بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 280
صفحہ 7 از 14
حدیث نمبر: 26591 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي لِلطَّرِيقِ الْأَقْوَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے کہ پروردگار! مجھے معاف فرما مجھ پر رحم فرما اور سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26591]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد ولانقطاعه، فإن الحسن البصري لم يسمع من أم سلمة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد ولانقطاعه، فإن الحسن البصري لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26592 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الْحَسَنِ الْأَحْوَلُ يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَبِي سَهْلٍ ، مُسَّةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْأَحْوَلُ يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ ، عَنْ مُسَّةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: " كَانَتْ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِنَا الْوَرْسَ مِنَ الْكَلَفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں عورتیں بچوں کی پیدائش کے بعد چالیس دن تک نفاس شمار کر کے بیٹھتی تھیں اور ہم لوگ چہروں پر چھائیاں پڑجانے کی وجہ سے اپنے چہروں پر ورس ملا کرتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26592]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مُسّة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مُسّة
حدیث نمبر: 26593 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، , قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ، فَقَالَ: " لَيْسَ ذَلِكَ بِالْحَيْضِ، إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، لِتَقْعُدْ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ، وَلْتُصَلِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ بنت حبیش نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا خون ہمیشہ جاری رہتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ حیض نہیں ہے وہ تو کسی رگ کا خون ہوگا تمہیں چاہئے کہ اپنے ایام کا اندازہ کرکے بیٹھ جایا کرو پھر غسل کر کے کپڑا باندھ لیا کرو اور نماز پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26593]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري
حدیث نمبر: 26594 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَامِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصْبِحُ جُنُبًا، ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صبح کے وقت اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزہ رکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26594]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26595 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، نَافِعٍ ، زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ , أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26595]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5634، م: 2065، لكن اختلف فيه على جرير بن حازم
الحكم: حديث صحيح، خ: 5634، م: 2065، لكن اختلف فيه على جرير بن حازم
حدیث نمبر: 26596 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، لَيْثٍ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا ظَهَرَتْ الْمَعَاصِي فِي أُمَّتِي، عَمَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَذَابٍ مِنْ عِنْدِهِ" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا فِيهِمْ يَوْمَئِذٍ أُنَاسٌ صَالِحُونَ؟! قَالَ:" بَلَى" , قَالَتْ: فَكَيْفَ يَصْنَعُ أُولَئِكَ؟ قَالَ:" يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب زمین میں شرپھیل جائے گا تو اسے روکا نہ جاسکے گا اور پھر اللہ اہل زمین پر اپنا عذاب بھیج دے گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں گے اور ان پر بھی وہی آفت آئیگی جو عام لوگوں پر آئے گی پھر اللہ تعالیٰ انہیں کھینچ کر اپنی مغفرت اور خوشنودی کی طرف لے جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26596]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ليث
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 26597 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، سُفْيَانُ ، زُبَيْدٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَلَّلَ عَلَى عَلِيٍّ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَفَاطِمَةَ كِسَاءً، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي، اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا" , فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا مِنْهُمْ؟ قَالَ:" إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی حضرات حسنین اور حضرت فاطمہ کو ایک چادر میں ڈھانپ کر فرمایا اے اللہ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص لوگ ہیں اے اللہ ان سے گندگی کو دور فرما اور انہیں خوب پاک کردے حضرت ام سلمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا میں بھی ان میں شامل ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم بھی خیر پر ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26597]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26598 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبَانُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَإِنَّهُ جَاءَ وَفْدٌ، فَشَغَلُوهُ، فَلَمْ يُصَلِّهِمَا، فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، ایک مرتبہ بنوتمیم کا وفد آگیا تھا جس کی وجہ سے ظہر کے بعد کی جو دو رکعتیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھتے تھے وہ رہ گئی تھیں اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کے بعد پڑھ لیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26598]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الاسناد على أبى سلمة
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الاسناد على أبى سلمة
حدیث نمبر: 26599 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: " وَالَّذِي تَوَفَّى نَفْسَهُ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تُوُفِّيَ حَتَّى كَانَتْ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ، وَكَانَ أَعْجَبُ الْعَمَلِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو فرائض کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26599]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26600 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَوْفٌ ، أَبِي الْمُعَدِّلِ عَطِيَّةَ الطُّفَاوِيِّ ، أَبِي ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الْمُعَدِّلِ عَطِيَّةَ الطُّفَاوِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، إِذْ قَالَتْ الْخَادِمُ: إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ , قَالَ:" قُومِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي" , قَالَتْ: فَقُمْتُ، فَتَنَحَّيْتُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ قَرِيبًا، فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَ فَاطِمَةُ وَمَعَهُمْ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، صَبِيَّانِ صَغِيرَانِ، فَأَخَذَ الصَّبِيَّيْنِ فَقَبَّلَهُمَا، وَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ، وَاعْتَنَقَ عَلِيًّا وَ فَاطِمَةَ، ثُمَّ أَغْدَفَ عَلَيْهِمَا بِبُرْدَةٍ لَهُ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ، أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَنَا؟ فَقَالَ:" وَأَنْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھر میں تھے کہ خادم نے آکر بتایا کہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ دروازے پر ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھوڑی دیر کے لئے میرے اہل بیت کو میرے پاس تنہا چھوڑ دو، میں وہاں سے اٹھ کر قریب ہی جا کر بیٹھ گئی، اتنی دیر میں حضرت فاطمہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے وہ دونوں چھوٹے بچے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں پکڑ کر اپنی گود میں بٹھالیا اور انہیں چومنے لگے پھر ایک ہاتھ سے حضرت علی کو اور دوسرے سے حضرت فاطمہ کو اپنے قریب کرکے دونوں کو بوسہ دیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چادرکا بقیہ حصہ لے کر ان سب پر ڈال دیا اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے اللہ تیرے حوالے نہ کہ جہنم کے میں اور میرے اہل بیت، اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سر داخل کرکے عرض کیا یا رسول اللہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم بھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26600]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو المعذّل ضعيف وأبوه مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، أبو المعذّل ضعيف وأبوه مجهول
حدیث نمبر: 26601 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، حَفْصَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمُّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقُلْتُ: إِنِّي سَائِلُكِ عَنْ أَمْرٍ , وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْهُ، فَقَالَتْ: لَا تَسْتَحْيِي يَا ابْنَ أَخِي، قَالَ: عَنْ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ؟ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا لَا يُجِبُّونَ النِّسَاءَ، وَكَانَتْ الْيَهُودُ تَقُولُ: إِنَّهُ مَنْ جَبَّى امْرَأَتَهُ، كَانَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ، نَكَحُوا فِي نِسَاءِ الْأَنْصَارِ، فَجَبُّوهُنَّ، فَأَبَتْ امْرَأَةٌ أَنْ تُطِيعَ زَوْجَهَا، فَقَالَتْ لِزَوْجِهَا: لَنْ تَفْعَلَ ذَلِكَ حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَتْ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: اجْلِسِي حَتَّى يَأْتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحَتْ الْأَنْصَارِيَّةُ أَنْ تَسْأَلَهُ، فَخَرَجَتْ، فَحَدَّثَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " ادْعِي الْأَنْصَارِيَّةَ"، فَدُعِيَتْ، فَتَلَا عَلَيْهَا هَذِهِ الْآيَةَ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 صِمَامًا وَاحِدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبد الرحمن بن سابط کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے یہاں حفصہ بنت عبدالرحمن آئی ہوئی تھیں میں نے ان سے کہا میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں لیکن پوچھتے ہوئے شرم آرہی ہے، انہوں نے کہا بھتیجے شرم نہ کرو میں نے کہا کہ عورتوں کے پاس پچھلے حصے میں آنے کا کیا حکم ہے، انہوں نے بتایا کہ مجھے حضرت ام سلمہ نے بتایا ہے کہ انصار کے مرد اپنی عورتوں کے پاس پچھلے حصے سے نہیں آتے تھے، کیونکہ یہودی کہا کرتے تھے کہ جو شخص اپنی بیوی کے پاس پچھلی جانب سے آتا ہے اس کی اولاد بھینگی ہوتی ہے، جب مہاجرین مدینہ منورہ آئے تو انہوں نے انصاری عورتوں سے بھی نکاح کیا اور پچھلی جانب سے ان کے پاس آتے، لیکن ایک عورت نے اس معاملے میں اپنے شوہر کی بات ماننے سے انکار کردیا اور کہنے لگی کہ جب تک میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا حکم نہ پوچھ لوں اس وقت تک تم یہ کام نہیں کرسکتے۔ چنانچہ وہ عورت حضرت ام سلمہ کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آتے ہی ہوں گے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو اس عورت کو یہ سوال پوچھتے ہوئے شرم آئی لہذا وہ یوں ہی واپس چلی گئی، بعد میں حضرت ام سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس انصاریہ کو بلاؤ! چنانچہ اسے بلایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی " تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں سو تم اپنے کھیت میں جس طرح آنا چاہو، آسکتے ہو " اور فرمایا کہ اگلے سوراخ میں ہو (خواہ مرد پیچھے سے آئے یا آگے سے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26601]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26602 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، مَوْلًى لِأَبِي سَلَمَةَ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَوْلًى لِأَبِي سَلَمَةَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ , سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ سَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا وَاسِعًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز فجر کے بعد یہ دعاء فرماتے تھے اے اللہ! میں تجھ سے علم نافع، عمل مقبول اور رزق حلال کا سوال کرتا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26602]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام مولى أم سلمة
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام مولى أم سلمة
حدیث نمبر: 26603 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , تَقُولُ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَنَا لَا نُذْكَرُ فِي الْقُرْآنِ كَمَا يُذْكَرُ الرِّجَالُ؟ قَالَتْ: فَلَمْ يَرُعْنِي مِنْهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا وَنِدَاؤُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَتْ: وَأَنَا أُسَرِّحُ شَعْرِي، فَلَفَفْتُ شَعْرِي، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى حُجْرَةٍ مِنْ حُجَرِ بَيْتِي، فَجَعَلْتُ سَمْعِي عِنْدَ الْجَرِيدِ، فَإِذَا هُوَ يَقُولُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 35 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! جس طرح مردوں کا ذکر قرآن میں ہوتا ہے ہم عورتوں کا ذکر کیوں نہیں ہوتا؟ ابھی اس بات کو ایک ہی دن گزرا تھا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو منبر پر اے لوگو! کا اعلان کرتے ہوئے سنا میں اپنے بالوں میں کنگھی کررہی تھی میں نے اپنے بال لپیٹے اور دروازے کے قریب ہو کر سننے لگی میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان المسلمین والمسلمت والمؤمنین والمؤمنت الی آخر الآیۃ اعد اللہ لہم مغفرۃ واجراعظیما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26603]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26604 مسند احمد
يُونُسُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26604]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26605 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: قُلْتُ: " وَالَّذِي تَوَفَّى نَفْسَهُ مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَتْ" أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو فرائض کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26605]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26606 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنُ ، ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ، فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ، فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَغِبَ وَتَابَعَ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ:" لَا، مَا صَلَّوْا الصَّلَاةَ". .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب چھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں سے بعض کو تم اچھا سمجھوگے اور بعض پر نکیر کرو گے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائگا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا، البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26606]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1854
الحكم: إسناده صحيح، م: 1854
حدیث نمبر: 26607 مسند احمد
أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26607]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1854
الحكم: إسناده صحيح، م: 1854
حدیث نمبر: 26608 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٌ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ , وَابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا حَضَرْتُمْ الْمَرِيضَ أَوْ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا تَقُولُونَ" , قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ:" قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً" , وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ:" صَالِحَةً" , قَالَتْ: فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی قریب المرگ یا بیمار آدمی کے پاس جایا کرو تو اس کے حق میں دعائے خیر کیا کرو کیونکہ ملائکہ تمہاری دعاء پر آمین کہتے ہیں جب حضرت ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ابوسلمہ فوت ہوگئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعاء کرو کہ اے اللہ مجھے اور انہیں معاف فرما اور مجھے ان کا نعم البدل عطاء فرما میں نے یہ دعاء مانگی تو اللہ نے مجھے ان سے زیادہ بہترین بدل خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صورت میں عطاء فرمادیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26608]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:919
الحكم: إسناده صحيح، م:919
حدیث نمبر: 26609 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَامِرٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَامِرٍ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصْبِحُ جُنُبًا، فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ" , قَالَ: فَرَدَّ أَبُو هُرَيْرَةَ فُتْيَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صبح کے وقت اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزہ رکھ لیتے تھے، یہ حدیث سن کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے فتوی سے رجوع کرلیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26609]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26610 مسند احمد
يَحْيَى ، وَوَكِيعٌ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى , وَوَكِيعٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ: قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمَسُّ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، فَيَغْتَسِلُ، وَيَصُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صبح کے وقت اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزہ رکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26610]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:1190، إسناده حسن
الحكم: إسناده صحيح، م:1190، إسناده حسن