بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 24
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 24
آیت نمبر: 24 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
اَفَمَنۡ یَّتَّقِیۡ بِوَجۡہِہٖ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ قِیۡلَ لِلظّٰلِمِیۡنَ ذُوۡقُوۡا مَا کُنۡتُمۡ تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۲۴﴾
اب اُس شخص کی بد حالی کا تم کیا اندازہ کر سکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا؟ ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ اُس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے
بھلا جو شخص قیامت کے دن کے بدترین عذاب کی سپر (ڈھال) اپنے منھ کو بنائے گا۔ (ایسے) ﻇالموں سے کہا جائے گا کہ اپنے کیے کا (وبال) چکھو
تو کیا وہ جو قیامت کے دن برے عذاب کی ڈھال نہ پائے گا اپنے چہرے کے سوا نجات والے کی طرح ہوجائے گا اور ظالموں سے فرمایا جائے گا اپنا کمایا چکھو
بھلا وہ (احمق) شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرہ سے اپنے آپ کو سخت عذاب سے بچاتا ہے؟ (اس عذاب سے محفوظ شخص کی مانند ہو سکتا ہے؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ (آج) مزہ چکھو اس کمائی کا جو تم کیا کرتے تھے۔
تو کیا وہ شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرے کے ساتھ بد ترین عذاب سے بچے گا (وہ جنتی جیسا ہو سکتا ہے؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا چکھو جو تم کمایا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

روزِ قیامت کا احوال ٭٭

ایک وہ جسے اس ہنگامہ خیز دن میں امن و امان حاصل ہو اور ایک وہ جسے اپنے منہ پر عذاب کے تھپڑ کھانے پڑتے ہوں برابر ہو سکتے ہیں؟ جیسے فرمایا «أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [67-الملك:22] ‏‏‏‏ ’ اوندھے منہ، منہ کے بل چلنے والا اور راست قامت اپنے پیروں سیدھی راہ چلتے والا برابر نہیں ‘۔ «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:48] ‏‏‏‏ ’ ان کفار کو تو قیامت کے دن اوندھے منہ گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آگ کا مزہ چکھو ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «أَفَمَن يُلْقَىٰ فِي النَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِي آمِنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ۱؎ [41-فصلت:40] ‏‏‏‏ ’ جہنم میں داخل کیا جانے والا بدنصیب اچھا یا امن و امان سے قیامت کا دن گذارنے والا اچھا؟ ‘ یہاں اس آیت کا مطلب یہی ہے لیکن ایک قسم کا ذکر کر کے دوسری قسم کے بیان کو چھوڑ دیا کیونکہ اسی سے وہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے یہ بات شعراء کے کلام میں برابر پائی جاتی ہے۔ اگلے لوگوں نے بھی اللہ کی باتوں کو نہ مانا تھا اور رسولوں کو جھوٹا کہا تھا پھر دیکھو کہ ان پر کس طرح ان کی بے خبری میں مار پڑی؟ عذاب اللہ نے انہیں دنیا میں بھی ذلیل و خوار کیا اور آخرت کے سخت عذاب بھی ان کے لیے باقی ہیں۔ ’ پس تمہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ اشرف رسل صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے اور نہ ماننے کی وجہ سے تم پر کہیں ان سے بھی بدتر عذاب برس نہ پڑیں۔ تم اگر ذی علم ہو تو ان کے حالات اور تذکرے تمہاری نصیحت کے لیے کافی ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

24۔ 1 یعنی کیا یہ شخص، اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو قیامت والے دن بالکل بےخوف اور امن میں ہوگا؟ یعنی محذوف عبارت ملا کر اس کا مفہوم ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 24) ➊ {” اَفَمَنْ يَّتَّقِيْ بِوَجْهِهٖ “} کی خبر محذوف ہے (جیسا کہ اس سے پہلے آیت: ۱۹ میں گزر چکا ہے): {”أَيْ كَمَنْ هُوَ آمِنٌ مِنَ الْعَذَابِ، أَوْ كَمَنْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ“} یعنی تو کیا وہ شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرے کے ساتھ بدترین عذاب سے بچے گا، وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو عذاب سے بے خوف ہو گا، یا جو اہلِ جنت سے ہو گا؟ جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اَفَمَنْ يُّلْقٰى فِي النَّارِ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِيْۤ اٰمِنًا يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ» [ حٰمٓ السجدۃ: ۴۰ ] ”تو کیا وہ شخص جو آگ میں پھینکا جائے بہتر ہے، یاجو امن کی حالت میں قیامت کے دن آئے؟“ مزید دیکھیے سورۂ قمر (۴۸) اور سورۂ ملک (۲۲)۔ ➋ دنیا میں آدمی کو آگ یا کسی بھی تکلیف دہ چیز کا سامنا ہو تو وہ اپنے چہرے کو اس سے بچانے کے لیے ہاتھوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ قیامت کے دن چونکہ جہنمیوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں گے، اس لیے وہ عذاب سے بچنے کے لیے چار و ناچار چہروں ہی کو ڈھال بنائیں گے، یعنی بد ترین عذاب کے تھپیڑے سیدھے ان کے منہ پر پڑیں گے۔ ➌ {وَ قِيْلَ لِلظّٰلِمِيْنَ ذُوْقُوْا …:} یعنی وہ اپنے چہرے کے ساتھ عذاب سے بچیں گے، مگر اس سے انھیں کچھ بچاؤ حاصل نہ ہو گا، بلکہ آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی۔ آگے یہ کہنے کے بجائے کہ ”ان سے کہا جائے گا“ فرمایا ”ان ظالموں سے کہا جائے گا“ مقصد یہ بات واضح کرنا ہے کہ ان کے عذاب کا باعث ان کا ظلم ہو گا اور ان سے کہا جائے گا کہ اپنی کمائی کا وبال چکھو۔
← پچھلی آیت (23) پوری سورۃ اگلی آیت (25) →