بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 29
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 29
آیت نمبر: 29 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیۡہِ شُرَکَآءُ مُتَشٰکِسُوۡنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ۚ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۹﴾
اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک شخص تو وہ ہے جس کی ملکیت میں بہت سے کج خلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دوسرا شخص پورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے کیا ان دونوں کا حال یکساں ہو سکتاہے؟ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں
اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے ایک وه شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں، اور دوسرا وه شخص جو صرف ایک ہی کا (غلام) ہے، کیا یہ دونوں صفت میں یکساں ہیں، اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے۔ بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ سمجھتے نہیں
اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام میں کئی بدخو آقا شریک اور ایک نرے ایک مولیٰ کا، کیا ان دونوں کا حال ایک سا ہے سب خوبیاں اللہ کو بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے
(اے پیغمبر(ص)) بے شک آپ نے بھی مرنا ہے اور وہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔
اللہ نے ایک آدمی کی مثال بیان کی جس میں ایک دوسرے سے جھگڑنے والے کئی شریک ہیں اور ایک اور آدمی کی جو سالم ایک ہی آدمی کا ہے، کیا دونوں مثال میں برابر ہیں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فیصلے روز قیامت کو ہوں گے ٭٭

چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آ جاتی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چنانچہ ارشاد ہے «ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ» ۱؎ [30-الروم:28] ‏‏‏‏ ’ اللہ نے تمہارے لیے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں جنہیں تم خود اپنے آپ میں بہت اچھی طرح جانتے بوجھتے ہو ‘۔ ایک اور آیت میں ہ ے «وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:43] ‏‏‏‏ ’ ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں علماء ہی انہیں بخوبی سمجھ سکتے ہیں ‘۔ ’ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی اور کوئی کمی نہیں واضح دلیلیں اور روشن حجتیں ہیں۔ یہ اس لیے کہ اسے پڑھ کر سن کر لوگ اپنا بچاؤ کر لیں۔ اس کے عذاب کی آیتوں کو سامنے رکھ کر برائیاں چھوڑیں اور اس کے ثواب کی آیتوں کی طرف نظریں رکھ کر نیک اعمال میں محنت کریں ‘۔ اس کے بعد جناب باری عزاسمہ موحد اور مشرک کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ ایک تو وہ غلام جس کے مالک بہت سارے ہوں اور وہ بھی آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں اور دوسرا وہ غلام جو خالص صرف ایک ہی شخص کی ملکیت کا ہو اس کے سوا اس پر دوسرے کسی کا کوئی اختیار نہ ہو۔ کیا یہ دونوں تمہارے نزدیک یکساں ہیں؟ ہرگز نہیں ‘۔ اسی طرح موحد جو صرف ایک «اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی ہی عبادت کرتا ہے۔ اور مشرک جس نے اپنے معبود بہت سے بنا رکھے ہیں۔ ان دونوں میں بھی کوئی نسبت نہیں۔ کہاں یہ مخلص موحد؟ کہاں یہ در بہ در بھٹکنے والا مشرک؟ اس ظاہر باہر روشن اور صاف مثال کے بیان پر بھی رب العالمین کی حمد و ثنا کرنی چاہیئے کہ اس نے اپنے بندوں کو اس طرح سمجھا دیا کہ معاملہ بالکل صاف ہو جائے۔ شرک کی بدی اور توحید کی خوبی ہر ایک کے ذہن میں آ جائے۔ اب رب کے ساتھ وہی شرک کریں گے جو محض بےعلم ہوں جن میں سمجھ بوجھ بالکل ہی نہ ہو۔ اس کے بعد کی آیت کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد پڑھ کر پھر دوسری آیت «وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:144] ‏‏‏‏ کی آخر آیت تک تلاوت کر کے لوگوں کو بتایا تھا۔ مطلب آیت شریفہ کا یہ ہے کہ ’ سب اس دنیا سے جانے والے ہیں اور آخرت میں اپنے رب کے پاس جمع ہونے والے ہیں۔ وہاں اللہ تعالیٰ مشرکوں اور موحدوں میں صاف فیصلہ کر دے گا اور حق ظاہر ہو جائے گا۔ اس سے اچھے فیصلے والا اور اس سے زیادہ علم والا کون ہے؟ ایمان اخلاص اور توحید و سنت والے نجات پائیں گے۔ شرک و کفر انکار و تکذیب والے سخت سزائیں اٹھائیں گے ‘۔ اسی طرح جن دو شخصوں میں جو جھگڑا اور اختلاف دنیا میں تھا روز قیامت وہ اللہ عادل کے سامنے پیش ہو کر فیصلہ ہو گا۔ { اس آیت کے نازل ہونے پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ قیامت کے دن پھر سے جھگڑے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یقیناً } تو عبداللہ نے کہا پھر تو سخت مشکل ہے }۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

مسند احمد کی اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ { آیت «ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ» ۱؎ [102-التکاثر:8] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر اس دن تم سے اللہ کی نعمتوں کا سوال کیا جائے گا ‘، کے نازل ہونے پر آپ رضی اللہ عنہ ہی نے سوال کیا کہ ”وہ کون سی نعمتیں ہیں جن کی بابت ہم سے حساب لیا جائے گا؟ ہم تو کھجوریں کھا کر اور پانی پی کر گزارہ کر رہے ہیں۔‏‏‏‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب نہیں ہیں تو عنقریب بہت سی نعمتیں ہو جائیں گی } }۔ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن الاسناد] ‏‏‏‏۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ مسند کی اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ { زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے آیت «اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:30] ‏‏‏‏ کے نازل ہونے پر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جو جھگڑے ہمارے دنیا میں تھے وہ دوبارہ وہاں قیامت میں دوہرائے جائیں گے؟ ساتھ ہی گناہوں کی بھی پرستش ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں وہ ضرور دوہرائے جائیں گے۔ اور ہر شخص کو اس کا حق پورا پورا دلوایا جائے گا }۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا پھر تو سخت مشکل کام ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے پہلے پڑوسیوں کے آپس میں جھگڑے پیش ہوں گے } [مسند احمد:151/4:حسن] ‏‏‏‏۔ اور حدیث میں ہے { اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سب جھگڑوں کا فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔ یہاں تک کہ دوبکریاں جو لڑی ہوں گی اور ایک نے دوسری کو سینگ مارے ہوں گے ان کا بدلہ بھی دلوایا جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/3:حسن لغیره] ‏‏‏‏

مسند ہی کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ { جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ } سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا خبر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ٹھیک ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اور وہ قیامت کے دن ان میں بھی انصاف کرے گا } }۔۱؎ [مسند احمد:162/5:حسن] ‏‏‏‏ مسند بزار میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم اور خائن بادشاہ سے اس کی رعیت قیامت کے دن جھگڑا کرے گی اور اس پر وہ غالب آ جائے گی اور اللہ کا فرمان صادر ہو گا کہ جاؤ اسے جہنم کا ایک رکن بنا دو }۔ ۱؎ [مسند بزار:1644:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کے ایک راوی اغلب بن تمیم کا حافظہ جیسا چاہیئے ایسا نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر سچا جھوٹے سے، ہر مظلوم ظالم سے، ہر ہدایت والا گمراہی والے سے، ہر کمزور زورآور سے اس روز جھگڑے گا۔‏‏‏‏“ ابن مندہ رحمتہ اللہ اپنی کتاب الروح میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت لائے کہ ”لوگ قیامت کے دن جھگڑیں گے یہاں تک کہ روح اور جسم کے درمیان بھی جھگڑا ہوگا۔ روح تو جسم کو الزام دے گی کہ تونے یہ سب برائیاں کیں اور جسم روح سے کہے گا ساری چاہت اور شرارت تیری ہی تھی۔ ایک فرشتہ ان میں فیصلہ کرے گا کہے گا سنو! ایک آنکھوں والا انسان ہے لیکن اپاہج بالکل لولا لنگڑا چلنے پھرنے سے معذور۔ دوسرا آدمی اندھا ہے لیکن اسکے پیر سلامت ہیں چلتا پھرتا ہے دونوں ایک باغ میں ہیں۔ لنگڑا اندھے سے کہتا ہے بھائی یہ باغ تو میووں اور پھلوں سے لدا ہوا ہے۔ لیکن میرے تو پاؤں نہیں جو میں جاکر یہ پھل توڑ لوں۔ اندھا کہتا ہے آ میرے پاؤں ہیں میں تجھے اپنی پیٹھ پر چڑھا لیتا ہوں اور لے چلتا ہوں۔ چنانچہ یہ دونوں اس طرح پہنچے اور جی کھول کر پھل توڑے، بتاؤ ان دونوں میں مجرم کون ہے؟ جسم و روح دونوں جواب دیتے ہیں کہ جرم دونوں کا ہے۔ فرشتہ کہتا ہے بس اب تو تم نے اپنا فیصلہ آپ کردیا۔ یعنی جسم گویا سواری ہے اور روح اس پر سوار ہے۔‏‏‏‏“

ابن ابی حاتم میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس آیت کے نازل ہونے پر ہم تعجب میں تھے کہ ہم میں اور اہل کتاب میں تو جھگڑا ہے ہی نہیں پھر آخر روز قیامت میں کس سے جھگڑے ہوں گے؟ اس کے بعد جب آپس کے فتنے شروع ہو گئے تو ہم نے سمجھ لیا کہ یہی آپس کے جھگڑے ہیں جو اللہ کے ہاں پیش ہوں گے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اہل قبلہ غیر اہل قبلہ سے جھگڑیں گے اور ابن زید رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ مراد اہل اسلام اور اہل کفر کا جھگڑا ہے۔ لیکن ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ فی الواقع یہ آیت عام ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم اور فضل و رحم سے تفسیر محمدی کا تیسواں [ ۲۳ ] ‏‏‏‏ پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور ہماری تقصیر کی معافی کا سبب اس تفسیر کو بنا دے۔ ہمیں اپنے پاک کلام کی تلاوت کا ذوق، اس کے معنی کے سمجھنے کا شوق عطا فرمائے، علم و عمل کی توفیق دے، عذاب سے نجات دے، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین!

📖 احسن البیان

29۔ 1 اس میں مشرک (اللہ کا شریک ٹھہرانے والے) اور مخلص (صرف ایک اللہ کے لئے عبادت کرنے والے) کی مثال بیان کی گئی ہے یعنی ایک غلام ہے جو کئی شخصوں کے درمیان مشترکہ ہے، چناچہ وہ آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں اور ایک غلام ہے جس کا مالک صرف ایک ہی شخص ہے، اس کی ملکیت میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں غلام برابر ہوسکتے ہیں؟ نہیں یقینا نہیں۔ اسی طرح وہ مشرک جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کرتا ہے اور وہ مخلص مومن، جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا برابر نہیں ہوسکتے۔ 29۔ 2 اس بات پر کہ اس نے حجت قائم کردی۔ 29۔ 3 اسی لئے اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 29) ➊ { ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا …:”رَجُلٌ شَكِسٌ“} ضدی، بدخلق، جھگڑنے والا آدمی۔ {” مُتَشٰكِسُوْنَ “} باب تفاعل سے جمع مذکر اسم فاعل ہے، اس باب میں تشارک پایا جاتا ہے، ایک دوسرے سے ضد کرنے والے، جھگڑنے والے۔ یہ مشرک اور موحّد کی مثال ہے، مشرک جو کئی معبودوں کی عبادت کرتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی ہے جو کئی آقاؤں کا غلام ہے، جو اس کے مالک ہونے میں شریک ہیں اور سب بدخو، ضدی اور ایک دوسرے سے جھگڑنے والے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ غلام اسی کے کام میں لگا رہے اور ہر ایک اسے اپنے مطلب کا حکم دیتا ہے، اسے دوسروں کے کام سے کوئی سروکار نہیں، وہ حیران ہے کہ کس کا حکم بجا لائے۔ پھر ان میں سے کوئی بھی اس غلام کی ضروریات کا ذمہ دار بننے کے لیے تیار نہیں، بلکہ ہر ایک اسے دوسرے کے حوالے کرتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ وہ ان میں سے کسی کو خوش کر سکتا ہے نہ اس کی کوئی حاجت یا ضرورت پوری ہوتی ہے۔ اس کی زندگی جس قدر تنگ ہو گی، بخوبی ظاہر ہے۔ اس کے مقابلے میں موحّد کی مثال اس آدمی کی ہے جو صرف ایک آقا کا غلام ہے، اسی کی خدمت کرتا ہے اور اسی کے سامنے اپنی ہر حاجت اور ضرورت پیش کرتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ آدمی نہایت اطمینان اور سکون کی زندگی بسر کر ے گا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ایک غلام جو کئی کا ہو، کوئی اس کو اپنا نہ سمجھے تو اس کی پوری خبر نہ لے اور ایک غلام جو سارا ایک کا ہو، وہ اس کو اپنا سمجھے اور پوری خبر لے، یہ مثال ہے ان کی جو ایک رب کے بندے ہیں اور جو کئی رب کے بندے ہیں۔“ (موضح) ➋ { اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ:} یہاں {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} کا مطلب یہ ہے کہ ان مشرکوں میں سے کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں، بلکہ یا تو وہ تسلیم کریں گے کہ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے، یا پھر خاموشی اختیار کریں گے، دونوں صورتوں میں توحید کی خوبی اور شرک کی برائی ثابت ہو جائے گی۔ اس پر فرمایا، سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ایسی بہترین اور آسان مثال کے ساتھ توحید کا مسئلہ واضح فرمایا۔ ➌ { بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی ایک آقا کی غلامی اور بہت سے آقاؤں کی غلامی کا فرق ماننے کے باوجود اکثر لوگ ایک اللہ کی عبادت اور بہت سے معبودوں کی عبادت کا فرق نہیں جانتے، اس لیے شرک میں گرفتار رہتے ہیں۔
← پچھلی آیت (28) پوری سورۃ اگلی آیت (30) →