بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 280
صفحہ 11 از 14
حدیث نمبر: 26671 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ؟ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا، إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ؟ قَالَ: " نَعَمْ، لَكِ فِيهِمْ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں ابوسلمہ کے بچوں پر کچھ خرچ کردوں تو کیا مجھے اس پر اجر ملے گا کیونکہ میں انہیں اس حال میں چھوڑ نہیں سکتی کہ وہ میرے بھی بچے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں تم ان پر جو کچھ خرچ کرو گی تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26671]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1467، م: 1001
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1467، م: 1001
حدیث نمبر: 26672 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ، قَالَتْ: فَحَسِبْتُ ذَلِكَ مِنْ وَجَعٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَاكَ سَاهِمَ الْوَجْهِ، أَفَمِنْ وَجَعٍ؟ فَقَالَ: " لَا، وَلَكِنَّ الدَّنَانِيرَ السَّبْعَةَ الَّتِي أُتِينَا بِهَا أَمْسِ، أَمْسَيْنَا وَلَمْ نُنْفِقْهَا، نَسِيتُهَا فِي خُصْمِ الْفِرَاشِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا میں سمجھی کہ شاید کوئی تکلیف ہے سو میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی کیا بات ہے آپ کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دراصل میرے پاس سات دینار رہ گئے ہیں جو کل ہمارے پاس آئے تھے شام ہوگئی اور اب تک وہ ہمارے بستر پر پڑے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26672]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26673 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، إِسْرَائِيلُ ، عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، امْرَأَةٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيذِ، فَقَالَتْ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ: " الْمُزَفَّتِ، وَعَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک خاتون نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزفت دباء اور حنتم سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26673]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام المرأة التى روت عن أم سلمة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام المرأة التى روت عن أم سلمة
حدیث نمبر: 26674 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْقَاسِمُ ، أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قال: أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26674]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو جعفر الباقر لم يسمع من أم سلمة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو جعفر الباقر لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26675 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، أَبَا سَلَمَةَ ، أُمُّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ اجْتَمَعَ هُوَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا , فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، فَنُفِسَتْ بَعْدَهُ بِلَيَالٍ، فَذَكَرَتْ سُبَيْعَةُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس کے درمیان اس عورت کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا جس کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے یہاں بچہ پیدا ہوجائے، انہوں نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک قاصد بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ سبیعہ بنت حارث کے شوہر فوت ہوگئے تھے، ان کی وفات کے صرف پندرہ دن یعنی آدھ مہینہ بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوگیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم حلال ہوچکی ہو اس لئے جس سے چاہو نکاح کرسکتی ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26675]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4909، م: 1485
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4909، م: 1485
حدیث نمبر: 26676 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، أُمُّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ، وَحَضَرَ الْعَشَاءُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا اور نماز کا وقت جمع ہوجائیں تو پہلے کھانا کھالیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26676]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26677 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي، أَفَأَنْقُضُهُ عِنْدَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: " إِنَّمَا يَكْفِيكِ ثَلَاثُ حَفَنَاتٍ تَصُبِّينَهَا عَلَى رَأْسِكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ میں ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر کے بال (زیادہ لمبے ہونے سے) چوٹی بنا کر رکھنے پڑتے ہیں (تو کیا غسل کرتے وقت انہیں ضرور کھولا کروں؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ اس پر تین مرتبہ اچھی طرح پانی بہا لو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26677]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 330
الحكم: إسناده صحيح، م: 330
حدیث نمبر: 26678 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، ذَكْوَانَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا، فَقَالَ: " قَدِمَ عَلَيَّ مَالٌ، فَشَغَلَنِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ، فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَنَقْضِيهِمَا إِذَا فَاتَتَا، قَالَ:" لَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اس دن کہیں سے مال آیا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے تقسیم کرنے کے لئے بیٹھ گئے حتی کہ مؤذن عصر کی اذان دینے لگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور میرے ہاں تشریف لے آئے کیونکہ اس دن میری باری تھی اور میرے یہاں دو مختصر رکعتیں پڑھیں اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑنا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم بھی ان کی قضاء کرسکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26678]
حکم دارالسلام
صلاة النبى صلى الله عليه و آله وسلم بعد العصر ركعتين صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه
الحكم: صلاة النبى ﷺ بعد العصر ركعتين صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه
حدیث نمبر: 26679 مسند احمد
مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبُو كَعْبٍ ، شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، لِأُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَعْبٍ صَاحِبُ الْحَرِيرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا كَانَ أَكْثَرَ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ عِنْدَكِ؟ قَالَتْ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ: " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَكْثَرَ دُعَاءَكَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ؟ قَالَ:" يَا أُمَّ سَلَمَةَ، مَا مِنْ آدَمِيٍّ، إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، مَا شَاءَ أَقَامَ، وَمَا شَاءَ أَزَاغَ" , قَالَ عَبْد اللَّهِ: سَأَلْتُ أَبِي عَنْ أَبِي كَعْبٍ؟ فَقَالَ: ثِقَةٌ، وَاسْمُهُ: عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ عُبَيْدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکثریہ دعاء فرمایا کرتے تھے، اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطاء فرما میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا دلوں کو بھی پھیرا جاتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں اللہ نے جس انسان کو بھی پیدا فرمایا اس کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے پھر اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو وہ اسے سیدھا رکھتا ہے اور اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو اسے ٹیڑھا کردیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26679]
حکم دارالسلام
صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26680 مسند احمد
مُعَاذٌ ، ابْنُ عَوْنٍ ، الْحَسَنِ ، أُمِّهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: مَا نَسِيتُهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَقَدْ اغْبَرَّ صَدْرُهُ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبِنَ، وَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ" , قَالَ: فَأَقْبَلَ عَمَّارٌ، فَلَمَّا رَآهُ , قَالَ:" وَيْحَكَ ابْنَ سُمَيَّةَ، تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ" , قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ مُحَمَّدًا، فَقَالَ: عَنْ أُمِّهِ؟ أَمَا إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ تَلِجُ عَلَى أَمِّ الْمُؤْمِنِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ بات نہیں بھولتی جو غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سینہ مبارک پر موجود بال غبارآلود ہوگئے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو اینٹیں پکڑاتے ہوئے کہتے جارہے تھے کہ اے اللہ اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرمادے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمار کو دیکھا تو فرمایا ابن سمیہ افسوس تمہیں ایک باغی گروہ قتل کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26680]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2916
الحكم: إسناده صحيح، م: 2916
حدیث نمبر: 26681 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِالنِّسَاءِ؟ قَالَ: " يُرْخِينَ شِبْرًا" , قُلْتُ: إِذَنْ يَنْكَشِفَ عَنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" فَذِرَاعٌ، لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اپنا دامن کتنا لٹکائیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ایک بالشت کے برابر اسے لٹکا سکتی ہو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں کھل جائیں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک گز لٹکا لو اس سے زیادہ نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26681]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على نافع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على نافع
حدیث نمبر: 26682 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: جَعَلَتْ شَعَائِرَ مِنْ ذَهَبٍ فِي رَقَبَتِهَا، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا، فَقُلْتُ: أَلَا تَنْظُرُ إِلَى زِينَتِهَا؟ فَقَالَ: " عَنْ زِينَتِكِ أُعْرِضُ" , قَالَ: زَعَمُوا , أَنَّهُ قَالَ" مَا ضَرَّ إِحْدَاكُنَّ لَوْ جَعَلَتْ خُرْصًا مِنْ وَرِقٍ، ثُمَّ جَعَلَتْهُ بِزَعْفَرَانٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے گلے میں سونے کا ہارلٹکالیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں گئے تو ان سے اعراض فرمایا: انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس زیب وزینت کو نہیں دیکھ رہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری زینت ہی سے تو اعراض کر رہا ہوں پھر فرمایا تم اسے چاندی کے ساتھ کیوں نہیں ملاتیں، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کرلیا کرو جس سے وہ چاندی بھی سونے کی طرح ہوجائیگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26682]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء بن أبى رباح لم يسمع من أم سلمة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء بن أبى رباح لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26683 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرْتُهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِمْ أَوْ رَاحَ , فَقِيلَ لَهُ: حَلَفْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ شَهْرًا؟ فَقَالَ: " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ قسم کھالی کہ اپنی ازواج کے پاس ایک مہینے تک نہیں جائیں گے، جب ٢٩ دن گزر گئے تو صبح یا شام کے کسی وقت ان کے پاس چلے گئے کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک مہیے تک ان کے پاس نہ جائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26683]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1910، م: 1085
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1910، م: 1085
حدیث نمبر: 26684 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، سَفِينَةُ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَ سَفِينَةُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ عَامَّةُ وَصِيَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ: " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" , حَتَّى جَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَجْلِجُهَا فِي صَدْرِهِ، وَمَا يَفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26684]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يسمعه من سفينة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يسمعه من سفينة
حدیث نمبر: 26685 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَاهْدِنِي السَّبِيلَ الْأَقْوَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے، کہ پروردگا مجھے معاف فرما مجھ پر رحم فرما اور سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26685]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد، والحسن البصري لم يسمع من أم سلمة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد، والحسن البصري لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26686 مسند احمد
صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أُمُّ وَلَدٍ لِابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ وَلَدٍ لِابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , قَالَتْ: كُنْتُ امْرَأَةً لِي ذَيْلٌ طَوِيلٌ، وَكُنْتُ آتِي الْمَسْجِدَ، وَكُنْتُ أَسْحَبُهُ، فَسَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، قُلْتُ: إِنِّي امْرَأَةٌ ذَيْلِي طَوِيلٌ، وَإِنِّي آتِي الْمَسْجِدَ، وَإِنِّي أَسْحَبُهُ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ، ثُمَّ أَسْحَبُهُ عَلَى الْمَكَانِ الطَّيِّبِ، فَقَالَتْ أُمَّ سَلَمَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَرَّتْ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ، ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْمَكَانِ الطَّيِّبِ، فَإِنَّ ذَلِكَ طَهُورٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبد الرحمن کی ام ولدہ کہتی ہیں کہ میں اپنے کپڑوں کے دامن کو زمین پر گھسیٹ کر چلتی تھی، اس دوران میں ایسی جگہوں سے بھی گزرتی تھی جہاں گندگی پڑی ہوتی اور ایسی جگہوں سے بھی جو صاف ستھری ہوتیں ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کے یہاں گئی تو ان سے یہ مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعد والی جگہ اسے صاف کردیتی ہے۔ (کوئی حرج نہیں) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26686]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام أم ولد إبراهيم بن عبدالرحمن بن عوف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام أم ولد إبراهيم بن عبدالرحمن بن عوف
حدیث نمبر: 26687 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، ابْنَ شِهَابٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ تَاجِرًا إِلَى بُصْرَى وَمَعَهُ نُعَيْمَانُ وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ، وَكِلَاهُمَا بَدْرِيٌّ، وَكَانَ سُوَيْبِطٌ عَلَى الزَّادِ، فَجَاءَهُ نُعَيْمَانُ، فَقَالَ: أَطْعِمْنِي، فَقَالَ: لَا، حَتَّى يَأْتِيَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ نُعَيْمَانُ رَجُلًا مِضْحَاكًا مَزَّاحًا، فَقَالَ: لَأَغِيظَنَّكَ، فَذَهَبَ إِلَى أُنَاسٍ جَلَبُوا ظَهْرًا، فَقَالَ: ابْتَاعُوا مِنِّي غُلَامًا عَرَبِيًّا فَارِهًا، وَهُوَ ذُو لِسَانٍ، وَلَعَلَّهُ يَقُولُ: أَنَا حُرٌّ، فَإِنْ كُنْتُمْ تَارِكِيهِ لِذَلِكَ، فَدَعُونِي لَا تُفْسِدُوا عَلَيَّ غُلَامِي، فَقَالُوا: بَلْ نَبْتَاعُهُ مِنْكَ بِعَشْرِ قَلَائِصَ , فَأَقْبَلَ بِهَا يَسُوقُهَا، وَأَقْبَلَ بِالْقَوْمِ حَتَّى عَقَلَهَا، ثُمّ قَالَ لِلْقَوْمِ: دُونَكُمْ هُوَ هَذَا، فَجَاءَ الْقَوْمُ، فَقَالُوا: قَدْ اشْتَرَيْنَاكَ , قَالَ سُوَيْبِطٌ: هُوَ كَاذِبٌ، أَنَا رَجُلٌ حُرٌّ، فَقَالُوا: قَدْ أَخْبَرَنَا خَبَرَكَ , وَطَرَحُوا الْحَبْلَ في رقبته، فذهبوا به، فجاء أبو بكر فأخبر، فذهب هو وأصحاب له، فردوا القلائص وأخذوه، فضحك منها النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر تجارت کے سلسلے میں بصری کی طرف روانہ ہوئے ان کے ساتھ دو بدری صحابہ نعیمان اور سویبط بن حرملہ بھی تھے، زادراہ کے نگران سویبط تھے ایک موقع پر ان کے پاس نعیمان آئے اور کہنے لگے کہ مجھے کچھ کھانے کے لئے دیدو سویبط نے کہا کہ نہیں جب تک حضرت صدیق اکبر نہ آجائیں نعیمان بہت ہنس مکھ اور بہت حس مزاح رکھنے والے تھے، انہوں نے کہا کہ میں بھی تمہیں غصہ دلا کر چھوڑوں گا۔ پھر وہ کچھ لوگوں کے پاس گئے جو سواریوں پر بیرون ملک سے سامان لاد کر لا رہے تھے اور ان سے کہا کہ مجھ سے غلام خریدو گے جو عربی ہے، خوب ہوشیار ہے، بڑا زبان دان ہے، ہوسکتا ہے کہ وہ یہ بھی کہے کہ میں آزاد ہوں اگر اس بنیاد پر تم اسے چھوڑنا چاہو تو مجھے ابھی سے بتادو میرے غلام کو میرے خلاف نہ کر دینا، انہوں نے کہا ہم آپ سے دس اونٹوں کے عوض اسے خریدتے ہیں، وہ ان اونٹوں کو ہانکتے ہوئے لے آئے اور لوگوں کو بھی اپنے ساتھ لے آئے، جب اونٹوں کو رسیوں سے باندھ لیا تو نعیمان کہنے لگے یہ رہا وہ غلام لوگوں نے آگے بڑھ کر سویبط سے کہا کہ ہم نے انہیں خرید لیا ہے سویبط نے کہا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، میں تو آزاد ہوں ان لوگوں نے کہا کہ تمہارے آقا نے ہمیں پہلے ہی تمہارے متعلق بتادیا تھا اور یہ کہہ کر ان کی گردن میں رسی ڈال دی اور انہیں لے گئے۔ ادھر حضرت ابوبکر واپس آئے تو انہیں اس واقعے کی خبر ہوئی وہ اپنے ساتھ کچھ ساتھیوں کو لے کر ان لوگوں کے پاس گئے اور ان کے اونٹ واپس لوٹاکر سویبط کو چھڑا لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ اس واقعے کے یاد آنے پر ایک سال تک ہنستے رہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26687]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف زمعة بن صالح
الحكم: إسناده ضعيف لضعف زمعة بن صالح
حدیث نمبر: 26688 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، هِنْدُ ابْنَةُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيَّةُ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي هِنْدُ ابْنَةُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيَّةُ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا , " أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ، وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَتَ مَنْ صَلَّى مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ الرِّجَالُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سلام پھیرتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سلام ختم ہوتے ہی خواتین اٹھنے لگتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر اپنی جگہ پر ہی رک جاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26688]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 866
الحكم: إسناده صحيح، خ: 866
حدیث نمبر: 26689 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحَرَمِيٌّ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْخَلِيلِ ، صَاحِبٍ لَهُ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَحَرَمِيٌّ الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ صَاحِبٍ لَهُ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ هَارِبٌ إِلَى مَكَّةَ، فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ، فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، فَيُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنَ الشَّامِ، فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ، فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ، أَتَتْهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ الْعِرَاقِ، فَيُبَايِعُونَهُ، ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ، فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَكِّيُّ بَعْثًا، فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ، وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ، وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ، فَيَقْسِمُ الْمَالَ، وَيُعْمِلُ فِي النَّاسِ سُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ، يَمْكُثُ تِسْعَ سِنِينَ" , قَالَ حَرَمِيٌّ:" أَوْ سَبْعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک خلیفہ کی موت کے وقت لوگوں میں نئے خلیفہ کے متعلق اختلاف پیدا ہوجائے گا اس موقع پر ایک آدمی مدینہ منورہ سے بھاگ کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اسے اس کی خواہش کے بر خلاف اسے باہر نکال کر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کرلیں گے، پھر ان سے لڑنے کے لئے شام سے ایک لشکر روانہ ہوگا جسے مقام بیداء میں دھنسا دیا جائے گا جب لوگ یہ دیکھیں گے تو ان کے پاس شام کے ابدال اور اعراض کے عصائب (اولیاء کا ایک درجہ) آ کر ان سے بیعت کرلیں گے۔ پھر قریش میں سے ایک آدمی نکل کر سامنے آئے گا جس کے اخوال بنوکلب ہوں گے، وہ مکی اس قریشی کی طرف ایک لشکر بھیجے گا جو اس قریشی پر غالب آجائے گا اس لشکر یا جنگ کو بعث کلب کہا جائے گا اور وہ شخص محرم ہوگا جو اس غزوے کے مال غنیمت کی تقسم کے موقع پر موجود نہ ہوگا وہ مالت و دولت تقسم کرے گا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کے مطابق عمل کرے گا اور اسلام زمین پر اپنی گردن ڈال دے گا اور وہ آدمی نوسال تک زمین میں رہے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26689]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف لابهام صاحب أبى خليل، ولاضطراب قتادة فيه
الحكم: حديث ضعيف لابهام صاحب أبى خليل، ولاضطراب قتادة فيه
حدیث نمبر: 26690 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أُمِّهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: " طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُخْسَفُ بِهِمْ , ثُمَّ يُبْعَثُونَ إِلَى رَجُلٍ، فَيَأْتِي مَكَّةَ، فَيَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ، وَيُخْسَفُ بِهِمْ، مَصْرَعُهُمْ وَاحِدٌ، وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى" , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَكُونُ مَصْرَعُهُمْ وَاحِدًا , وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى؟ قَالَ:" إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ يُكْرَهُ، فَيَجِيءُ مُكْرَهًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی نیند سے بیدار ہوئے تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ رہے تھے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے ایک گروہ کو زمین میں دھنسادیا جائے گا پھر وہ لوگ ایک لشکر مکہ مکرمہ میں ایک آدمی کی طرف بھیجیں گے، اللہ اس آدمی کی ان سے حفاظت فرمائے گا اور انہیں زمین میں دھنسا دے گا، وہ سب ایک ہی جگہ پچھاڑے جائیں گے، لیکن ان کے اٹھائے جانے کی جگہیں مختلف ہوں گی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے ہوگا؟ فرمایا ان میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جنہیں زبردستی لشکر میں شامل کیا گیا ہوگا تو اسی حال میں آئیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26690]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد