنی ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو ‘۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم]
(ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے) { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره] { سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2748] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے } اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے }۔ ۱؎ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف] آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:80/1:ضعیف] عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔“ جناب باری نے فرمایا ’ جا تو ان پر مسلط ہے ‘۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی ‘۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ’ بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے ‘، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا ‘۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔“ اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے ‘۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا ‘۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ’ توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے ‘، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ’ میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں ‘۔ [ابن ابی حاتم]
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ { جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ» (سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں }۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا } ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا }۔ ۱؎ [سیرۃ ابن اسحاق] بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ’ وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں ‘۔ جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔“ بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ’ اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:512/2:صحیح] جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 54) {وَ اَنِيْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ …: ”أَنَابَ يُنِيْبُ إِنَابَةً“} رجوع کرنا، پلٹ آنا۔ {”تَابَ يَتُوْبُ“} کا معنی بھی یہی ہے۔ چونکہ یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئیں جو حالتِ کفر میں اپنے کیے ہوئے گناہوں کی وجہ سے اسلام لانے سے ہچکچا رہے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں مخاطب کرکے فرمایا کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے۔ مگر ساتھ ہی تاکید فرمائی کہ اس کے لیے تمھیں موت سے پہلے پہلے کفر سے توبہ کرنا ہو گی، کیونکہ اس کے بعد توبہ کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی پھر کوئی تمھاری مدد کرے گا۔ ہاں! تم کفر سے توبہ کر لو تو تمھارے پہلے سب گناہ بخش دیے جائیں گے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ فَلَمَّا جَعَلَ اللّٰهُ الْإِسْلَامَ فِيْ قَلْبِيْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقُلْتُ ابْسُطْ يَمِيْنَكَ فَلِأُبَايِعْكَ فَبَسَطَ يَمِيْنَهُ قَالَ فَقَبَضْتُ يَدِيْ قَالَ مَا لَكَ يَا عَمْرُو!؟ قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ، قَالَ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا؟ قُلْتُ أَنْ يُغْفَرَ لِيْ، قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ وَ أَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا وَ أَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ ] [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ…: ۱۲۱ ] ”جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام ڈالا، تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اپنا دایاں ہاتھ پھیلائیے، تاکہ میں آپ سے بیعت کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرو! تمھیں کیا ہوا؟“ میں نے کہا: ”میں نے ارادہ کیا ہے کہ شرط کر لوں۔“ آپ نے فرمایا: ”تم کیا شرط کرو گے؟“ میں نے کہا: ”یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمھیں معلوم نہیں ہوا کہ اسلام ان چیزوں کو گرا دیتا ہے جو اس سے پہلے ہوئی ہوں اور ہجرت ان چیزوں کو گرا دیتی ہے جو اس سے پہلے ہوئی ہوں اور حج ان چیزوں کو گرا دیتا ہے جو اس سے پہلے ہوئی ہوں؟“
اور پیروی اختیار کر لو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی، قبل اِس کے کہ تم پر اچانک عذاب آئے اور تم کو خبر بھی نہ ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور پیروری کرو اس بہترین چیزکی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی پیروی کرو جو اچھی سے اچھی تمہارے رب سے تمہاری طرف اتاری گئی قبل اس کے کہ عذاب تم پر اچانک آجائے اور تمہیں خبر نہ ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس بہترین کلام و پیغام کی پیروی کرو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف اتارا گیا ہے پیشتر اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس سب سے اچھی بات کی پیروی کرو جو تمھارے رب کی جانب سے تمھاری طرف نازل کی گئی ہے، اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم سوچتے بھی نہ ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭
اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68] ، یہ اور آیت نازل ہوئی }۔۱؎ [صحیح بخاری:4810]
مسند احمد کی حدیث میں ہے { حضور علیہ السلام فرماتے ہیں { مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے }۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: { خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:275/5:ضعیف] مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ } اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد] ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ۱؎ [11-ھود:46] اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ۔ ۱؎ [مسند احمد:454/6:ضعیف] پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ۱؎ [9-التوبة:104] ’ کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ‘۔ اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:110] ، ’ جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا ‘۔
منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:145-146] یعنی ’ ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں ‘۔ مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدة:73] کہ ’ اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [5-المائدة:74] ’ یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے ‘۔ ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ’ جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے ‘۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے { جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3470] یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ’ یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے ‘۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔“
طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ ۱؎ [2-البقرہ:255] آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [16-النحل:90] ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ہے، یعنی ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو ‘۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم]
(ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے) { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره] { سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2748] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے } اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے }۔ ۱؎ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف] آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:80/1:ضعیف] عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔“ جناب باری نے فرمایا ’ جا تو ان پر مسلط ہے ‘۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی ‘۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ’ بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے ‘، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا ‘۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔“ اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے ‘۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا ‘۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ’ توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے ‘، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ’ میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں ‘۔ [ابن ابی حاتم]
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ { جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ» (سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں }۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا } ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا }۔ ۱؎ [سیرۃ ابن اسحاق] بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ’ وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں ‘۔ جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔“ بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ’ اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:512/2:صحیح] جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا ‘۔
55۔ 1 یعنی عذاب آنے سے قبل توبہ اور عمل صالح کا اہتمام کرلو، کیونکہ جب عذاب آئے گا تو اس کا علم و شعور بھی نہیں ہوگا، اس سے مراد دنیاوی عذاب ہے۔
(آیت 55) ➊ {وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ …:} یہاں {” اَحْسَنَ “} کی اضافت {” مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ “} کی طرف اضافت بیانیہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی قرآن و حدیث کی پیروی کرو، جو ساری کی ساری ہی احسن اور دوسرے ہر کلام سے اچھی ہے، فرمایا: «اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ» [ الزمر: ۲۳ ] ”اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے۔“ مزید تفصیل سورۂ زمر کی آیات (۱۷، ۱۸) کی تفسیر میں دیکھیے۔ ➋ { مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً:} اچانک عذاب سے اس لیے ڈرایا کہ اس میں نہ سنبھلنے کی مہلت ملے گی نہ توبہ کی، اس لیے جلد از جلد اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی اختیار کر لو، اس سے پہلے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت تم پر اچانک آ جائے، جب کہ تم سوچتے بھی نہ ہو، کیونکہ عذاب آنے کے بعد کی جانے والی توبہ قبول نہ ہو گی۔ مزید دیکھیے سورۂ نساء (۱۸)، یونس (۵۱ اور ۹۰، ۹۱) اور سورۂ مومن (۸۴، ۸۵)۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی شخص کہے "افسوس میری اُس تقصیر پر جو میں اللہ کی جناب میں کرتا رہا، بلکہ میں تو الٹا مذاق اڑانے والوں میں شامل تھا"
مولانا محمد جوناگڑھی
(ایسا نہ ہو کہ) کوئی شخص کہے ہائے افسوس! اس بات پر کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حق میں کوتاہی کی بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں ہی رہا
احمد رضا خان بریلوی
کہ کہیں کوئی جان یہ نہ کہے کہ ہائے افسوس! ان تقصیروں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں اور بیشک میں ہنسی بنایا کرتا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
مبادا کوئی شخص یہ کہے ہائے افسوس! میری اس کوتاہی پر جو میں نے خدا کی جناب میں کی اور میں تو مذاق اڑانے والوں میں شامل رہا۔
عبدالسلام بن محمد
(ایسا نہ ہو)کہ کوئی شخص کہے ہائے میرا افسوس! اس کوتاہی پر جو میں نے اللہ کی جناب میں کی اور بے شک میں تو مذاق کرنے والوں سے تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭
اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68] ، یہ اور آیت نازل ہوئی }۔۱؎ [صحیح بخاری:4810]
مسند احمد کی حدیث میں ہے { حضور علیہ السلام فرماتے ہیں { مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے }۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: { خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:275/5:ضعیف] مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ } اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد] ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ۱؎ [11-ھود:46] اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ۔ ۱؎ [مسند احمد:454/6:ضعیف] پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ۱؎ [9-التوبة:104] ’ کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ‘۔ اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:110] ، ’ جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا ‘۔
منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:145-146] یعنی ’ ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں ‘۔ مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدة:73] کہ ’ اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [5-المائدة:74] ’ یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے ‘۔ ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ’ جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے ‘۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے { جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3470] یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ’ یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے ‘۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔“
طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ ۱؎ [2-البقرہ:255] آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [16-النحل:90] ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ہے، یعنی ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو ‘۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم]
(ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے) { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره] { سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2748] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے } اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے }۔ ۱؎ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف] آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:80/1:ضعیف] عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔“ جناب باری نے فرمایا ’ جا تو ان پر مسلط ہے ‘۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی ‘۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ’ بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے ‘، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا ‘۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔“ اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے ‘۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا ‘۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ’ توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے ‘، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ’ میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں ‘۔ [ابن ابی حاتم]
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ { جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ» (سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں }۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا } ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا }۔ ۱؎ [سیرۃ ابن اسحاق] بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ’ وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں ‘۔ جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔“ بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ’ اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:512/2:صحیح] جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا ‘۔
56۔ 1 فِی جَنْب اللّٰہِ کا مطلب، اللہ کی اطاعت یعنی قرآن اور اس پر عمل کرنے میں کوتاہی ہے۔ جَنْب کے معنی قرب اور جوار کے ہیں۔ یعنی اللہ کا قرب اور اس کا جوار (یعنی جنت) طلب کرنے میں کوتاہی کی۔
(آیت 56) ➊ { اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى …: ” اَنْ “} سے مراد {”لِئَلَّا“} ہے، جیسا کہ سورۂ نحل کی آیت (۱۵) میں ہے: «وَ اَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ» {”أَيْ لِئَلَّا تَمِيْدَ بِكُمْ “} ”اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیے، تاکہ وہ تمھیں ہلا نہ دے۔“ {”يٰحَسْرَتٰى “} اصل میں {”حَسْرَةٌ“} یائے متکلم کی طرف مضاف ہے، جسے ”الف“ میں بدل دیا ہے۔ حسرت شدید پشیمانی اور افسوس کو کہتے ہیں، ہائے میرا افسوس! {” فَرَّطْتُّ “ ”فَرَّطَ يُفَرِّطُ تَفْرِيْطًا“} کوتاہی کرنا اور {”أَفْرَطَ يُفْرِطُ إِفْرَاطًا“} زیادتی کرنا۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ اس وقت کوئی شخص یہ کہے کہ ہائے میرا افسوس! میری اس کوتاہی اور نافرمانی پر جو میں ساری کائنات کے خالق و مالک اللہ تعالیٰ کی جناب میں اس کے سامنے کرتا رہا، جو کسی چیز سے بے خبر نہیں۔ ➋ { وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ: ” اِنْ “} اصل میں {” إِنِّيْ“} ہے۔ {”إِنَّ“} کے نون کو ساکن اور اس کے اسم ”یائے متکلم“ کو حذف کر دیا۔ دلیل اس کی {” لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ “} پر آنے والا لام ہے، اور بے شک میں تو مذاق کرنے والوں سے تھا۔ یعنی افسوس! میں نے صرف نافرمانی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دوسروں کے ساتھ مل کر مذاق اڑانے میں بھی شریک رہا۔ ظاہر ہے اجتماعی طور پر مذاق اڑانے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور زیادہ مخالفت ہے۔ اس آیت سے بھی واضح ہے کہ {”قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا “} سے لے کر سلسلہ کلام کفار کے متعلق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور قیامت کا مذاق وہی اُڑاتے ہیں۔ مومن کیسا بھی بدعمل ہو اس کا ایمان اسے مذاق اُڑانے کی اجازت نہیں دیتا۔
یا کہے "کاش اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا"
مولانا محمد جوناگڑھی
یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت کرتا تو میں بھی پارسا لوگوں میں ہوتا
احمد رضا خان بریلوی
یا کہے اگر اللہ مجھے راہ دکھاتا تو میں ڈر والوں میں ہوتا،
علامہ محمد حسین نجفی
یا کوئی یہ کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیزگاروں میں سے ہوتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭
اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68] ، یہ اور آیت نازل ہوئی }۔۱؎ [صحیح بخاری:4810]
مسند احمد کی حدیث میں ہے { حضور علیہ السلام فرماتے ہیں { مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے }۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: { خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:275/5:ضعیف] مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ } اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد] ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ۱؎ [11-ھود:46] اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ۔ ۱؎ [مسند احمد:454/6:ضعیف] پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ۱؎ [9-التوبة:104] ’ کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ‘۔ اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:110] ، ’ جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا ‘۔
منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:145-146] یعنی ’ ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں ‘۔ مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدة:73] کہ ’ اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [5-المائدة:74] ’ یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے ‘۔ ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ’ جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے ‘۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے { جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3470] یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ’ یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے ‘۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔“
طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ ۱؎ [2-البقرہ:255] آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [16-النحل:90] ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ہے، یعنی ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو ‘۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم]
(ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے) { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره] { سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2748] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے } اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے }۔ ۱؎ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف] آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:80/1:ضعیف] عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔“ جناب باری نے فرمایا ’ جا تو ان پر مسلط ہے ‘۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی ‘۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ’ بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے ‘، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا ‘۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔“ اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے ‘۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا ‘۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ’ توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے ‘، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ’ میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں ‘۔ [ابن ابی حاتم]
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ { جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ» (سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں }۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا } ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا }۔ ۱؎ [سیرۃ ابن اسحاق] بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ’ وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں ‘۔ جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔“ بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ’ اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:512/2:صحیح] جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا ‘۔
57۔ 1 یعنی اگر اللہ مجھے ہدایت دے دیتا تو میں شرک اور معاصی سے بچ جاتا۔ یہ اس طرح ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر مشرکین کا قول نقل کیا گیا، (لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكْنَا) (6۔ الانعام:148) اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے، ان کا قول کَلِمَۃُ حَقٍّ بِھَا الْبَاطِلُ کا مصداق ہے (فتح القدیر)
(آیت 57){ اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِيْ …:} یعنی ایسا نہ ہو کہ جب کوئی اور عذر نہ ملے تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ دے کہ اس نے مجھے ہدایت نہیں دی، اگر وہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔ یہ وہی بات ہے جو زندگی میں کفار کہتے رہے: «لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ» [ الأنعام: ۱۴۸ ] ”اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے اور نہ ہم کوئی چیز حرام کرتے۔“ دیکھیے سورۂ انعام (۱۴۸) اور سورۂ نحل (۳۵) کی تفسیر۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اور قرآن بھیج کر اپنی حجت تمام کر دی۔
یا عذاب دیکھ کر کہے "کاش مجھے ایک موقع اور مل جائے اور میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہو جاؤں"
مولانا محمد جوناگڑھی
یا عذاب کو دیکھ کر کہے کاش! کہ کسی طرح میرا لوٹ جانا ہوجاتا تو میں بھی نیکو کاروں میں ہوجاتا
احمد رضا خان بریلوی
یا کہے جب عذاب دیکھے کسی طرح مجھے واپسی ملے کہ میں نیکیاں کروں
علامہ محمد حسین نجفی
یا کوئی عذاب دیکھ کر یہ کہے کاش مجھے ایک بار (دنیا میں دوبارہ جانے کا) موقع ملتا تو میں بھی نیکوکاروں میں سے ہو جاتا۔
عبدالسلام بن محمد
یا کہے جب وہ عذاب دیکھے کاش! میرے لیے ایک بار لوٹنا ہو تو میں نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہو جاؤں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭
اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68] ، یہ اور آیت نازل ہوئی }۔۱؎ [صحیح بخاری:4810]
مسند احمد کی حدیث میں ہے { حضور علیہ السلام فرماتے ہیں { مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے }۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: { خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:275/5:ضعیف] مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ } اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد] ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ۱؎ [11-ھود:46] اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ۔ ۱؎ [مسند احمد:454/6:ضعیف] پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ۱؎ [9-التوبة:104] ’ کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ‘۔ اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:110] ، ’ جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا ‘۔
منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:145-146] یعنی ’ ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں ‘۔ مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدة:73] کہ ’ اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [5-المائدة:74] ’ یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے ‘۔ ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ’ جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے ‘۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے { جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3470] یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ’ یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے ‘۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔“
طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ ۱؎ [2-البقرہ:255] آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [16-النحل:90] ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ہے، یعنی ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو ‘۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم]
(ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے) { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره] { سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2748] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے } اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے }۔ ۱؎ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف] آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:80/1:ضعیف] عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔“ جناب باری نے فرمایا ’ جا تو ان پر مسلط ہے ‘۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی ‘۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ’ بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے ‘، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا ‘۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔“ اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے ‘۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا ‘۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ’ توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے ‘، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ’ میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں ‘۔ [ابن ابی حاتم]
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ { جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ» (سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں }۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا } ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا }۔ ۱؎ [سیرۃ ابن اسحاق] بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ’ وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں ‘۔ جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔“ بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ’ اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:512/2:صحیح] جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 58) {اَوْ تَقُوْلَ حِيْنَ تَرَى الْعَذَابَ …:} پچھلی آیت کے ضمن میں کفار کے اللہ تعالیٰ پر اس جھوٹ کا ذکر تھا کہ اس نے انھیں ہدایت نہیں دی، اس آیت کے ضمن میں ان کے ایک اور جھوٹ کا ذکر ہے کہ اس نے انھیں نیک بننے کے لیے وقت نہیں دیا، اگر انھیں دوبارہ بھیجا جائے تو وہ نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔ چنانچہ وہ عذاب دیکھ کر دنیا میں ایک دفعہ واپس جانے کی ناکام تمنا کریں گے۔ (دیکھیے انعام: ۲۷، ۲۸) طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے وہ بات جو بندے کہنے والے ہیں، ان کے کہنے سے پہلے بتا دی ہے اور (دوبارہ دنیا میں بھیجے جانے کی صورت میں) وہ جو کچھ کرنے والے ہیں ان کے کرنے سے پہلے بتا دیا ہے اور فرمایا: «وَ لَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ» [ فاطر: ۱۴ ] ”اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا۔“ یعنی وہ کہیں گے {”يٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ “} یا یہ کہیں گے {” لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ “} یا کہیں گے {” لَوْ اَنَّ لِيْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ “ ” الْمُحْسِنِيْنَ “} سے مراد {”اَلْمُهْتَدِيْنَ“} یعنی ہدایت یافتہ لوگ ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا کہ اگر انھیں دوبارہ بھیجا گیا تو پھر بھی ہدایت نہیں پا سکیں گے، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ الأنعام: ۲۸ ] ”اور اگر انھیں واپس بھیج دیا جائے تو ضرور پھر وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور بلاشبہ وہ یقینا جھوٹے ہیں۔“ اور فرمایا: «وَ نُقَلِّبُ اَفْـِٕدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ» [ الأنعام: ۱۱۰ ] ”اور ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے، جیسے وہ اس پر پہلی بار ایمان نہیں لائے۔“ یعنی جس طرح وہ پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے، اگر انھیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تب بھی ان کے اور ہدایت کے درمیان رکاوٹ حائل رہے گی، جیسا کہ پہلی مرتبہ حائل رہی جب وہ دنیا میں تھے۔“
(اور اُس وقت اسے یہ جواب ملے کہ) "کیوں نہیں، میری آیات تیرے پاس آ چکی تھیں، پھر تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافروں میں سے تھا"
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں (ہاں) بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تونے جھٹلایا اور غرور وتکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں
احمد رضا خان بریلوی
ہاں کیوں نہیں بیشک تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تُو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافر تھا
علامہ محمد حسین نجفی
ہاں (کیوں نہیں) تیرے پاس میری آیتیں آئی تھیں مگر تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافروں میں سے تھا۔
عبدالسلام بن محمد
کیوں نہیں،بے شک تیرے پاس میری آیات آئیں تو تو نے انھیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو انکار کرنے والوں میں سے تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭
اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68] ، یہ اور آیت نازل ہوئی }۔۱؎ [صحیح بخاری:4810]
مسند احمد کی حدیث میں ہے { حضور علیہ السلام فرماتے ہیں { مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے }۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: { خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:275/5:ضعیف] مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ } اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد] ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ۱؎ [11-ھود:46] اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ۔ ۱؎ [مسند احمد:454/6:ضعیف] پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ۱؎ [9-التوبة:104] ’ کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ‘۔ اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:110] ، ’ جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا ‘۔
منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:145-146] یعنی ’ ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں ‘۔ مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدة:73] کہ ’ اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [5-المائدة:74] ’ یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے ‘۔ ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ’ جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے ‘۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے { جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3470] یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ’ یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے ‘۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔“
طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ ۱؎ [2-البقرہ:255] آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [16-النحل:90] ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ہے، یعنی ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو ‘۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم]
(ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے) { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره] { سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2748] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے } اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے }۔ ۱؎ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف] آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:80/1:ضعیف] عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔“ جناب باری نے فرمایا ’ جا تو ان پر مسلط ہے ‘۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی ‘۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ’ بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے ‘، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا ‘۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔“ اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے ‘۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا ‘۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ’ توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے ‘، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ’ میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں ‘۔ [ابن ابی حاتم]
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ { جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ» (سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں }۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا } ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا }۔ ۱؎ [سیرۃ ابن اسحاق] بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ’ وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں ‘۔ جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔“ بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ’ اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:512/2:صحیح] جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا ‘۔
59۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ ان کی خوا ہش کے جواب میں فرمائے گا۔
(آیت 59) {بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰيٰتِيْ …:} لفظ {” بَلٰى “ } (کیوں نہیں) اس شخص کی تردید کے لیے کہا جاتا ہے جو کسی ثابت شدہ چیز کی تردید کر رہا ہو۔ کفار کے قول {” لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ “} (اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیز گاروں میں سے ہوتا) کے ضمن میں یہ بات موجود ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت نہیں دی اور {” لَوْ اَنَّ لِيْ كَرَّةً “} کے ضمن میں یہ بات موجود ہے کہ اس نے انھیں وقت نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کیوں نہیں، میری آیات تیرے پاس آئیں (یعنی میں نے اپنی آیات کے ذریعے سے تجھے ہدایت دی اور وقت بھی دیا) مگر تو نے انھیں جھٹلا دیا اور تکبر کیا اور تو انکار کرنے والوں میں شامل رہا، جیسا کہ قوم ثمود کے متعلق فرمایا: «وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى» [ حٰمٓ السجدۃ: ۱۷ ] ”اور جو ثمود تھے ہم نے انھیں سیدھا راستہ دکھایا، مگر انھوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنے کو پسند کیا۔“
آج جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ باندھے ہیں قیامت کے روز تم دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہوں گے کیا جہنم میں متکبروں کے لیے کافی جگہ نہیں ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاه ہوگئے ہوں گے کیا تکبر کرنے والوں کاٹھکانا جہنم میں نہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
اور قیامت کے دن تم دیکھو گے انہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا کہ ان کے منہ کالے ہیں کیا مغرور ٹھکانا جہنم میں نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور قیامت کے دن تم دیکھوگے کہ جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اور قیامت کے دن تو دیکھے گا کہ وہ لوگ جنھوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ان کے چہرے سیاہ ہو ں گے، کیا جہنم میں ان متکبروں کے لیے کوئی ٹھکانا نہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے ٭٭
قیامت کے دن دو طرح کے لوگ ہوں گے۔ کالے منہ والے اور نورانی چہرے والے۔ تفرقہ اور اختلاف والوں کے چہرے تو سیاہ پڑ جائیں گے اور اہل سنت والجماعت کی خوبصورت شکلیں نورانی ہو جائیں گی۔ اللہ کے شریک ٹھہرانے والوں اس کی اولاد مقرر کرنے والوں کو دیکھے گا کہ ان کے جھوٹ اور بہتان کی وجہ سے منہ کالے ہوں گے۔ اور حق کو قبول نہ کرنے اور تکبر و خودنمائی کرنے کے وبال میں یہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ جہاں بڑی ذلت کے ساتھ سخت تر اور بدترین سزائیں بھگتیں گے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { تکبر کرنے والوں کا حشر قیامت کے دن چیونٹیوں کی صورت میں ہو گا ہر چھوٹی سے چھوٹی مخلوق بھی انہیں روندتی جائے گی یہاں تک کہ جہنم کے جیل خانے میں بند کر دیئے جائیں گے جس کا نام بولس ہے۔ جس کی آگ بہت تیز اور نہایت ہی مصیبت والی ہے۔ دوزخیوں کو لہو اور پیپ اور گندگی پلائی جائے گی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2492،قال الشيخ الألباني:حسن] ہاں اللہ کا ڈر رکھنے والے اپنی کامیابی اور سعادت مندی کی وجہ سے اس عذاب سے اور اس ذلت اور مار پیٹ سے بالکل بچے ہوئے ہوں گے اور کوئی برائی ان کے پاس بھی نہ پھٹکے گی۔ گھبراہٹ اور غم جو قیامت کے دن عام ہو گا وہ ان سے الگ ہو گا۔ ہر غم سے بے غم اور ہر ڈر سے بے ڈر اور ہر سزا اور ہر دکھ سے بے پرواہ ہوں گے۔ کسی قسم کی ڈانٹ جھڑکی انہیں نہ دی جائے گی امن و امان کے ساتھ راحت و چین کے ساتھ اللہ کی تمام نعمتیں حاصل کئے ہوئے ہوں گے۔
60۔ 1 جس کی وجہ عذاب کی ہولناکیاں اور اللہ کے غضب کا مشاہدہ ہوگا۔ 60۔ 1 حدیث میں ہے الکبر بطر الحق وغمط الناس حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر سمجھنا کبر ہے یہ استفہام تقریری ہے یعنی اللہ کی اطاعت سے تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
(آیت 60) ➊ { وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوْا …:} اللہ پر جھوٹ باندھنے میں اگرچہ اس کے ساتھ شرک کرنا، اس کے لیے بیوی یا اولاد قرار دینا، اپنے آپ کو اس کا محبوب قرار دینا اور ان کے علاوہ دوسرے سب جھوٹ شامل ہیں، مگر آیات کے سیاق کے لحاظ سے اس کے اولین مصداق وہ دو جھوٹ ہیں جو اس سے پہلی آیات کے ضمن میں بیان ہوئے ہیں، یعنی ایک ان کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت نہیں دی اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مہلت نہیں دی۔ ➋ { وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ:} قیامت کے دن کفار کے چہروں کے سیاہ ہونے کا ذکر قرآن مجید میں کئی مقامات پر آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۰۶، ۱۰۷)، یونس (۲۷) اور عبس (۴۰ تا ۴۲)۔ ➌ { اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِيْنَ: ” مَثْوًى “ ثَوٰي يَثْوِيْ بِالْمَكَانِ وَ أَثْوٰي فِيْهِ“} کسی جگہ میں رہنا، جیسا کہ سورۂ قصص میں ہے: «وَ مَا كُنْتَ ثَاوِيًا فِيْۤ اَهْلِ مَدْيَنَ» [ القصص: ۴۵ ] ”اور تو اہلِ مدین میں رہنے والا نہیں تھا۔“ اس سے معلوم ہوا جہنم میں جانے کا باعث ان کا تکبر ہو گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں تھے اور حق معلوم ہونے کے باوجود انھوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا تھا اور ان کے چہرے سیاہ ہونے کا باعث بھی یہی تکبر ہو گا، کیونکہ متکبر کا چہرہ بگاڑنے ہی سے اس کا تکبر ٹوٹتا ہے۔ (ابن عاشور) عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَّكُوْنَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَ نَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ إِنَّ اللّٰهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ] [مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱ ] ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہو گا۔“ ایک آدمی نے کہا: ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کا جوتا اچھا ہو (کیا یہ بھی تکبر ہے)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بہت جمال والا ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے، تکبر تو حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَيُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَهَنَّمَ يُسَمَّی بُوْلَسَ تَعْلُوْهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِيْنَةِ الْخَبَالِ ] [ ترمذي، صفۃ القیامۃ، باب ما جاء في شدۃ الوعید المتکبرین: ۲۴۹۲، قال الترمذي حسن صحیح وقال الألباني حسن ] ”متکبر لوگ قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح آدمیوں کی شکلوں میں اٹھائے جائیں گے، ہر جگہ سے ذلت انھیں ڈھانک رہی ہو گی، پھر وہ جہنم میں ایک قید خانے کی طرف ہانک کر لے جائے جائیں گے، جس کا نام ”بولس“ ہے۔ آگوں کی آگ (سب سے بڑی آگ) ان پر چڑھی ہو گی، انھیں آگ والوں کا نچوڑ ”طینۃ الخبال“ پلایا جائے گا۔“ [ أَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ ]
اس کے برعکس جن لوگوں نے یہاں تقویٰ کیا ہے ان کے اسباب کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن لوگوں نے پرہیزگاری کی انہیں اللہ تعالیٰ ان کی کامیابی کے ساتھ بچا لے گا، انہیں کوئی دکھ چھو بھی نہ سکے گا اور نہ وه کسی طرح غمگین ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ بچائے گا پرہیزگاروں کو ان کی نجات کی جگہ نہ انہیں عذاب چھوئے اور نہ انہیں غم ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ متقیوں کو ان کی کامیابی کی وجہ سے اس طرح نجات دے گا کہ انہیں نہ کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ ان لوگوں کو جو ڈر گئے، ان کے کامیاب ہونے کی وجہ سے نجات دے گا، نہ انھیں برائی پہنچے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے ٭٭
قیامت کے دن دو طرح کے لوگ ہوں گے۔ کالے منہ والے اور نورانی چہرے والے۔ تفرقہ اور اختلاف والوں کے چہرے تو سیاہ پڑ جائیں گے اور اہل سنت والجماعت کی خوبصورت شکلیں نورانی ہو جائیں گی۔ اللہ کے شریک ٹھہرانے والوں اس کی اولاد مقرر کرنے والوں کو دیکھے گا کہ ان کے جھوٹ اور بہتان کی وجہ سے منہ کالے ہوں گے۔ اور حق کو قبول نہ کرنے اور تکبر و خودنمائی کرنے کے وبال میں یہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ جہاں بڑی ذلت کے ساتھ سخت تر اور بدترین سزائیں بھگتیں گے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { تکبر کرنے والوں کا حشر قیامت کے دن چیونٹیوں کی صورت میں ہو گا ہر چھوٹی سے چھوٹی مخلوق بھی انہیں روندتی جائے گی یہاں تک کہ جہنم کے جیل خانے میں بند کر دیئے جائیں گے جس کا نام بولس ہے۔ جس کی آگ بہت تیز اور نہایت ہی مصیبت والی ہے۔ دوزخیوں کو لہو اور پیپ اور گندگی پلائی جائے گی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2492،قال الشيخ الألباني:حسن] ہاں اللہ کا ڈر رکھنے والے اپنی کامیابی اور سعادت مندی کی وجہ سے اس عذاب سے اور اس ذلت اور مار پیٹ سے بالکل بچے ہوئے ہوں گے اور کوئی برائی ان کے پاس بھی نہ پھٹکے گی۔ گھبراہٹ اور غم جو قیامت کے دن عام ہو گا وہ ان سے الگ ہو گا۔ ہر غم سے بے غم اور ہر ڈر سے بے ڈر اور ہر سزا اور ہر دکھ سے بے پرواہ ہوں گے۔ کسی قسم کی ڈانٹ جھڑکی انہیں نہ دی جائے گی امن و امان کے ساتھ راحت و چین کے ساتھ اللہ کی تمام نعمتیں حاصل کئے ہوئے ہوں گے۔
61۔ 1 مفازۃ مصدر میمی ہے یعنی فوز کامیابی شر سے بچ جانا اور خیر سے سعادت سے ہم کنار ہوجانا، مطلب ہے، اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو اس فوز وسعادت کی وجہ سے نجات عطا فرما دے گا جو اللہ کے ہاں ان کے لئے پہلے سے ثبت ہے۔ 61۔ 2 وہ دنیا میں جو کچھ چھوڑ آئے ہیں، اس پر انہیں کوئی غم نہ ہوگا، وہ چونکہ قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ ہونگے، اس لئے انہیں کسی بات کا غم نہ ہوگا۔
(آیت 61) ➊ { وَ يُنَجِّي اللّٰهُ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا …:} متکبرین کا انجام بیان فرمانے کے بعد متقین کا انجام بیان فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ تکبر کے منافی ہے، کیونکہ تقویٰ اللہ کی نافرمانی سے بچنے اور اس کے سامنے عاجز ہو جانے کا نام ہے، جیسا کہ فرمایا: «تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ» [ القصص: ۸۳ ] ”یہ آخری گھر، ہم اسے ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو نہ زمین میں کسی طرح اونچا ہونے کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ کسی فساد کا اور اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔“ ➋ { بِمَفَازَتِهِمْ: ”مَفَازَةٌ“ ”فَازَ يَفُوْزُ فَوْزًا“} سے مصدر میمی ہے ”کامیابی“ یا ظرف مکان ہے ”کامیابی کی جگہ“ یعنی اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو (دنیا کی امتحان گاہ میں) کامیاب ہونے کی وجہ سے جہنم سے نجات عطا فرمائے گا، یا اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو ان کے کامیاب ہونے کی جگہ (جنت میں داخلے) کے ساتھ نجات عطا فرمائے گا، جیسا کہ فرمایا: «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ» [ آل عمران: ۱۸۵ ] ”پھر جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہو گیا۔“ ➌ {لَا يَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ:} یعنی نہ آئندہ انھیں کوئی تکلیف یا برائی پہنچے گی۔ چنانچہ نہ ان پر کوئی خوف آئے گا اور نہ ہی انھیں دنیا میں گزرے ہوئے صدموں یا پریشانیوں کا کوئی غم رہے گا، کیوں کہ جنت کا ایک ہی پھیرا انھیں دنیا کے تمام رنج و غم بھلا دے گا۔
اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے واﻻ ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اور وہ ہرچیز کا مختار ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور نگران ہے ٭٭
تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کار ساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہرچیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔ امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ { سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے عثمان! (رضی اللہ عنہ) تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس آیت کا مطلب دریافت نہیں کیا } }۔
اس کی تفسیر یہ کلمات ہیں { «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْأَوَّل وَالْآخِر وَالظَّاهِر وَالْبَاطِن بِيَدِهِ الْخَيْر يُحْيِي وَيُمِيت وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِيْر» ۔ اے عثمان! جو شخص اسے صبح کو دس بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چھ فضائل عطا فرماتا ہے اول تو وہ شیطان اور اس کے لشکر سے بچ جاتا ہے، دوم اسے ایک قنطار اجر ملتا ہے، تیسرے اس کا ایک درجہ جنت میں بلند ہوتا ہے، چوتھی اس کا حورعین سے نکاح کرا دیا جاتا ہے، پانچویں اس کے پاس بارہ فرشتے آتے ہیں، چھٹے اسے اتنا ثواب دیا جاتا ہے جیسے کسی نے قرآن اور توراۃ اور انجیل و زبور پڑھی۔ پھر اس ساتھ ہی اسے ایک قبول شدہ حج اور ایک مقبول عمرے کا ثواب ملتا ہے اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا درجہ ملتا ہے }۔۱؎ [مجمع الزوائد:115/10:باطل و موضوع] یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں بڑی نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آؤ تم ہمارے معبودوں کی پوجا کرو اور ہم تمہارے رب کی پرستش کریں گے اس پر آیت «قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ» ۱؎ [39-الزمر:64-65] تک نازل ہوئی۔“ یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:88] ۔ اوپر انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے ’ اگر بالفرض یہ انبیاء بھی شرک کریں تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جائیں ‘، یہاں بھی فرمایا کہ ’ تیری طرف اور تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیج دی ہے کہ جو بھی شرک کرے اس کا عمل غارت۔ اور وہ نقصان یافتہ اور زیاں کار، پس تجھے چاہیئے کہ تو خلوص کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت میں لگا رہ اور اس کا شکر گزار رہ۔ تو بھی اور تیرے ماننے والے مسلمان بھی ‘۔
یعنی ہر چیز کا خالق بھی وہی ہے اور مالک بھی وہی وہ جس طرح چاہے تصرف اور تدبیر کرے ہر چیز اس کے ماتحت اور زیر تصرف ہے کسی کو سرتابی یا انکار کی مجال نہیں وکیل بمعنی محافظ اور مدبر ہر چیز اس کے سپرد ہے اور وہ بغیر کسی کی مشارکت کے ان کی حفاظت اور تدبیر کر رہا ہے۔
(آیت 62) ➊ { اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ …:} اہلِ توحید کے لیے وعدے اور مشرکین کے لیے وعید کے بعد دوبارہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور رد شرک کے دلائل کا ذکر شروع فرمایا۔ ابن عاشور نے فرمایا: {” اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ “} اور اس کے بعد والے دو جملے {”قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّيْۤ اَعْبُدُ اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ “} کی تمہید ہیں اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دلیل ہیں۔ پہلا جملہ {” اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ “} ہے، ظاہر ہے کہ جب ہر چیز پیدا اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے تو عبادت بھی اسی کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود برحق ہونے کی دلیل کے طور پر اپنے ہر چیز کے خالق ہونے کو جا بجا بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۰۲)، رعد (۱۶)، فاطر (۳)، مومن (۶۲) اور سورۂ حج (۷۳)۔ ➋ {وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ: ”وَكَلَ يَكِلُ“} (ض) سپرد کرنا۔ ”وکیل“ جس کے سپرد کوئی چیز کی جائے کہ وہ اس کی حفاظت اور نگرانی کرے اور اس میں جو چاہے کرے۔ یہ اکیلے اللہ کی عبادت کی دوسری دلیل ہے، یعنی جس طرح ہر چیز کو پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے اسی طرح ہر چیز کی تدبیر و حفاظت کرنے والا بھی صرف اللہ تعالیٰ ہے، نہ کسی چیز کے پیدا کرنے میں کوئی اس کا شریک ہے اور نہ اس کی حفاظت و تدبیر میں۔ اس لیے اپنی ہر چیز اور ہر کام اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے کاحکم قرآن میں بار بار آیا ہے، فرمایا: «وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ» [ آل عمران: ۱۲۲ ] ”اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔“ اور فرمایا: «وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ» [ إبراہیم: ۱۲ ] ”اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ بھروسا کرنے والے بھروسا کریں۔“
زمین اور آسمانوں کے خزانوں کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں اور جو لوگ اللہ کی آیات سے کفر کرتے ہیں وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں اور زمین کی کنجیوں کامالک وہی ہے جن جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی خساره پانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی نقصان میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آسمانوں اور زمین (کے خزانوں) کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں اور جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اسی کے پاس آسمانوں کی اور زمین کی کنجیاں ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا وہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور نگران ہے ٭٭
تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کار ساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہرچیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔ امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ { سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے عثمان! (رضی اللہ عنہ) تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس آیت کا مطلب دریافت نہیں کیا } }۔
اس کی تفسیر یہ کلمات ہیں { «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْأَوَّل وَالْآخِر وَالظَّاهِر وَالْبَاطِن بِيَدِهِ الْخَيْر يُحْيِي وَيُمِيت وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِيْر» ۔ اے عثمان! جو شخص اسے صبح کو دس بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چھ فضائل عطا فرماتا ہے اول تو وہ شیطان اور اس کے لشکر سے بچ جاتا ہے، دوم اسے ایک قنطار اجر ملتا ہے، تیسرے اس کا ایک درجہ جنت میں بلند ہوتا ہے، چوتھی اس کا حورعین سے نکاح کرا دیا جاتا ہے، پانچویں اس کے پاس بارہ فرشتے آتے ہیں، چھٹے اسے اتنا ثواب دیا جاتا ہے جیسے کسی نے قرآن اور توراۃ اور انجیل و زبور پڑھی۔ پھر اس ساتھ ہی اسے ایک قبول شدہ حج اور ایک مقبول عمرے کا ثواب ملتا ہے اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا درجہ ملتا ہے }۔۱؎ [مجمع الزوائد:115/10:باطل و موضوع] یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں بڑی نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آؤ تم ہمارے معبودوں کی پوجا کرو اور ہم تمہارے رب کی پرستش کریں گے اس پر آیت «قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ» ۱؎ [39-الزمر:64-65] تک نازل ہوئی۔“ یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:88] ۔ اوپر انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے ’ اگر بالفرض یہ انبیاء بھی شرک کریں تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جائیں ‘، یہاں بھی فرمایا کہ ’ تیری طرف اور تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیج دی ہے کہ جو بھی شرک کرے اس کا عمل غارت۔ اور وہ نقصان یافتہ اور زیاں کار، پس تجھے چاہیئے کہ تو خلوص کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت میں لگا رہ اور اس کا شکر گزار رہ۔ تو بھی اور تیرے ماننے والے مسلمان بھی ‘۔
63۔ 1 مقالید، مقلید اور مقلاد کی جمع ہے فتح القدیر بعض نے اس کا ترجمہ چابیاں اور بعض نے خزانے کیا ہے مطلب دونوں میں ایک ہی ہے تمام معاملات کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے۔ 63۔ 2 یعنی کامل خسارہ کیونکہ اس کفر کے نتیجے میں وہ جہنم میں چلے گئے۔
(آیت 63) ➊ { لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:” مَقَالِيْدُ “ ”مِقْلَدٌ“} یا {”مِقْلَادٌ“} کی جمع ہے، جس طرح قلادہ (ہار یا پٹا) گردن کے ساتھ ہوتا ہے اسی طرح چابی تالے کے ساتھ ہوتی ہے۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ {”إِقْلِيْدٌ“} کی جمع ہے اور عام قاعدے کے خلاف ہے۔ {”إِقْلِيْدٌ“} دراصل فارسی لفظ ”کلید“ سے عربی بنایا گیا ہے۔ یعنی زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجیاں بھی اسی کے پاس ہیں، کسی اور کے پاس کچھ ہے ہی نہیں، تو اسے پکارنے اور اس سے فریاد کرنے کا کیا فائدہ؟ یہ اکیلے اللہ کے مستحق عبادت ہونے کی تیسری دلیل ہے۔ ➋ {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ …:} یہاں ایک سوال ہے کہ ”واؤ“ کے ساتھ عطف کس جملے پر ڈالا گیا ہے؟ زمخشری نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس کا عطف {” وَ يُنَجِّي اللّٰهُ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا “} پر ہے اور درمیان کے جملے معترضہ ہیں۔ مگر اتنی دور عطف محل نظر ہے۔ بقاعی نے فرمایا، اس کا عطف ایک مقدر جملے پر ہے جو سیاق سے ظاہر ہو رہا ہے: {”أَيْ فَالَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ تَقَبَّلُوْا آيَاتِهِ أُوْلٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُوْنَ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِآيَاتِ اللّٰهِ هُمُ الْخَاسِرُوْنَ“} ”تو جو لوگ ایمان لے آئے اور اس کی آیات کو قبول کر لیا یہی لوگ کامیاب ہیں اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا وہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔“ {” هُمْ “} ضمیر فصل کی وجہ سے اور {”الْخٰسِرُوْنَ “} خبر پر الف لام کی وجہ سے کلام میں تاکید اور حصر پیدا ہو گیا، یعنی خسارہ اٹھانے والے صرف وہ ہیں جنھوں نے اللہ کی آیات کا انکار کر دیا۔ گویا اس کے علاوہ اگر کوئی خسارہ ہے بھی تو فی الحقیقت خسارہ نہیں ہے، کیونکہ وہ عارضی خسارہ ہے۔ اسی طرح حقیقی کامیابی صرف آخرت کی کامیابی ہے، کیونکہ وہی دائمی اور پائیدار کامیابی ہے، فرمایا: «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ» [ آل عمران: ۱۸۵ ] ”پھر جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا۔“ ”اللہ کی آیات“ سے مراد اس کے وجود اور وحدانیت کے دلائل ہیں جو گزشتہ آیات، خصوصاً اس سے پہلے تین جملوں میں بیان ہوئے ہیں۔
(اے نبیؐ) اِن سے کہو "پھر کیا اے جاہلو، تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے کے لیے مجھ سے کہتے ہو؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے اے جاہلو! کیا تم مجھ سے اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کو کہتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ تو کیا اللہ کے سوا دوسرے کے پوجنے کو مجھ سے کہتے ہو، اے جاہلو!
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! اے جاہلو! کیا تم (پھر بھی) مجھ سے غیر اللہ کی عبادت کرنے کی فرمائش کرتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے پھر کیا تم مجھے غیراللہ کے بارے میں حکم دیتے ہو کہ میں (ان کی) عبادت کروں اے جاہلو!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور نگران ہے ٭٭
تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کار ساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہرچیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔ امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ { سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے عثمان! (رضی اللہ عنہ) تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس آیت کا مطلب دریافت نہیں کیا } }۔
اس کی تفسیر یہ کلمات ہیں { «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْأَوَّل وَالْآخِر وَالظَّاهِر وَالْبَاطِن بِيَدِهِ الْخَيْر يُحْيِي وَيُمِيت وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِيْر» ۔ اے عثمان! جو شخص اسے صبح کو دس بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چھ فضائل عطا فرماتا ہے اول تو وہ شیطان اور اس کے لشکر سے بچ جاتا ہے، دوم اسے ایک قنطار اجر ملتا ہے، تیسرے اس کا ایک درجہ جنت میں بلند ہوتا ہے، چوتھی اس کا حورعین سے نکاح کرا دیا جاتا ہے، پانچویں اس کے پاس بارہ فرشتے آتے ہیں، چھٹے اسے اتنا ثواب دیا جاتا ہے جیسے کسی نے قرآن اور توراۃ اور انجیل و زبور پڑھی۔ پھر اس ساتھ ہی اسے ایک قبول شدہ حج اور ایک مقبول عمرے کا ثواب ملتا ہے اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا درجہ ملتا ہے }۔۱؎ [مجمع الزوائد:115/10:باطل و موضوع] یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں بڑی نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آؤ تم ہمارے معبودوں کی پوجا کرو اور ہم تمہارے رب کی پرستش کریں گے اس پر آیت «قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ» ۱؎ [39-الزمر:64-65] تک نازل ہوئی۔“ یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:88] ۔ اوپر انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے ’ اگر بالفرض یہ انبیاء بھی شرک کریں تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جائیں ‘، یہاں بھی فرمایا کہ ’ تیری طرف اور تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیج دی ہے کہ جو بھی شرک کرے اس کا عمل غارت۔ اور وہ نقصان یافتہ اور زیاں کار، پس تجھے چاہیئے کہ تو خلوص کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت میں لگا رہ اور اس کا شکر گزار رہ۔ تو بھی اور تیرے ماننے والے مسلمان بھی ‘۔
64۔ 1 یہ کفار کی اس دعوت کے جواب میں ہے جو وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے کہ اپنے آبائی دین کو اختیار کرلیں، جس میں بتوں کی عبادت تھی۔
(آیت 64) ➊ {قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّيْۤ اَعْبُدُ: ” قُلْ “} کے بعد جملہ ”فاء“ سے شروع ہوتا ہے، مگر ہمزہ استفہام چونکہ کلام کی ابتدا میں ہوتا ہے، اس لیے ”فاء“ کو اس کے بعد کر دیا ہے، اسی طرح جملہ فعلیہ کا آغاز فعل {” تَاْمُرُوْٓنِّيْۤ “} سے ہونا تھا اور {”غَيْرَ اللّٰهِ“} کو {” اَعْبُدُ “} کے بعد ہونا تھا، مگر {”غَيْرَ اللّٰهِ“} کی تحقیر کو نمایاں کرنے کے لیے اسے پہلے ذکر فرمایا۔ یعنی جب ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور وہی ہر چیز پر نگران ہے اور اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں تو پھر کیا اس کے ہوتے ہوئے تم مجھے اس کے غیر کی عبادت کا حکم دیتے ہو، جس کے اختیار میں خود اپنا وجود بھی نہیں؟ ➋ { اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ:} جہل کا لفظ حلم کے مقابلے میں آتا ہے اور علم کے مقابلے میں بھی، یہاں علم کے مقابلے میں آیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ”وحدہ لا شریک لہ معبود“ ہونے کے اتنے واضح دلائل اپنے کانوں سے سننے اور آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود پتھروں، قبروں، جانوروں یا اپنے جیسی بے بس اور بے اختیار مخلوق کی عبادت کی پستی میں گرے ہوئے جاہلو! جو نہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا کچھ علم رکھتے ہو کہ صرف اسی کی عبادت کرو، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سے واقف ہو کہ انھیں غیر اللہ کی عبادت کی دعوت کی جرأت کر رہے ہو اور نہ ہی اس شرف کا کچھ علم رکھتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں انسان بنا کر عطا کیا ہے کہ اتنی اونچی مخلوق ہو کر اپنے جیسی یا اپنے سے بھی ادنیٰ مخلوق کی عبادت کر رہے ہو۔ اقبال نے کہا ہے: آدم از بے بصری بندگیٔ آدم کرد من نہ دیدم کہ سگے پیش سگے سر خم کرد ”آدمی بے سمجھی کی وجہ سے آدمی کی بندگی کرنے لگا۔ میں نے تو یہ بھی نہیں دیکھا کہ کسی کتے نے کسی کتے کے آگے سر جھکایا ہو۔“
(یہ بات تمہیں ان سے صاف کہہ دینی چاہیے کیونکہ) تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا اور تم خسارے میں رہو گے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاںکاروں میں سے ہوجائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف کہ اسے سننے والے اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اَکارت جائے گا اور ضرور تو ہار میں رہے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
بیشک آپ(ص) کی طرف بھی وحی کی جا چکی ہے اور ان (انبیاء(ع)) کی طرف بھی جو آپ سے پہلے تھے کہ اگر (بفرضِ محال) آپ نے بھی شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہو جائیں گے اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلا شبہ یقینا تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور نگران ہے ٭٭
تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کار ساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہرچیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔ امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ { سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے عثمان! (رضی اللہ عنہ) تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس آیت کا مطلب دریافت نہیں کیا } }۔
اس کی تفسیر یہ کلمات ہیں { «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْأَوَّل وَالْآخِر وَالظَّاهِر وَالْبَاطِن بِيَدِهِ الْخَيْر يُحْيِي وَيُمِيت وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِيْر» ۔ اے عثمان! جو شخص اسے صبح کو دس بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چھ فضائل عطا فرماتا ہے اول تو وہ شیطان اور اس کے لشکر سے بچ جاتا ہے، دوم اسے ایک قنطار اجر ملتا ہے، تیسرے اس کا ایک درجہ جنت میں بلند ہوتا ہے، چوتھی اس کا حورعین سے نکاح کرا دیا جاتا ہے، پانچویں اس کے پاس بارہ فرشتے آتے ہیں، چھٹے اسے اتنا ثواب دیا جاتا ہے جیسے کسی نے قرآن اور توراۃ اور انجیل و زبور پڑھی۔ پھر اس ساتھ ہی اسے ایک قبول شدہ حج اور ایک مقبول عمرے کا ثواب ملتا ہے اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا درجہ ملتا ہے }۔۱؎ [مجمع الزوائد:115/10:باطل و موضوع] یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں بڑی نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آؤ تم ہمارے معبودوں کی پوجا کرو اور ہم تمہارے رب کی پرستش کریں گے اس پر آیت «قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ» ۱؎ [39-الزمر:64-65] تک نازل ہوئی۔“ یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:88] ۔ اوپر انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے ’ اگر بالفرض یہ انبیاء بھی شرک کریں تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جائیں ‘، یہاں بھی فرمایا کہ ’ تیری طرف اور تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیج دی ہے کہ جو بھی شرک کرے اس کا عمل غارت۔ اور وہ نقصان یافتہ اور زیاں کار، پس تجھے چاہیئے کہ تو خلوص کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت میں لگا رہ اور اس کا شکر گزار رہ۔ تو بھی اور تیرے ماننے والے مسلمان بھی ‘۔
65۔ 1 اگر تو نے شرک کیا ' مطلب ہے، اگر موت شرک پر آئی اور اس سے توبہ نہ کی۔ خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے جو شرک سے پاک بھی تھے اور آئندہ کے لئے محفوظ بھی۔ کیونکہ پیغمبر اللہ کی حفاظت و عصمت میں ہوتا ہے ان سے ارتکاب شرک کا کوئی امکان نہیں تھا، لیکن دراصل امت کے لئے تعریض اور اس کو سمجھانا مقصود ہے۔
(آیت 65) ➊ { وَ لَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ …:} سلیمان الجمل نے فرمایا: {” وَ لَقَدْ “} اور {” لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ “} دونوں میں لام کے بعد قسم مقدر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ بات قسم کھا کر نہایت تاکید کے ساتھ فرمائی ہے۔“ {” لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ “} (اگر تو نے شرک کیا) کے مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اور پہلے پیغمبروں میں سے ہر ایک پیغمبر بھی۔ یعنی آپ کو اور آپ سے پہلے ایک ایک پیغمبر کو مخاطب کرکے وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو ُتو نے جو بھی اچھا کام کیا ہو گا یقینا سب ضائع ہو جائے گا اور یقینا تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۸۸)۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ کوئی نبی شرک نہیں کرے گا، پھر انھیں یہ وحی کرنے کا مطلب کیا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس سے شرک کی شامت اور برائی بیان کرنا مقصود ہے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کے اتنے مقرب بندے شرک کا ارتکاب کر بیٹھیں تو ان کا عمل ضائع ہو جائے گا، تو پھر دوسرے لوگوں کی کیا حیثیت ہے۔ گویا پیغمبروں کو سنا کر ان کی قوموں کو ڈرایا گیا ہے۔ ➌ شرک کے ساتھ تمام اعمال ضائع ہونے کی یہ وعید ان لوگوں کے لیے ہے جن کی موت کفر و شرک کی حالت میں واقع ہو، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ» [البقرۃ: ۲۱۷ ] ”اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے، پھر اس حال میں مرے کہ وہ کافر ہو تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے۔“ توبہ کر لینے والے اس سے مستثنیٰ ہیں۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۶۸ تا ۷۰)۔
لہٰذا (اے نبیؐ) تم بس اللہ ہی کی بندگی کرو اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جاؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ تو اللہ ہی کی عبادت کر اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ اللہ ہی کی بندگی کر اور شکر والوں سے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
(اے نبی(ص)) بلکہ آپ بس اللہ ہی کی عبادت کیجئے اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جائیے۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ اللہ ہی کی پھر عبادت کر اور شکر کرنے والوں سے ہو جا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور نگران ہے ٭٭
تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کار ساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہرچیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔ امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ { سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے عثمان! (رضی اللہ عنہ) تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس آیت کا مطلب دریافت نہیں کیا } }۔
اس کی تفسیر یہ کلمات ہیں { «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْأَوَّل وَالْآخِر وَالظَّاهِر وَالْبَاطِن بِيَدِهِ الْخَيْر يُحْيِي وَيُمِيت وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِيْر» ۔ اے عثمان! جو شخص اسے صبح کو دس بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چھ فضائل عطا فرماتا ہے اول تو وہ شیطان اور اس کے لشکر سے بچ جاتا ہے، دوم اسے ایک قنطار اجر ملتا ہے، تیسرے اس کا ایک درجہ جنت میں بلند ہوتا ہے، چوتھی اس کا حورعین سے نکاح کرا دیا جاتا ہے، پانچویں اس کے پاس بارہ فرشتے آتے ہیں، چھٹے اسے اتنا ثواب دیا جاتا ہے جیسے کسی نے قرآن اور توراۃ اور انجیل و زبور پڑھی۔ پھر اس ساتھ ہی اسے ایک قبول شدہ حج اور ایک مقبول عمرے کا ثواب ملتا ہے اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا درجہ ملتا ہے }۔۱؎ [مجمع الزوائد:115/10:باطل و موضوع] یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں بڑی نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آؤ تم ہمارے معبودوں کی پوجا کرو اور ہم تمہارے رب کی پرستش کریں گے اس پر آیت «قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ» ۱؎ [39-الزمر:64-65] تک نازل ہوئی۔“ یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:88] ۔ اوپر انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے ’ اگر بالفرض یہ انبیاء بھی شرک کریں تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جائیں ‘، یہاں بھی فرمایا کہ ’ تیری طرف اور تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیج دی ہے کہ جو بھی شرک کرے اس کا عمل غارت۔ اور وہ نقصان یافتہ اور زیاں کار، پس تجھے چاہیئے کہ تو خلوص کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت میں لگا رہ اور اس کا شکر گزار رہ۔ تو بھی اور تیرے ماننے والے مسلمان بھی ‘۔
66۔ 1 اِ یَّاکَ نَعْبُدُ کی طرح یہاں بھی مفعول (اللہ) کو مقدم کر کے حصر کا مفہوم پیدا کردیا گیا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔
(آیت 66) ➊ {بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ:} لفظ {” اللّٰهَ “} کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا ہے، یعنی (اللہ کے ساتھ شرک نہ کر) بلکہ (اگر تجھ میں عقل ہے، یا اگر تجھے عبادت کرنی ہے تو) صرف اللہ کی عبادت کر، اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کر۔ ➋ { وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ:} یعنی عقیدۂ توحید کی سمجھ عطا ہونے پر اور اکیلے اللہ کی عبادت کی توفیق ملنے پر اس کے شکر گزار بندوںمیں شامل ہو جا، کیونکہ اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔
اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے (اس کی قدرت کاملہ کا حال تو یہ ہے کہ) قیامت کے روز پوری زمین اُس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے پاک اور بالاتر ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہئے تھی نہیں کی، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے، وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کا حق تھا اور وہ قیامت کے دن سب زمینوں کو سمیٹ دے گا اور اس کی قدرت سے سب آسمان لپیٹ دیے جائیں گے اور ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جس طرح کہ اس کی قدر کرنی چاہیے تھی۔ حالانکہ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور سب آسمان بھی اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے وہ پاک ہے اور برتر ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوںنے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق ہے، حالانکہ زمین ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بنا رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زمین و آسمان اللہ کی انگلیوں میں ٭٭
مشرکین نے دراصل اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت جانی ہی نہیں اسی وجہ سے وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے، اس سے بڑھ کر عزت والا اس سے زیادہ بادشاہت والا اس سے بڑھ کر غلبے اور قدرت والا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا ہمسر اور نہ برابری کرنے والا ہے۔ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہیں اگر قدر ہوتی تو اس کی باتوں کو غلط نہ جانتے۔ جو شخص اللہ کو ہرچیز پر قادر مانے، وہ ہے جس نے اللہ کی عظمت کی اور جس کا یہ عقیدہ نہ ہو وہ اللہ کی قدر کرنے والا نہیں۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ اس جیسی آیتوں کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہی رہا ہے کہ جس طرح اور جن لفظوں میں یہ آئی ہے اسی طرح انہی لفظوں کے ساتھ انہیں مان لینا اور ان پر ایمان رکھنا۔ نہ ان کی کیفیت ٹٹولنا نہ ان میں تحریف و تبدیلی کرنا۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { یہودیوں کا ایک بڑا عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہم یہ لکھا پاتے ہیں کہ اللہ عزوجل ساتوں آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور سب زمینوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور درختوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر رکھ لے گا پھر فرمائے گا ’ میں ہی سب کا مالک اور سچا بادشاہ ہوں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات کی سچائی پر ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسوڑھے ظاہر ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4811] مسند کی حدیث بھی اسی کے قریب ہے اس میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7415] اور روایت میں ہے کہ { وہ اپنی انگلیوں پر بتاتا جاتا تھا پہلے اس نے کلمے کی انگلی دکھائی تھی }۔ اس روایت میں چار انگلیوں کا ذکر ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:3240،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صحیح بخاری شریف میں ہے { اللہ تعالیٰ زمین کو قبض کر لے گا اور آسمان کو اپنی داہنی مٹھی میں لے لے گا۔ پھر فرمائے گا میں ہوں بادشاہ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟} ۱؎ [صحیح بخاری:4812] مسلم کی اس حدیث میں ہے کہ { زمینیں اس کی ایک انگلی پر ہوں گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے پھر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2787] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ ہلاتے جاتے آگے پیچھے لا رہے تھے اور فرماتے تھے { اللہ تعالیٰ اپنی بزرگی آپ بیان فرمائے گا کہ ’ میں جبار ہوں میں متکبر ہوں میں مالک ہوں میں باعزت ہوں میں کریم ہوں ‘ }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بیان کے وقت اتنا ہل رہے تھے کہ ہمیں ڈر لگنے لگا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سمیت گر نہ پڑیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:72/2:صحیح] ایک روایت میں ہے کہ { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی پوری کیفیت دکھا دی کہ کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکایت کیا تھا؟ کہ اللہ تبارک و آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا اور فرمائے گا ’ میں بادشاہ ہوں ‘۔ اپنی انگلیوں کو کبھی کھولے گا کبھی بند کرے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہل رہے تھے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہلنے سے سارا منبر ہلنے لگا اور مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گرا نہ دے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2788] بزار کی رویت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی اور منبر ہلنے لگا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ آئے گئے }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13321:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ معجم کبیر طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے فرمایا: { میں آج تمہیں سورۃ الزمر کی آخری آیتیں سناؤں گا جسے ان سے رونا آ گیا وہ جنتی ہو گیا }، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت سے لے کر ختم سورۃ تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں بعض روئے اور بعض کو رونا نہ آیا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ہر چند رونا چاہا لیکن رونا نہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا میں پھر پڑھوں گا جسے رونا نہ آئے وہ رونی شکل بنا کر بہ تکلف روئے} }۔۱؎ [طبرانی کبیر:2459:ضعیف]
ایک اس سے بڑھ کر غریب حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے تین چیزیں اپنے بندوں میں چھپالی ہیں اگر وہ انہیں دیکھ لیتے تو کوئی شخص کبھی کوئی بدعملی نہ کرتا۔ [ ١ ] اگر میں پردہ ہٹا دیتا اور وہ مجھے دیکھ کر خوب یقین کر لیتے اور معلوم کر لیتے کہ میں اپنی مخلوق کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہوں جبکہ ان کے پاس آؤں اور آسمانوں کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر اپنی زمین کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر کہوں میں بادشاہ ہوں میرے سوا ملک کا مالک کون ہے؟ [ ٢ ] پھر میں انہیں جنت دکھاؤں اور اس میں جو بھلائیاں ہیں سب ان کے سامنے کر دوں اور وہ یقین کے ساتھ خوب اچھی طرح دیکھ لیں۔ [ ٣ ] اور میں انہیں جہنم دکھا دوں اور اس کے عذاب دکھا دوں یہاں تک کہ انہیں یقین آ جائے۔ لیکن میں نے یہ چیزیں قصداً ان سے پوشیدہ کر رکھی ہیں۔ تاکہ میں جان لوں کہ وہ مجھے کس طرح جانتے ہیں کیونکہ میں نے یہ سب باتیں بیان کر دی ہیں }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:2447:ضعیف و منقطع] اس کی سند متقارب ہے اور اس نسخے سے بہت سی حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
کیونکہ اس کی بات بھی نہیں مانی جو اس نے پیغمبروں کے ذریعے سے ان تک پہنچائی تھی اور عبادت بھی اس کے لیے خالص نہیں کی بلکہ دوسروں کو بھی اس میں شریک کرلیا حدیث میں آتا ہے کہ ایک یہودی عالم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ ہم اللہ کی بابت کتابوں میں یہ بات پاتے ہیں کہ وہ قیامت والے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور فرمائے گا میں بادشاہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر اس کی تصدیق فرمائی اور آیت وما قدروا اللہ کی تلاوت فرمائی صحیح بخاری تفسیر سورة زمر محدثین اور سلف کا عقیدہ ہے کہ اللہ کی جن صفات کا ذکر قرآن اور احادیث صحیحہ میں ہے جس طرح اس آیت میں ہاتھ کا اور حدیث میں انگلیوں کا اثبات ہے ان پر بلا کیف و تشبیہ اور بغیر تاویل و تحریف کے ایمان رکھنا ضروری ہے اس لیے یہاں بیان کردہ حقیقت کو مجرد غلبہ وقوت کے مفہوم میں لینا صحیح نہیں ہے۔ 67۔ 1 اس کی بابت بھی حدیئث میں آتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اَنَا المُلْکُ، اَیْنَ مُلُوک الاٰرْضِ ' میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ (آج کہاں ہیں؟ '
(آیت 67) ➊ { وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ:} یعنی جن لوگوں نے غیر اللہ کی عبادت کی، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ غیر اللہ کی عبادت کریں، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کا اندازہ ہی نہیں کیا کہ اس کا مقام کس قدر بلند ہے اور اس کے سامنے وہ تمام ہستیاں جن کی وہ عبادت کر رہے ہیں، کس قدر حقیر اور بے بس ہیں، ورنہ وہ کبھی ایسا نہ کرتے۔ ➋ { وَ الْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ …:} یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت کا حال تو یہ ہے کہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں کاغذ کی طرح لپیٹے ہوئے ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «يَوْمَ نَطْوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ» [ الأنبیاء: ۱۰۴ ] ”جس دن ہم آسمان کو کاتب کے کتابوں کو لپیٹنے کی طرح لپیٹ دیں گے۔“ ➌ کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے قیامت کے دن زمین کو مٹھی میں لینے کو اور آسمانوں کو دائیں ہاتھ میں لپیٹنے کو اور قرآن مجید اور احادیثِ صحیحہ میں اللہ تعالیٰ کے متعلق آنے والے اس طرح کے الفاظ کو نہیں مانتے اور ان سب کی ایسی تاویل کرتے ہیں جو درحقیقت انکار ہے۔ ان کے کہنے کے مطابق اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کا مطلب اس کی حکومت ہے (انھیں اس سے غرض نہیں کہ قیامت کو آٹھ فرشتوں کے اسے اٹھانے کی کیا تاویل کریں گے) مٹھی میں لینے اور دائیں ہاتھ میں لپیٹنے کا مطلب ان سب کا اس کے قبضۂ قدرت میں ہونا ہے (انھیں اس سے غرض نہیں کہ یہ سب کچھ اس کے قبضۂ قدرت میں تو ہر وقت ہی ہے) یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے چہرے، پنڈلی، ہاتھ، انگلیوں، کان اور آنکھوں کا اور اس کے اترنے اور چڑھنے کا صاف انکار کرتے ہیں، بلکہ وہ اس کے سننے اور دیکھنے کے بھی منکر ہیں اور ان کا مطلب یہ کرتے ہیں کہ وہ جاننے والا ہے۔ اسی طرح وہ اس کے کلام کے بھی منکر ہیں۔ ان کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ان تمام صفات کو اپنی صفات کی طرح سمجھا، ورنہ اگر وہ ان تمام صفات اور الفاظ کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے کہ وہ ہماری طرح یا کسی بھی مخلوق کی طرح نہیں، بلکہ اس طرح ہیں جس طرح اس کی شان کے لائق ہے تو کبھی انکار نہ کرتے۔ دیکھیے انسان سمیع و بصیر ہے، فرمایا: «فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا» [ الدھر: ۲ ] ”سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنا دیا۔“ تو کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سمیع و بصیر ہونے کا اس لیے انکار کر دیں گے کہ اس سے وہ انسان کی طرح ہو جائے گا؟ نہیں، ہر گز نہیں! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» [ الشورٰی: ۱۱ ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ یعنی اس کا سمع و بصر کسی اور کی مثل نہیں، بلکہ اس طرح ہے جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ اسی طرح یقینا اس کے ہاتھ ہیں، جو دونوں ہی یمین (دائیں) ہیں، مٹھی بھی ہے، انگلیاں بھی، مگر انسان یا مخلوق کی طرح نہیں بلکہ جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ استعارہ کہہ کر ان کا انکار کرنا درست نہیں۔ قرآن مجید کی ان آیات کی تشریح جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی وہ اس قسم کی تاویلات کی تردید کرتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [ يَقْبِضُ اللّٰهُ الْأَرْضَ، وَ يَطْوِی السَّمٰوَاتِ بِيَمِيْنِهِ، ثُمَّ يَقُوْلُ أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوْكُ الْأَرْضِ؟ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «والأرض جمیعا قبضتہ…» : ۴۸۱۲ ] ”اللہ تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: ”میں ہی بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟“ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: [ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَرَأَ هٰذِهِ الْآيَةَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَی الْمِنْبَرِ: «وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ وَ الْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» [الزمر: ۶۷] وَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُوْلُ هٰكَذَا بِيَدِهِ، وَ يُحَرِّكُهَا، يُقْبِلُ بِهَا وَ يُدْبِرُ، يُمَجِّدُ الرَّبُّ نَفْسَهُ أَنَا الْجَبَّارُ، أَنَا الْمُتَكَبِّرُ، أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْعَزِيْزُ، أَنَا الْكَرِيْمُ فَرَجَفَ بِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ الْمِنْبَرُ، قُلْنَا لَيَخِرَّنَّ بِهِ] [مسند أحمد: 72/2، ح: ۵۴۱۳ ] ”ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر یہ آیت پڑھی: «وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ وَ الْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ”اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق ہے، حالانکہ زمین ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بنا رہے ہیں۔“ اور آپ اپنے ہاتھ کو ہلاتے ہوئے اسے آگے اور پیچھے لے جاتے رہے۔ رب تعالیٰ نے خود اپنی تعریف بیان کی کہ میں جبار ہوں، میں متکبر ہوں، میں بادشاہ ہوں، میں عزیز ہوں، میں کریم ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ منبر لرزنے لگا اور ہمیں خطرہ پیدا ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سمیت گر پڑیں گے۔“ مسند احمد کے محقق نے فرمایا کہ اس کی سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس کے تمام راوی بخاری و مسلم کے راوی ہیں، ایک حماد بن سلمہ صرف مسلم کا راوی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور دوسرے سلف صالحین نے صفات کی آیات و احادیث کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا ہے، ان کی تاویل نہیں کی اور کہا ہے کہ یہ صفات اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔ ➍ {سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے۔
اور اُس روز صور پھونکا جائے گا اور وہ سب مر کر گر جائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوائے اُن کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا اور یکایک سب کے سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور صور پھونک دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہوکر گر پڑیں گے مگر جسے اللہ چاہے، پھر دوباره صور پھونکا جائے گا پس وه ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور صُور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہوجائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور (پہلی بار) صور پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں وہ بھی اور جو زمین میں وہ بھی سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے سوائے ان کے جن کو اللہ چاہے گا (وہ بے ہوش نہیں ہوں گے) پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو وہ ایک دم کھڑے ہوکر (ِادھر اُدھر) دیکھنے لگیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور صور میں پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہوں گے، مر کر گر جائیں گے مگرجسے اللہ نے چاہا، پھر اس میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کی ہولناکی کا بیان ٭٭
قیامت کی ہولناکی اور دہشت و وحشت کا ذکر ہو رہا ہے کہ صور پھونکا جائے گا۔ یہ دوسرا صور ہو گا جس سے ہر زندہ مردہ ہو جائے گا خواہ آسمان میں ہو خواہ زمین میں۔ مگر جسے اللہ چاہے۔ صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ { پھر باقی والوں کی روحیں قبض کی جائیں گی یہاں تک کہ سب سے آخر خود ملک الموت کی روح بھی قبض کی جائے گی اور صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہ جائے گا جو حی و قیوم ہے جو اول سے تھا اور آخر میں دوام کے ساتھ رہ جائے گا۔ پھر فرمائے گا کہ آج کس کا راج پاٹ ہے؟ تین مرتبہ یہی فرمائے گا پھر خود آپ ہی اپنے آپ کو جواب دے گا کہ اللہ واحد و قہار کا، میں ہی اکیلا ہوں جس نے ہرچیز کو اپنی ماتحتی میں کر رکھا ہے آج میں نے سب کو فنا کا حکم دیدیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ سب سے پہلے اسرافیل علیہ السلام کو زندہ کرے گا اور انہیں حکم دے گا کہ دوبارہ نفخہ پھونکیں یہ تیسرا صور ہو گا جس سے ساری مخلوق جو مردہ تھی زندہ ہو جائے گی جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اور نفخہ پھونکا جائے گا اور سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نظریں دوڑانے لگیں گیے۔ یعنی قیامت کی دل دوز حالت دیکھنے لگیں گے }۔ جیسے فرمان ہے «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» ۱؎ [79-النازعات:14،13] یعنی ’ وہ تو صرف ایک ہی سخت آواز ہو گی جس سے سب لوگ فوراً ہی ایک میدان میں آموجود ہوں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ ۱؎ [17-الإسراء:52] ، یعنی ’ جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا تو سب اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کو مان لو گے اور دنیا کی زندگی کو کم سمجھنے لگو گے ‘۔ اللہ جل و علا کا اور جگہ ارشاد ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ تَــقُوْمَ السَّمَاءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:25] ’ اس کی نشانیوں میں سے زمین آسمان کا اس کے حکم سے قائم رہنا ہے پھر جب وہ تمہیں زمین میں سے پکار کر بلائے گا تو تم سب یکبارگی نکل پکڑو گے ‘۔
مسند احمد ہے کہ { ایک شخص نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اتنے اتنے وقت تک قیامت آ جائے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ناراض ہو کر فرمایا ”جی تو چاہتا ہے کہ تم سے کوئی بات بیان ہی نہ کروں۔ میں نے تو کہا تھا کہ بہت تھوڑی مدت میں تم اہم امر دیکھو گے“، پھر فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے میری امت میں دجال آئے گا اور وہ چالیس سال تک رہے گا میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال یا چالیس راتیں پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کو بھیجے گا۔ وہ بالکل صورت شکل میں عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ جیسے ہوں گے اللہ آپ علیہ السلام کو غالب کرے گا اور دجال آپ علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک ہو گا پھر سات سال تک لوگ اس طرح ملے جلے رہیں گے کہ ساری دنیا میں دو شخصوں کے درمیان بھی آپس میں رنجش و عداوت نہ ہو گی۔ پھر پروردگار عالم شام کی طرف ایک ہلکی ٹھنڈی ہوا چلائے گا۔ جس سے تمام ایمان والوں کی روح قبض کر لی جائے گی یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ یہ خواہ کہیں بھی ہو۔ یہاں تک کہ اگر کسی پہاڑی کی کھوہ میں بھی کوئی مسلمان ہو گا تو یہ ہوا وہاں بھی پہنچے گی۔ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ پھر تو بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو اپنے کمینہ پن میں مثل پرندوں کے ہلکے اور اپنی بیوقوفی میں مثل درندوں کے بیوقوف ہوں گے نہ اچھائی اچھائی کو سمجھیں گے نہ برائی کو برائی جانیں گے۔ ان پر شیطان ظاہر ہو گا اور کہے گا شرماتے نہیں کہ تم نے بت پرستی چھوڑ رکھی ہے چنانچہ وہ اس کے بہکاوے میں آ کر بت پرستی شروع کر دیں گے اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی روزی اور معاش میں کشادگی عطا فرمائے ہوئے ہو گا۔ پھر صور پھونک دیا جائے گا جس کے کان میں اس کی آواز جائے گی وہ ادھر گرے گا ادھر کھڑا ہو گا پھر گرے گا۔ سب سے پہلے اس کی آواز جس کے کان میں پڑے گی۔ یہ وہ شخص ہو گا جو اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہو گا فوراً بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے گا۔ پھر تو ہر شخص بے ہوش اور خود فراموش ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا جو شبنم کی طرح ہو گی اس سے لوگوں کے جسم اگ نکلیں گے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھنے لگیں گے۔ پھر کہا جائے گا اے لوگو! اپنے رب کی طرف چلو۔ انہیں ٹھہرالو ان سے سوالات کئے جائیں گے پھر فرمایا جائے گا کہ جہنم کا حصہ نکال لو پوچھا جائے گا کس قدر۔ جواب ملے گا ہر ہزار سے نو سو نناوے۔ یہ دن ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور یہی دن ہو گا جس میں پنڈلی کھولی جائے گی“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2940]
صحیح بخاری میں ہے { دونوں نفحوں کے درمیان چالیس ہوں گے راوی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا کہ کیا چالیس دن؟ فرمایا میں اس کا جواب نہیں دوں گا کہ کہا گیا چالیس ماہ؟ فرمایا میں اس کا بھی انکار کرتا ہوں۔ انسان کی سب چیز گل سڑ جائے گی مگر ریڑھ کی ہڈی اسی سے مخلوق ترتیب دی جائے گی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] مسند ابو یعلیٰ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ { اس آیت میں جو استثناء ہے یعنی جسے اللہ چاہے اس سے کون لوگ مراد ہیں }؟ فرمایا شہداء۔ یہ اپنی تلواریں لٹکائے اللہ کے عرش کے اردگرد ہوں گے فرشتے اپنے جھرمٹ میں انہیں محشر کی طرف لے جائیں گے۔ یاقوت کی اونٹنیوں پر وہ سوار ہوں گے جن کی گدیاں ریشم سے بھی زیادہ نرم ہوں گی۔ انسان کی نگاہ جہاں تک کام کرتی ہے اس کا ایک قدم ہو گا یہ جنت میں خوش وقت ہوں گے وہاں عیش و عشرت میں ہوں گے پھر ان کے دل میں آئے گا کہ چلو دیکھیں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کر رہا ہو گا چنانچہ ان کی طرف دیکھ کر الہ العالمین ہنس دے گا۔ اور اس جگہ جسے دیکھ کر رب ہنس دے اس پر حساب کتاب نہیں ہے }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف] اس کے کل راوی ثقہ ہیں مگر اسماعیل بن عیاش کے استاد غیر معروف ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کیلئے آئے گا اس وقت اس کے نور سے ساری زمین روشن ہو جائے گی۔ نامہ اعمال لائے جائیں گے۔ نبیوں کو پیش کیا جائے گا جو گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی امتوں کو تبلیغ کر دی تھی۔ اور بندوں کے نیک و بد اعمال کے محافظ فرشتے لائے جائیں گے۔ اور عدل و انصاف کے ساتھ مخلوق کے فیصلے کئے جائیں گے۔ اور کسی پر کسی قسم کا ظلم وستم نہ کیا جائے گا۔ جیسے فرمایا «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» ۱؎ [21-الأنبياء:47] ، یعنی ’ قیامت کے دن ہم میزان عدل قائم کریں گے اور کسی پر بالکل ظلم نہ ہو گا گو رائی کے دانے کے برابر عمل ہو ہم اسے بھی موجود کر دیں گے۔ اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ’ اللہ تعالیٰ بہ قدر ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا وہ نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے ‘۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ ہر شخص کو اس کے بھلے برے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ وہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے ‘۔
6 8۔ 1 بعض کے نزدیک نفخہ فزع کے بعد یہ نفخہ ثانیہ یعنی نفخہ صعق ہے جس سے سب کی موت واقع ہوجائے گی بعض نے ان نفحات کی ترتیب اس طرح بیان کی ہے پہلا نفخۃ الفناء دوسرا نفخۃ البعث تیسرا نفخۃ الصعق چوتھا نفخۃ القیام لرب العالمین۔ (ایسر التفاسیر) بعض کے نزدیک صرف دو ہی نفخے ہیں نفخہ الموت اور نفخہ نفخۃ البعث اور بعض کے نزدیک تین واللہ اعلم۔ 68۔ 2 یعنی جن کو اللہ چاہے گا ان کو موت نہیں آئے گی جیسے جبرائیل میکائیل اور اسرافیل بعض کہتے ہیں رضوان فرشتہ حملۃ العرش عرش اٹھانے والے فرشتے اور جنت و جہنم پر مقرر داروغے۔ فتح القدیر 68۔ 3 چار نفقوں کے قائلین کے نزدیک یہ چوتھا، تین کے قائلین کے نزدیک تیسرا اور دو کے قائلین کے نزدیک یہ دوسرا نفخہ ہے۔ بہرحال اس نفخے سے سب زندہ ہو کر میدان محشر میں رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہوجائیں گے، جہاں حساب کتاب ہوگا۔
(آیت 68) {وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ …:} اس کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نمل کی آیت (۸۷) کی تفسیر۔
زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، کتاب اعمال لا کر رکھ دی جائے گی، انبیاء اور تمام گواہ حاضر کر دیے جائیں گے، لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اُن پر کوئی ظلم نہ ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی، نامہٴ اعمال حاضر کیے جائیں گے نبیوں اور گواہوں کو ﻻیا جائے گا اور لوگوں کے درمیان حق حق فیصلے کر دیے جائیں گے، اور وه ﻇلم نہ کیے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین جگمگا اٹھے گی اپنے رب کے نور سے اور رکھی جائے گی کتاب اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کی امت کے ان پر گواہ ہونگے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور نامۂ اعمال رکھ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہو جائے گی اور لکھا ہوا (سامنے) رکھا جائے گا اور نبی اور گواہ لائے جائیں گے اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کی ہولناکی کا بیان ٭٭
قیامت کی ہولناکی اور دہشت و وحشت کا ذکر ہو رہا ہے کہ صور پھونکا جائے گا۔ یہ دوسرا صور ہو گا جس سے ہر زندہ مردہ ہو جائے گا خواہ آسمان میں ہو خواہ زمین میں۔ مگر جسے اللہ چاہے۔ صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ { پھر باقی والوں کی روحیں قبض کی جائیں گی یہاں تک کہ سب سے آخر خود ملک الموت کی روح بھی قبض کی جائے گی اور صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہ جائے گا جو حی و قیوم ہے جو اول سے تھا اور آخر میں دوام کے ساتھ رہ جائے گا۔ پھر فرمائے گا کہ آج کس کا راج پاٹ ہے؟ تین مرتبہ یہی فرمائے گا پھر خود آپ ہی اپنے آپ کو جواب دے گا کہ اللہ واحد و قہار کا، میں ہی اکیلا ہوں جس نے ہرچیز کو اپنی ماتحتی میں کر رکھا ہے آج میں نے سب کو فنا کا حکم دیدیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ سب سے پہلے اسرافیل علیہ السلام کو زندہ کرے گا اور انہیں حکم دے گا کہ دوبارہ نفخہ پھونکیں یہ تیسرا صور ہو گا جس سے ساری مخلوق جو مردہ تھی زندہ ہو جائے گی جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اور نفخہ پھونکا جائے گا اور سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نظریں دوڑانے لگیں گیے۔ یعنی قیامت کی دل دوز حالت دیکھنے لگیں گے }۔ جیسے فرمان ہے «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» ۱؎ [79-النازعات:14،13] یعنی ’ وہ تو صرف ایک ہی سخت آواز ہو گی جس سے سب لوگ فوراً ہی ایک میدان میں آموجود ہوں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ ۱؎ [17-الإسراء:52] ، یعنی ’ جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا تو سب اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کو مان لو گے اور دنیا کی زندگی کو کم سمجھنے لگو گے ‘۔ اللہ جل و علا کا اور جگہ ارشاد ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ تَــقُوْمَ السَّمَاءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:25] ’ اس کی نشانیوں میں سے زمین آسمان کا اس کے حکم سے قائم رہنا ہے پھر جب وہ تمہیں زمین میں سے پکار کر بلائے گا تو تم سب یکبارگی نکل پکڑو گے ‘۔
مسند احمد ہے کہ { ایک شخص نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اتنے اتنے وقت تک قیامت آ جائے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ناراض ہو کر فرمایا ”جی تو چاہتا ہے کہ تم سے کوئی بات بیان ہی نہ کروں۔ میں نے تو کہا تھا کہ بہت تھوڑی مدت میں تم اہم امر دیکھو گے“، پھر فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے میری امت میں دجال آئے گا اور وہ چالیس سال تک رہے گا میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال یا چالیس راتیں پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کو بھیجے گا۔ وہ بالکل صورت شکل میں عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ جیسے ہوں گے اللہ آپ علیہ السلام کو غالب کرے گا اور دجال آپ علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک ہو گا پھر سات سال تک لوگ اس طرح ملے جلے رہیں گے کہ ساری دنیا میں دو شخصوں کے درمیان بھی آپس میں رنجش و عداوت نہ ہو گی۔ پھر پروردگار عالم شام کی طرف ایک ہلکی ٹھنڈی ہوا چلائے گا۔ جس سے تمام ایمان والوں کی روح قبض کر لی جائے گی یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ یہ خواہ کہیں بھی ہو۔ یہاں تک کہ اگر کسی پہاڑی کی کھوہ میں بھی کوئی مسلمان ہو گا تو یہ ہوا وہاں بھی پہنچے گی۔ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ پھر تو بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو اپنے کمینہ پن میں مثل پرندوں کے ہلکے اور اپنی بیوقوفی میں مثل درندوں کے بیوقوف ہوں گے نہ اچھائی اچھائی کو سمجھیں گے نہ برائی کو برائی جانیں گے۔ ان پر شیطان ظاہر ہو گا اور کہے گا شرماتے نہیں کہ تم نے بت پرستی چھوڑ رکھی ہے چنانچہ وہ اس کے بہکاوے میں آ کر بت پرستی شروع کر دیں گے اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی روزی اور معاش میں کشادگی عطا فرمائے ہوئے ہو گا۔ پھر صور پھونک دیا جائے گا جس کے کان میں اس کی آواز جائے گی وہ ادھر گرے گا ادھر کھڑا ہو گا پھر گرے گا۔ سب سے پہلے اس کی آواز جس کے کان میں پڑے گی۔ یہ وہ شخص ہو گا جو اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہو گا فوراً بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے گا۔ پھر تو ہر شخص بے ہوش اور خود فراموش ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا جو شبنم کی طرح ہو گی اس سے لوگوں کے جسم اگ نکلیں گے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھنے لگیں گے۔ پھر کہا جائے گا اے لوگو! اپنے رب کی طرف چلو۔ انہیں ٹھہرالو ان سے سوالات کئے جائیں گے پھر فرمایا جائے گا کہ جہنم کا حصہ نکال لو پوچھا جائے گا کس قدر۔ جواب ملے گا ہر ہزار سے نو سو نناوے۔ یہ دن ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور یہی دن ہو گا جس میں پنڈلی کھولی جائے گی“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2940]
صحیح بخاری میں ہے { دونوں نفحوں کے درمیان چالیس ہوں گے راوی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا کہ کیا چالیس دن؟ فرمایا میں اس کا جواب نہیں دوں گا کہ کہا گیا چالیس ماہ؟ فرمایا میں اس کا بھی انکار کرتا ہوں۔ انسان کی سب چیز گل سڑ جائے گی مگر ریڑھ کی ہڈی اسی سے مخلوق ترتیب دی جائے گی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] مسند ابو یعلیٰ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ { اس آیت میں جو استثناء ہے یعنی جسے اللہ چاہے اس سے کون لوگ مراد ہیں }؟ فرمایا شہداء۔ یہ اپنی تلواریں لٹکائے اللہ کے عرش کے اردگرد ہوں گے فرشتے اپنے جھرمٹ میں انہیں محشر کی طرف لے جائیں گے۔ یاقوت کی اونٹنیوں پر وہ سوار ہوں گے جن کی گدیاں ریشم سے بھی زیادہ نرم ہوں گی۔ انسان کی نگاہ جہاں تک کام کرتی ہے اس کا ایک قدم ہو گا یہ جنت میں خوش وقت ہوں گے وہاں عیش و عشرت میں ہوں گے پھر ان کے دل میں آئے گا کہ چلو دیکھیں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کر رہا ہو گا چنانچہ ان کی طرف دیکھ کر الہ العالمین ہنس دے گا۔ اور اس جگہ جسے دیکھ کر رب ہنس دے اس پر حساب کتاب نہیں ہے }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف] اس کے کل راوی ثقہ ہیں مگر اسماعیل بن عیاش کے استاد غیر معروف ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کیلئے آئے گا اس وقت اس کے نور سے ساری زمین روشن ہو جائے گی۔ نامہ اعمال لائے جائیں گے۔ نبیوں کو پیش کیا جائے گا جو گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی امتوں کو تبلیغ کر دی تھی۔ اور بندوں کے نیک و بد اعمال کے محافظ فرشتے لائے جائیں گے۔ اور عدل و انصاف کے ساتھ مخلوق کے فیصلے کئے جائیں گے۔ اور کسی پر کسی قسم کا ظلم وستم نہ کیا جائے گا۔ جیسے فرمایا «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» ۱؎ [21-الأنبياء:47] ، یعنی ’ قیامت کے دن ہم میزان عدل قائم کریں گے اور کسی پر بالکل ظلم نہ ہو گا گو رائی کے دانے کے برابر عمل ہو ہم اسے بھی موجود کر دیں گے۔ اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ’ اللہ تعالیٰ بہ قدر ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا وہ نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے ‘۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ ہر شخص کو اس کے بھلے برے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ وہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے ‘۔
69۔ 1 اس نور سے بعض نے عدل اور بعض نے حکم مراد لیا ہے لیکن اس حقیقیٰ معنوں پر اٹھانے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے، کیونکہ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ 6 9۔ 2۔ نبیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے میرا پیغام اپنی اپنی قوم یا امت کو پہنچا دیا تھا؟ یا یہ پوچھا جائے گا کہ تمہاری امتوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا اسے قبول کیا یا اس کا انکار کیا؟ امت محمدیہ کو بطور گواہ لایا جائے گا جو اس بات کی گواہی ان امور پر مطلع فرمایا تھا۔ 19۔ 3 یعنی کسی کے اجر وثواب میں کمی نہیں ہوگی اور کسی کو اس کے جرم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔
(آیت 69) ➊ {وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ …:} قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور فرشتے زمین پر تشریف لائیں گے (دیکھیے سورۂ فجر: ۲۲) اور زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو جائے گی۔ بعض لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے زمین پر آنے کے منکر ہیں اور اس کے آسمان دنیا پر اترنے کا بھی صاف انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہے، نہ وہ آسمان دنیا پر اترتا ہے اور نہ قیامت کے دن زمین پر آئے گا، بلکہ یہ سب مجاز ہیں، عرش سے مراد سلطنت ہے، آسمان دنیا پر اترنے کا مطلب اس کی رحمت کا نزول ہے اور قیامت کے دن آنے کا مطلب اس کا حکم آنا ہے وغیرہ۔ حالانکہ یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ مجازی معنی اس وقت مراد لیا جاتا ہے جب حقیقی معنی مراد لینا محال ہو، جب کہ یہاں حقیقی معنی لینے میں کوئی مشکل نہیں۔ ان لوگوں نے یونان کے مشرک فلسفیوں کی یہ بات مان لی کہ ہر محل حوادث حادث ہوتا ہے، اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ پر آنے والی ہر نئی حالت اور نئی شان کا انکار کر دیا۔ چنانچہ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ نہ سنتا ہے، نہ دیکھتا ہے، نہ بات کرتا ہے، نہ عرش پر ہے، نہ اترتا ہے، نہ چڑھتا ہے، نہ ناراض ہوتا ہے اور نہ راضی ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب حوادث (نئے احوال) ہیں جو ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ پر نہیں آ سکتے۔ یہ لوگ قرآن و حدیث میں آنے والے ایسے تمام الفاظ کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں جو درحقیقت تحریف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب استعارے ہیں جو عرب کے بدوؤں کے ذہن کے مطابق اللہ تعالیٰ کو ایک بادشاہ کی صورت میں پیش کرتے ہوئے استعمال کیے گئے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ اور اس کی ذات و صفات کو نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانا نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے۔ اصل حقیقت یونانی فلسفیوں پر منکشف ہوئی اور ان کی بدولت ان حضرات تک پہنچی۔ قرآن مجید جا بجا ان کے اس قاعدے کی نفی کرتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «يَسْـَٔلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ» [ الرحمٰن: ۲۹ ] ” اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔“ اور فرمایا: «قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا» [ المجادلۃ: ۱ ] ”یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی۔“ اور فرمایا: «اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ» [ البقرۃ: ۱۸۶ ] ”میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔“ اور فرمایا: «وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِيْمًا» [ النساء: ۱۶۴ ] ”اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔“ اور فرمایا: «وَ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِيْنَ» [ الشعرآء: ۵ ] ”اور ان کے پاس رحمان کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی جو نئی ہو، مگر وہ اس سے منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔“ مزید دیکھیے سورۂ فجر (۲۲) اور سورۂ حاقہ (۱۷) کی تفسیر۔ ➋ { وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ: } یعنی تمام لوگوں کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دیے جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۳) اور سورۂ کہف (۴۹)۔ ➌ {وَ جِايْٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ:} شہداء (گواہوں) سے مراد نبیوں کے علاوہ ہماری امت اور پہلی تمام امتوں کے وہ نیک لوگ ہیں جنھوں نے اپنی اپنی امت کے لوگوں تک حق کا پیغام پہنچایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» [ بني إسرائیل: ۱۵ ] ”اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔“ ان شہداء میں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ افراد بھی شامل ہیں جو نوح علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کے حق میں شہادت دیں گے کہ انھوں نے اپنی اپنی امت کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۳) اور سورۂ نساء (۴۱) کی تفسیر۔ ان گواہوں میں کراماً کاتبین بھی شامل ہیں اور انسان کے اعضا بھی جو اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ اسی طرح زمین بھی، جس پر کسی شخص نے کوئی نیک یا برا عمل کیا ہو گا، فرمایا: «يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا (4) بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا» [ الزلزال: ۴، ۵ ] ”اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔ اس لیے کہ تیرے رب نے اسے وحی کی ہو گی۔“ ➍ { وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ …:} یعنی تمام نیکیاں اور بدیاں سامنے لا کر گواہوں کے ذریعے سے حجت پوری کرنے کے بعد سب لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور لوگوں پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۴۷) اور سورۂ نساء (۴۰)۔
اور ہر متنفس کو جو کچھ بھی اُس نے عمل کیا تھا اُس کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس شخص نے جو کچھ کیا ہے بھرپور دے دیا جائے گا، جو کچھ لوگ کر رہے ہیں وه بخوبی جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہر جان کو اس کا کیا بھرپور دیا جائے گا اور اسے خوب معلوم جو وہ کرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہر شخص نے جو کچھ عمل کیا ہوگا اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور لوگ جو کچھ کرتے ہیں ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہر شخص کو پورا پورا دیا جائے گا جو اس نے کیا اور وہ زیادہ جاننے والا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کی ہولناکی کا بیان ٭٭
قیامت کی ہولناکی اور دہشت و وحشت کا ذکر ہو رہا ہے کہ صور پھونکا جائے گا۔ یہ دوسرا صور ہو گا جس سے ہر زندہ مردہ ہو جائے گا خواہ آسمان میں ہو خواہ زمین میں۔ مگر جسے اللہ چاہے۔ صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ { پھر باقی والوں کی روحیں قبض کی جائیں گی یہاں تک کہ سب سے آخر خود ملک الموت کی روح بھی قبض کی جائے گی اور صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہ جائے گا جو حی و قیوم ہے جو اول سے تھا اور آخر میں دوام کے ساتھ رہ جائے گا۔ پھر فرمائے گا کہ آج کس کا راج پاٹ ہے؟ تین مرتبہ یہی فرمائے گا پھر خود آپ ہی اپنے آپ کو جواب دے گا کہ اللہ واحد و قہار کا، میں ہی اکیلا ہوں جس نے ہرچیز کو اپنی ماتحتی میں کر رکھا ہے آج میں نے سب کو فنا کا حکم دیدیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ سب سے پہلے اسرافیل علیہ السلام کو زندہ کرے گا اور انہیں حکم دے گا کہ دوبارہ نفخہ پھونکیں یہ تیسرا صور ہو گا جس سے ساری مخلوق جو مردہ تھی زندہ ہو جائے گی جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اور نفخہ پھونکا جائے گا اور سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نظریں دوڑانے لگیں گیے۔ یعنی قیامت کی دل دوز حالت دیکھنے لگیں گے }۔ جیسے فرمان ہے «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» ۱؎ [79-النازعات:14،13] یعنی ’ وہ تو صرف ایک ہی سخت آواز ہو گی جس سے سب لوگ فوراً ہی ایک میدان میں آموجود ہوں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ ۱؎ [17-الإسراء:52] ، یعنی ’ جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا تو سب اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کو مان لو گے اور دنیا کی زندگی کو کم سمجھنے لگو گے ‘۔ اللہ جل و علا کا اور جگہ ارشاد ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ تَــقُوْمَ السَّمَاءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:25] ’ اس کی نشانیوں میں سے زمین آسمان کا اس کے حکم سے قائم رہنا ہے پھر جب وہ تمہیں زمین میں سے پکار کر بلائے گا تو تم سب یکبارگی نکل پکڑو گے ‘۔
مسند احمد ہے کہ { ایک شخص نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اتنے اتنے وقت تک قیامت آ جائے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ناراض ہو کر فرمایا ”جی تو چاہتا ہے کہ تم سے کوئی بات بیان ہی نہ کروں۔ میں نے تو کہا تھا کہ بہت تھوڑی مدت میں تم اہم امر دیکھو گے“، پھر فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے میری امت میں دجال آئے گا اور وہ چالیس سال تک رہے گا میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال یا چالیس راتیں پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کو بھیجے گا۔ وہ بالکل صورت شکل میں عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ جیسے ہوں گے اللہ آپ علیہ السلام کو غالب کرے گا اور دجال آپ علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک ہو گا پھر سات سال تک لوگ اس طرح ملے جلے رہیں گے کہ ساری دنیا میں دو شخصوں کے درمیان بھی آپس میں رنجش و عداوت نہ ہو گی۔ پھر پروردگار عالم شام کی طرف ایک ہلکی ٹھنڈی ہوا چلائے گا۔ جس سے تمام ایمان والوں کی روح قبض کر لی جائے گی یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ یہ خواہ کہیں بھی ہو۔ یہاں تک کہ اگر کسی پہاڑی کی کھوہ میں بھی کوئی مسلمان ہو گا تو یہ ہوا وہاں بھی پہنچے گی۔ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ پھر تو بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو اپنے کمینہ پن میں مثل پرندوں کے ہلکے اور اپنی بیوقوفی میں مثل درندوں کے بیوقوف ہوں گے نہ اچھائی اچھائی کو سمجھیں گے نہ برائی کو برائی جانیں گے۔ ان پر شیطان ظاہر ہو گا اور کہے گا شرماتے نہیں کہ تم نے بت پرستی چھوڑ رکھی ہے چنانچہ وہ اس کے بہکاوے میں آ کر بت پرستی شروع کر دیں گے اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی روزی اور معاش میں کشادگی عطا فرمائے ہوئے ہو گا۔ پھر صور پھونک دیا جائے گا جس کے کان میں اس کی آواز جائے گی وہ ادھر گرے گا ادھر کھڑا ہو گا پھر گرے گا۔ سب سے پہلے اس کی آواز جس کے کان میں پڑے گی۔ یہ وہ شخص ہو گا جو اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہو گا فوراً بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے گا۔ پھر تو ہر شخص بے ہوش اور خود فراموش ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا جو شبنم کی طرح ہو گی اس سے لوگوں کے جسم اگ نکلیں گے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھنے لگیں گے۔ پھر کہا جائے گا اے لوگو! اپنے رب کی طرف چلو۔ انہیں ٹھہرالو ان سے سوالات کئے جائیں گے پھر فرمایا جائے گا کہ جہنم کا حصہ نکال لو پوچھا جائے گا کس قدر۔ جواب ملے گا ہر ہزار سے نو سو نناوے۔ یہ دن ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور یہی دن ہو گا جس میں پنڈلی کھولی جائے گی“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2940]
صحیح بخاری میں ہے { دونوں نفحوں کے درمیان چالیس ہوں گے راوی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا کہ کیا چالیس دن؟ فرمایا میں اس کا جواب نہیں دوں گا کہ کہا گیا چالیس ماہ؟ فرمایا میں اس کا بھی انکار کرتا ہوں۔ انسان کی سب چیز گل سڑ جائے گی مگر ریڑھ کی ہڈی اسی سے مخلوق ترتیب دی جائے گی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] مسند ابو یعلیٰ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ { اس آیت میں جو استثناء ہے یعنی جسے اللہ چاہے اس سے کون لوگ مراد ہیں }؟ فرمایا شہداء۔ یہ اپنی تلواریں لٹکائے اللہ کے عرش کے اردگرد ہوں گے فرشتے اپنے جھرمٹ میں انہیں محشر کی طرف لے جائیں گے۔ یاقوت کی اونٹنیوں پر وہ سوار ہوں گے جن کی گدیاں ریشم سے بھی زیادہ نرم ہوں گی۔ انسان کی نگاہ جہاں تک کام کرتی ہے اس کا ایک قدم ہو گا یہ جنت میں خوش وقت ہوں گے وہاں عیش و عشرت میں ہوں گے پھر ان کے دل میں آئے گا کہ چلو دیکھیں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کر رہا ہو گا چنانچہ ان کی طرف دیکھ کر الہ العالمین ہنس دے گا۔ اور اس جگہ جسے دیکھ کر رب ہنس دے اس پر حساب کتاب نہیں ہے }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف] اس کے کل راوی ثقہ ہیں مگر اسماعیل بن عیاش کے استاد غیر معروف ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کیلئے آئے گا اس وقت اس کے نور سے ساری زمین روشن ہو جائے گی۔ نامہ اعمال لائے جائیں گے۔ نبیوں کو پیش کیا جائے گا جو گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی امتوں کو تبلیغ کر دی تھی۔ اور بندوں کے نیک و بد اعمال کے محافظ فرشتے لائے جائیں گے۔ اور عدل و انصاف کے ساتھ مخلوق کے فیصلے کئے جائیں گے۔ اور کسی پر کسی قسم کا ظلم وستم نہ کیا جائے گا۔ جیسے فرمایا «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» ۱؎ [21-الأنبياء:47] ، یعنی ’ قیامت کے دن ہم میزان عدل قائم کریں گے اور کسی پر بالکل ظلم نہ ہو گا گو رائی کے دانے کے برابر عمل ہو ہم اسے بھی موجود کر دیں گے۔ اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ’ اللہ تعالیٰ بہ قدر ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا وہ نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے ‘۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ ہر شخص کو اس کے بھلے برے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ وہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے ‘۔
70۔ 1 یعنی اس کو کسی کاتب، حاسب اور گواہ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اعمال نامے اور گواہ صرف بطور حجت اور قطع معذورت کے ہونگے۔
(آیت 70) ➊ { وَ وُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ:} ہر جان کو اس کے نیک یا بد عمل کا پورا بدلا دیا جائے گا، ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عز و جل سے جو کچھ روایت کیا اس میں یہ بھی فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَ السَّيِّئَاتِ، ثُمَّ بَيَّنَ ذٰلِكَ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلٰی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلٰی أَضْعَافٍ كَثِيْرَةٍ، وَ مَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً ] [ بخاري، الرقاق، باب من ھم بحسنۃ أو بسیئۃ: ۶۴۹۱ ] ”اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دیں، پھر ان کی وضاحت فرما دی، تو جس شخص نے کسی نیکی کا ارادہ کیا اور عمل نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کا ارادہ کرے اور اسے کر بھی لے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس دس سے سات سو گنا بلکہ بہت گنا تک نیکیاں لکھ لیتا ہے اور جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا، پھر (اللہ کے خوف سے) اس پر عمل نہ کیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اپنے پاس ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر اس نے اس کا ارادہ کیا اور اس پر عمل بھی کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے لیے ایک برائی لکھ لیتا ہے۔“ ➋ {وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَ:} یعنی دنیا میں لوگ جو عمل کر رہے ہیں انھیں اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے، اسے کسی لکھنے والے یا حساب رکھنے والے یا گواہی پیش کرنے والے کی ضرورت نہیں، لیکن اعمال نامہ اس لیے رکھا جائے گا اور پیغمبروں اور گواہوں کو اس لیے لایا جائے گا کہ لوگوں پر حجت تمام ہو۔
(اِس فیصلہ کے بعد) وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اُس کے کارندے ان سے کہیں گے "کیا تمہارے پاس تمہارے اپنے لوگوں میں سے ایسے رسول نہیں آئے تھے، جنہوں نے تم کو تمہارے رب کی آیات سنائی ہوں اور تمہیں اس بات سے ڈرایا ہو کہ ایک وقت تمہیں یہ دن بھی دیکھنا ہوگا؟" وہ جواب دیں گے "ہاں، آئے تھے، مگر عذاب کا فیصلہ کافروں پر چپک گیا"
مولانا محمد جوناگڑھی
کافروں کے غول کے غول جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے، جب وه اس کے پاس پہنچ جائیں گے اس کے دروازے ان کے لیے کھول دیے جائیں گے، اور وہاں کے نگہبان ان سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں درست ہے لیکن عذاب کا حکم کافروں پر ﺛابت ہو گیا
احمد رضا خان بریلوی
اور کافر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے گروہ گروہ یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن سے ملنے سے ڈراتے تھے، کہیں گے کیوں نہیں مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیک اترا
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا وہ (اس خدائی فیصلہ کے بعد) جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اس کے داروغے ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہی میں سے کچھ رسول(ع) نہیں آئے تھے جو تمہیں تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے اور تمہیں اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے وہ (جواب میں) کہیں گے کہ ہاں (آئے تو تھے) لیکن (ہم نے نہ مانا کیونکہ) کافروں پر عذاب کا فیصلہ ہو چکا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے کیا تمھارے پاس تم میں سے کچھ رسول نہیں آئے جو تم پر تمھارے رب کی آیات پڑھتے ہوں اور تمھیں تمھارے اس دن کی ملاقات سے ڈراتے ہوں؟ کہیں گے کیوں نہیں، اور لیکن عذاب کی بات کافروں پر ثابت ہو گئی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کی آخری منزل ٭٭
بدنصیب منکرین حق، کفار کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ’ وہ جانوروں کی طرح رسوائی، ذلت ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکی سے جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے ‘۔ جیسے اور آیت «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا» ۱؎ [52-الطور:13] میں «يُدَعُّونَ» کا لفظ ہے یعنی ’ دھکے دیئے جائیں گے‘ اور سخت پیاسے ہوں گے۔ جیسے اللہ جل و علا نے فرمایا «يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَـٰنِ وَفْدًا وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرْدًا» ۱؎ [19-مريم:86-85] ، ’ جس روز ہم پرہیزگاروں کو رحمان کے مہمان بنا کر جمع کریں گے اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے ‘۔ «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا مَّأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا» ۱؎ [17-الإسراء:97] ’ اس کے علاوہ وہ بہرے گونگے اور اندھے ہوں گے اور منہ کے بل گھسیٹ کر لائیں گے ‘۔ یہ اندھے گونگے اور بہرے ہوں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہو گا جب اس کی آتش دھیمی ہونے لگے ہم اسے اور تیز کر دیں گے۔ یہ قریب پہنچیں گے دروازے کھل جائیں گے تاکہ فوراً ہی عذاب نار شروع ہو جائے۔ پھر انہیں وہاں کے محافظ فرشتے شرمندہ کرنے کیلئے اور ندامت بڑھانے کیلئے ڈانٹ کر اور گھرک کر کہیں گے کیونکہ ان میں رحم کا تو مادہ ہی نہیں سراسر سختی کرنے والے سخت غصے والے اور بڑی بری طرح مار مارنے والے ہیں کہ کیا تمہارے پاس تمہاری ہی جنس کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں آئے تھے؟ جن سے تم سوال جواب کر سکتے تھے اپنا اطمینان اور تسلی کر سکتے تھے ان کی باتوں کو سمجھ سکتے تھے ان کی صحبت میں بیٹھ سکتے تھے، انہوں نے اللہ کی آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائیں اپنے لائے ہوئے سچے دین پر دلیلیں قائم کر دیں۔ تمہیں اس دن کی برائیوں سے آگاہ کر دیا۔ آج کے عذابوں سے ڈرایا۔ کافر اقرار کریں گے کہ ہاں یہ سچ ہے بیشک اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں آئے۔ انہوں نے دلیلیں بھی قائم کیں ہمیں بہت کچھ کہا سنا بھی۔ ڈرایا دھمکایا بھی۔ لیکن ہم نے ان کی ایک نہ مانی بلکہ ان کے خلاف کیا مقابلہ کیا کیونکہ ہماری قسمت میں ہی شقاوت تھی۔ ازلی بدنصیب ہم تھے۔ حق سے ہٹ گئے اور باطل کے طرفدار بن گئے۔
جیسے سورۃ تبارک کی آیت میں ہے «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ» ۱؎ [67-الملك:8-10] ’ جب جہنم میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا۔ اس سے وہاں کے محافظ پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں آیا تو تھا لیکن ہم نے اس کی تکذیب کی اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا تم بڑی بھاری غلطی میں ہو۔ اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو آج دوزخیوں میں نہ ہوتے ‘۔ «فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ» [67-الملك:11] یعنی ’ اپنے آپ کو آپ ملامت کرنے لگیں گے اپنے گناہ کا خود اقرار کریں گے ‘۔ اللہ فرمائے گا ’ دوری اور خسارہ ہو، لعنت و پھٹکار ہو اہل دوزخ پر ‘، کہا جائے گا یعنی ہر وہ شخص جو انہیں دیکھے گا اور ان کی حالت کو معلوم کرے گا وہ صاف کہہ اٹھے گا کہ بے شک یہ اسی لائق ہیں۔ اسی لیے کہنے والے کا نام نہیں لیا گیا بلکہ اسے مطلق چھوڑا گیا تاکہ اس کا عموم باقی رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے عدل کی گواہی کامل ہو جائے ان سے کہہ دیا جائے گا کہ اب جاؤ جہنم میں یہیں ہمیشہ جلتے بھلستے رہنا نہ یہاں سے کسی طرح کسی وقت چھٹکارا ملے نہ تمہیں موت آئے۔ آہ! یہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے جس میں دن رات جلنا ہی جلنا ہے۔ یہ ہے تمہارے تکبر کا اور حق کو نہ ماننے کا بدلہ۔ جس نے تمہیں ایسی بری جگہ پہنچایا اور یہیں کر دیا۔ کیا ہی برا حال ہے؟ اور کیا ہی عبرتناک مال ہے؟ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
71۔ 1 زمر زَمَرَ سے مشتق ہے بمعنی آواز ہر گروہ یا جماعت میں شور اور آوازیں ضرور ہوتی ہیں اس لیے یہ جماعت اور گروہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ کافروں کو جہنم کی طرف گروہوں کی شکل میں لے جایا جائے گا ایک گروہ کے پیچھے ایک گروہ۔ علاوہ ازیں انہیں مار دھکیل کر جانوروں کے ریوڑ کی طرح ہنکایا جائے گا۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا یوم یدعون الی نار جہنم دعا الطور یعنی انہیں جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جائے گا۔ 71۔ 2 یعنی ان کے پہنچتے ہی فورا جہنم کے ساتوں دروازے کھول دیئے جائیں گے تاکہ سزا میں تاخیر نہ ہو۔ 71۔ 3 یعنی جس طرح دنیا میں بحث و تکرار اور جدال و مناظرہ کرتے تھے، وہاں سب کچھ آنکھوں کے سامنے آجانے کے بعد بحث وجدال کی گنجایش ہی باقی نہ رہے گی، اس لئے اعتراف کیے بغیر چارہ نہ ہوگا۔ 71۔ 4 یعنی ہم نے پیغمبروں کی تکذیب اور مخالفت کی اس شقاوت کی وجہ سے جس کے ہم مستحق تھے جب کہ ہم نے حق سے گریز کر کے باطل کو اختیار کیا اس مضمون کو سورة الملک میں زیادہ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
(آیت 71) ➊ {وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا: ”سَاقَ يَسُوْقُ سَوْقًا“} (ن) کسی کو اپنے آگے رکھ کر پیچھے سے ہانکنا، اس میں ہانکے جانے والے کی ذلت کا اظہار ہوتا ہے۔ آگے رہ کر کسی کو اپنے پیچھے چلانے کے لیے {”قَادَ يَقُوْدُ“} کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ {” زُمَرًا “ ”زُمْرَةٌ“ } کی جمع ہے، وہ گروہ جس کے پیچھے اور گروہ ہو۔ {”زُمْرَةٌ مِنَ النَّاسِ“} اس جماعت کو کہا جاتا ہے جس کے پیچھے اور جماعت آ رہی ہو۔ ➋ پچھلی آیات میں قیامت کے دن حق کے ساتھ فیصلے کا ذکر ہے، ان آیات میں اس فیصلے پر عمل کا ذکر ہے۔ چنانچہ پہلے عذاب کے مستحق لوگوں کا ذکر فرمایا ہے، کیونکہ مقام ان لوگوں کو نصیحت اور ڈرانے کا ہے جو اتنی نصیحت اور اس قدر دلائل سن کر بھی کفر پر جمے رہے۔ ➌ یعنی جب کافروں کا جرم ثابت ہونے کے بعد فیصلہ کر دیا جائے گا تو ٹولیاں بنا کر انھیں زبردستی ہانکتے ہوئے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، جیسا کہ فرمایا: «يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا» [ الطور: ۱۳ ] ”جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، بری طرح دھکیلا جانا۔“ مختلف گروہوں میں تقسیم یا تو کفر کی درجہ بندی کے لحاظ سے ہو گی کہ منافق درک اسفل میں ہوں گے اور کچھ وہ بھی ہوں گے جنھیں صرف آگ کا جوتا پہنایا جائے گا، یا زمانے کے لحاظ سے کہ پہلے لوگ پہلے اور بعد کے لوگ بعد میں داخل ہوں گے۔ (دیکھیے اعراف: ۳۸) ایک تقسیم مجرموں کی مختلف اقسام کے لحاظ سے بھی ہو گی، مثلاً چوروں کا گروہ، بدکاروں کا گروہ وغیرہ۔ دیکھیے سورۂ صافات (۲۲) اور سورۂ حٰمٓ السجدہ (۱۹)۔ ➍ { حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا:} یعنی ان کے آنے پر جہنم کے دروازے، جو پہلے بند تھے، کھولے جائیں گے، جس طرح قید خانے کے دروازے صرف مجرموں کی آمد پر کھولے جاتے ہیں اور پھر ان پر بند کر دیے جاتے ہیں، تاکہ وہ وہیں قید رہیں۔ ➎ {وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ: ”خَزَنَةٌ“ ”خَازِنٌ“} کی جمع ہے، جیسا کہ {”طَلَبَةٌ“ ”طَالِبٌ“} کی جمع ہے۔ دربان کو خازن کہا جاتا ہے، کیونکہ عموماً دربان وہیں ہوتے ہیں جہاں قیمتی چیزوں کا خزانہ ہو۔ جہنم کے دربانوں کی صفت کے لیے دیکھیے سورۂ تحریم (۶)۔ ➏ { اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ …:} جہنم کے سخت دل، سخت لہجے اور قوت والے فرشتے ان سے یہ بات پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ انھیں ملامت کرنے اور ڈانٹنے کے لیے کہیں گے، جسمانی عذاب کے ساتھ یہ عذاب مزید ہو گا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۲۰) اور سورۂ ملک (۸ تا ۱۱)۔ ➐ { قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ …:} یعنی ہاں آئے تھے اور انھوں نے ڈرایا بھی تھا، مگر ہم ہی ایسے اعمال کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ بات جو اس نے جہنم کو کافر جنوں اور انسانوں سے بھرنے کے متعلق فرمائی تھی (دیکھیے السجدہ: ۱۳) وہ ہمارے حق میں سچی ثابت ہوئی۔
کہا جائے گا، داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں، یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، بڑا ہی برا ٹھکانا ہے یہ متکبروں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہا جائے گا کہ اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ جہاں ہمیشہ رہیں گے، پس سرکشوں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا جائے گا جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے، تو کیا ہی برا ٹھکانا متکبروں کا،
علامہ محمد حسین نجفی
(پھر ان سے) کہا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ رہنے کیلئے کتنا برا ٹھکانا ہے متکبروں کا۔
عبدالسلام بن محمد
کہا جائے گا جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، اس میں ہمیشہ رہنے والے، پس وہ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کی آخری منزل ٭٭
بدنصیب منکرین حق، کفار کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ’ وہ جانوروں کی طرح رسوائی، ذلت ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکی سے جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے ‘۔ جیسے اور آیت «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا» ۱؎ [52-الطور:13] میں «يُدَعُّونَ» کا لفظ ہے یعنی ’ دھکے دیئے جائیں گے‘ اور سخت پیاسے ہوں گے۔ جیسے اللہ جل و علا نے فرمایا «يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَـٰنِ وَفْدًا وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرْدًا» ۱؎ [19-مريم:86-85] ، ’ جس روز ہم پرہیزگاروں کو رحمان کے مہمان بنا کر جمع کریں گے اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے ‘۔ «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا مَّأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا» ۱؎ [17-الإسراء:97] ’ اس کے علاوہ وہ بہرے گونگے اور اندھے ہوں گے اور منہ کے بل گھسیٹ کر لائیں گے ‘۔ یہ اندھے گونگے اور بہرے ہوں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہو گا جب اس کی آتش دھیمی ہونے لگے ہم اسے اور تیز کر دیں گے۔ یہ قریب پہنچیں گے دروازے کھل جائیں گے تاکہ فوراً ہی عذاب نار شروع ہو جائے۔ پھر انہیں وہاں کے محافظ فرشتے شرمندہ کرنے کیلئے اور ندامت بڑھانے کیلئے ڈانٹ کر اور گھرک کر کہیں گے کیونکہ ان میں رحم کا تو مادہ ہی نہیں سراسر سختی کرنے والے سخت غصے والے اور بڑی بری طرح مار مارنے والے ہیں کہ کیا تمہارے پاس تمہاری ہی جنس کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں آئے تھے؟ جن سے تم سوال جواب کر سکتے تھے اپنا اطمینان اور تسلی کر سکتے تھے ان کی باتوں کو سمجھ سکتے تھے ان کی صحبت میں بیٹھ سکتے تھے، انہوں نے اللہ کی آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائیں اپنے لائے ہوئے سچے دین پر دلیلیں قائم کر دیں۔ تمہیں اس دن کی برائیوں سے آگاہ کر دیا۔ آج کے عذابوں سے ڈرایا۔ کافر اقرار کریں گے کہ ہاں یہ سچ ہے بیشک اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں آئے۔ انہوں نے دلیلیں بھی قائم کیں ہمیں بہت کچھ کہا سنا بھی۔ ڈرایا دھمکایا بھی۔ لیکن ہم نے ان کی ایک نہ مانی بلکہ ان کے خلاف کیا مقابلہ کیا کیونکہ ہماری قسمت میں ہی شقاوت تھی۔ ازلی بدنصیب ہم تھے۔ حق سے ہٹ گئے اور باطل کے طرفدار بن گئے۔
جیسے سورۃ تبارک کی آیت میں ہے «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ» ۱؎ [67-الملك:8-10] ’ جب جہنم میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا۔ اس سے وہاں کے محافظ پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں آیا تو تھا لیکن ہم نے اس کی تکذیب کی اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا تم بڑی بھاری غلطی میں ہو۔ اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو آج دوزخیوں میں نہ ہوتے ‘۔ «فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ» [67-الملك:11] یعنی ’ اپنے آپ کو آپ ملامت کرنے لگیں گے اپنے گناہ کا خود اقرار کریں گے ‘۔ اللہ فرمائے گا ’ دوری اور خسارہ ہو، لعنت و پھٹکار ہو اہل دوزخ پر ‘، کہا جائے گا یعنی ہر وہ شخص جو انہیں دیکھے گا اور ان کی حالت کو معلوم کرے گا وہ صاف کہہ اٹھے گا کہ بے شک یہ اسی لائق ہیں۔ اسی لیے کہنے والے کا نام نہیں لیا گیا بلکہ اسے مطلق چھوڑا گیا تاکہ اس کا عموم باقی رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے عدل کی گواہی کامل ہو جائے ان سے کہہ دیا جائے گا کہ اب جاؤ جہنم میں یہیں ہمیشہ جلتے بھلستے رہنا نہ یہاں سے کسی طرح کسی وقت چھٹکارا ملے نہ تمہیں موت آئے۔ آہ! یہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے جس میں دن رات جلنا ہی جلنا ہے۔ یہ ہے تمہارے تکبر کا اور حق کو نہ ماننے کا بدلہ۔ جس نے تمہیں ایسی بری جگہ پہنچایا اور یہیں کر دیا۔ کیا ہی برا حال ہے؟ اور کیا ہی عبرتناک مال ہے؟ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 72){ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ:} اس جملے سے معلوم ہوا کہ جہنم میں جانے کی سب سے بڑی وجہ تکبر (یعنی اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر حق کا انکار) ہے۔ ابلیس کا بھی اصل جرم تکبر ہی تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے الگ الگ جرم گنانے کے بجائے تمام جرائم کا اصل ذکر فرما دیا، جو تمام مجرموں میں مشترک ہے۔
اور جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے، اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جا چکے ہوں گے، تو اُس کے منتظمین ان سے کہیں گے کہ "سلام ہو تم پر، بہت اچھے رہے، داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ کے لیے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کے گروه کے گروه جنت کی طرف روانہ کیے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آ جائیں گے اور دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہاں کے نگہبان ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم خوش حال رہو تم اس میں ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اور جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کی سواریاں گروہ گروہ جنت کی طرف چلائی جائیں گی، یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے سلام تم پر تم خوب رہے تو جنت میں جاؤ ہمیشہ رہنے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے تھے وہ گروہ در گروہ بہشت کی طرف لے جائے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھولے جا چکے ہوں گے اور اس کے نگہبان ان سے کہیں گے سلامٌ علیکم (سلام ہو تم پر) تم پاک ہو! اب تم اس میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ رہنے کیلئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازے کھول دیے گئے ہوں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم پاکیزہ رہے، پس اس میں داخل ہو جاؤ، ہمیشہ رہنے والے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
متقیوں کی آخری منزل ٭٭
اوپر بدبختوں کا انجام اور ان کا حال بیان ہوا یہاں سعادت مندوں کا نتیجہ بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ بہترین خوبصورت اونٹنیوں پر سوار ہو کر جنت کی طرف پہنچائے جائیں گے ‘۔ ان کی بھی جماعتیں ہوں گی مقربین خاص کی جماعت، پھر برابر کی، پھر ان سے کم درجے والوں کی، پھر ان سے کم درجے والوں کی، ہر جماعت اپنے مناسب لوگوں کے ساتھ ہو گی، انبیاء انبیاء علیہم السلام کے ہمراہ، صدیق اپنے جیسوں کے ساتھ، شہید لوگ اپنے والوں کے ہمراہ، علماء اپنے جیسوں کے ساتھ، غرض ہر ہم جنس اپنے میل کے لوگوں کے ساتھ ہوں گے جب وہ جنت کے پاس پہنچیں گے پل صراط سے پار ہو چکے ہوں گے، وہاں ایک پل پر ٹھہرائے جائیں گے اور ان میں آپس میں جو مظالم ہوں گے ان کا قصاص اور بدلہ ہو جائے گا۔ جب پاک صاف ہو جائیں گے تو جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے۔ صور کی مطول حدیث میں ہے کہ { جنت کے دروازوں پر پہنچ کر یہ آپس میں مشورہ کریں گے کہ دیکھو سب سے پہلے کسے اجازت دی جاتی ہے، پھر وہ آدم علیہ السلام کا قصد کریں گے۔ پھر نوح علیہ السلام کا پھر ابراہیم علیہ السلام کا پھر موسیٰ علیہ السلام کا پھر عیسیٰ علیہ السلام کا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم و علیہم کا۔ جیسے میدان محشر میں شفاعت کے موقعہ پر بھی کیا تھا۔ اس سے بڑا مقصد جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا موقعہ بموقعہ اظہار کرنا ہے }۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { میں جنت میں پہلا سفارشی ہوں }۔ ایک اور روایت میں ہے { میں پہلا وہ شخص ہوں جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:196] مسند احمد میں ہے { میں قیامت کے دن جنت کا دروازہ کھلوانا چاہوں گا تو وہاں کا دروازہ مجھ سے پوچھے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ کہے گا مجھے یہی حکم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے جنت کا دروازہ کسی کیلئے نہ کھولوں }۔۱؎ [صحیح مسلم:197]
مسند احمد میں ہے کہ { پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہوں گے، تھوک، رینٹ پیشاب، پاخانہ وہاں کچھ نہ ہو گا۔ ان کے برتن اور سامان آرائش سونے چاندی کا ہو گا۔ ان کی انگیٹھیوں میں بہترین اگر خوشبو دے رہا ہو گا ان کا پسینہ مشک ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا بوجہ حسن و نزاکت صفائی اور نفاست کے گوشت کے پیچھے سے نظر آ رہا ہو گا۔ کسی دو میں کوئی اختلاف اور حسد و بغض نہ ہو گا۔ سب گھل مل کر ایسے ہوں گے جیسے ایک شخص کا دل }۔۱؎ [صحیح بخاری:3245] { جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ ان کے بعد والی جماعت کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے بہترین چمکتا ستارہ پھر قریب قریب اوپر والی حدیث کے بیان ہے اور یہ بھی ہے کہ ان کے قد ساٹھ ہاتھ کے ہوں گے۔ جیسے آدم علیہ السلام کا قد تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3327] اور حدیث میں ہے کہ { میری امت کی ایک جماعت جو ستر ہزار کی تعداد میں ہو گی پہلے پہل جنت میں داخل ہو گی ان کے چہرے چودھریں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی انہی میں سے کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ { اللہ انہیں بھی انہی میں سے کر دے }، پھر ایک انصاری نے بھی یہی عرض کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عکاشہ تجھ پر سبقت لے گیا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5811] ان ستر ہزار کا بے حساب جنت میں داخل ہونا بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ بخاری مسلم میں ہے کہ { سب ایک ساتھ ہی جنت میں قدم رکھیں گے ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6543] ابن ابی شیبہ میں ہے { مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے ان سے نہ حساب ہو گا نہ انہیں عذاب ہو گا۔ ان کے علاوہ اور تین لپیں بھر کر، جو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھوں سے لپ بھر کر جنت میں پہنچائے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2437،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔ اس روایت میں ہے پھر ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے۔۱؎ [طبرانی کبیر:126/17:اسنادہ ضعیف وله شواهد صحیحه] اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں۔ جب یہ سعید بخت بزرگ جنت کے پاس پہنچ جائیں گے۔ ان کیلئے دروازے کھل جائیں گے ان کی وہاں عزت و تعظیم ہو گی وہاں کے محافظ فرشتے انہیں بشارت سنائیں گے ان کی تعریفیں کریں گے انہیں سلام کریں گے۔ اس کے بعد کا جواب قرآن میں محذوف رکھا گیا ہے تاکہ عمومیت باقی رہے۔
مطلب یہ ہے کہ اس وقت یہ پورے خوش وقت ہو جائیں گے بے انداز سرور راحت آرام و چین انہیں ملے گا۔ ہر طرح کی آس اور بھلائی کی امید بندھ جائے گی۔ ہاں یہاں یہ بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ بعض لوگوں نے جو کہا ہے کہ «وَفُتِحَتْ» میں واؤ آٹھویں ہے اور اس سے استدلال کیا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں، انہوں نے بڑا تکلف کیا ہے اور بیکار مشقت اٹھائی ہے۔ جنت کے آٹھ دروازوں کا ثبوت تو صحیح احادیث میں صاف موجود ہے۔ مسند احمد میں ہے { جو شخص اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کر لے وہ جنت کے سب دروازوں سے بلایا جائے گا۔ جنت کے کئی ایک دروازے ہیں نمازی باب الصلوۃ سے سخی باب الصدقہ سے مجاہد باب جہاد سے روزے دار باب الریان سے بلائے جائیں گے یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو اس کی ضرورت تو نہیں کہ ہر دروازے سے پکارا جائے جس سے بھی پکارا جائے مقصد تو جنت میں جانے سے ہے، لیکن کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے کل دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہی میں سے ہو گے} }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1897] یہ حدیث بخاری مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔
بخاری مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے { جنت میں آٹھ دروازے ہیں۔ جن میں سے ایک کا نام ”باب الریان“ ہے اس میں سے صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1896] صحیح مسلم میں ہے { تم میں سے جو شخص کامل مکمل بہت اچھی طرح مل مل کر وضو کرے پھر «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ واَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:234] اور حدیث میں ہے { جنت کی کنجی «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:242/5:ضعیف] ”جنت کے دروازوں کی کشادگی کا بیان“ اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے۔ شفاعت کی مطول حدیث میں ہے کہ { پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی امت میں سے جن پر حساب نہیں انہیں داہنی طرف کے دروازے سے جنت میں لے جاؤ ‘ لیکن اور دروازوں میں بھی یہ دوسروں کے ساتھ شریک ہیں۔ اس قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے کہ جنت کی چوکھٹ اتنی بڑی وسعت والی ہے جتنا فاصلہ مکہ اور ہجر میں ہے۔ یا فرمایا ہجر اور مکہ میں ہے ایک روایت میں ہے مکہ اور بصریٰ میں ہے۔}۔۱؎ [صحیح بخاری:4812]
حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں بیان فرمایا کہ { ہم سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جنت کے دروازے کی وسعت چالیس سال کی راہ ہے۔ ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جب کہ جنت میں جانے والوں کی بھیڑ بھاڑ سے یہ وسیع دروازے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2967] مسند میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت کی چوکھٹ چالیس سال کی راہ کی ہے } ۱؎ [مسند احمد:29/3:صحیح وهذا اسناد ضعیف] ، یہ جب جنت کے پاس پہنچیں گے انہیں فرشتے سلام کریں گے اور مبارکباد دیں گے کہ تمہارے اعمال تمہارے اقوال تمہاری کوشش اور تمہارا بدلہ ہرچیز خوشی والی اور عمدگی والی ہے۔
جیسے کہ { حضور علیہ السلام نے کسی غزوے کے موقعہ پر اپنے منادی سے فرمایا تھا { جاؤ ندا کر دو کہ جنت میں صرف مسلمان لوگ ہی جائیں گے } یا فرمایا تھا { صرف مومن ہی } } ۱؎ [صحیح بخاری:4204] ۔ فرشتے ان سے کہیں گے کہ تم اب یہاں سے نکالے نہ جاؤ گے بلکہ یہاں تمہارے لیے دوام ہے، اپنا یہ حال دیکھ کر خوش ہو کر جنتی اللہ کا شکر ادا کریں گی اور کہیں گے کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جو وعدہ ہم سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانی کیا تھا اسے پورا کیا۔ یہی دعا ان کی دنیا میں تھی «رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰي رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ» ۱؎ [3-آل عمران:194] یعنی ’ اے ہمارے پروردگار ہمیں وہ دے جس کا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کی زبانی ہم سے کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر یقیناً تیری ذات وعدہ خلافی سے پاک ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ ’ اس موقعہ پر اہل جنت یہ بھی کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی اگر وہ ہدایت نہ کرتا تو ہم ہدایت نہ پاسکتے۔ یقیناً اللہ کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔ وہ یہ بھی کہیں گے کہ اللہ ہی کیلئے سب تعریف ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا یقیناً ہمارا رب بخشنے والا اور قدر کرنے والا ہے۔ جس نے اپنے فضل و کرم سے یہ پاک جگہ ہمیں نصیب فرمائی جہاں ہمیں نہ کوئی دکھ درد ہے نہ رنج و تکلیف، یہاں ہے کہ یہ کہیں گے اس سے ہمیں جنت کی زمین کا وارث کیا ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» ۱؎ [21-سورةالأنبياء:105] ، ’ ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے ‘۔ اسی طرح آج جنتی کہیں گے کہ اس جنت میں ہم جہاں جگہ بنا لیں کوئی روک ٹوک نہیں۔ یہ ہے بہترین بدلہ ہمارے اعمال کا۔
معراج والے واقعہ میں بخاری و مسلم میں ہے کہ { جنت کے ڈیرے خیمے لولو کے ہیں اور اس کی مٹی مشک خالص ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:349] { ابن صائد سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی مٹی کا سوال کیا تو اس نے کہا سفید میدے جیسی مشک خالص۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ سچا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2928]
مسلم ہی کی اور روایت میں ہے کہ { ابن صائد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2928] ابن ابی حاتم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ ”جنت کے دروازے پر پہنچ کر یہ ایک درخت کو دیکھیں گے جس کی جڑ میں سے دو نہریں نکلتی ہوں گی۔ ایک میں وہ غسل کریں گے جس سے اس قدر پاک صاف ہو جائیں گے کہ ان کے جسم اور چہرے چمکنے لگیں گے۔ ان کے بال کنگھی کئے ہوئے تیل والے ہو جائیں گے کہ پھر کبھی سلجھانے کی ضرورت ہی نہ پڑے نہ چہرے اور جسم کا رنگ روپ ہلکا پڑے۔ پھر یہ دوسری نہر پر جائیں گے گویا کہ ان سے کہہ دیا گیا ہو اس میں سے پانی پئیں گے جن سے تمام گھن کی چیزوں سے پاک ہو جائیں گے جنت کے فرشتے انہیں سلام کریں گے مبارکباد پیش کریں گے اور انہیں جنت میں لے جانے کیلئے کہیں گے۔ ہر ایک کے پاس اس کے غلمان آئیں گے اور خوشی خوشی ان پر قربان ہوں گے اور کہیں گے آپ خوش ہو جایئے اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے طرح طرح کی نعمتیں مہیا کر رکھی ہیں ان میں سے کچھ بھاگے دوڑے جائیں گے اور جو حوریں اس جنتی کیلئے مخصوص ہیں ان سے کہیں گے لو مبارک ہو فلاں صاحب آ گئے۔ نام سنتے ہی خوش ہو کر وہ پوچھیں گی کہ کیا تم نے خود انہیں دیکھا ہے؟ وہ کہیں گے ہاں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہے ہیں۔ یہ مارے خوشی کے دروازے پر آکھڑی ہوں گی۔ جنتی جب اپنے محل میں آئے گا تو دیکھے گا کہ گدے برابر برابر لگے ہوئے ہیں۔ اور آب خورے رکھے ہوئے ہیں اور قالین بچھے ہوئے ہیں۔ اس فرش کو ملاحظہ فرما کر اب جو دیواروں کی طرف نظر کرے گا تو وہ سرخ و سبز اور زرد و سفید اور قسم قسم کے موتیوں کی بنی ہوئی ہوں گی۔ پھر چھت کی طرف نگاہ اٹھائے گا تو وہ اس قدر شفاف اور مصفا ہو گی کہ نور کی طرح چمک دمک رہی ہو گی۔ اگر اللہ اسے برقرار نہ رکھے تو اس کی روشنی آنکھوں کی روشنی کو بجھا دے۔ پھر اپنی بیویوں پر یعنی جنتی حوروں پر محبت بھری نگاہ ڈالے گا۔ پھر اپنے تختوں میں سے جس پر اس کا جی چاہے بیٹھے گا۔ اور کہے گا اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی۔ اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا تو ہم تو ہرگز اسے تلاش نہیں کر سکتے تھے۔“
اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب یہ اپنی قبروں سے نکلیں گے، ان کا استقبال کیا جائے گا ان کیلئے پروں والی اونٹنیاں لائی جائیں گی جن پر سونے کے کجاوے ہوں گے ان کی جوتیوں کے تسمے تک نور سے چمک رہے ہوں گے۔ یہ اونٹنیاں ایک ایک قدم اس قدر دور رکھتی ہیں جہاں تک انسان کی نگاہ جا سکتی ہے۔ یہ ایک درخت کے پاس پہنچیں گی جس کے نیچے سے نہریں نکلتی ہیں۔ ایک کا پانی یہ پئں گے جس سے ان کے پیٹ کی تمام فضولیات اور میل کچیل دھل جائے گا دوسری نہر سے یہ غسل کریں گے پھر ہمیشہ تک ان کے بدن میلے نہ ہوں گے ان کے بال پراگندہ نہ ہوں گے اور ان کے جسم اور چہرے بارونق رہیں گے۔ اب یہ جنت کے دروازوں پر آئیں گے دیکھیں گے کہ ایک کنڈا سرخ یاقوت کا ہے جو سونے کی تختی پر آویزاں ہے۔ یہ اسے ہلائیں گے تو ایک عجیب سریلی اور موسیقی صدا پیدا ہو گی اسے سنتے ہی حور جان لے گی کہ اس کے خاوند آ گئے یہ داروغے کو حکم دیں گی کہ جاؤ دروازہ کھولو وہ دروازہ کھول دے گا یہ اندر قدم رکھتے ہی اس داروغے کی نورانی شکل دیکھ کر سجدے میں گر پڑے گا لیکن وہ اسے روک لے گا اور کہے گا اپنا سر اٹھا میں تو تیرا ماتحت ہوں۔ اور اسے اپنے ساتھ لے چلے گا }۔
{ جب یہ اس در و یاقوت کے خیمے کے پاس پہنچے گا جہاں اس کی حور ہے وہ بیتابانہ دوڑ کر خیمے سے باہر آ جائے گی اور بغل گیر ہو کر کہے گی تم میرے محبوب ہو اور میں تمہاری چاہنے والی ہوں میں یہاں ہمیشہ رہنے والی ہوں مروں گی نہیں۔ میں نعمتوں والی ہوں فقر و محتاجی سے دور ہوں۔ میں آپ سے ہمیشہ راضی خوشی رہوں گی کبھی ناراض نہیں ہوں گی۔ میں ہمیشہ آپ کی خدمت میں حاضر رہنے والی ہوں کبھی ادھر ادھر نہیں ہٹوں گی۔ پھر یہ گھر میں جائے گا جس کی چھت فرش سے ایک لاکھ ہاتھ بلند ہو گی۔ اس کی کل دیواریں قسم قسم کے اور رنگ برنگے موتیوں کی ہوں گی اس گھر میں ستر تخت ہوں گے اور ہر تخت پر ستر ستر چھولداریاں ہوں گی اور ان میں سے ہر بستر پر ستر حوریں ہوں گی ہر حور پر ستر جوڑے ہوں گے اور ان سب حلوں کے نیچے سے ان کی پنڈلی کا گودا نظر آتا ہوگا۔ ان کے ایک جماع کا اندازہ ایک پوری رات کا ہوگا۔ ان کے باغوں اور مکانوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جن کا پانی کبھی بدبودار نہیں ہوتا صاف شفاف موتی جیسا پانی ہے اور دودھ کی نہریں ہوں گی جن کا مزہ کبھی نہیں بدلتا۔ جو دودھ کسی جانور کے تھن سے نہیں نکلا۔ اور شراب کی نہریں ہوں گی جو نہایت لذیذ ہو گا جو کسی انسانی ہاتھوں کا بنایا ہوا نہیں۔ اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی جو مکھیوں کے پیٹ سے حاصل شدہ نہیں۔ قسم قسم کے میووں سے لدے ہوئے درخت اس کے چاروں طرف ہوں گے جن کا پھل ان کی طرف جھکا ہوا ہو گا۔ یہ کھڑے کھڑے پھل لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں اگر یہ بیٹھے بیٹھے پھل توڑنا چاہیں تو شاخیں اتنی جھک جائیں گی کہ یہ توڑ لیں اگر یہ لیٹے لیٹے پھل لینا چاہیں تو شاخیں اتنی جھک جائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا» ۱؎ [76-الإنسان:14] ، پڑھی یعنی ’ ان جنتی درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان کے میوے بہت قریب کر دیئے جائیں گے ‘۔ یہ کھانا کھانے کی خواہش کریں گے تو سفید رنگ یا سبز رنگ پرندے ان کے پاس آ کر اپنا پر اونچا کر دیں گے یہ جس قسم کا اس کے پہلو کا گوشت چاہیں کھائیں گے پھر وہ زندہ کا زندہ جیسا تھا ویسا ہی ہو کر اڑ جائے گا۔ فرشتے ان کے پاس آئیں گے سلام کریں گے اور کہیں گے کہ یہ جنتیں ہیں جن کے تم اپنے اعمال کے باعث وارث بنائے گئے ہو۔ اگر کسی حور کا ایک بال زمین پر آ جائے تو وہ اپنی چمک سے اور اپنی سیاہی سے نور کو روشن کرے اور سیاہی نمایاں کرے }۔ ۱؎ [ضعیف] یہ حدیث غریب ہے گو کہ یہ مرسل ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اہل ایمان وتقوی بھی گروہوں کی شکل میں جنت کی طرف لے جائے جائیں گے پہلے مقربین پھر ابرار اس طرح درجہ بدرجہ ہر گروہ ہم مرتبہ لوگوں پر مشتمل ہوگا مثلا انبیاء علیم السلام کے ساتھ صدیقین شہدا اپنے ہم جنسوں کے ساتھ علماء اپنے اقران کے ساتھ یعنی ہر صنف اپنی ہی صنف یا اس کی مثل کے ساتھ ہوگی۔ ابن کثیر۔ حدیث میں آتا ہے جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک ریان ہے جس سے صرف روزے دار داخل ہونگے (صحیح بخاری) اسی طرح دوسرے دروازوں کے بھی نام ہوں گے جیسے باب الصلوۃ باب الصدقۃ باب الجہاد وغیرہ صحیح بخاری کتاب الصیام مسلم کتاب الزکوۃ ہر دروازے کی چوڑائی چالیس سال کی مسافت کے برابر ہوگی اس کے باوجود یہ بھرے ہوئے ہوں گے۔ (صحیح مسلم) سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے (مسلم) جنت میں سب سے پہلے جانے والے گروہ کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح اور دوسرے گرہ کے چہرے آسمان پر چمکنے والے ستاروں میں سے روشن ترین ستارے کی طرح چمکتے ہوں گے جنت میں وہ بول و براز اور تھوک بلغم سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی اور پسینہ کستوری ہوگا ان کی انگیٹھیوں میں خوشبو دار لکڑی ہوگی ان کی بیویاں الحور العین ہوں گی ان کا قد آدم ؑ کی طرح ساٹھ ہاتھ ہوگا (صحیح بخاری) صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مومن کو دو بیویاں ملیں گی ان کے حسن وجمال کا یہ حال ہوگا کہ ان کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا (کتاب بدء الخلق) بعض نے کہا یہ دو بیویاں حوروں کے علاوہ دنیا کی عورتوں میں سے ہوں گی لیکن چونکہ 72 حوروں والی روایت سندا صحیح نہیں اس لیے بظاہر یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ ہر جنتی کی کم از کم حور سمیت دو بیویاں ہوں گی تاہم و لھم فیھا ما یشتھون کے تحت زیادہ بھی ممکن ہیں واللہ اعلم
(آیت 73) ➊ {وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ …:} کفار کے انجام سے ڈرانے کے بعد متقین کے حسن انجام کی بشارت دی، کیونکہ قرآن مجید میں یہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِيْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا» [ مریم: ۹۷ ] ”تاکہ تو اس کے ساتھ متقی لوگوں کو خوش خبری دے اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائے جو سخت جھگڑا لو ہیں۔“ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ {”سَاقَ يَسُوْقُ“} میں سختی کے ساتھ ہانکنے کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسا کہ اوپر کی آیات میں کفار کو سختی سے ہانک کر جہنم کی طرف لے جانے کا ذکر ہے، تو یہاں متقین کو جنت کی طرف لے جانے کے لیے یہ لفظ کیوں استعمال کیا گیا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں یہ لفظ پہلے {” سِيْقَ “} کے ساتھ مشاکلت کے طور پر استعمال ہوا ہے، ورنہ یہاں اس لفظ سے مراد سختی سے لے جانا یا ہانکنا نہیں۔ اسے تجرید کہتے ہیں، یہاں اس سے مراد صرف لے جانا ہے۔ مقصد دونوں کو لے جانے کا باہمی فرق واضح کرنا ہے کہ اگرچہ دونوں کو لے جایا جائے گا، مگر کفار کو لے جانے میں سختی، دھکے اور اہانت و تذلیل ہو گی، جب کہ مومنوں کو اکرام کے ساتھ لے جایا جائے گا، جس کی دلیل بعد میں آنے والے الفاظ {” وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا “} اور {” وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا “} ہیں۔ ➌ { زُمَرًا:} یہ جماعتیں درجات کے لحاظ سے ہوں گی، چنانچہ سب سے بلند درجات والے پہلے داخل ہوں گے۔ (دیکھیے سورۂ واقعہ: ۱۰) مثلاً انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین، اسی طرح درجہ بدرجہ جماعتیں جنت میں داخل ہوں گی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُوْرَتُهُمْ عَلٰی صُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَا يَبْصُقُوْنَ فِيْهَا وَ لاَ يَمْتَخِطُوْنَ وَ لَا يَتَغَوَّطُوْنَ، آنِيَتُهُمْ فِيْهَا الذَّهَبُ، أَمْشَاطُهُمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَ مَجَامِرُهُمُ الْأُلُوَّةُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، وَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ، يُرٰی مُخُّ سُوْقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ، مِنَ الْحُسْنِ، لَا اخْتِلاَفَ بَيْنَهُمْ وَ لَا تَبَاغُضَ، قُلُوْبُهُمْ قَلْبٌ وَاحِدٌ، يُسَبِّحُوْنَ اللّٰهَ بُكْرَةً وَ عَشِيًّا ] [ بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ و أنھا مخلوقۃ: ۳۲۴۵ ] ”پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے، وہ نہ اس میں تھوکیں گے، نہ رینٹ پھینکیں گے اور نہ پاخانہ کریں گے۔ اس میں ان کے برتن سونے کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیاں {”اُلُوَّه“ } (جل کر خوشبو دینے والی ایک لکڑی) کی ہوں گی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا، ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں وہ ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا مغز حسن کی وجہ سے گوشت کے پیچھے سے دکھائی دے گا، ان میں نہ کوئی اختلاف ہوگا، نہ ایک دوسرے سے کوئی بغض ہو گا، ان کے دل ایک دل ہوں گے، صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کریں گے۔“ صحیح مسلم میں اسی حدیث میں ہے: [ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِيْ عَلٰی صُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ عَلٰی أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ مَنَازِلُ ] [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمہا و أھلھا، باب أول زمرۃ تدخل الجنۃ…: ۱۶؍۲۸۳۴ ] ”میری امت کی پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی ان کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح ہوں گے، پھر جو ان کے بعد جائیں گے وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے، پھر اس کے بعد ان کے مختلف مراتب ہوں گے۔“ ➍ جنتیوں کے گروہوں کی ایک تقسیم مختلف صالح اعمال میں خصوصیت کی بنا پر ہو گی، جن کی بنا پر انھیں مختلف دروازوں سے بلایا جائے گا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ يَعْنِی الْجَنَّةَ يَا عَبْدَ اللّٰهِ! هٰذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصِّيَامِ، وَ بَابِ الرَّيَّانِ، فَقَالَ أَبُوْ بَكْرٍ مَا عَلٰی هٰذَا الَّذِيْ يُدْعٰی مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُوْرَةٍ، وَ قَالَ هَلْ يُدْعٰی مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ نَعَمْ، وَ أَرْجُوْ أَنْ تَكُوْنَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ! ] [بخاري، باب فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب: ۳۶۶۶ ] ”جو شخص کسی چیز کا ایک جوڑا اللہ کے راستے میں خرچ کرے گا اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا، اے اللہ کے بندے! یہ خیر ہے۔ تو جو شخص نماز والوں سے ہو گا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو جہاد والوں سے ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو صدقہ والوں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزے والوں سے ہو گا اسے روزے کے دروازے اور باب الریان (سیرابی کے دروازے) سے بلایا جائے گا۔“ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جس شخص کو ان دروازوں سے بلایا جائے اسے کوئی ضرورت تو نہیں، مگر یا رسول اللہ! کیا کسی کو ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور میں امید کرتا ہوں کہ اے ابوبکر! تم بھی ان میں سے ہو گے۔“ ➎ {حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا:} یہاں {” فُتِحَتْ “} سے پہلے ”واؤ“ لانے کا مطلب یہ ہے کہ متقین کی آمد پر جنت کے دروازے پہلے ہی کھول دیے گئے ہوں گے، جیسے کسی معظم و مکرم مہمان کے انتظار میں پہلے ہی دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں۔ اسی کو دوسری آیت میں صراحت کے ساتھ فرمایا: «جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ» [ صٓ: ۵۰ ] ”ہمیشہ رہنے کے باغات، اس حال میں کہ ان کے لیے دروازے پورے کھولے ہوئے ہوں گے۔“ جنت کے آٹھ دروازے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فِي الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ، فِيْهَا بَابٌ يُسَمَّی الرَّيَّانَ لاَ يَدْخُلُهُ إِلاَّ الصَّائِمُوْنَ ] [ بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ أبواب الجنۃ: ۳۲۵۷ ] ”جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ایک دروازے کا نام ریّان ہے، اس میں سے صرف خاص روزے دار داخل ہوں گے۔“ ➏ { وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ …:} کفار کے برعکس متقین کی جنت کے پاس آمد پر اس کے دربان فرشتے نہایت محبت کے ساتھ ان کا اکرام اور عزت افزائی کرتے ہوئے انھیں تین باتیں کہیں گے، پہلی یہ کہ تم پر سلام ہے، یعنی اب تم ہر تکلیف، غم اور خوف سے سلامت رہو گے۔ دوسری بات {” طِبْتُمْ “} ہے، اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ تم اس سے پہلے دنیا میں کفر و شرک سے پاک رہے، سو اس میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ رہنے والے، دوسرا یہ کہ اب تم ہر گناہ اور بری بات سے پاک ہو گئے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنَ النَّارِ، فَيُحْبَسُوْنَ عَلٰی قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَ النَّارِ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ، مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتّٰي إِذَا هُذِّبُوْا وَ نُقُّوْا أُذِنَ لَهُمْ فِيْ دُخُوْلِ الْجَنَّةِ ] [ بخاري، الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ: ۶۵۳۵ ] ”مومن آگ سے بچ کر نکلیں گے تو انھیں جنت اور آگ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، پھر انھیں ایک دوسرے سے ان زیادتیوں کا بدلا دلایا جائے گا جو دنیا میں آپس میں ہوئیں، پھر جب خوب پاک صاف ہو جائیں گے تو انھیں جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔“ تیسری بات یہ کہیں گے کہ چونکہ تم پاک ہو چکے، سو اب تم جنت میں ہمیشہ رہنے والے بن کر داخل ہو جاؤ۔ جنت میں داخلہ ہی بہت بڑی بشارت ہے، اس کے ساتھ ہمیشگی کی بشارت کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ [ آمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ ] ➐ کفار کے متعلق جو فرمایا: {” اِذَا جَآءُوْهَا “} (جب وہ اس کے پاس آئیں گے) اس شرط کی جزا {” وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا “} (تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے) ہے، مگر متقین کے متعلق تینوں جملے شرط کا حصہ ہیں {” اِذَا جَآءُوْهَا “، ” وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا “ اور ” وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا “} ان کی جزا حذف کر دی گئی ہے، کیونکہ اس دنیا میں انسانی فکر اس کی بلندی تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ گویا عبارت یوں ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازے کھول دیے گئے ہوں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم پاکیزہ رہے، پس اس میں داخل ہو جاؤ، پاکیزہ رہنے والے، تو مت پوچھو کہ وہ کس قدر خوش ہوں گے، کیونکہ تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ کتنی بڑی نعمت حاصل کریں گے۔
اور وہ کہیں گے "شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا، اب ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں" پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ کہیں گے کہ اللہ کاشکر ہے کہ جس نے ہم سے اپنا وعده پورا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں پس عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا بدلہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں رہیں جہاں چاہیں، تو کیا ہی اچھا ثواب کامیوں (اچھے کام کرنیوالوں) کا
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ کہیں گے کہ سب تعریف (اور شکر) ہے اس خدا کا جس نے ہم سے کیا ہوا اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور ہمیں (اس) زمین کا وارث بنایا کہ اب ہم جنت میں جہاں چاہیں گے وہاں رہیں گے۔ کتنا اچھا صلہ ہے (نیک) عمل کرنے والوں کا۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ ہم جنت میں سے جہاں چاہیں جگہ بنا لیں۔ سو عمل کرنے والوں کا یہ اچھا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
متقیوں کی آخری منزل ٭٭
اوپر بدبختوں کا انجام اور ان کا حال بیان ہوا یہاں سعادت مندوں کا نتیجہ بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ بہترین خوبصورت اونٹنیوں پر سوار ہو کر جنت کی طرف پہنچائے جائیں گے ‘۔ ان کی بھی جماعتیں ہوں گی مقربین خاص کی جماعت، پھر برابر کی، پھر ان سے کم درجے والوں کی، پھر ان سے کم درجے والوں کی، ہر جماعت اپنے مناسب لوگوں کے ساتھ ہو گی، انبیاء انبیاء علیہم السلام کے ہمراہ، صدیق اپنے جیسوں کے ساتھ، شہید لوگ اپنے والوں کے ہمراہ، علماء اپنے جیسوں کے ساتھ، غرض ہر ہم جنس اپنے میل کے لوگوں کے ساتھ ہوں گے جب وہ جنت کے پاس پہنچیں گے پل صراط سے پار ہو چکے ہوں گے، وہاں ایک پل پر ٹھہرائے جائیں گے اور ان میں آپس میں جو مظالم ہوں گے ان کا قصاص اور بدلہ ہو جائے گا۔ جب پاک صاف ہو جائیں گے تو جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے۔ صور کی مطول حدیث میں ہے کہ { جنت کے دروازوں پر پہنچ کر یہ آپس میں مشورہ کریں گے کہ دیکھو سب سے پہلے کسے اجازت دی جاتی ہے، پھر وہ آدم علیہ السلام کا قصد کریں گے۔ پھر نوح علیہ السلام کا پھر ابراہیم علیہ السلام کا پھر موسیٰ علیہ السلام کا پھر عیسیٰ علیہ السلام کا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم و علیہم کا۔ جیسے میدان محشر میں شفاعت کے موقعہ پر بھی کیا تھا۔ اس سے بڑا مقصد جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا موقعہ بموقعہ اظہار کرنا ہے }۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { میں جنت میں پہلا سفارشی ہوں }۔ ایک اور روایت میں ہے { میں پہلا وہ شخص ہوں جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:196] مسند احمد میں ہے { میں قیامت کے دن جنت کا دروازہ کھلوانا چاہوں گا تو وہاں کا دروازہ مجھ سے پوچھے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ کہے گا مجھے یہی حکم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے جنت کا دروازہ کسی کیلئے نہ کھولوں }۔۱؎ [صحیح مسلم:197]
مسند احمد میں ہے کہ { پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہوں گے، تھوک، رینٹ پیشاب، پاخانہ وہاں کچھ نہ ہو گا۔ ان کے برتن اور سامان آرائش سونے چاندی کا ہو گا۔ ان کی انگیٹھیوں میں بہترین اگر خوشبو دے رہا ہو گا ان کا پسینہ مشک ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا بوجہ حسن و نزاکت صفائی اور نفاست کے گوشت کے پیچھے سے نظر آ رہا ہو گا۔ کسی دو میں کوئی اختلاف اور حسد و بغض نہ ہو گا۔ سب گھل مل کر ایسے ہوں گے جیسے ایک شخص کا دل }۔۱؎ [صحیح بخاری:3245] { جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ ان کے بعد والی جماعت کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے بہترین چمکتا ستارہ پھر قریب قریب اوپر والی حدیث کے بیان ہے اور یہ بھی ہے کہ ان کے قد ساٹھ ہاتھ کے ہوں گے۔ جیسے آدم علیہ السلام کا قد تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3327] اور حدیث میں ہے کہ { میری امت کی ایک جماعت جو ستر ہزار کی تعداد میں ہو گی پہلے پہل جنت میں داخل ہو گی ان کے چہرے چودھریں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی انہی میں سے کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ { اللہ انہیں بھی انہی میں سے کر دے }، پھر ایک انصاری نے بھی یہی عرض کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عکاشہ تجھ پر سبقت لے گیا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5811] ان ستر ہزار کا بے حساب جنت میں داخل ہونا بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ بخاری مسلم میں ہے کہ { سب ایک ساتھ ہی جنت میں قدم رکھیں گے ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6543] ابن ابی شیبہ میں ہے { مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے ان سے نہ حساب ہو گا نہ انہیں عذاب ہو گا۔ ان کے علاوہ اور تین لپیں بھر کر، جو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھوں سے لپ بھر کر جنت میں پہنچائے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2437،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔ اس روایت میں ہے پھر ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے۔۱؎ [طبرانی کبیر:126/17:اسنادہ ضعیف وله شواهد صحیحه] اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں۔ جب یہ سعید بخت بزرگ جنت کے پاس پہنچ جائیں گے۔ ان کیلئے دروازے کھل جائیں گے ان کی وہاں عزت و تعظیم ہو گی وہاں کے محافظ فرشتے انہیں بشارت سنائیں گے ان کی تعریفیں کریں گے انہیں سلام کریں گے۔ اس کے بعد کا جواب قرآن میں محذوف رکھا گیا ہے تاکہ عمومیت باقی رہے۔
مطلب یہ ہے کہ اس وقت یہ پورے خوش وقت ہو جائیں گے بے انداز سرور راحت آرام و چین انہیں ملے گا۔ ہر طرح کی آس اور بھلائی کی امید بندھ جائے گی۔ ہاں یہاں یہ بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ بعض لوگوں نے جو کہا ہے کہ «وَفُتِحَتْ» میں واؤ آٹھویں ہے اور اس سے استدلال کیا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں، انہوں نے بڑا تکلف کیا ہے اور بیکار مشقت اٹھائی ہے۔ جنت کے آٹھ دروازوں کا ثبوت تو صحیح احادیث میں صاف موجود ہے۔ مسند احمد میں ہے { جو شخص اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کر لے وہ جنت کے سب دروازوں سے بلایا جائے گا۔ جنت کے کئی ایک دروازے ہیں نمازی باب الصلوۃ سے سخی باب الصدقہ سے مجاہد باب جہاد سے روزے دار باب الریان سے بلائے جائیں گے یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو اس کی ضرورت تو نہیں کہ ہر دروازے سے پکارا جائے جس سے بھی پکارا جائے مقصد تو جنت میں جانے سے ہے، لیکن کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے کل دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہی میں سے ہو گے} }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1897] یہ حدیث بخاری مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔
بخاری مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے { جنت میں آٹھ دروازے ہیں۔ جن میں سے ایک کا نام ”باب الریان“ ہے اس میں سے صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1896] صحیح مسلم میں ہے { تم میں سے جو شخص کامل مکمل بہت اچھی طرح مل مل کر وضو کرے پھر «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ واَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:234] اور حدیث میں ہے { جنت کی کنجی «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:242/5:ضعیف] ”جنت کے دروازوں کی کشادگی کا بیان“ اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے۔ شفاعت کی مطول حدیث میں ہے کہ { پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی امت میں سے جن پر حساب نہیں انہیں داہنی طرف کے دروازے سے جنت میں لے جاؤ ‘ لیکن اور دروازوں میں بھی یہ دوسروں کے ساتھ شریک ہیں۔ اس قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے کہ جنت کی چوکھٹ اتنی بڑی وسعت والی ہے جتنا فاصلہ مکہ اور ہجر میں ہے۔ یا فرمایا ہجر اور مکہ میں ہے ایک روایت میں ہے مکہ اور بصریٰ میں ہے۔}۔۱؎ [صحیح بخاری:4812]
حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں بیان فرمایا کہ { ہم سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جنت کے دروازے کی وسعت چالیس سال کی راہ ہے۔ ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جب کہ جنت میں جانے والوں کی بھیڑ بھاڑ سے یہ وسیع دروازے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2967] مسند میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت کی چوکھٹ چالیس سال کی راہ کی ہے } ۱؎ [مسند احمد:29/3:صحیح وهذا اسناد ضعیف] ، یہ جب جنت کے پاس پہنچیں گے انہیں فرشتے سلام کریں گے اور مبارکباد دیں گے کہ تمہارے اعمال تمہارے اقوال تمہاری کوشش اور تمہارا بدلہ ہرچیز خوشی والی اور عمدگی والی ہے۔
جیسے کہ { حضور علیہ السلام نے کسی غزوے کے موقعہ پر اپنے منادی سے فرمایا تھا { جاؤ ندا کر دو کہ جنت میں صرف مسلمان لوگ ہی جائیں گے } یا فرمایا تھا { صرف مومن ہی } } ۱؎ [صحیح بخاری:4204] ۔ فرشتے ان سے کہیں گے کہ تم اب یہاں سے نکالے نہ جاؤ گے بلکہ یہاں تمہارے لیے دوام ہے، اپنا یہ حال دیکھ کر خوش ہو کر جنتی اللہ کا شکر ادا کریں گی اور کہیں گے کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جو وعدہ ہم سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانی کیا تھا اسے پورا کیا۔ یہی دعا ان کی دنیا میں تھی «رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰي رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ» ۱؎ [3-آل عمران:194] یعنی ’ اے ہمارے پروردگار ہمیں وہ دے جس کا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کی زبانی ہم سے کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر یقیناً تیری ذات وعدہ خلافی سے پاک ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ ’ اس موقعہ پر اہل جنت یہ بھی کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی اگر وہ ہدایت نہ کرتا تو ہم ہدایت نہ پاسکتے۔ یقیناً اللہ کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔ وہ یہ بھی کہیں گے کہ اللہ ہی کیلئے سب تعریف ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا یقیناً ہمارا رب بخشنے والا اور قدر کرنے والا ہے۔ جس نے اپنے فضل و کرم سے یہ پاک جگہ ہمیں نصیب فرمائی جہاں ہمیں نہ کوئی دکھ درد ہے نہ رنج و تکلیف، یہاں ہے کہ یہ کہیں گے اس سے ہمیں جنت کی زمین کا وارث کیا ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» ۱؎ [21-سورةالأنبياء:105] ، ’ ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے ‘۔ اسی طرح آج جنتی کہیں گے کہ اس جنت میں ہم جہاں جگہ بنا لیں کوئی روک ٹوک نہیں۔ یہ ہے بہترین بدلہ ہمارے اعمال کا۔
معراج والے واقعہ میں بخاری و مسلم میں ہے کہ { جنت کے ڈیرے خیمے لولو کے ہیں اور اس کی مٹی مشک خالص ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:349] { ابن صائد سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی مٹی کا سوال کیا تو اس نے کہا سفید میدے جیسی مشک خالص۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ سچا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2928]
مسلم ہی کی اور روایت میں ہے کہ { ابن صائد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2928] ابن ابی حاتم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ ”جنت کے دروازے پر پہنچ کر یہ ایک درخت کو دیکھیں گے جس کی جڑ میں سے دو نہریں نکلتی ہوں گی۔ ایک میں وہ غسل کریں گے جس سے اس قدر پاک صاف ہو جائیں گے کہ ان کے جسم اور چہرے چمکنے لگیں گے۔ ان کے بال کنگھی کئے ہوئے تیل والے ہو جائیں گے کہ پھر کبھی سلجھانے کی ضرورت ہی نہ پڑے نہ چہرے اور جسم کا رنگ روپ ہلکا پڑے۔ پھر یہ دوسری نہر پر جائیں گے گویا کہ ان سے کہہ دیا گیا ہو اس میں سے پانی پئیں گے جن سے تمام گھن کی چیزوں سے پاک ہو جائیں گے جنت کے فرشتے انہیں سلام کریں گے مبارکباد پیش کریں گے اور انہیں جنت میں لے جانے کیلئے کہیں گے۔ ہر ایک کے پاس اس کے غلمان آئیں گے اور خوشی خوشی ان پر قربان ہوں گے اور کہیں گے آپ خوش ہو جایئے اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے طرح طرح کی نعمتیں مہیا کر رکھی ہیں ان میں سے کچھ بھاگے دوڑے جائیں گے اور جو حوریں اس جنتی کیلئے مخصوص ہیں ان سے کہیں گے لو مبارک ہو فلاں صاحب آ گئے۔ نام سنتے ہی خوش ہو کر وہ پوچھیں گی کہ کیا تم نے خود انہیں دیکھا ہے؟ وہ کہیں گے ہاں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہے ہیں۔ یہ مارے خوشی کے دروازے پر آکھڑی ہوں گی۔ جنتی جب اپنے محل میں آئے گا تو دیکھے گا کہ گدے برابر برابر لگے ہوئے ہیں۔ اور آب خورے رکھے ہوئے ہیں اور قالین بچھے ہوئے ہیں۔ اس فرش کو ملاحظہ فرما کر اب جو دیواروں کی طرف نظر کرے گا تو وہ سرخ و سبز اور زرد و سفید اور قسم قسم کے موتیوں کی بنی ہوئی ہوں گی۔ پھر چھت کی طرف نگاہ اٹھائے گا تو وہ اس قدر شفاف اور مصفا ہو گی کہ نور کی طرح چمک دمک رہی ہو گی۔ اگر اللہ اسے برقرار نہ رکھے تو اس کی روشنی آنکھوں کی روشنی کو بجھا دے۔ پھر اپنی بیویوں پر یعنی جنتی حوروں پر محبت بھری نگاہ ڈالے گا۔ پھر اپنے تختوں میں سے جس پر اس کا جی چاہے بیٹھے گا۔ اور کہے گا اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی۔ اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا تو ہم تو ہرگز اسے تلاش نہیں کر سکتے تھے۔“
اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب یہ اپنی قبروں سے نکلیں گے، ان کا استقبال کیا جائے گا ان کیلئے پروں والی اونٹنیاں لائی جائیں گی جن پر سونے کے کجاوے ہوں گے ان کی جوتیوں کے تسمے تک نور سے چمک رہے ہوں گے۔ یہ اونٹنیاں ایک ایک قدم اس قدر دور رکھتی ہیں جہاں تک انسان کی نگاہ جا سکتی ہے۔ یہ ایک درخت کے پاس پہنچیں گی جس کے نیچے سے نہریں نکلتی ہیں۔ ایک کا پانی یہ پئں گے جس سے ان کے پیٹ کی تمام فضولیات اور میل کچیل دھل جائے گا دوسری نہر سے یہ غسل کریں گے پھر ہمیشہ تک ان کے بدن میلے نہ ہوں گے ان کے بال پراگندہ نہ ہوں گے اور ان کے جسم اور چہرے بارونق رہیں گے۔ اب یہ جنت کے دروازوں پر آئیں گے دیکھیں گے کہ ایک کنڈا سرخ یاقوت کا ہے جو سونے کی تختی پر آویزاں ہے۔ یہ اسے ہلائیں گے تو ایک عجیب سریلی اور موسیقی صدا پیدا ہو گی اسے سنتے ہی حور جان لے گی کہ اس کے خاوند آ گئے یہ داروغے کو حکم دیں گی کہ جاؤ دروازہ کھولو وہ دروازہ کھول دے گا یہ اندر قدم رکھتے ہی اس داروغے کی نورانی شکل دیکھ کر سجدے میں گر پڑے گا لیکن وہ اسے روک لے گا اور کہے گا اپنا سر اٹھا میں تو تیرا ماتحت ہوں۔ اور اسے اپنے ساتھ لے چلے گا }۔
{ جب یہ اس در و یاقوت کے خیمے کے پاس پہنچے گا جہاں اس کی حور ہے وہ بیتابانہ دوڑ کر خیمے سے باہر آ جائے گی اور بغل گیر ہو کر کہے گی تم میرے محبوب ہو اور میں تمہاری چاہنے والی ہوں میں یہاں ہمیشہ رہنے والی ہوں مروں گی نہیں۔ میں نعمتوں والی ہوں فقر و محتاجی سے دور ہوں۔ میں آپ سے ہمیشہ راضی خوشی رہوں گی کبھی ناراض نہیں ہوں گی۔ میں ہمیشہ آپ کی خدمت میں حاضر رہنے والی ہوں کبھی ادھر ادھر نہیں ہٹوں گی۔ پھر یہ گھر میں جائے گا جس کی چھت فرش سے ایک لاکھ ہاتھ بلند ہو گی۔ اس کی کل دیواریں قسم قسم کے اور رنگ برنگے موتیوں کی ہوں گی اس گھر میں ستر تخت ہوں گے اور ہر تخت پر ستر ستر چھولداریاں ہوں گی اور ان میں سے ہر بستر پر ستر حوریں ہوں گی ہر حور پر ستر جوڑے ہوں گے اور ان سب حلوں کے نیچے سے ان کی پنڈلی کا گودا نظر آتا ہوگا۔ ان کے ایک جماع کا اندازہ ایک پوری رات کا ہوگا۔ ان کے باغوں اور مکانوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جن کا پانی کبھی بدبودار نہیں ہوتا صاف شفاف موتی جیسا پانی ہے اور دودھ کی نہریں ہوں گی جن کا مزہ کبھی نہیں بدلتا۔ جو دودھ کسی جانور کے تھن سے نہیں نکلا۔ اور شراب کی نہریں ہوں گی جو نہایت لذیذ ہو گا جو کسی انسانی ہاتھوں کا بنایا ہوا نہیں۔ اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی جو مکھیوں کے پیٹ سے حاصل شدہ نہیں۔ قسم قسم کے میووں سے لدے ہوئے درخت اس کے چاروں طرف ہوں گے جن کا پھل ان کی طرف جھکا ہوا ہو گا۔ یہ کھڑے کھڑے پھل لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں اگر یہ بیٹھے بیٹھے پھل توڑنا چاہیں تو شاخیں اتنی جھک جائیں گی کہ یہ توڑ لیں اگر یہ لیٹے لیٹے پھل لینا چاہیں تو شاخیں اتنی جھک جائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا» ۱؎ [76-الإنسان:14] ، پڑھی یعنی ’ ان جنتی درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان کے میوے بہت قریب کر دیئے جائیں گے ‘۔ یہ کھانا کھانے کی خواہش کریں گے تو سفید رنگ یا سبز رنگ پرندے ان کے پاس آ کر اپنا پر اونچا کر دیں گے یہ جس قسم کا اس کے پہلو کا گوشت چاہیں کھائیں گے پھر وہ زندہ کا زندہ جیسا تھا ویسا ہی ہو کر اڑ جائے گا۔ فرشتے ان کے پاس آئیں گے سلام کریں گے اور کہیں گے کہ یہ جنتیں ہیں جن کے تم اپنے اعمال کے باعث وارث بنائے گئے ہو۔ اگر کسی حور کا ایک بال زمین پر آ جائے تو وہ اپنی چمک سے اور اپنی سیاہی سے نور کو روشن کرے اور سیاہی نمایاں کرے }۔ ۱؎ [ضعیف] یہ حدیث غریب ہے گو کہ یہ مرسل ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 74) ➊ {وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ:} اہلِ جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو اپنے رب کی حمد اور اس کا شکر ادا کریں گے اور اس بات کا اقرار و اعلان کریں گے کہ اس نے جو وعدہ کیا تھا: «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ» [الذاریات: ۱۵ ] کہ بے شک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے (اور دوسری آیات مثلاً مریم: ۶۳) وہ وعدہ اس نے پورا فرما دیا۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۴۳، ۴۴) اور سورۂ فاطر (۳۳ تا ۳۵)۔ ➋ { وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ:} آدمی جس چیز کا وارث بنتا ہے اس کا پوری طرح مالک بن جاتا ہے، کوئی دوسرا اس پر دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ انھیں ان جگہوں کا بھی مالک بنایا جائے گا جو جہنم میں جانے والوں کی تھیں، اگر وہ نیک عمل کرتے اور یہ مالکانہ حقوق ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ ➌ {نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَآءُ:} یہاں ایک سوال ہے کہ جنتی اگر چاہے تو کیا دوسرے اہلِ جنت کے گھروں میں اپنی جگہ بنا سکے گا؟ اس کے جواب میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان کو حکم ہے کہ جہاں چاہیں رہیں، لیکن ہر کوئی وہی جگہ چاہے گا جو اس کے واسطے پہلے سے رکھی ہے۔“ (موضح) اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر جنتی کے پاس اتنی جگہ ہو گی کہ اسے کسی اور کی جگہ لینے کی ضرورت ہی نہیں ہو گی۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ جہنم سے نکل کر جنت میں جانے والے شخص کو اللہ تعالیٰ زمین کے برابر اور اس کے ساتھ اس سے دس گنا زیادہ جگہ عطا فرمائے گا۔ [ دیکھیے بخاري، الأذان، باب فضل السجود: ۸۰۶ ] ظاہر ہے اتنی جگہ ہوتے ہوئے کسی دوسرے کی جگہ کی خواہش کوئی کمینہ شخص ہی کرے گا، جب کہ جنت میں کسی کمینگی یا کمینے شخص کی گنجائش ہی نہیں۔ ➍ { فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ:} یہ بات متقی کہیں گے یا فرشتے، یا یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد اور تسبیح کر رہے ہوں گے، اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ چکا دیا جائے گا، اور پکار دیا جائے گا کہ حمد ہے اللہ ربّ العالمین کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تو فرشتوں کو اللہ کے عرش کے اردگرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوئے دیکھے گا اور ان میں انصاف کا فیصلہ کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ساری خوبی اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تم فرشتوں کو دیکھو گے عرش کے آس پاس حلقہ کیے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ ا س کی پاکی بولتے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہاں کا رب
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ فرشتوں کو دیکھیں گے کہ وہ عرش (الٰہی) کے اردگرد اپنے پروردگار کی تسبیح (تقدیس) کر رہے ہوں گے اور ان (لوگوں) کے درمیان حق (و انصاف) کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا ہر قِسم کی تعریف اس اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو فرشتوں کو دیکھے گا عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہو ئے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا ا ور کہا جائے گا کہ سب تعریف ا للہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
روز قیامت انصاف کے ساتھ فیصلہ ہو گا ٭٭
جبکہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم کا فیصلہ سنا دیا اور انہیں ان کے ٹھکانے پہنچائے جانے کا حال بھی بیان کر دیا۔ اور اس میں اپنے عدل و انصاف کا ثبوت بھی دے دیا، تو اس آیت میں فرمایا کہ ’ قیامت کے روز اس وقت تو دیکھے گا کہ فرشتے اللہ کے عرش کے چاروں طرف کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح بزرگی اور بڑائی بیان کر رہے ہوں گے ‘۔ ساری مخلوق میں عدل و حق کے ساتھ فیصلے ہو چکے ہوں گے۔ اس سراسر عدل اور بالکل رحم والے فیصلوں پر کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی ثنا خوانی کرنے لگے گا اور جاندار چیز سے آواز آئے گی کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» چونکہ اس وقت ہر اک تر و خشک چیز اللہ کی حمد بیان کرے گی اس لیے یہاں مجہول کا صیغہ لا کر فاعل کو عام کر دیا گیا۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں خلق کی پیدائش کی ابتداء بھی حمد سے ہے، فرماتا ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ» ۱؎ [6-الأنعام:1] اور مخلوق کی انتہا بھی حمد سے ہے، فرماتا ہے «وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَقِّ وَقِيْلَ الْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:75] ۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الزمر کی تفسیر ختم ہوئی۔
75۔ 1 قضائے الٰہی کے بعد جب اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے، آیت میں اس کے بعد کا نقشۃ بیان کیا گیا ہے کہ فرشتے عرش الٰہی کو گھیرے ہوئے تسبیح وتحمید میں مصروف ہوں گے۔ 75۔ 2۔ یہاں حمد کی نسبت کسی ایک مخلوق کی طرف نہیں کی گئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز (ناطق و غیر ناطق) کی زبان پر حمد الٰہی کے ترانے ہونگے۔
(آیت 75) ➊ { وَ تَرَى الْمَلٰٓىِٕكَةَ حَآفِّيْنَ …:} یعنی جس وقت اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نزول فرمائے گا اس وقت فرشتے عرش کو اردگرد سے گھیرے ہوئے ہوں گے۔ اس منظر کو دوسرے مقام پر کچھ تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے: «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ (13) وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً (14) فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ (15) وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاهِيَةٌ (16) وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآىِٕهَا وَ يَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ (17) يَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ» [ الحآقۃ: ۱۳ تا ۱۸ ] ”پس جب صور میں پھونکا جائے گا، ایک بار پھونکنا۔ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا، پس دونوں ٹکرا دیے جائیں گے، ایک بار ٹکرا دینا۔ تو اس دن ہونے والی ہو جائے گی۔ اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن کمزور ہو گا۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس دن تم پیش کیے جاؤ گے، تمھاری کوئی چھپی ہوئی بات چھپی نہیں رہے گی۔“ سورۂ حاقہ میں ان آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ ➋ { مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ:} یہاں ایک سوال ہے کہ یہ کہنا ہی کافی تھا {”حَافِّيْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ“} کہ وہ عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہوں گے، پھر لفظ {” مِنْ “} لانے کی کیا ضرورت تھی؟ اس کا جواب بعض مفسرین نے دیا ہے کہ یہ {” مِنْ “ } زائد ہے۔ بقاعی نے فرمایا کہ یہ {” مِنْ “ } تبعیض کے لیے ہے، یعنی فرشتے کتنی بھی تعداد میں ہوں عرش اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی مخلوق ہے کہ سب فرشتے مل کر بھی اس کے اردگرد کے کچھ حصے ہی پر گھیرا ڈال سکیں گے۔ ➌ { وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ:} یعنی ایسے پر جلال اور پر ہیبت ماحول میں اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔ ➍ {وَ قِيْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ:} یعنی لوگوں کے فیصلے کا اختتام اللہ رب العالمین کی حمد پر ہو گا۔ حمد کرنے والوں کے عام ہونے کی وجہ سے {” قِيْلَ “} (کہا جائے گا) میں کہنے والے کا ذکر نہیں فرمایا۔ مطلب یہ کہ جب فیصلہ ہو چکے گا تو کائنات کا ذرہ ذرہ ان سراسر عدل اور رحم والے فیصلوں پر اللہ رب العالمین کی حمد کرے گا اور ہر طرف سے آواز آئے گی: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ” سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“ طبری نے صحیح سند کے ساتھ قتادہ کا قول ذکر کیا ہے، انھوں نے فرمایا: ”مخلوق کی پیدائش کی ابتدا بھی حمد کے ساتھ ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ» [ الأنعام: ۱ ] ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیروں اور روشنی کو بنایا۔“ اور مخلوق کی انتہا بھی حمد ہے، فرمایا: «وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِيْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [ الزمر: ۷۵ ] ”اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ سب تعریف ا للہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“ (طبری) ہمارے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ ہر کام کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہونی چاہیے، جیسا کہ اہلِ جنت کے متعلق فرمایا: «دَعْوٰىهُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [ یونس: ۱۰ ] ”ان کی دعا ان میں یہ ہوگی”پاک ہے تو اے اللہ!“ اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہوگی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“ حمد کے متعلق مزید دیکھیے سورۂ فاتحہ کی تفسیر۔