بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 280
صفحہ 5 از 14
حدیث نمبر: 26551 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَهْرٌ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنِي شَهْرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ، زَعَمَتْ أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْتَكِي إِلَيْهِ الْخِدْمَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ مَجِلَتْ يَدَيَّ مِنَ الرَّحَى، أَطْحَنُ مَرَّةً، وَأَعْجِنُ مَرَّةً، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَرْزُقْكِ اللَّهُ شَيْئًا يَأْتِكِ، وَسَأَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ إِذَا لَزِمْتِ مَضْجَعَكِ، فَسَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَذَلِكَ مِائَةٌ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنَ الْخَادِمِ، وَإِذَا صَلَّيْتِ صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَقُولِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , عَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ , وَعَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، فَإِنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ تُكْتَبُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَتَحُطُّ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَكُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَلَا يَحِلُّ لِذَنْبٍ كُسِبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَنْ يُدْرِكَهُ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ الشِّرْكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَهُوَ حَرَسُكِ مَا بَيْنَ أَنْ تَقُولِيهِ غُدْوَةً إِلَى أَنْ تَقُولِيهِ عَشِيَّةً مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ، وَمِنْ كُلِّ سُوءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک خادمہ کی درخواست لے کر آئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ چکی پر آٹا پیس پیس کر اور اسے گوندھ گوندھ کر ہاتھوں میں گٹے پڑگئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ نے تمہیں کچھ دینا ہوا تو وہ تمہیں مل کر رہے گا، البتہ اس وقت میں تمہیں اس سے بہترین چیز بتاتا ہوں جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ اللہ اکبر اور ٣٤ مرتبہ الحمد للہ کہہ لیا کرو یہ کل سو ہوگئے یہ کلمات تمہارے حق میں خادم سے بھی بہتر ہیں اور جب فجر کی نماز پڑھا کرو تو دس مرتبہ نماز فجر کے بعد اور دس مرتبہ نماز مغرب کے بعد یہ کہہ لیا کرو لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحی ویمیت بیدہ الخیروہوعلی کل چیز قدیر تو ان میں سے ہر کلمے کے بدلے تمہارے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس گناہ مٹادیئے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا ثواب اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور شرک کے علاوہ اس دن کا کوئی گناہ تمہیں پکڑ نہ سکے گا اور صبح جس وقت تم یہ کلمات کہوگی تو شام تک ہر شیطان اور برائی سے تمہاری حفاظت کا ذریعہ بن جائیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26551]
حکم دارالسلام
طلب فاطمة الخادم، وما دلها عليه - من الذكر إذا لزمت مضجعها صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وعاب المحدثون على عبدالحميد بن بهرام كثرة رواته عن شهر بن حوشب
الحكم: طلب فاطمة الخادم، وما دلها عليه - من الذكر إذا لزمت مضجعها صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وعاب المحدثون على عبدالحميد بن بهرام كثرة رواته عن شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26552 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، شَرِيكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كُرَيْبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجْنِبُ، ثُمَّ يَنَامُ، ثُمَّ يَنْتَبِهُ، ثُمَّ يَنَامُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں ہی سوجاتے پھر آنکھ کھلتی اور پھر سوجاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26552]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 26553 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، مَيْمُونُ بْنُ مُوسَى الْمَرَائِيُّ ، الْحَسَنِ ، أُمِّهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مُوسَى الْمَرَائِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ وَهُوَ جَالِسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وترکے بعد بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26553]
حکم دارالسلام
صحيح من حديث عائشة ، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ميمون بن موسى، وهو مدلس، ثم إنه اختلف فيه على الحسن
الحكم: صحيح من حديث عائشة ، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ميمون بن موسى، وهو مدلس، ثم إنه اختلف فيه على الحسن
حدیث نمبر: 26554 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أُمِّ الْحَسَنِ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ الْحَسَنِ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَبَّرَ لِفَاطِمَةَ شِبْرًا مِنْ نِطَاقِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے کمربند میں سے ایک بالشت کے برابر کپڑا حضرت فاطمہ کو دیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26554]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 26555 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، نَاعِمٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ نَاعِمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ أَوْ يُجَصَّصَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبر پر پختہ عمارت بنانے یا اس پر چونا لگانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26555]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن لهيعة
حدیث نمبر: 26556 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، نَاعِمٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ نَاعِمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ يُجَصَّصَ قَبْرٌ أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ أَوْ يُجْلَسَ عَلَيْهِ" ، قَالَ أَبِي: لَيْسَ فِيهِ أُمُّ سَلَمَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبر پر پختہ عمارت بنانے یا اس پر چونا لگانے (یا اس پر بیٹھنے) سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26556]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن لهيعة
حدیث نمبر: 26557 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، أُمِّ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَحْرَمَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بیت المقدس سے احرام باندھ کر آئے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26557]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أم حكيم، وابن لهيعة سيء الحفظ، وهو مضطرب
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أم حكيم، وابن لهيعة سيء الحفظ، وهو مضطرب
حدیث نمبر: 26558 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْأَخْنَسِيِّ ، أُمِّ حَكِيمٍ ابْنَةِ أُمَيَّةَ بْنِ الْأَخْنَسِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ مَوْلَى آلِ جُبَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْأَخْنَسِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ حَكِيمٍ ابْنَةِ أُمَيَّةَ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَهَلَّ مِنَ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى بِعُمْرَةٍ، أَوْ بِحَجَّةٍ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" , قَالَ: فَرَكِبَتْ أُمُّ حَكِيمٍ عِنْدَ ذَلِكَ الْحَدِيثِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى أَهَلَّتْ مِنْهُ بِعُمْرَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بیت المقدس سے حج یا عمرے کا احرام باندھ کر آئے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے، اسی حدیث کی بناء پر ام حکیم نے بیت المقدس جا کر عمرے کا احرام باندھا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26558]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أم حكيم، و يحيى بن أبى سفيان مستور
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أم حكيم، و يحيى بن أبى سفيان مستور
حدیث نمبر: 26559 مسند احمد
يُونُسُ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ: " إِنَّ الَّذِي يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي لَهُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ" , اللَّهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی ازواج مطہرات سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تم پر جو شخص مہربانی کرے گا وہ یقینا سچا اور نیک آدمی ہوگا، اے اللہ عبدا لرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل کے پانی سے سیراب فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26559]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، ومحمد بن _x000D_
عبدالرحمن فيه جهالة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، ومحمد بن _x000D_ عبدالرحمن فيه جهالة
حدیث نمبر: 26560 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَمِّي يَعْنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ: أَجْمَعَ أَبِي عَلَى الْعُمْرَةِ، فَلَمَّا حَضَرَ خُرُوجُهُ، قَالَ: أَيْ بُنَيَّ، لَوْ دَخَلْنَا عَلَى الْأَمِيرِ، فَوَدَّعْنَاهُ، قُلْتُ: مَا شِئْتَ , قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَى مَرْوَانَ، وَعِنْدَهُ نَفَرٌ، فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَذَكَرُوا الرَّكْعَتَيْنِ الَّتِي يُصَلِّيهِمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: مِمَّنْ أَخَذْتَهُمَا يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي بِهِمَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ , فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى عَائِشَةَ مَا رَكْعَتَانِ يَذْكُرُهُمَا الزُّبَيْرِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ عَنْكِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ؟ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ مَا رَكْعَتَانِ زَعَمَتْ عَائِشَةُ أَنَّكِ أَخْبَرْتِيهَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ؟ فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ، لَقَدْ وَضَعَتْ أَمْرِي عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهِ، صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، وَقَدْ أُتِيَ بِمَالٍ، فَقَعَدَ يَقْسِمُهُ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ بِالْعَصْرِ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ، وَكَانَ يَوْمِي، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، فَقُلْتُ: مَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُمِرْتَ بِهِمَا؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنَّهُمَا رَكْعَتَانِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ، فَشَغَلَنِي قَسْمُ هَذَا الْمَالِ حَتَّى جَاءَنِي الْمُؤَذِّنُ بِالْعَصْرِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَدَعَهُمَا" , فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا مَرَّةً وَاحِدَةً؟ وَاللَّهِ , لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا، وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهُمَا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکربن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میرے والد نے عمرے کا ارادہ کیا جب روانگی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا بیٹا آؤ امیر کے پاس چل کر ان سے رخصت لیتے ہیں، میں نے کہا جیسے آپ کی مرضی چنانچہ ہم مروان کے پاس پہنچے اس کے پاس کچھ اور لوگ بھی تھے جن میں حضرت عبداللہ بن زیر بھی موجود تھے اور ان دو رکعتوں کا تذکرہ ہو رہا تھا جو حضرت عبداللہ بن زیبر نماز عصر کے بعد پڑھا کرتے تھے مروان نے ان سے پوچھا کہ اے ابن زبیر آپ نے یہ دو رکعتیں کس سے اخذ کی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ان کے متعلق مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ کے حوالے سے بتایا ہے۔ مروان نے حضرت عائشہ کے پاس ایک قاصد بھیج کر پوچھا کہ ابن زیبر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے یہ کیسی دو رکعتیں ہیں؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ اس کے متعلق مجھے حضرت ام سلمہ نے بتایا تھا مروان نے حضرت ام سلمہ کے پاس قاصد کو بھیج دیا کہ حضرت عائشہ کے مطابق آپ نے انہیں بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ کیسی رکعتیں ہیں؟ حضرت ام سلمہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ عائشہ کی مغفرت فرمائے، انہوں نے میری بات کو اس کے صحیح محمل پر محمول نہیں کیا، بات دراصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اس دن کہیں سے مال آیا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے تقسیم کرنے کے لئے بیٹھ گئے حتی کہ مؤذن عصر کی اذان دینے لگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور میرے ہاں تشریف لے آئے کیونکہ اس دن میری باری تھی اور میرے یہاں دو مختصر رکعتیں پڑھیں اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑنا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا) یہ سن کر حضرت ابن زبیر نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایک مرتبہ تو پڑھا ہے؟ واللہ میں نہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا اور حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ اس واقعے سے پہلے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نہ اس کے بعد۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26560]
حکم دارالسلام
صلاة النبى صلى الله عليه و آله وسلم بعد العصر صحيح، وهذا إسناد ضعيف على قلب فيه، فأبو أحمد الزبيري إنما يروي عن عبيد الله بن عبدالرحمن بن موهب، عن عمه عبيدالله بن عبدالله بن موهب، عبيدالله بن عبدالرحمن ضعيف، وعبيد الله بن عبدالله مجهول
الحكم: صلاة النبى ﷺ بعد العصر صحيح، وهذا إسناد ضعيف على قلب فيه، فأبو أحمد الزبيري إنما يروي عن عبيد الله بن عبدالرحمن بن موهب، عن عمه عبيدالله بن عبدالله بن موهب، عبيدالله بن عبدالرحمن ضعيف، وعبيد الله بن ع
حدیث نمبر: 26561 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو خَيْثَمَةَ يَعْنِي زُهَيْرَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَبِي سَهْلٍ ، مُسَّةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ يَعْنِي زُهَيْرَ بْنَ مُعَاوِيَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ , عَنْ مُسَّةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ:" كَانَتْ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً , شَكَّ أَبُو خَيْثَمَةَ , وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِنَا الْوَرْسَ مِنَ الْكَلَفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں عورتیں بچوں کی پیدائش کے بعد چالیس دن تک نفاس شمار کر کے بیٹھتی تھیں اور ہم لوگ چہروں پر چھائیاں پڑجانے کی وجہ سے اپنے چہروں پر ورس ملا کرتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26561]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مُسّة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مُسّة
حدیث نمبر: 26562 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شعبان کو رمضان کے روزے سے ملا دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26562]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26563 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَيُّوبَ ، الْحَسَنِ ، أُمُّنَا ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ أَوْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّنَا ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِعَمَّارٍ: " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمار کو دیکھا تو فرمایا ابن سمیہ افسوس تمہیں ایک باغی گروہ قتل کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26563]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2916
الحكم: إسناده صحيح، م: 2916
حدیث نمبر: 26564 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَقِرَاءَتِهِ , قَالَتْ: مَا لَكُمْ وَلِصَلَاتِهِ وَلِقِرَاءَتِهِ؟ قَدْ كَانَ: " يُصَلِّي قَدْرَ مَا يَنَامُ، وَيَنَامُ قَدْرَ مَا يُصَلِّي، وَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَتَهُ، فَإِذَا قِرَاءَةٌ مُفَسَّرَةٌ حَرْفًا حَرْفًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رات کی نماز اور قرأت کے متعلق حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا تم کہاں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز اور قرأت کہاں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرأت کی جو کیفیت انہوں نے بیان فرمائی وہ ایک ایک حرف کی وضاحت کے ساتھ تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26564]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة يعلى بن مملك
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة يعلى بن مملك
حدیث نمبر: 26565 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، مُغِيرَةَ ، أُمِّ مُوسَى ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أُمِّ مُوسَى ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ , إِنْ كَانَ عَلِيٌّ لَأَقْرَبَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: عُدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً بَعْدَ غَدَاةٍ يَقُولُ:" جَاءَ عَلِيٌّ؟" مِرَارًا، قَالَتْ: وَأَظُنُّهُ كَانَ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ , قَالَتْ: فَجَاءَ بَعْدُ , فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَةً، فَخَرَجْنَا مِنَ الْبَيْتِ، فَقَعَدْنَا عِنْدَ الْبَابِ، فَكُنْتُ مِنْ أَدْنَاهُمْ إِلَى الْبَابِ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ عَلِيٌّ، فَجَعَلَ يُسَارُّهُ وَيُنَاجِيهِ، ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ، فَكَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِهِ عَهْدًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس ذات کی قسم کھائی جاسکتی ہے میں اس کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ دوسرے لوگوں کی نسبت حضرت علی کا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری وقت میں زیادہ قرب رہا ہے، ہم لوگ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عیادت کے لئے حاضر ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بارباریہی پوچھتے کہ علی آگئے؟ غالبا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کسی کام سے بھیج دیا تھا تھوڑی دیر بعد حضرت علی آگئے، میں سمجھ گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے خلوت میں کچھ بات کرنا چاہتے ہیں چنانچہ ہم لوگ گھر سے باہر آکر دروازے میں بیٹھ گئے اور ان میں سے دروازے کے سب سے زیادہ قریب میں ہی تھی، حضرت علی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف جھک گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنی بائیں جانب بٹھالیا اور ان سے سرگوشی میں باتیں کرنے لگے اور اسی دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوگیا، اس اعتبار سے آخری لمحات میں حضرت علی کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سب سے زیادہ قرب حاصل رہا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26565]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف تفرد به مغيرة عن أم موسي
الحكم: إسناده ضعيف تفرد به مغيرة عن أم موسي
حدیث نمبر: 26566 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّي
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: سَمِعْنَا مِنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي ، قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ فَحِضْتُ، فَانْسَلَلْتُ مِنَ الْخَمِيلَةِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنُفِسْتِ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَلَبِسْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ , قَالَتْ: وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ , قَالَتْ: وَكَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے میں کھسکنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں ایام آنے لگے میں نے کہا جی یا رسول اللہ پھر میں وہاں سے چلی گئی اپنی حالت درست کی اور کپڑا باندھا پھر آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لحاف میں گھس گئی اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن میں غسل کرلیا کرتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ بھی دیدیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26566]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 322، م: 296
الحكم: إسناده صحيح، خ: 322، م: 296
حدیث نمبر: 26567 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، بِنَحْوِهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26567]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 322، م: 296
الحكم: إسناده صحيح، خ: 322، م: 296
حدیث نمبر: 26568 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26568]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5634، م: 2065
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5634، م: 2065
حدیث نمبر: 26569 مسند احمد
حَسَنٌ الْأَشْيَبُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٌ ، السَّائِبِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ نِسْوَةً دَخَلْنَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، فَسَأَلَتْهُنَّ مِمَّنْ أَنْتُنَّ؟ فقُلْنَ: مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَزَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا، خَرَقَ اللَّهُ عَنْهَا سِتْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سائب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حمص کی کچھ عورتیں حضرت ام سلمہ کے پاس آئیں انہوں نے پوچھا کہ تم لوگ کہاں سے آئی ہو انہوں نے بتایا کہ شہرحمص سے حضرت ام سلمہ نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے گھرکے علاوہ کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارتی ہے اللہ اس کا پردہ چاک کردیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26569]
حکم دارالسلام
حسن لغيره وهذا اسناد ضعيف لضعف أبن لهيعة، ولجهالة السائب مولى أم سلمة
الحكم: حسن لغيره وهذا اسناد ضعيف لضعف أبن لهيعة، ولجهالة السائب مولى أم سلمة
حدیث نمبر: 26570 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٌ ، السَّائِبِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ صَلَاةِ النِّسَاءِ فِي قَعْرِ بُيُوتِهِنَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورتوں کی سب سے بہترین نماز ان کے گھرکے آخری کمرے میں ہوتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26570]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبن لهيعة، وقد توبع