بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 30
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 30
آیت نمبر: 30 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّہُمۡ مَّیِّتُوۡنَ ﴿۫۳۰﴾
(اے نبیؐ) تمہیں بھی مرنا ہے اور اِن لوگوں کو بھی مرنا ہے
یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں
بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے
پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جھگڑوگے (اور وہ حق و باطل کا فیصلہ کرے گا)۔
بے شک تو مرنے والا ہے اور بے شک وہ بھی مرنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فیصلے روز قیامت کو ہوں گے ٭٭

چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آ جاتی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چنانچہ ارشاد ہے «ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ» ۱؎ [30-الروم:28] ‏‏‏‏ ’ اللہ نے تمہارے لیے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں جنہیں تم خود اپنے آپ میں بہت اچھی طرح جانتے بوجھتے ہو ‘۔ ایک اور آیت میں ہ ے «وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:43] ‏‏‏‏ ’ ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں علماء ہی انہیں بخوبی سمجھ سکتے ہیں ‘۔ ’ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی اور کوئی کمی نہیں واضح دلیلیں اور روشن حجتیں ہیں۔ یہ اس لیے کہ اسے پڑھ کر سن کر لوگ اپنا بچاؤ کر لیں۔ اس کے عذاب کی آیتوں کو سامنے رکھ کر برائیاں چھوڑیں اور اس کے ثواب کی آیتوں کی طرف نظریں رکھ کر نیک اعمال میں محنت کریں ‘۔ اس کے بعد جناب باری عزاسمہ موحد اور مشرک کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ ایک تو وہ غلام جس کے مالک بہت سارے ہوں اور وہ بھی آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں اور دوسرا وہ غلام جو خالص صرف ایک ہی شخص کی ملکیت کا ہو اس کے سوا اس پر دوسرے کسی کا کوئی اختیار نہ ہو۔ کیا یہ دونوں تمہارے نزدیک یکساں ہیں؟ ہرگز نہیں ‘۔ اسی طرح موحد جو صرف ایک «اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی ہی عبادت کرتا ہے۔ اور مشرک جس نے اپنے معبود بہت سے بنا رکھے ہیں۔ ان دونوں میں بھی کوئی نسبت نہیں۔ کہاں یہ مخلص موحد؟ کہاں یہ در بہ در بھٹکنے والا مشرک؟ اس ظاہر باہر روشن اور صاف مثال کے بیان پر بھی رب العالمین کی حمد و ثنا کرنی چاہیئے کہ اس نے اپنے بندوں کو اس طرح سمجھا دیا کہ معاملہ بالکل صاف ہو جائے۔ شرک کی بدی اور توحید کی خوبی ہر ایک کے ذہن میں آ جائے۔ اب رب کے ساتھ وہی شرک کریں گے جو محض بےعلم ہوں جن میں سمجھ بوجھ بالکل ہی نہ ہو۔ اس کے بعد کی آیت کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد پڑھ کر پھر دوسری آیت «وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:144] ‏‏‏‏ کی آخر آیت تک تلاوت کر کے لوگوں کو بتایا تھا۔ مطلب آیت شریفہ کا یہ ہے کہ ’ سب اس دنیا سے جانے والے ہیں اور آخرت میں اپنے رب کے پاس جمع ہونے والے ہیں۔ وہاں اللہ تعالیٰ مشرکوں اور موحدوں میں صاف فیصلہ کر دے گا اور حق ظاہر ہو جائے گا۔ اس سے اچھے فیصلے والا اور اس سے زیادہ علم والا کون ہے؟ ایمان اخلاص اور توحید و سنت والے نجات پائیں گے۔ شرک و کفر انکار و تکذیب والے سخت سزائیں اٹھائیں گے ‘۔ اسی طرح جن دو شخصوں میں جو جھگڑا اور اختلاف دنیا میں تھا روز قیامت وہ اللہ عادل کے سامنے پیش ہو کر فیصلہ ہو گا۔ { اس آیت کے نازل ہونے پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ قیامت کے دن پھر سے جھگڑے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یقیناً } تو عبداللہ نے کہا پھر تو سخت مشکل ہے }۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

مسند احمد کی اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ { آیت «ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ» ۱؎ [102-التکاثر:8] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر اس دن تم سے اللہ کی نعمتوں کا سوال کیا جائے گا ‘، کے نازل ہونے پر آپ رضی اللہ عنہ ہی نے سوال کیا کہ ”وہ کون سی نعمتیں ہیں جن کی بابت ہم سے حساب لیا جائے گا؟ ہم تو کھجوریں کھا کر اور پانی پی کر گزارہ کر رہے ہیں۔‏‏‏‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب نہیں ہیں تو عنقریب بہت سی نعمتیں ہو جائیں گی } }۔ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن الاسناد] ‏‏‏‏۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ مسند کی اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ { زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے آیت «اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:30] ‏‏‏‏ کے نازل ہونے پر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جو جھگڑے ہمارے دنیا میں تھے وہ دوبارہ وہاں قیامت میں دوہرائے جائیں گے؟ ساتھ ہی گناہوں کی بھی پرستش ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں وہ ضرور دوہرائے جائیں گے۔ اور ہر شخص کو اس کا حق پورا پورا دلوایا جائے گا }۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا پھر تو سخت مشکل کام ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے پہلے پڑوسیوں کے آپس میں جھگڑے پیش ہوں گے } [مسند احمد:151/4:حسن] ‏‏‏‏۔ اور حدیث میں ہے { اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سب جھگڑوں کا فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔ یہاں تک کہ دوبکریاں جو لڑی ہوں گی اور ایک نے دوسری کو سینگ مارے ہوں گے ان کا بدلہ بھی دلوایا جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/3:حسن لغیره] ‏‏‏‏

مسند ہی کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ { جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ } سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا خبر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ٹھیک ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اور وہ قیامت کے دن ان میں بھی انصاف کرے گا } }۔۱؎ [مسند احمد:162/5:حسن] ‏‏‏‏ مسند بزار میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم اور خائن بادشاہ سے اس کی رعیت قیامت کے دن جھگڑا کرے گی اور اس پر وہ غالب آ جائے گی اور اللہ کا فرمان صادر ہو گا کہ جاؤ اسے جہنم کا ایک رکن بنا دو }۔ ۱؎ [مسند بزار:1644:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کے ایک راوی اغلب بن تمیم کا حافظہ جیسا چاہیئے ایسا نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر سچا جھوٹے سے، ہر مظلوم ظالم سے، ہر ہدایت والا گمراہی والے سے، ہر کمزور زورآور سے اس روز جھگڑے گا۔‏‏‏‏“ ابن مندہ رحمتہ اللہ اپنی کتاب الروح میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت لائے کہ ”لوگ قیامت کے دن جھگڑیں گے یہاں تک کہ روح اور جسم کے درمیان بھی جھگڑا ہوگا۔ روح تو جسم کو الزام دے گی کہ تونے یہ سب برائیاں کیں اور جسم روح سے کہے گا ساری چاہت اور شرارت تیری ہی تھی۔ ایک فرشتہ ان میں فیصلہ کرے گا کہے گا سنو! ایک آنکھوں والا انسان ہے لیکن اپاہج بالکل لولا لنگڑا چلنے پھرنے سے معذور۔ دوسرا آدمی اندھا ہے لیکن اسکے پیر سلامت ہیں چلتا پھرتا ہے دونوں ایک باغ میں ہیں۔ لنگڑا اندھے سے کہتا ہے بھائی یہ باغ تو میووں اور پھلوں سے لدا ہوا ہے۔ لیکن میرے تو پاؤں نہیں جو میں جاکر یہ پھل توڑ لوں۔ اندھا کہتا ہے آ میرے پاؤں ہیں میں تجھے اپنی پیٹھ پر چڑھا لیتا ہوں اور لے چلتا ہوں۔ چنانچہ یہ دونوں اس طرح پہنچے اور جی کھول کر پھل توڑے، بتاؤ ان دونوں میں مجرم کون ہے؟ جسم و روح دونوں جواب دیتے ہیں کہ جرم دونوں کا ہے۔ فرشتہ کہتا ہے بس اب تو تم نے اپنا فیصلہ آپ کردیا۔ یعنی جسم گویا سواری ہے اور روح اس پر سوار ہے۔‏‏‏‏“

ابن ابی حاتم میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس آیت کے نازل ہونے پر ہم تعجب میں تھے کہ ہم میں اور اہل کتاب میں تو جھگڑا ہے ہی نہیں پھر آخر روز قیامت میں کس سے جھگڑے ہوں گے؟ اس کے بعد جب آپس کے فتنے شروع ہو گئے تو ہم نے سمجھ لیا کہ یہی آپس کے جھگڑے ہیں جو اللہ کے ہاں پیش ہوں گے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اہل قبلہ غیر اہل قبلہ سے جھگڑیں گے اور ابن زید رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ مراد اہل اسلام اور اہل کفر کا جھگڑا ہے۔ لیکن ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ فی الواقع یہ آیت عام ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم اور فضل و رحم سے تفسیر محمدی کا تیسواں [ ۲۳ ] ‏‏‏‏ پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور ہماری تقصیر کی معافی کا سبب اس تفسیر کو بنا دے۔ ہمیں اپنے پاک کلام کی تلاوت کا ذوق، اس کے معنی کے سمجھنے کا شوق عطا فرمائے، علم و عمل کی توفیق دے، عذاب سے نجات دے، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین!

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 30) ➊ { اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ:} یعنی اگر یہ نہیں مانتے تو نہ مانیں، ہمیشہ نہ تجھے رہنا ہے نہ ان کو، یقینا تو مرنے والا ہے اور یقینا وہ بھی مرنے والے ہیں۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وعدہ اور بشارت ہے کہ آپ کی دنیا کی محنت و مشقت اور تمام رنج ختم ہونے والے ہیں اور آپ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے اور ہمیشہ کی راحت و آرام والی جنت میں جانے والے ہیں، اور کافروں کے لیے وعید ہے کہ ان کی مہلت ختم ہونے والی ہے اور وہ اپنے رب کے سامنے پیش ہو کر اپنے کفر و شرک کا حساب دینے والے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمانوں کو ان کی موت یاد دلا کر اس کی تیاری کی یاد دہانی بھی ہے۔ ➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں گے، تاکہ آپ کی موت کے متعلق لوگوں میں اختلاف واقع نہ ہو اور وہ آپ کی پرستش نہ کرنے لگیں، جیسا کہ پہلی امتوں میں اپنے انبیاء کی وفات کے متعلق اختلاف واقع ہوا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر اکثر لوگوں نے تسلیم نہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں، جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ اس موقع پر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت اور سورۂ آل عمران کی آیت (۱۴۴): «‏‏‏‏وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ» ‏‏‏‏ پڑھ کر اعلان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔ [ دیکھیے بخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب: ۳۶۶۷، ۳۶۶۸] سورۂ آل عمران کی آیت (۱۴۴) کی تفسیر بھی دیکھ لیں۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ نے اپنے موقف سے رجوع کر لیا اور تمام صحابہ کا اتفاق ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل اور کفن دے کر دفن کر دیا، ورنہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کبھی دفن نہ کرتے۔ افسوس! قرآن کی واضح آیات اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے اجماع کے باوجود کچھ لوگوں کو اصرار ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی دنیوی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں۔ چنانچہ ایک صاحب لکھتے ہیں: ”انبیاء کی موت ایک آن کے لیے ہوتی ہے، پھر انھیں حیات عطا فرمائی جاتی ہے۔“ سوال یہ ہے کہ اگر اس حیات سے مراد برزخ کی زندگی ہے تو وہ تو نیک و بد سب کو عطا ہوتی ہے اور برزخ میں جزا و سزا کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے انبیاء کی شان سب سے اونچی ہے اور ان کو عطا ہونے والے انعامات بھی بے حساب ہیں، اس زندگی سے کسی کو بھی انکار نہیں، مگر اس کے لیے موت ضروری ہے، کیونکہ یہ موت کے بعد شروع ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایک آن کے بعد انھیں دنیوی زندگی عطا کر دی جاتی ہے، تو پھر انبیاء کے جاں نثار صحابہ انھیں دفن کیوں کر دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار کے دن فوت ہوئے اور بدھ کے دن آپ کو دفن کیا گیا، تو کیا اس وقت تک وہ آن پوری نہ ہوئی تھی اور صحابہ کو معلوم نہ ہوا تھا کہ آپ کو پھر حیات عطا ہو چکی ہے۔ کیا انھوں نے یہ جانتے ہوئے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن کرنے پر اتفاق کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ دفن کر دیا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ ہونے کے باوجود خاموشی کے ساتھ دفن ہو گئے؟ «فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا» ‏‏‏‏ [ النساء: ۷۸ ] ”تو ان لوگوں کو کیا ہے کہ قریب نہیں ہیں کہ کوئی بات سمجھیں۔“
← پچھلی آیت (29) پوری سورۃ اگلی آیت (31) →