بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 15
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 15
آیت نمبر: 15 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
فَاعۡبُدُوۡا مَا شِئۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡخٰسِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَہۡلِیۡہِمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اَلَا ذٰلِکَ ہُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۵﴾
تم اُس کے سوا جس جس کی بندگی کرنا چاہو کرتے رہو کہو، اصل دیوالیے تو وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو گھاٹے میں ڈال دیا خوب سن رکھو، یہی کھلا دیوالہ ہے
تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرتے رہو کہہ دیجئے! کہ حقیقی زیاں کار وه ہیں جو اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو قیامت کے دن نقصان میں ڈال دیں گے، یاد رکھو کہ کھلم کھلا نقصان یہی ہے
تو تم اس کے سوا جسے چاہو پوجو تم فرماؤ پوری ہار انہیں جو اپنی جان اور اپنے گھر والے قیامت کے دن ہار بیٹھے ہاں ہاں یہی کھلی ہار ہے،
تم اس کے سوا جن کی چاہو عبادت (کرو) نیز کہہ دیجئے کہ اصلی خسارے والے تو وہ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن خسارے میں میں ڈالا آگاہ ہو جاؤ کہ یہی کھلا ہوا خسارہ ہے۔
تو تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو ۔کہہ دے بے شک اصل خسارہ اٹھانے والے تو وہ ہیں جنھوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ سن لو! یہی صریح خسارہ ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نافرمانوں کے لئے قیامت کے دن کا عذاب ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ’ لوگوں میں اعلان کر دو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن عذاب الٰہی سے بے خوف نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو قیامت کے دن کے عذاب سے میں بھی بچ نہیں سکتا تو دوسرے لوگوں کو تو رب کی نافرمانی سے بہت زیادہ اجتناب کرنا چاہیئے۔ تم اپنے دین کا بھی اعلان کر دو کہ میں پختہ اور یکسوئی والا موحد ہوں۔ تم جس کی چاہو عبادت کرتے رہو ‘۔ اس میں بھی ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ اجازت۔ پورے نقصان میں وہ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اور اپنے والوں کو نقصان میں پھنسا دیا۔ قیامت کے دن ان میں جدائی ہو جائے گی۔ اگر ان کے اہل جنت میں گئے تو یہ دوزخ میں جل رہے ہیں اور ان سے الگ ہیں اور اگر سب جہنم میں گئے تو وہاں برائی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور رہیں اور محزون و مغموم ہیں۔ یہی واضح نقصان ہے۔ پھر ان کا حال جو جہنم میں ہو گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اوپر تلے آگ ہی آگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:41] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ ان کا اوڑھنا بچھونا سب آتش جہنم سے ہو گا۔ ظالموں کا یہی بدلہ ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [29-العنكبوت:55] ‏‏‏‏ ’ قیامت والے دن انہیں نیچے اوپر سے عذاب ہو رہا ہو گا۔ اور اوپر سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کا مزہ چکھو ‘۔ یہ اس لیے ظاہر و باہر کر دیا گیا اور کھول کھول کر اس وجہ سے بیان کیا گیا کہ اس حقیقی عذاب سے جو یقیناً آنے والا ہے میرے بندے خبردار ہو جائیں اور گناہوں اور نافرمانیوں کو چھوڑ دیں۔ میرے بندو میری پکڑ دھکڑ سے میرے عذاب و غضب سے میرے انتقام اور بدلے سے ڈرتے رہو۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 15) ➊ { فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ:} اس میں ایک تو شرک اور مشرکین سے علیحدگی اور براء ت کا اعلان ہے کہ تم اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو، مجھ سے یہ توقع ہر گز نہ رکھو۔ سورۂ کافرون میں یہی مضمون تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ دوسرے اس میں مشرکین کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر میرے سمجھانے کے باوجود تم ان جھوٹے معبودوں کی بندگی پر ڈٹے ہوئے ہو تو ڈٹے رہو، مگر سزا بھگتنے پر بھی تیار رہو۔ تمھارے انجام کی ذمہ داری مجھ پر نہیں۔ ➋ {قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ …: ” الْخٰسِرِيْنَ “} میں الف لام کمال کے معنی کے لیے ہے، یعنی کامل اور اصل خسارے والے وہ ہیں۔ آدمی کو اپنی جان اور گھر والے سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ فرمایا، کہہ دے اصل خسارے والے لوگ وہ ہیں جنھوں نے شرک کرکے اور شرک کی تعلیم دے کر قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کا ایندھن بنایا، کیونکہ دنیا کے خسارے کا تومداوا ہو سکتا ہے مگر قیامت کے دن کے خسارے کا کوئی مداوا نہیں۔ ➌ { اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ:} مشرکین کی غباوَت اور کند ذہنی کو مد نظر رکھ کر ایک دفعہ پھر صاف لفظوں میں ان کے واضح خسارے کا اظہار فرمایا، تاکہ کسی جملے ہی سے وہ توحید کی طرف پلٹ آئیں۔
← پچھلی آیت (14) پوری سورۃ اگلی آیت (16) →