بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 60
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 60
آیت نمبر: 60 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ تَرَی الَّذِیۡنَ کَذَبُوۡا عَلَی اللّٰہِ وُجُوۡہُہُمۡ مُّسۡوَدَّۃٌ ؕ اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۶۰﴾
آج جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ باندھے ہیں قیامت کے روز تم دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہوں گے کیا جہنم میں متکبروں کے لیے کافی جگہ نہیں ہے؟
اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاه ہوگئے ہوں گے کیا تکبر کرنے والوں کاٹھکانا جہنم میں نہیں؟
اور قیامت کے دن تم دیکھو گے انہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا کہ ان کے منہ کالے ہیں کیا مغرور ٹھکانا جہنم میں نہیں
اور قیامت کے دن تم دیکھوگے کہ جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے؟
اور قیامت کے دن تو دیکھے گا کہ وہ لوگ جنھوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ان کے چہرے سیاہ ہو ں گے، کیا جہنم میں ان متکبروں کے لیے کوئی ٹھکانا نہیں؟

📖 تفسیر ابن کثیر

مشرکین کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے ٭٭

قیامت کے دن دو طرح کے لوگ ہوں گے۔ کالے منہ والے اور نورانی چہرے والے۔ تفرقہ اور اختلاف والوں کے چہرے تو سیاہ پڑ جائیں گے اور اہل سنت والجماعت کی خوبصورت شکلیں نورانی ہو جائیں گی۔ اللہ کے شریک ٹھہرانے والوں اس کی اولاد مقرر کرنے والوں کو دیکھے گا کہ ان کے جھوٹ اور بہتان کی وجہ سے منہ کالے ہوں گے۔ اور حق کو قبول نہ کرنے اور تکبر و خودنمائی کرنے کے وبال میں یہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ جہاں بڑی ذلت کے ساتھ سخت تر اور بدترین سزائیں بھگتیں گے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { تکبر کرنے والوں کا حشر قیامت کے دن چیونٹیوں کی صورت میں ہو گا ہر چھوٹی سے چھوٹی مخلوق بھی انہیں روندتی جائے گی یہاں تک کہ جہنم کے جیل خانے میں بند کر دیئے جائیں گے جس کا نام بولس ہے۔ جس کی آگ بہت تیز اور نہایت ہی مصیبت والی ہے۔ دوزخیوں کو لہو اور پیپ اور گندگی پلائی جائے گی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2492،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ہاں اللہ کا ڈر رکھنے والے اپنی کامیابی اور سعادت مندی کی وجہ سے اس عذاب سے اور اس ذلت اور مار پیٹ سے بالکل بچے ہوئے ہوں گے اور کوئی برائی ان کے پاس بھی نہ پھٹکے گی۔ گھبراہٹ اور غم جو قیامت کے دن عام ہو گا وہ ان سے الگ ہو گا۔ ہر غم سے بے غم اور ہر ڈر سے بے ڈر اور ہر سزا اور ہر دکھ سے بے پرواہ ہوں گے۔ کسی قسم کی ڈانٹ جھڑکی انہیں نہ دی جائے گی امن و امان کے ساتھ راحت و چین کے ساتھ اللہ کی تمام نعمتیں حاصل کئے ہوئے ہوں گے۔

📖 احسن البیان

60۔ 1 جس کی وجہ عذاب کی ہولناکیاں اور اللہ کے غضب کا مشاہدہ ہوگا۔ 60۔ 1 حدیث میں ہے الکبر بطر الحق وغمط الناس حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر سمجھنا کبر ہے یہ استفہام تقریری ہے یعنی اللہ کی اطاعت سے تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 60) ➊ { وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوْا …:} اللہ پر جھوٹ باندھنے میں اگرچہ اس کے ساتھ شرک کرنا، اس کے لیے بیوی یا اولاد قرار دینا، اپنے آپ کو اس کا محبوب قرار دینا اور ان کے علاوہ دوسرے سب جھوٹ شامل ہیں، مگر آیات کے سیاق کے لحاظ سے اس کے اولین مصداق وہ دو جھوٹ ہیں جو اس سے پہلی آیات کے ضمن میں بیان ہوئے ہیں، یعنی ایک ان کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت نہیں دی اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مہلت نہیں دی۔ ➋ { وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ:} قیامت کے دن کفار کے چہروں کے سیاہ ہونے کا ذکر قرآن مجید میں کئی مقامات پر آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۰۶، ۱۰۷)، یونس (۲۷) اور عبس (۴۰ تا ۴۲)۔ ➌ { اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِيْنَ:مَثْوًىثَوٰي يَثْوِيْ بِالْمَكَانِ وَ أَثْوٰي فِيْهِ“} کسی جگہ میں رہنا، جیسا کہ سورۂ قصص میں ہے: «‏‏‏‏وَ مَا كُنْتَ ثَاوِيًا فِيْۤ اَهْلِ مَدْيَنَ» ‏‏‏‏ [ القصص: ۴۵ ] ”اور تو اہلِ مدین میں رہنے والا نہیں تھا۔“ اس سے معلوم ہوا جہنم میں جانے کا باعث ان کا تکبر ہو گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں تھے اور حق معلوم ہونے کے باوجود انھوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا تھا اور ان کے چہرے سیاہ ہونے کا باعث بھی یہی تکبر ہو گا، کیونکہ متکبر کا چہرہ بگاڑنے ہی سے اس کا تکبر ٹوٹتا ہے۔ (ابن عاشور) عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَّكُوْنَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَ نَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ إِنَّ اللّٰهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ] [مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱ ] ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہو گا۔“ ایک آدمی نے کہا: ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کا جوتا اچھا ہو (کیا یہ بھی تکبر ہے)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بہت جمال والا ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے، تکبر تو حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَيُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَهَنَّمَ يُسَمَّی بُوْلَسَ تَعْلُوْهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِيْنَةِ الْخَبَالِ ] [ ترمذي، صفۃ القیامۃ، باب ما جاء في شدۃ الوعید المتکبرین: ۲۴۹۲، قال الترمذي حسن صحیح وقال الألباني حسن ] ”متکبر لوگ قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح آدمیوں کی شکلوں میں اٹھائے جائیں گے، ہر جگہ سے ذلت انھیں ڈھانک رہی ہو گی، پھر وہ جہنم میں ایک قید خانے کی طرف ہانک کر لے جائے جائیں گے، جس کا نام ”بولس“ ہے۔ آگوں کی آگ (سب سے بڑی آگ) ان پر چڑھی ہو گی، انھیں آگ والوں کا نچوڑ ”طینۃ الخبال“ پلایا جائے گا۔“ [ أَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ ]
← پچھلی آیت (59) پوری سورۃ اگلی آیت (61) →