بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 23
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 23
آیت نمبر: 23 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ٭ۖ تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ ۚ ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَ قُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۲۳﴾
اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے
اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے، جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں آخر میں ان کے جسم اور دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں، یہ ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت جس کے ذریعہ جسے چاہے راه راست پر لگا دیتا ہے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ ہی راه بھلا دے اس کا ہادی کوئی نہیں
اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے دوہرے بیان والی اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑتے ہیں یادِ خدا کی طرف رغبت میں یہ اللہ کی ہدایت ہے راہ دکھائے اس سے جسے چاہے، اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں،
اللہ ہی نے بہترین کلام نازل کیا ہے یعنی ایسی کتاب جس کی آیتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں (اور) بار بار دہرائی جاتی ہیں اس (کے پڑھنے) سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں پھر ان کے جسم اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم (مائل) ہو جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ذریعہ سے وہ جس کی چاہتا ہے راہنمائی کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اس کیلئے کوئی راہنما نہیں۔
اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے، (ایسی آیات )جو باربار دہرائی جانے والی ہیں، اس سے ان لوگوں کی کھالوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، جس کے ساتھ وہ جسے چاہتا ہے راہ پر لے آتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قرآن حکیم کی تاثیر ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی اس کتاب قرآن کریم کی تعریف میں فرماتا ہے کہ ’ اس بہترین کتاب کو اس نے نازل فرمایا ہے جو سب کی سب متشابہ ہیں اور جس کی آیتیں مکرر ہیں تاکہ فہم سے قریب تر ہو جائے ‘۔ ایک آیت دوسری کے مشابہ اور ایک حرف دوسرے سے ملتا جلتا۔ اس سورت کی آیتیں اس سورت سے اور اس کی اس سے ملی جلی۔ ایک ایک ذکر کئی کئی جگہ اور پھر بے اختلاف بعض آیتیں ایک ہی بیان میں بعض میں جو مذکور ہے اس کی ضد کا ذکر بھی انہیں کے ساتھ ہے مثلاً مومنوں کے ذکر کے ساتھ ہی کافروں کا ذکر، جنت کے ساتھ ہی دوزخ کا بیان وغیرہ۔ دیکھئیے ابرار کے ذکر کے ساتھ ہی فجار کا بیان ہے «‏‏‏‏إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ» ‏‏‏‏ [82-الانفطار:14،13] ‏‏‏‏۔ سجین کے ساتھ ہی علیین کا بیان ہے «كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [83-المطففين:7] ‏‏‏‏ «كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ» ۱؎ [83-المطففين:18] ‏‏‏‏۔ متقین کے ساتھ ہی طاعین کا بیان ہے «هَٰذَا ذِكْرٌ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَآبٍ» ۱؎ [38-ص:49] ‏‏‏‏ «هَٰذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ» ۱؎ [38-ص:55] ‏‏‏‏۔ ذکر جنت کے ساتھ ہی تذکرہ جہنم ہے۔ یعنی معنی ہیں مثانی کے اور متشابہ ان آیتوں کو کہتے ہیں وہ تو یہ ہے اور «ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ» ۱؎ [3-آل عمران:7] ‏‏‏‏ میں اور ہی معنی ہیں۔ اس کی پاک اور بااثر آیتوں کا مومنوں کے دل پر نور پڑتا ہے وہ انہیں سنتے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں سزاؤں اور دھمکیوں کو سن کر ان کا کلیجہ کپکپانے لگتا ہے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انتہائی عاجزی اور بہت ہی بڑی گریہ و زاری سے ان کے دل اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اس کی رحمت و لطف پر نظریں ڈال کر امیدیں بندھ جاتی ہیں۔ ان کا حال سیاہ دلوں سے بالکل جداگانہ ہے۔ یہ رب کے کلام کو نیکیوں سے سنتے ہیں۔ وہ گانے بجانے پر سر دھنستے ہیں۔ یہ آیات قرآنی سے ایمان میں بڑھتے ہیں۔ وہ انہیں سن کر اور کفر کے زینے پر چڑھتے ہیں یہ روتے ہوئے سجدوں میں گر پڑتے ہیں۔ وہ مذاق اڑاتے ہوئے اکڑتے ہیں۔ فرمان قرآن ہے «اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ» ۱؎ [8-الانفال:4-2] ‏‏‏‏، یعنی ’ یاد الٰہی مومنوں کے دلوں کو دہلا دیتی ہے، وہ ایمان و توکل میں بڑھ جاتے ہیں، نماز و زکوٰۃ و خیرات کا خیال رکھتے ہیں، سچے با ایمان یہی ہیں، درجے، مغفرت اور بہترین روزیاں یہی پائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُ‌وا بِآيَاتِ رَ‌بِّهِمْ لَمْ يَخِرُّ‌وا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا» ۱؎ [25-الفرقان:73] ‏‏‏‏ یعنی ’ بھلے لوگ آیات قرآنیہ کو بہروں اندھوں کی طرح نہیں سنتے پڑھتے کہ ان کی طرف نہ تو صحیح توجہ ہو نہ ارادہ عمل ہو بلکہ یہ کان لگا کر سنتے ہیں دل لگا کر سمجھتے ہیں غور و فکر سے معانی اور مطلب تک رسائی حاصل کرتے ہیں ‘۔ اب توفیق ہاتھ آتی ہے سجدے میں گر پڑتے ہیں اور تعمیل کے لیے کمربستہ ہو جاتے ہیں۔ یہ خود اپنی سمجھ سے کام کرنے والے ہوتے ہیں دوسروں کی دیکھا دیکھی جہالت کے پیچھے پڑے نہیں رہتے۔ تیسرا وصف ان میں برخلاف دوسروں کے یہ ہے کہ قرآن کے سننے کے وقت با ادب رہتے ہیں۔ حضور علیہ السلام کی تلاوت سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جسم و روح ذکر اللہ کی طرف جھک آتے تھے ان میں خشوع و خضوع پیدا ہو جاتا تھا لیکن یہ نہ تھا کہ چیخنے چلانے اور ہاہڑک کرنے لگیں اور اپنی صوفیت جتائیں بلکہ ثبات سکون ادب اور خشیت کے ساتھ کلام اللہ سنتے دل جمعی اور سکون حاصل کرتے اسی وجہ سے مستحق تعریف اور سزاوار توصیف ہوئے رضی اللہ عنہم۔

عبدالرزاق میں ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اولیاء اللہ کی صفت یہی ہے کہ قرآن سن کر ان کے دل موم ہو جائیں اور ذکر اللہ کی طرف وہ جھک جائیں ان کے دل ڈر جائیں ان کی آنکھیں آنسو بہائیں اور طبیعت میں سکون پیدا ہو جائے۔ یہ نہیں کہ عقل جاتی رہے حالت طاری ہو جائے۔ نیک و بد کا ہوش نہ رہے۔ یہ بدعتیوں کے افعال ہیں کہ ہا ہو کرنے لگتے ہیں اور کودتے اچھلتے اور پکڑے پھاڑتے ہیں یہ شیطانی حرکت ہے۔ ذکر اللہ سے مراد وعدہ اللہ بھی بیان کیا گیا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے ’ یہ ہیں صفتیں ان لوگوں کی جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے۔ ان کے خلاف جنہیں پاؤ سمجھ لو کہ اللہ نے انہیں گمراہ کر دیا ہے اور یقین رکھو کہ رب جنہیں ہدایت دینا چاہیئے انہیں کوئی راہ راست نہیں دکھا سکتا ‘۔

📖 احسن البیان

23۔ 1 اَحْسَنُ الْحَدِیْثِ سے مراد قرآن مجید ہے، ملتی جلتی کا مطلب، اس کے سارے حصے حسن کلام، اعجاز و بلاغت صحت معانی وغیرہ خوبیوں میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یا یہ بھی سابقہ کتب آسمانی سے ملتا ہے یعنی ان کے مشابہ ہے مثانی، جس میں قصص و واقعات اور مواعظ و احکام کو بار بار دہرایا گیا ہے۔ 23۔ 2 کیونکہ وہ ان وعیدوں کو اور تخویف و تہدید کو سمجھتے ہیں جو نافرمانوں کے لئے اس میں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 23) ➊ { اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ …:” نَزَّلَ “} کے مفہوم میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنا پایا جاتا ہے، جیساکہ فرمایا: «وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا» ‏‏‏‏ [ بني إسرائیل: ۱۰۶ ] ”اور عظیم قرآن، ہم نے اس کو جدا جدا کرکے (نازل) کیا، تاکہ تو اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور ہم نے اسے نازل کیا، (تھوڑا تھوڑا) نازل کرنا۔“ {” اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ “} سے مراد اللہ کا کلام ہے، کیونکہ مخلوق کا کلام کبھی بھی خالق کے کلام جیسے حسن والا نہیں ہو سکتا اور نہ مخلوق اس کی مثال پیش کر سکتی ہے۔ (دیکھیے سورۂ بقرہ: ۲۳، ۲۴){ ” الْحَدِيْثِ “} کا معنی ”نئی“ ہے، چونکہ بات بھی نئی ہوتی ہے، اس لیے اسے ”حدیث“ کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے کلام کرتا ہے اور اس کا کلام حدیث اور محدث (نیا) ہوتا ہے۔ (دیکھیے سورۂ انبیاء: ۲۔ شعراء: ۵) بعض لوگوں نے یونانی فلسفیوں کا یہ قاعدہ تسلیم کر لیا کہ ہر محل حوادث حادث ہوتا ہے، یعنی جس سے کوئی نئی چیز صادر ہو وہ ہمیشہ سے موجود ہستی نہیں ہو سکتی۔ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سننے، دیکھنے، اترنے چڑھنے، کلام کرنے، ہنسنے، غرض بے شمار صفات کا انکار کر دیا، یا ان کی تاویل کی، حالانکہ یہ قاعدہ قرآن کریم کے صریح خلاف ہے۔ قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اس کے باوجود وہ سمیع بھی ہے بصیر بھی، خالق بھی ہے رزاق بھی، خوش بھی ہوتا ہے ناراض بھی اور کلام بھی کرتا ہے اور ظاہر ہے کلام الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے، جن میں ترتیب اور حدوث پایا جاتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہر آن نئی سے نئی حالت اور نئی سے نئی شان میں ہے، فرمایا: «‏‏‏‏يَسْـَٔلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ» ‏‏‏‏ [ الرحمٰن: ۲۹ ] ” اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔“ یونانی فلسفی چونکہ آسمانی ہدایت کی روشنی سے محروم تھے، اس لیے ان کا فلسفہ قرآن و حدیث سے متصادم ہے اور ان کے ماننے والے قرآن و حدیث پر ایمان کے دعوے کے باوجود ان میں مذکور صفات الٰہی کو ماننے سے دل میں شدید تنگی محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں جو صریح تحریف ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۴۳)، توبہ (۶)، کہف (۱۰۹)، انبیاء (۲) اور سورۂ شعراء (۵)۔ ➋ { كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا:} اس مقام پر پورے قرآن کو{ ” كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا “} کہا گیا ہے، یعنی قرآن مجید کی تمام آیات مضامین و معانی میں، تمام خبروں کے سچا ہونے اور تمام احکام کے حق ہونے میں ایک دوسری سے ملتی جلتی اور ایک دوسری کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ اگر ایک جگہ بات مختصر ہے تو دوسری جگہ مفصل ہے، کہیں بھی کوئی اختلاف یا تناقض نہیں ہے، فرمایا: «وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا» ‏‏‏‏ [ النساء: ۸۲ ] ”اور اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔“ اسی طرح فصاحت و بلاغت اور حسن و خوبی میں بھی سب ایک جیسی ہیں۔ تیئیس (۲۳) سالوں کے طویل عرصہ میں تھوڑی تھوڑی آیات نازل ہونے کے باوجود کسی بھی مقام پر نہ ان کی حسن و خوبی اور فصاحت و بلاغت میں کوئی تفاوت ہے اور نہ کہیں اس کے جلال اور دبدبے میں کوئی کمی ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۸۲) دوسرے مقام پر قرآن کی بعض آیات کو محکم اور بعض کو {متشابه} کہا گیا ہے، اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۷)۔ ➌ {” مَثَانِيَ”ثَنٰي يَثْنِيْ“} ({رَمٰي يَرْمِيْ}) کے اسم مفعول {”مَثْنِيَّةٌ“} بروزن {”مَرْمِيَّةٌ“} کی جمع ہے، معنی دوہرا کرنا یا دہرانا ہے۔ یعنی اس کتاب کی آیات بار بار دہرائی جانے والی ہیں، جنھیں عقائد، احکام، قصص اور ترغیب و ترہیب کو ذہن نشین کرانے کے لیے بار بار، کہیں ایک ہی طرح اور کہیں مختلف انداز میں دہرایا گیا ہے، تاکہ خوب ذہن نشین ہو جائیں اور اگر ایک جگہ بات پوری طرح سمجھ میں نہ آئے تو دوسری جگہ خوب واضح ہو جائے۔ لطف یہ کہ نہ اس کے مختلف مضامین بار بار دہرانے سے طبیعت اکتاتی ہے اور نہ ہی کوئی ایک سورت یا آیت بار بار پڑھنے سے دل سیر ہوتا ہے۔ {” مَثَانِيَ “} کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ عموماً کسی بات کے ذکر کے ساتھ اس کے مقابل کا بھی ذکر ہے، مثلاً ایمان و کفر، جنت و جہنم، ابرار و فجار، ترغیب و ترہیب اور رحمت و عذاب وغیرہ۔ ➍ {تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ …:} یعنی جب ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے جلال و قہر کا، یا اس کے عذاب کا ذکر ہوتا ہے تو خوف کی وجہ سے اپنے رب سے ڈرنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر جب اس کی رحمت و مغفرت کا ذکر آتا ہے تو ان کے چمڑے اور دل امید کی بدولت نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف جھک جاتے ہیں۔ {” تَلِيْنُ “} کے ضمن میں {”تَمِيْلُ“} کا معنی ہونے کی وجہ سے اسے {” اِلٰى “} کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اس کیفیت کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۲تا۴)، مومنون (۵تا ۱۶) اور سورۂ مائدہ (۸۳، ۸۴)۔
← پچھلی آیت (22) پوری سورۃ اگلی آیت (24) →