بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 49
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 49
آیت نمبر: 49 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
فَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ۫ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰہُ نِعۡمَۃً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلۡمٍ ؕ بَلۡ ہِیَ فِتۡنَۃٌ وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۹﴾
یہی انسان جب ذرا سی مصیبت اِسے چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے! نہیں، بلکہ یہ آزمائش ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیں تو کہنے لگتا ہے کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں، بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں
پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں بلاتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں کہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے بلکہ وہ تو آزمائش ہے مگر ان میں بہتوں کو علم نہیں
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے اور پھر جب ہم اسے اپنی جانب سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو مجھے اپنے علم و ہنر کی بنا پر دی گئی ہے بلکہ وہ ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو کہتا ہے یہ مجھے ایک علم کی بنیاد ہی پر دی گئی ہے۔ بلکہ وہ ایک آزمائش ہے اور لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انسان کا ناشکرا پن ٭٭

اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ ’ مشکل کے وقت تو وہ آہ و زاری شروع کر دیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہو جاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہو گئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا ‘۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ کے نزدیک اس کا مستحق تھا ہی۔ میری اپنی عقلمندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ بات یوں نہیں بلکہ دراصل یہ ہماری طرف کی آزمائش ہے گو ہمیں ازل سے علم حاصل ہے لیکن تاہم ہم اسے ظہور میں لانا چاہتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس نعمت کا یہ شکر ادا کرتا ہے یا ناشکری؟ لیکن یہ لوگ بےعلم ہیں۔ دعوے کرتے ہیں منہ سے بات نکال دیتے ہیں لیکن اصلیت سے بے خبر ہیں، یہی دعویٰ اور یہی قول ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی کیا اور کہا، لیکن ان کا قول صحیح ثابت نہ ہوا اور ان نعمتوں نے، کسی اور چیز نے اور ان کے اعمال نے انہیں کوئی نفع نہ دیا، جس طرح ان پر وبال ٹوٹ پڑا اسی طرح ان پر بھی ایک دن ان کی بداعمالیوں کا وبال آ پڑے گا اور یہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔ نہ تھکا اور ہرا سکتے ہیں ‘۔ جیسے کہ قارون سے اس کی قوم نے کہا تھا «إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ» [28-القص:76-78] ‏‏‏‏ ’ کہ اس قدر اکڑ نہیں اللہ تعالیٰ خود پسندوں کو محبوب نہیں رکھتا۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو خرچ کر کے آخرت کی تیاری کر اور وہاں کا سامان مہیا کر۔ اس دنیا میں بھی فائدہ اٹھاتا رہ اور جیسے اللہ نے تیرے ساتھ سلوک کیا ہے، تو بھی لوگوں کے ساتھ احسان کرتا رہ۔ زمین میں فساد کرنے والا مت بن اللہ تعالیٰ مفسدوں سے محبت نہیں کرتا ‘۔ اس پر قارون نے جواب دیا کہ ان تمام نعمتوں اور جاہ و دولت کو میں نے اپنی دانائی اور علم و ہنر سے حاصل کیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ کیا اسے یہ معلوم نہیں کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور اس سے زیادہ جمع جتھا والوں کو میں نے ہلاک و برباد کر دیا ہے، مجرم اپنے گناہوں کے بارے میں پوچھے نہ جائیں گے ‘۔

الغرض مال و اولاد پر پھول کر اللہ کو بھول جانا یہ شیوہ کفر ہے۔ کفار کا قول تھا کہ ہم مال و اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہو گا، ’ کیا انہیں اب تک یہ معلوم نہیں کہ رزق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے جس کیلئے چاہے کشادگی کرے اور جس پر چاہے تنگی کرے۔ اس میں ایمان والوں کیلئے طرح طرح کی عبرتیں اور دلیلیں ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

49۔ 1 یہ انسان کا بہ اعتبار جنس ذکر ہے یعنی انسانوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ جب ان کو بیماری فقر و فاقہ یا کوئی اور تکلیف پہنچتی ہے تو اس سے نجات پانے کے لیے اللہ سے دعائیں کرتا اور اس کے سامنے گڑگڑاتا ہے۔ 49۔ 2 یعنی نعمت ملتے ہی سرکشی اور طغیان کا راستہ اختیار کرلیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں اللہ کا کیا احسان؟ یہ تو میری اپنی دانائی کا نتیجہ ہے۔ یا جو علم و ہنر میرے پاس ہے، اس کی بدولت یہ نعمتیں حاصل ہوئی ہیں یا مجھے معلوم تھا کہ دنیا میں یہ چیزیں مجھے ملیں گی کیونکہ اللہ کے ہاں میرا بہت مقام ہے۔ 49۔ 3 یعنی بات وہ نہیں ہے جو تو سمجھ رہا یا بیان کر رہا ہے بلکہ یہ نعمتیں تیرے لیے امتحان اور آزمائش ہیں کہ تو شکر کرتا ہے یا کفر؟ 49۔ 4 اس بات سے کہ یہ اللہ کی طرف سے استدراج اور امتحان ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 49) ➊ { فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ …: ”خَوَّلَ يُخَوِّلُ“} کسی معاوضے کے بغیر کوئی عطیہ دینا۔ اس آیت میں مشرک انسان کی ایک اور قبیح صفت بیان کی گئی ہے کہ جب اسے کوئی بڑی تکلیف پہنچتی ہے، مثلاً فقر یا بیماری یا سیلاب یا طوفان وغیرہ، تو اپنے جھوٹے معبودوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کو پکارتا ہے، ({” ثُمَّ “} تراخی کے لیے ہے، جس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ نعمت کچھ مدت کے بعد ملتی ہے) پھر ایک مدت تک اس تکلیف میں رہنے اور بار بار لیٹے، بیٹھے اور کھڑے ہر حال میں اس سے فریاد کرنے اور اسے پکارنے کے بعد جب وہ اسے اس تکلیف سے نجات کی نعمت، یا کوئی بھی نعمت محض اپنے خاص فضل سے عطا کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو سرے سے بھول جاتا ہے اور کہتا ہے، یہ تو مجھے صرف ایک علم کی بنا پر دی گئی ہے، مثلاً فقر کے بعد مال ملتا ہے تو کہتا ہے، یہ میرے دولت کمانے کے ہنر کی وجہ سے ملا ہے، اگر بیماری کے بعد شفا مل جائے تو کہتا ہے، یہ میری یا فلاں صاحب کی طب میں مہارت کی وجہ سے ملی ہے۔ ➋ { اِنَّمَاۤ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ:} ”مجھے یہ (نعمت) ایک علم کی بنیاد پر دی گئی ہے“ یعنی اپنے رب کے سارے احسان بھلا کر اس قدر بیگانہ ہو جاتا ہے کہ نعمت دینے والے کا نام تک لینا گوارا نہیں کرتا، بلکہ کہتا ہے ”مجھے یہ نعمت دی گئی ہے“ یہ احسان فراموشی اور نمک حرامی کی انتہا ہے، کوئی اس سے پوچھے، کیا تیرے باپ نے تجھے یہ نعمت دی ہے؟ ➌ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے پہلے اسی سورت کی آیت (۸) میں یہی الفاظ ”واؤ“ کے ساتھ آئے ہیں: «‏‏‏‏فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ» ‏‏‏‏ یہاں ”فاء“ کے ساتھ {” فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ “} لانے میں کیا حکمت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے (واللہ اعلم) کہ ”فاء“ کے ذریعے سے اس جملے کا تعلق {” وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ “} کے ساتھ ہے، درمیان کے جملے معترضہ ہیں، یعنی ان جاہلوں کا تضاد دیکھو کہ کبھی ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ اللہ اکیلے کے ذکر پر ان کے دل نفرت سے بھر جاتے اور سخت تنگ پڑ جاتے ہیں اور اس کے غیر کے ذکر پر ان کے دل کی کلی کھل اٹھتی ہے اور وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں (اور دوسرے وقت ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ) پھر جب انھیں کوئی بڑی تکلیف پہنچتی ہے {” فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا “} تو اسی اللہ کو پکارتے ہیں جس کے ذکر پر ان کے دل تنگ پڑ جاتے تھے اور ان غیروں کا نام بھی نہیں لیتے جن کے ذکر پر وہ بہت خوش ہو جاتے تھے۔ ➍ { بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ:} یعنی وہ نعمت اسے اس کے علم کی بنا پر نہیں بلکہ آزمائش کے لیے دی گئی ہے کہ وہ عطا کرنے والے کا شکر ادا کرتا ہے یا اس کی نعمت کی ناشکری اور کفر و شرک پر اصرار کرتا ہے۔ ➎ { وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی اکثر لوگ نہیں جانتے کہ مال و جاہ، صحت و قوت بلکہ ہر ایک نعمت محض اللہ کے فضل سے عطا ہوتی ہے، اس میں کسی کی عقل یا علم کا کوئی دخل نہیں، کیونکہ بہت سے علم و عقل والے کنگال، بیمار اور کمزور ہوتے ہیں، انھیں کہیں پناہ نہیں ملتی اور بہت سے علم و عقل سے عاری مال و دولت، صحت و قوت اور بے شمار نعمتوں سے مالا مال ہوتے ہیں۔ ”اکثر لوگ“ اس لیے فرمایا کہ تھوڑے لوگ اس حقیقت کو جانتے ہیں، پھر ان میں سے بعض تو ایمان لے آتے ہیں اور ہر حال میں اپنے رب پر صابر و شاکر رہتے ہیں اور بعض جاننے کے باوجود ضد اور عناد سے ناشکری اور کفر اختیار کرتے ہیں۔ یہ بھی {” لَا يَعْلَمُوْنَ “} ہی میں داخل ہیں، کیونکہ جو علم عمل سے آراستہ نہ ہو وہ لاعلمی ہی ہے۔ {” لَا يَعْلَمُوْنَ “} میں یہ بھی داخل ہے کہ اکثر لوگ نہیں جانتے کہ نعمتوں کی یہ فراوانی اگر شکر اور ایمان کا باعث نہ بنے تو اللہ کے راضی ہونے یا ان کے نعمتوں کے حق دار ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ استدراج ہے اور ان کے ذریعے سے ان پر حجت تمام ہو رہی ہے۔
← پچھلی آیت (48) پوری سورۃ اگلی آیت (50) →