بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 45
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 45
آیت نمبر: 45 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحۡدَہُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اِذَا ذُکِرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۴۵﴾
جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں، اور جب اُس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں
جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت کایقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا (اور کا) ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں
اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے دل سمٹ جاتے ہیں ان کے جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر ہوتا ہے جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،
اور جب خدا کی توحید (اس کی وحدت و یکتائی) کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل کڑھنے لگتے ہیں اور جب اس کے دوسرے (مزعومہ شرکاء) کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ یکایک خوش ہو جاتے ہیں۔
اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مشرکین کی مذمت ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی مذمت بیان فرماتا ہے کہ ’ وہ بتوں اور معبودان باطلہ کو اپنا سفارشی اور شفیع سمجھتے ہیں، اس کی نہ کوئی دلیل ہے نہ حجت اور دراصل انہیں نہ کچھ اختیار ہے نہ عقل و شعور۔ نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان، وہ تو پتھر اور جمادات ہیں جو حیوانوں میں درجہا بدتر ہیں ‘۔ اس لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ’ ان سے کہہ دو، کوئی نہیں جو اللہ کے سامنے لب ہلا سکے آواز اٹھا سکے جب تک کہ اس کی مرضی نہ پالے اور اجازت حاصل نہ کر لے، ساری شفاعتوں کا مالک وہی ہے، زمین و آسمان کا بادشاہ تنہا وہی ہے۔ قیامت کے دن تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،۔ اس وقت وہ عدل کے ساتھ تم سب میں سچے فیصلے کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا ‘۔ ان کافروں کی یہ حالت ہے کہ توحید کا کلمہ سننا انہیں ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر سن کر ان کے دل تنگ ہو جاتے ہیں۔ اس کا سننا بھی انہیں پسند نہیں۔ ان کا جی اس میں نہیں لگتا۔ کفر و تکبر انہیں روک دیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ يَسْتَكْبِرُونَ» [37-الصافات:35] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان سے جب کہا جاتا تھا کہ اللہ ایک کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے اور ماننے سے جی چراتے تھے ‘۔ چونکہ ان کے دل حق کے منکر ہیں اس لیے باطل کو بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔ جہاں بتوں کا اور دوسرے اللہ کا ذکر آیا، ان کی باچھیں کھل گئیں۔

📖 احسن البیان

45۔ 1 یا کفر اور استکبار، مطلب یہ ہے کہ مشرکین سے جب یہ کہا جائے کہ معبود صرف ایک ہی ہے تو ان کے دل یہ بات ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ 45۔ 1 ہاں جب یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں بھی معبود ہیں یا وہ بھی آخر اللہ کے نیک بندے ہیں وہ بھی کچھ اختیار رکھتے ہیں وہ بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرسکتے ہیں تو پھر مشرکین بڑے خوش ہوتے ہیں منحرفین کا یہی حال آج بھی ہے جب ان سے کہا جائے کہ صرف یا اللہ مدد کہو کیونکہ اس کے سوا کوئی مدد کرنے پر قادر نہیں ہے تو سیخ پا ہوجاتے ہیں یہ جملہ ان کے لیے سخت ناگوار ہوتا ہے لیکن جب یا علی مدد یا یارسول اللہ مدد کہا جائے اسی طرح دیگر مردوں سے استمداد واستغاثہ کیا جائے مثلا یا شیخ عبد القادر شیئ اللہ وغیرہ تو پھر ان کے دل کی کلیاں کھل اٹھتی ہیں۔ فتشابھت قلوبھم۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 45) ➊ {وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ …: ”اِشْمَأَزَّ“} نفرت سے بھر گیا، تنگ پڑ گیا۔ یہ بات دنیا بھر کے مشرکوں میں مشترک ہے، خواہ وہ نام کے مسلمان کیوں نہ ہوں کہ کوئی شخص اکیلے اللہ کا اور اس کی کبریائی اور توحید کا ذکر کرے تو ان کے دل نفرت سے بھر جاتے ہیں اور تنگ پڑ جاتے ہیں اور ان کے چہروں پر ناگواری اور نفرت کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ شخص اولیاء اور بزرگوں کو نہیں مانتا، اسی لیے صرف اللہ ہی کی بات کرتا چلا جاتا ہے، نہ کسی ولی کی قوت و تصرف کا ذکر کرتا ہے جو (ان کے خیال میں) اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا تیر راستے سے واپس ہٹا لاتے ہیں اور نہ کسی دستگیر یا گنج بخش یا مشکل کُشا کی دستگیری یا مشکل کُشائی کا بیان کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا» [ بني إسرائیل: ۴۶ ] ”اور جب تو قرآن میں اپنے رب کا، اکیلے اسی کا ذکر کرتا ہے تو وہ بدکتے ہوئے اپنی پیٹھوں پر پھر جاتے ہیں۔“ ➋ { الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ:} یعنی اکیلے اللہ کے ذکر پر ان کے دلوں کے تنگ پڑنے کی وجہ آخرت پر یقین نہ ہونا ہے، اگر آخرت پر یقین ہوتا اور وہ ایمان رکھتے کہ ہمیں اس دن اس اکیلے کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے تو وہ ایسا کبھی نہ کرتے۔ ➌ {وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ …: ” يَسْتَبْشِرُوْنَ“} باب استفعال میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یعنی بہت خوش ہو جاتے ہیں، جیسا کہ {” اشْمَاَزَّتْ “} میں حروف کی زیادتی ان کی نفرت اور دل کی تنگی کے زیادہ ہونے کا اظہار کرتی ہے۔ {”اِشْمِئْزَازٌ“} اور {”اِسْتِبْشَارٌ“} کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اکیلے اللہ کے ذکر پر دل کی تنگی میں اور من دون اللہ کے ذکر پر اس کی خوشی میں وہ انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔ {” اِذَا “} مفاجات کے لیے ہے ”اچانک“ یعنی جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اس کے بغیر اس کے سوا اور ہستیوں کا ذکر کیا جائے اور ان کی جھوٹی سچی کرامات بیان ہونا شروع ہوں تو اچانک ان کے چہروں پر خوشی پھیل جاتی ہے۔ مفسر آلوسی نے روح المعانی میں اپنا تجربہ لکھا ہے کہ ایک دن میں نے ایک آدمی سے کہا جو اپنی کسی مشکل میں کسی فوت شدہ سے استغاثہ کر رہا تھا اور اسے پکار کر کہہ رہا تھا کہ اے فلاں! میری مدد کر۔ میں نے اس سے کہا، تم ”یا اللہ“ کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «‏‏‏‏وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۸۶ ] ”اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔“ تو وہ شخص سخت غصے میں آ گیا۔ بعد میں لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ کہتا تھا، یہ شخص اولیاء کا منکر ہے۔ کچھ لوگوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اس نے کہا، اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت ولی جلدی سن لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں گمراہی سے محفوظ رکھے۔
← پچھلی آیت (44) پوری سورۃ اگلی آیت (46) →