بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 64
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 64
آیت نمبر: 64 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَاۡمُرُوۡٓنِّیۡۤ اَعۡبُدُ اَیُّہَا الۡجٰہِلُوۡنَ ﴿۶۴﴾
(اے نبیؐ) اِن سے کہو "پھر کیا اے جاہلو، تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے کے لیے مجھ سے کہتے ہو؟"
آپ کہہ دیجئے اے جاہلو! کیا تم مجھ سے اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کو کہتے ہو
تم فرماؤ تو کیا اللہ کے سوا دوسرے کے پوجنے کو مجھ سے کہتے ہو، اے جاہلو!
آپ(ص) کہہ دیجئے! اے جاہلو! کیا تم (پھر بھی) مجھ سے غیر اللہ کی عبادت کرنے کی فرمائش کرتے ہو؟
کہہ دے پھر کیا تم مجھے غیراللہ کے بارے میں حکم دیتے ہو کہ میں (ان کی) عبادت کروں اے جاہلو!

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور نگران ہے ٭٭

تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کار ساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہرچیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔ امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ { سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے عثمان! (‏‏‏‏رضی اللہ عنہ) تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس آیت کا مطلب دریافت نہیں کیا } }۔

اس کی تفسیر یہ کلمات ہیں { «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْأَوَّل وَالْآخِر وَالظَّاهِر وَالْبَاطِن بِيَدِهِ الْخَيْر يُحْيِي وَيُمِيت وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِيْر» ۔ اے عثمان! جو شخص اسے صبح کو دس بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چھ فضائل عطا فرماتا ہے اول تو وہ شیطان اور اس کے لشکر سے بچ جاتا ہے، دوم اسے ایک قنطار اجر ملتا ہے، تیسرے اس کا ایک درجہ جنت میں بلند ہوتا ہے، چوتھی اس کا حورعین سے نکاح کرا دیا جاتا ہے، پانچویں اس کے پاس بارہ فرشتے آتے ہیں، چھٹے اسے اتنا ثواب دیا جاتا ہے جیسے کسی نے قرآن اور توراۃ اور انجیل و زبور پڑھی۔ پھر اس ساتھ ہی اسے ایک قبول شدہ حج اور ایک مقبول عمرے کا ثواب ملتا ہے اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا درجہ ملتا ہے }۔۱؎ [مجمع الزوائد:115/10:باطل و موضوع] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں بڑی نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آؤ تم ہمارے معبودوں کی پوجا کرو اور ہم تمہارے رب کی پرستش کریں گے اس پر آیت «قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ» ۱؎ [39-الزمر:64-65] ‏‏‏‏ تک نازل ہوئی۔‏‏‏‏“ یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:88] ‏‏‏‏۔ اوپر انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے ’ اگر بالفرض یہ انبیاء بھی شرک کریں تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جائیں ‘، یہاں بھی فرمایا کہ ’ تیری طرف اور تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء (‏‏‏‏علیہم السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیج دی ہے کہ جو بھی شرک کرے اس کا عمل غارت۔ اور وہ نقصان یافتہ اور زیاں کار، پس تجھے چاہیئے کہ تو خلوص کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت میں لگا رہ اور اس کا شکر گزار رہ۔ تو بھی اور تیرے ماننے والے مسلمان بھی ‘۔

📖 احسن البیان

64۔ 1 یہ کفار کی اس دعوت کے جواب میں ہے جو وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے کہ اپنے آبائی دین کو اختیار کرلیں، جس میں بتوں کی عبادت تھی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 64) ➊ {قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّيْۤ اَعْبُدُ:قُلْ “} کے بعد جملہ ”فاء“ سے شروع ہوتا ہے، مگر ہمزہ استفہام چونکہ کلام کی ابتدا میں ہوتا ہے، اس لیے ”فاء“ کو اس کے بعد کر دیا ہے، اسی طرح جملہ فعلیہ کا آغاز فعل {” تَاْمُرُوْٓنِّيْۤ “} سے ہونا تھا اور {”غَيْرَ اللّٰهِ“} کو {” اَعْبُدُ “} کے بعد ہونا تھا، مگر {”غَيْرَ اللّٰهِ“} کی تحقیر کو نمایاں کرنے کے لیے اسے پہلے ذکر فرمایا۔ یعنی جب ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور وہی ہر چیز پر نگران ہے اور اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں تو پھر کیا اس کے ہوتے ہوئے تم مجھے اس کے غیر کی عبادت کا حکم دیتے ہو، جس کے اختیار میں خود اپنا وجود بھی نہیں؟ ➋ { اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ:} جہل کا لفظ حلم کے مقابلے میں آتا ہے اور علم کے مقابلے میں بھی، یہاں علم کے مقابلے میں آیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ”وحدہ لا شریک لہ معبود“ ہونے کے اتنے واضح دلائل اپنے کانوں سے سننے اور آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود پتھروں، قبروں، جانوروں یا اپنے جیسی بے بس اور بے اختیار مخلوق کی عبادت کی پستی میں گرے ہوئے جاہلو! جو نہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا کچھ علم رکھتے ہو کہ صرف اسی کی عبادت کرو، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سے واقف ہو کہ انھیں غیر اللہ کی عبادت کی دعوت کی جرأت کر رہے ہو اور نہ ہی اس شرف کا کچھ علم رکھتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں انسان بنا کر عطا کیا ہے کہ اتنی اونچی مخلوق ہو کر اپنے جیسی یا اپنے سے بھی ادنیٰ مخلوق کی عبادت کر رہے ہو۔ اقبال نے کہا ہے: آدم از بے بصری بندگیٔ آدم کرد من نہ دیدم کہ سگے پیش سگے سر خم کرد ”آدمی بے سمجھی کی وجہ سے آدمی کی بندگی کرنے لگا۔ میں نے تو یہ بھی نہیں دیکھا کہ کسی کتے نے کسی کتے کے آگے سر جھکایا ہو۔“
← پچھلی آیت (63) پوری سورۃ اگلی آیت (65) →