بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 17
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 17
آیت نمبر: 17 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ اجۡتَنَبُوا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ یَّعۡبُدُوۡہَا وَ اَنَابُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الۡبُشۡرٰی ۚ فَبَشِّرۡ عِبَادِ ﴿ۙ۱۷﴾
بخلاف اس کے جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا اُن کے لیے خوشخبری ہے پس (اے نبیؐ) بشارت دے دو میرے اُن بندوں کو
اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وه خوش خبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے
اور وہ جو بتوں کی پوجا سے بچے اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے انہیں کے لیے خوشخبری ہے تو خوشی سناؤ میرے ان بندوں کو،
اور جن (خوش بخت) لوگوں نے طاغوت (معبودانِ باطل) کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کیا ان کیلئے خوشخبری ہے (اے نبی(ص)) میرے ان بندوں کو خوشخبری دے دو۔
اور وہ لوگ جنھوں نے طا غوت سے اجتناب کیا کہ اس کی عبادت کریں اور اللہ کی طرف رجوع کیا انھی کے لیے خوش خبری ہے، سو میرے بندوں کو بشارت دے دے ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شرک سے مبرا عبادات ٭٭

مروی ہے کہ یہ آیت زید بن عمر بن نفیل، ابوذر اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ آیت جس طرح ان بزرگوں پر مشتمل ہے اسی طرح ہر اس شخص کو شامل کرتی ہے جس میں یہ پاک اوصاف ہوں یعنی بتوں سے بیزاری اور اللہ کی فرمانبرداری۔ یہ ہیں جن کے لیے دونوں جہان میں خوشیاں ہیں۔ بات سمجھ کر سن کر جب وہ اچھی ہو تو اس پر عمل کرنے والے مستحق مبارک باد ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم پیغمبر موسیٰ علیہ السلام سے تورات کے عطا فرمانے کے وقت فرمایا تھا «فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ‌ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا سَأُرِ‌يكُمْ دَارَ‌ الْفَاسِقِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:145] ‏‏‏‏ ’ اسے مضبوطی سے تھامو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ اس کی اچھائی کو مضبوط تھام لیں۔ عقلمند اور نیک راہ لوگوں میں بھلی باتوں کے قبول کرنے کا صحیح مادہ ضرور ہوتا ہے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 17) ➊ {وَ الَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ …:” الطَّاغُوْتَ “} کی لغوی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۲۵۶)۔ استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں، اصل میں لفظ {” الطَّاغُوْتَ “ } (بروزن {فَعْلُوْتٌ لَا فَاعُوْلٌ أَصْلُهُ طَغْيُوْتٌ أَوْ طَغْوُوْتٌ}) {”طُغْيَانٌ“} سے مشتق ہے، لہٰذا اس سے مراد شیطان بھی ہے اور بت بھی اور ہر وہ انسان بھی جو بندگی کی حد سے نکل کر اپنے آپ کو خدائی کے مقام پر رکھتا ہو۔ اس کی عبادت سے مراد محض اسے سجدہ کرنا نہیں بلکہ اسے مستقل بالذات آمر و مطاع سمجھتے ہوئے اس کے احکام کی بجاآوری بھی ہے۔ جوہری لکھتے ہیں: {”اَلطَّاغُوْتُ الْكَاهِنُ وَالشَّيْطَانُ وَ كُلُّ رَأْسٍ فِي الضَّلَالِ“} کہ اس سے مراد شیطان، کاہن اور ہر وہ چیز ہے جو گمراہی کا منبع بنے۔ امام راغب کہتے ہیں: {” هُوَ عِبَارَةٌ عَنْ كُلِّ مَعْبُوْدٍ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“} کہ وہ ہر اس چیز سے عبارت ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے۔ (روح) (اشرف الحواشی) ➋ معلوم ہوا توحید کے لیے صرف اللہ کی عبادت کافی نہیں بلکہ طاغوت سے کنارا کشی بھی لازم ہے، اس لیے کلمہ توحید {”لَا اِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“} میں پہلے تمام الٰہوں کی نفی ہے، پھر ایک اللہ کی عبادت کا اثبات ہے۔ ➌ { لَهُمُ الْبُشْرٰى:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس کی آیت (۶۴)۔ ➍ { لَهُمُ الْبُشْرٰى …: ” عِبَادِ “} اصل میں {”عِبَادِيْ“} ہے، آیات کے فواصل کی مناسبت کے لیے یاء کو حذف کر کے دال پر کسرہ باقی رکھا گیا ہے اور ترجمہ ”میرے بندوں کو“ کیا گیا ہے۔
← پچھلی آیت (16) پوری سورۃ اگلی آیت (18) →