بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 38
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 38
آیت نمبر: 38 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلۡ اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ہَلۡ ہُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖۤ اَوۡ اَرَادَنِیۡ بِرَحۡمَۃٍ ہَلۡ ہُنَّ مُمۡسِکٰتُ رَحۡمَتِہٖ ؕ قُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ؕ عَلَیۡہِ یَتَوَکَّلُ الۡمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿۳۸﴾
اِن لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے اِن سے کہو، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو، مجھے اُس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچا لیں گی؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اُسی پر بھروسہ کرتے ہیں
اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً وه یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ آپ ان سے کہئیے کہ اچھا یہ تو بتاؤ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ تعالی مجھے نقصان پہنچانا چاہے توکیا یہ اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربانی کا اراده کرے تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ آپ کہہ دیں کہ اللہ مجھے کافی ہے، توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں
اور اگر تم ان سے پوچھو آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے اللہ نے تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا وہ اس کی بھیجی تکلیف ٹال دیں گے یا وہ مجھ پر مہر (رحم) فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی مہر کو روک رکھیں گے تم فرماؤ اللہ مجھے بس ہے بھروسے والے اس پر بھروسہ کریں،
اور اگر آپ(ص) اُن سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو وہ یقینا کہیں گے کہ اللہ نے آپ(ص) کہیے! تمہارا کیا خیال ہے؟ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ مجھے کچھ نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کی جانب سے نقصان کو دور کر دیں گے؟ یا اگر اللہ مجھ پر کچھ رحمت کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں؟ بس آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ میرے لئے اللہ کافی ہے۔ بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔
اور یقینا اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ کہہ تو کیا تم نے دیکھا کہ وہ ہستیاں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے تو کیا وہ اس کے نقصان کو ہٹانے والی ہیں؟ یا وہ مجھ پر کوئی مہربانی کرنا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روکنے والی ہیں؟ کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اسی پر بھروسا کرنے والے بھروسا کرتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے ٭٭

ایک قرأت میں «اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عِبَادَهُ» ہے، یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے ‘۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2349،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی بہکا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ والا ہے اس پر بھروسہ کرنے والے کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی طرف جھک جانے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ اس سے بڑھ کر عزت والا کوئی نہیں ‘۔

اسی طرح اس سے بڑھ کر انتقام پر قادر بھی کوئی نہیں۔ جو اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ اس کے رسولوں سے لڑتے بھڑتے ہیں یقیناً وہ انہیں سخت سزائیں دے گا۔ مشرکین کی مزید جہالت بیان ہو رہی ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے پھر بھی ایسے معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں جو کسی نفع نقصان کے مالک نہیں جنہیں کسی امر کا کوئی اختیار نہیں۔ حدیث شریف میں ہے { اللہ کو یاد کر وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد رکھ تو اسے ہر وقت اپنے پاس پائے گا۔ آسانی کے وقت رب کی نعمتوں کا شکر گذار رہ سختی کے وقت وہ تیرے کام آئے گا۔ جب کچھ مانگ تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کر تو اسی سے مدد طلب کر یقین رکھ کر اگر تمام دنیا مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ سب تجھے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور سب جمع ہو کر تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ نے مقدر میں نہ لکھا ہو تو ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔ صحیفے خشک ہو چکے قلمیں اٹھالی گئیں۔ یقین اور شکر کے ساتھ نیکیوں میں مشغول رہا کر تکلیفوں میں صبر کرنے پر بڑی نیکیاں ملتی ہیں۔ مدد صبر کے ساتھ ہے۔ غم و رنج کے ساتھ ہی خوشی اور فراخی ہے۔ ہر سختی اپنے اندر آسانی کو لیے ہوئے ہے }۔۱؎ [مسند احمد:307/1:صحیح] ‏‏‏‏ ’ تو کہدے کہ مجھے اللہ بس ہے۔ بھروسہ کرن والے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا تھا «إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [11-هود:54-56] ‏‏‏‏ ’ جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ اے ہود ہمارے خیال سے تو تمہیں ہمارے کسی معبود نے کسی خرابی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے تمام معبودان باطل سے بیزار ہوں۔ تم سب مل کر میرے ساتھ جو داؤ گھات تم سے ہو سکتے ہیں سب کر لو اور مجھے مطلق مہلت نہ دو۔ سنو میرا توکل میرے رب پر ہے جو دراصل تم سب کا بھی رب ہے۔ روئے زمین پر جتنے چلنے پھرنے والے ہیں سب کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ میرا رب صراط مستقیم پر ہے ‘۔ رسول اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جو شخص سب سے زیادہ قوی ہونا چاہے وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور جو سب سے زیادہ غنی بننا چاہے وہ اس چیز پر جو اللہ کے ہاتھ میں ہے زیادہ اعتماد رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو خود اس کے ہاتھ میں ہے اور جو سب سے زیادہ بزرگ ہونا چاہے وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا رہے }۔ ۱؎ [مسند عبد بن حمید:675:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر مشرکین کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ اچھا تم اپنے طریقے پر عمل کرتے چلے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر عامل ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں ذلیل و خوار کون ہوتا ہے؟ اور آخرت کے دائمی عذاب میں گرفتار کون ہوتا ہے؟‘ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔

📖 احسن البیان

38۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ سوال ان کے سامنے پیش کیا، تو انہوں نے کہا کہ واقعی وہ اللہ کی تقدیر کو نہیں ٹال سکتے، البتہ وہ سفارش کریں گے، جس پر یہ ٹکڑا نازل ہوا کہ مجھے تو میرے معاملات میں اللہ ہی کافی ہے۔ 38۔ 2 جب سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے تو پھر دوسروں پر بھروسہ کرنے کا کیا فائدہ؟ اس لئے اہل ایمان صرف اس پر توکل کرتے ہیں، اس کے سوا کسی پر اعتماد نہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 38) ➊ { وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ …:} اس آیت میں مشرکین کی جہالت اور ان کے قول و عمل کے تضاد کو اجاگر کیا ہے۔ فرمایا، اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقینا کہیں گے، اللہ تعالیٰ نے۔ اس اقرار کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جب خالق وہ ہے تو مالک بھی وہی ہے، پھر کسی اور کے پاس کسی طرح کے نفع یا نقصان کا کیا اختیار ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس اقرار کے بعد انھیں اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کے نفع یا نقصان کااختیار نہ رکھنے کا اقرار کروانے کے لیے فرمایا، ان سے کہیے کہ پھر یہ بتاؤ کہ وہ ہستیاں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف یا نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے تو کیا وہ اس کی تکلیف یا نقصان کو ہٹا سکتی ہیں، یا اگر وہ مجھ پر کوئی مہربانی فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے کفار کا جواب یہاں ذکر نہیں فرمایا۔ یا تو اس لیے کہ اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ جب خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے تو کوئی دوسرا اس کے ارادے کے خلاف کیا کر سکتا ہے، یا اس لیے کہ مشرک یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے معبود کچھ اختیار نہیں رکھتے، یہ نہیں کہیں گے کہ وہ نہ تکلیف دور کریں گے اور نہ اس کی رحمت کو روک سکیں گے، بلکہ لاجواب ہو کر خاموشی اختیار کریں گے۔ ➋ { قُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ …:} یعنی کافر اس سوال کے جواب میں خاموش رہیں تو آپ خود فرما دیں کہ مجھے تو اللہ کافی ہے، تمام بھروسا کرنے والے اسی پر بھروسا کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمام بھروسا کرنے والوں کو اسی پر بھروسا کرنا لازم ہے، کیونکہ جب کسی بات کا زیادہ زور سے حکم دینا ہو تو اسے خبر کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے، مثلاً کہنا ہو کہ آج سب لوگ فلاں جگہ عصر کی نماز پڑھیں، تو کہا جائے گا، آج سب لوگ عصر کی نماز فلاں جگہ پڑھ رہے ہیں یا پڑھیں گے۔ ➌ {هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ …:} اللہ کے سوا ہستیوں کو مؤنث کے صیغے کے ساتھ ذکر کرنے سے ان کے بے اختیار ہونے کا اظہار اور ان کی تحقیر مراد ہے۔ ➍ ”اللہ کے سوا نفع یا نقصان کا کوئی بھی مالک نہیں“ یہ مضمون اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے قرآن مجید میں جا بجا بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ رعد (۱۴ تا ۱۶)، فرقان (۳)، انعام (۱۷) اور سورۂ یونس (۱۰۶، ۱۰۷)۔
← پچھلی آیت (37) پوری سورۃ اگلی آیت (39) →