بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 14
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 14
آیت نمبر: 14 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
قُلِ اللّٰہَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّہٗ دِیۡنِیۡ ﴿ۙ۱۴﴾
کہہ دو کہ میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُسی کی بندگی کروں گا
کہہ دیجئے! کہ میں تو خالص کر کے صرف اپنے رب ہی کی عبادت کرتا ہوں
تم فرماؤ میں اللہ ہی کو پوجتا ہوں نرا اس کا بندہ ہوکر،
آپ(ص) کہئے کہ میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں اسی کیلئے اپنے دین کو خالص کرتے ہوئے۔
کہہ دے میں اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں، اس حال میں کہ اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کرنے والا ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نافرمانوں کے لئے قیامت کے دن کا عذاب ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ’ لوگوں میں اعلان کر دو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن عذاب الٰہی سے بے خوف نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو قیامت کے دن کے عذاب سے میں بھی بچ نہیں سکتا تو دوسرے لوگوں کو تو رب کی نافرمانی سے بہت زیادہ اجتناب کرنا چاہیئے۔ تم اپنے دین کا بھی اعلان کر دو کہ میں پختہ اور یکسوئی والا موحد ہوں۔ تم جس کی چاہو عبادت کرتے رہو ‘۔ اس میں بھی ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ اجازت۔ پورے نقصان میں وہ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اور اپنے والوں کو نقصان میں پھنسا دیا۔ قیامت کے دن ان میں جدائی ہو جائے گی۔ اگر ان کے اہل جنت میں گئے تو یہ دوزخ میں جل رہے ہیں اور ان سے الگ ہیں اور اگر سب جہنم میں گئے تو وہاں برائی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور رہیں اور محزون و مغموم ہیں۔ یہی واضح نقصان ہے۔ پھر ان کا حال جو جہنم میں ہو گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اوپر تلے آگ ہی آگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:41] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ ان کا اوڑھنا بچھونا سب آتش جہنم سے ہو گا۔ ظالموں کا یہی بدلہ ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [29-العنكبوت:55] ‏‏‏‏ ’ قیامت والے دن انہیں نیچے اوپر سے عذاب ہو رہا ہو گا۔ اور اوپر سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کا مزہ چکھو ‘۔ یہ اس لیے ظاہر و باہر کر دیا گیا اور کھول کھول کر اس وجہ سے بیان کیا گیا کہ اس حقیقی عذاب سے جو یقیناً آنے والا ہے میرے بندے خبردار ہو جائیں اور گناہوں اور نافرمانیوں کو چھوڑ دیں۔ میرے بندو میری پکڑ دھکڑ سے میرے عذاب و غضب سے میرے انتقام اور بدلے سے ڈرتے رہو۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 14) {قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ …:} لفظ {” اللّٰهَ “} کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، یعنی کہہ دے میں تو صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں، کسی اور کی عبادت نہ اسے اصل سمجھ کر کرتا ہوں نہ سفارشی یا واسطہ سمجھ کر۔ پچھلی آیت: «‏‏‏‏قُلْ اِنِّيْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ …» میں ایک اللہ کی عبادت کے امر کا اعلان کرنے کا حکم دیا گیا تھا، اس آیت میں اس پر اپنے عمل کے اعلان کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تکرار نہیں ہے۔
← پچھلی آیت (13) پوری سورۃ اگلی آیت (15) →