بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزمر — Surah Zumar
آیت نمبر 26
کل آیات: 75
قرآن کریم الزمر آیت 26
آیت نمبر: 26 — سورۃ الزمر islamicurdubooks.com ↗
فَاَذَاقَہُمُ اللّٰہُ الۡخِزۡیَ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۶﴾
پھر اللہ نے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا، اور آخرت کا عذاب تو اس سے شدید تر ہے، کاش یہ لوگ جانتے
اور اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگانی دنیا میں رسوائی کا مزه چکھایا اور ابھی آخرت کا تو بڑا بھاری عذاب ہے کاش کہ یہ لوگ سمجھ لیں
اور اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مز ہ چکھایا اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے بڑا، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے
تو خدا نے ان کو اس دنیاوی زندگی میں ذلت و رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے کاش وہ لوگ جانتے۔
پس اللہ نے انھیں دنیا کی زندگی میں رسوائی چکھائی اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ بڑا ہے۔ کاش! وہ جانتے ہوتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

روزِ قیامت کا احوال ٭٭

ایک وہ جسے اس ہنگامہ خیز دن میں امن و امان حاصل ہو اور ایک وہ جسے اپنے منہ پر عذاب کے تھپڑ کھانے پڑتے ہوں برابر ہو سکتے ہیں؟ جیسے فرمایا «أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [67-الملك:22] ‏‏‏‏ ’ اوندھے منہ، منہ کے بل چلنے والا اور راست قامت اپنے پیروں سیدھی راہ چلتے والا برابر نہیں ‘۔ «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:48] ‏‏‏‏ ’ ان کفار کو تو قیامت کے دن اوندھے منہ گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آگ کا مزہ چکھو ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «أَفَمَن يُلْقَىٰ فِي النَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِي آمِنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ۱؎ [41-فصلت:40] ‏‏‏‏ ’ جہنم میں داخل کیا جانے والا بدنصیب اچھا یا امن و امان سے قیامت کا دن گذارنے والا اچھا؟ ‘ یہاں اس آیت کا مطلب یہی ہے لیکن ایک قسم کا ذکر کر کے دوسری قسم کے بیان کو چھوڑ دیا کیونکہ اسی سے وہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے یہ بات شعراء کے کلام میں برابر پائی جاتی ہے۔ اگلے لوگوں نے بھی اللہ کی باتوں کو نہ مانا تھا اور رسولوں کو جھوٹا کہا تھا پھر دیکھو کہ ان پر کس طرح ان کی بے خبری میں مار پڑی؟ عذاب اللہ نے انہیں دنیا میں بھی ذلیل و خوار کیا اور آخرت کے سخت عذاب بھی ان کے لیے باقی ہیں۔ ’ پس تمہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ اشرف رسل صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے اور نہ ماننے کی وجہ سے تم پر کہیں ان سے بھی بدتر عذاب برس نہ پڑیں۔ تم اگر ذی علم ہو تو ان کے حالات اور تذکرے تمہاری نصیحت کے لیے کافی ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 26) ➊ { فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْيَ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا …:} دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ان عذابوں کے ذریعے سے انھیں رسوائی چکھائی اور آخرت کا عذاب ان سے کہیں زیادہ بڑا ہے، کیونکہ آخرت کی آگ دنیا کی آگ سے ستر (۷۰) گنا زیادہ حرارت والی ہے، پھر دنیا کا عذاب تو ختم ہونے والا ہے، مگر آخرت کا عذاب ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ آخرت کا عذاب رسوائی میں بھی کہیں زیادہ ہے۔ دیکھیے سورۂ حمٰ السجدہ (۱۶)۔ ➋ { لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی وہ یہ بات جانتے ہی نہ تھے کہ آخرت کا عذاب کہیں زیادہ بڑا ہے، ورنہ وہ اس سے بے خوف نہ ہوتے۔ معلوم ہوا کہ اگر انھوں نے علم کے باوجود نافرمانی کی تو حقیقت میں وہ علم نہ تھا بلکہ جہل تھا، کیونکہ علم وہ ہے جو عمل پر آمادہ کرے۔
← پچھلی آیت (25) پوری سورۃ اگلی آیت (27) →