بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 34
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 34
آیت نمبر: 34 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
لَہُمۡ مَّا یَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۚۖ۳۴﴾
انہیں اپنے رب کے ہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے یہ ہے نیکی کرنے والوں کی جزا
ان کے لیے ان کے رب کے پاس (ہر) وه چیز ہے جو یہ چاہیں، نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے
یہی ڈر والے ہیں، ان کے لےیے ہے، جو وہ چاہیں اپنے رب کے پاس، نیکوں کا یہی صلہ ہے،
تاکہ اللہ ان کے بدترین اعمال کو معاف کرے اور انہیں ان کے بہترین اعمال کی جزا عطا فرمائے۔
ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ کچھ ہے جو وہ چاہیں گے، یہی نیکی کرنے والوں کی جزا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مشرکین کی سزا اور موحدین کی جزا ٭٭

مشرکین نے اللہ پر بہت جھوٹ بولا تھا اور طرح طرح کے الزام لگائے تھے، کبھی اس کے ساتھ دوسرے معبود بتاتے تھے، کبھی فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں شمار کرنے لگتے تھے، کبھی مخلوق میں سے کسی کو اس کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے، جن تمام باتوں سے اس کی بلند و بالا ذات پاک اور برتر تھی۔ ساتھ ہی ان میں دوسری بدخصلت یہ بھی تھی کہ جو حق انبیاء علیہم السلام کی زبانی اللہ تعالیٰ نازل فرماتا یہ اسے بھی جھٹلاتے، پس فرمایا کہ ’ یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں ‘۔ پھر جو سزا انہیں ہونی ہے اس سے انہیں آگاہ کر دیا کہ ’ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہے،جو مرتے دم تک انکار و تکذیب پر ہی رہیں ‘۔

ان کی بدخصلت اور سزا کا ذکر کر کے پھر مومنوں کی نیک خو اور ان کی جزا کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ جو سچائی کو لایا اور اسے سچا مانا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ السلام اور ہر وہ شخص جو کلمہ توحید کا اقراری ہو۔ اور تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی ماننے والی ان کی مسلمان امت ‘۔ یہ قیامت کے دن یہی کہیں گے کہ جو تم نے ہمیں دیا اور جو فرمایا ہم اسی پر عمل کرتے رہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت میں داخل ہیں۔ آپ بھی سچائی کے لانے والے، اگلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل ہوا تھا اسے ماننے والے تھے اور ساتھ ہی یہی وصف تمام ایمان داروں کا تھا کہ وہ اللہ پر فرشتوں پر کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان رکھنے والے تھے۔

ربیع بن انس کی قرأت میں «وَالَّذِيْنَ جَاءُ وْابالصِّدْقِ» ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں سچائی کو لانے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اسے سچ ماننے والے مسلمان ہیں یہی متقی پرہیزگار اور پارسا ہیں۔ جو اللہ سے ڈرتے رہے اور شرک کفر سے بچتے رہے۔ ان کے لیے جنت میں جو وہ چاہیں سب کچھ ہے۔ جب طلب کریں گے پائیں گے۔ یہی بدلہ ہے ان پاک باز لوگوں کا، رب ان کی برائیاں تو معاف فرما دیتا ہے اور نیکیاں قبول کر لیتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں «‏‏‏‏أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ» ۱؎ [46-الأحقاف:16] ‏‏‏‏، ’ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی نیکیاں ہم قبول کر لیتے ہیں اور برائیوں سے درگزر فرما لیتے ہیں۔ یہ جنتوں میں رہیں گے۔ انہیں بالکل سچا اور صحیح صحیح وعدہ دیا جاتا ہے ‘۔

📖 احسن البیان

34۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بھی معاف فرما دے گا، ان کے درجے بھی بلند فرمائے گا، کیونکہ ہر مسلمان کی اللہ سے یہی خواہش ہوتی ہے علاوہ ازیں جنت میں جانے کے بعد ہر مطلوب چیز بھی ملے گی۔ 34۔‎2 محسنین کا ایک مفہوم تو یہ ہے جو نیکیاں کرنے والے ہیں دوسرا وہ جو اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں جیسے حدیث میں احسان کی تعریف کی گئی ہے ان تعبد اللہ کانک تراہ فانہ لم تکن تراہ فانہ یراک تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ تصور ممکن نہ ہو تو یہ ضرور ذہن میں رہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے تیسرا جو لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کرتے ہیں چوتھا ہر نیک عمل کو اچھے طریقے سے خشوع و خضوع سے اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کرتے ہیں کثرت کے بجائے اس میں حسن کا خیال رکھتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 34) ➊ {لَهُمْ مَّا يَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ:} چونکہ وہ دنیا میں وہ کام کر تے رہے جو ان کا رب چاہتا تھا، اس لیے اس کے بدلے میں رب تعالیٰ کے ہاں انھیں وہ کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے، فرمایا: «‏‏‏‏هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ» ‏‏‏‏ [ الرحمٰن: ۶۰ ] ”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے۔“ ➋ { ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِيْنَ:} یہاں کچھ عبارت محذوف ہے: {”لِأَنَّهُمْ كَانُوْا مُحْسِنِيْنَ“} کیونکہ وہ نیکی کرنے والے تھے اور نیکی کرنے والوں کی یہی جزا ہے۔ ”احسان“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۵۸)، یوسف (۳۶) اور قصص (۱۴ اور ۷۷)۔
← پچھلی آیت (33) پوری سورۃ اگلی آیت (35) →