بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 280
صفحہ 13 از 14
حدیث نمبر: 26711 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، سَفِينَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: " أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ، وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ نے مجھے آزاد کردیا اور یہ شرط لگادی کہ تاحیات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کرتا رہوں گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26711]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26712 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، زَائِدَةَ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي مُعَاوِيَةَ الْبَجَلِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي مُعَاوِيَةَ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ: " تَغْتَسِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26712]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 298، م: 296، وهذا إسناد خولف فيه عمار بن أبى معاوية، والإسناد الصواب هكذا: عن أبى سلمة، عن زينب، عن أم سلمة، أي: بواسطة زينب
الحكم: إسناده صحيح، خ: 298، م: 296، وهذا إسناد خولف فيه عمار بن أبى معاوية، والإسناد الصواب هكذا: عن أبى سلمة، عن زينب، عن أم سلمة، أي: بواسطة زينب
حدیث نمبر: 26713 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کی وجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26713]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5896
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5896
حدیث نمبر: 26714 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّهَا قَدِمَتْ وَهِيَ مَرِيضَةٌ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ" , قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ , قَالَ أَبِي: وَقَرَأْتُهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَتْ: فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي بِجَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ، وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ پہنچیں تو بیمار تھیں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے رہتے ہوئے طواف کر لوحضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خانہ کعبہ کے قریب سورت طور کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26714]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 464، م: 1276
الحكم: إسناده صحيح، خ: 464، م: 1276
حدیث نمبر: 26715 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
قُرَّأتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِذَا وَلَدَتْ، فَقَدْ حَلَّتْ، فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ، فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ، أَحَدُهُمَا شَابٌّ وَالْآخَرُ كَهْلٌ، فَحَطَّتْ إِلَى الشَّابِّ، فَقَالَ الْكَهْلُ: لَمْ تَحِلَّ، وَكَانَ أَهْلُهَا غُيَّبًا، وَرَجَا إِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " قَدْ حَلَلْتِ، فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس کے درمیان اس عورت کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا جس کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے یہاں بچہ پیدا ہوجائے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ وضع حمل کے بعد وہ نکاح کرسکتی ہے، حضرت ابن عباس کا کہنا تھا کہ وہ دو میں سے ایک طویل مدت کی عدت گزارے گی، پھر انہوں نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک قاصد بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ سبیعہ بنت حارث کے شوہر فوت ہوگئے تھے، ان کی وفات کے صرف پندرہ دن یعنی آدھ مہینہ بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوگیا پھر دو آدمیوں نے سبیعہ کے پاس پیغام نکاح بھیجا اور ایک آدمی کی طرف ان کا جھکاؤ بھی ہوگیا، جب لوگوں کو محسوس ہوا کہ وہ ان میں سے کسی ایک کی طرف متوجہ ہوجائے گی تو وہ کہنے لگے کہ ابھی تم حلال نہیں ہوئیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم حلال ہوچکی ہو اس لئے جس سے چاہونکاح کرسکتی ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26715]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26716 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكْ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا بَلَغَتْ ذَلِكَ، فَلْتَغْتَسِلْ، ثُمَّ تَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ، ثُمَّ تُصَلِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا خون ہمیشہ جاری رہتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ حیض نہیں ہے، وہ تو کسی رگ کا خون ہوگا، تمہیں چاہئے کہ اپنے ایام کا اندازہ کر کے بیٹھ جایا کرو، پھر غسل کر کے کپڑا باندھ لیا کرو اور نماز پڑھا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26716]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف فيه على نافع
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف فيه على نافع
حدیث نمبر: 26717 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: جَاءَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوَارِيثَ بَيْنَهُمَا قَدْ دُرِسَتْ، لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ أَوْ قَدْ قَالَ لِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ , فَإِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهَا إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , فَبَكَى الرَّجُلَانِ، وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِّي لِأَخِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِذْ قُلْتُمَا، فَاذْهَبَا فَاقْتَسِمَا، ثُمَّ تَوَخَّيَا الْحَقَّ، ثُمَّ اسْتَهِمَا، ثُمَّ لِيَحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دوانصاری میراث کے مسئلے میں اپنا مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس پر ان کے پاس گواہ بھی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ پیش کردے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں (اس لئے یاد رکھو) میں جس شخص کی بات تسلیم کر کے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لو کہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہا ہوں، جسے وہ قیامت کے دن اپنے گلے میں لٹکا کر لائے گا، یہ سن کر وہ دونوں رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا کہ یہ میرے بھائی کا حق ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو جا کر اسے تقسیم کرلو اور حق طریقے سے قرعہ اندازی کرلو اور ہر ایک دوسرے سے اپنے لئے حلال کروالو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26717]
حکم دارالسلام
قوله انكم تختصمون إلى... إلى قوله: فإنما أقطع له قطعة من النار صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: قوله انكم تختصمون إلى... إلى قوله: فإنما أقطع له قطعة من النار صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26718 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا دَامَ عَلَيْهِ، وَإِنْ قَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کونسا تھا انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26718]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26719 مسند احمد
وَكِيعٌ ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے روزہ کی حالت میں بوسہ دیدیتے تھے جب کہ میں بھی روزے سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26719]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26720 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى الصَّهْبَاءِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12 , قَالَ:" النَّوْحُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ولا یعصینک فی معروف سے مراد یہ ہے عورتیں اس شرط پر بیعت کریں کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26720]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26721 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَا ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَا ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَنْهَا، وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا، خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فِيَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ: أَنَا امْرَأَةٌ كَبِيرَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ"، قَالَتْ: وَأَنَا امْرَأَةٌ غَيُورٌ , قَالَ:" أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُذْهِبُ عَنْكِ غَيْرَتَكِ" , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأَنَا امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ , قَالَ:" هُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ" , قَالَ: فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَأَتَاهَا، فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ، فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَتَاهَا، فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ، فَانْصَرَفَ , قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، فَأَتَاهَا، فَقَالَ: حُلْتِ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ، هَلُمَّ الصَّبِيَّةَ، قَالَ: فَأَخَذَهَا، فَاسْتَرْضَعَ لَهَا، فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيْنَ زُنَابُ؟" يَعْنِي زَيْنَبَ , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَهَا عَمَّارٌ , فَدَخَلَ بِهَا، وَقَالَ:" إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً" , قَالَ: فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ، ثُمَّ قَالَ:" إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ، سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي، وَإِنْ شِئْتِ، قَسَمْتُ لَكِ" , قَالَتْ: لَا، بَلْ اقْسِمْ لِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوسلمہ کی وفات اور ان کی عدت گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ میں تین خصلتیں ہیں، میں عمر میں بڑی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تم سے بھی بڑا ہوں انہوں نے کہا کہ میں غیور عورت ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اللہ سے دعا کردوں گا وہ تمہاری غیرت دور کردے گا، انہوں نے کہا میرے بچے بھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے نکاح فرمالیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ انہوں نے عرض کیا نہیں آپ باری مقرر کرلیجئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26721]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالعزيز بن بنت أم سلمة
الحكم: بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالعزيز بن بنت أم سلمة
حدیث نمبر: 26722 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَا ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَا ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَنْهَا، وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا، خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فِيَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ: أَنَا امْرَأَةٌ كَبِيرَةٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ" , قَالَتْ: وَأَنَا امْرَأَةٌ غَيُورٌ , قَالَ:" أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُذْهِبُ غَيْرَتَكِ" , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَإِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ , قَالَ:" هُمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ" , قَالَ: فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَأَتَاهَا، فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ، فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَتَاهَا، فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ، فَانْصَرَفَ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، فَأَتَاهَا، فَقَالَ: حُلْتِ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ، هَلُمَّ الصَّبِيَّةَ، قَالَ: فَأَخَذَهَا، فَاسْتَرْضَعَ لَهَا، فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيْنَ زُنَابُ؟" يَعْنِي زَيْنَبَ , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَهَا عَمَّارٌ , فَدَخَلَ بِهَا، فَقَالَ:" إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً" , قَالَ: فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ، ثُمَّ قَالَ:" إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ، سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي، وَإِنْ شِئْتِ، قَسَمْتُ لَكِ" , قَالَتْ: لَا، بَلْ اقْسِمْ لِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوسلمہ کی وفات اور ان کی عدت گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ میں تین خصلتیں ہیں، میں عمر میں بڑی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تم سے بھی بڑا ہوں انہوں نے کہا کہ میں غیور عورت ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اللہ سے دعا کردوں گا وہ تمہاری غیرت دور کردے گا، انہوں نے کہا میرے بچے بھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے نکاح فرمالیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ انہوں نے عرض کیا نہیں آپ باری مقرر کرلیجئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26722]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالعزيز بن بنت أم سلمة
الحكم: بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالعزيز بن بنت أم سلمة
حدیث نمبر: 26723 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ ابْنِ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ابْنِ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ، فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ، وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَاخْلُفْ عَلَيَّ بِخَيْرٍ مِنْهَا، إِلَّا فُعِلَ بِهِ ذَلِكَ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: هَذَا، فَآجَرَنِي اللَّهُ فِي مُصِيبَتِي، فَمَنْ يَخْلُفُ عَلَيَّ مَكَانَ أَبِي سَلَمَةَ؟ فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر یہ دعا کرلے کہ اے اللہ! مجھے اس مصیبت پر اجرعطا فرما اور مجھے اس کا بہترین نعم البدل عطاء فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت پر اجر فرمائے گا اور اسے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا جب میرے شوہر ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں نے سوچا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت کی قوت دی اور میں نے یہ دعاء پڑھ لی اور عدت گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے پاس پیغام نکاح بھیج دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26723]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالعزيز بن بنت أم سلمة
الحكم: بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالعزيز بن بنت أم سلمة
حدیث نمبر: 26724 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، لِأَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ : إِنَّ ظِئْرَكَ سُلَيْمًا لَا يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ , قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرَ سُلَيْمٍ , وَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنْهَا كَانَتْ تَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن طحلاء کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے کہا کہ آپ کی دائی کا شوہر سلیم آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد نیا وضو نہیں کرتا، تو انہوں نے سلیم کے سینے پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں حضرت ام سلمہ جو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ تھیں کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کی شہادت دیتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26724]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26725 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُوتِرُ بِسَبْعٍ، أَوْ خَمْسٍ، لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِكَلَامٍ وَلَا تَسْلِيمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سات یا پانچ رکعتوں پر وتر پڑھتے تھے اور ان کے درمیان سلام یا کلام کسی طرح بھی فصل نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26725]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، مقسم لم يسمع من أم سلمة ، وقد اختلف فى إسناده
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، مقسم لم يسمع من أم سلمة ، وقد اختلف فى إسناده
حدیث نمبر: 26726 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ، مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ " أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَكَانَ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26726]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو إسحاق مختلط ولم يتبين لنا أمر أبى الأحوص أسمع قبل اختلاط أبى إسحاق أم بعده، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، أبو إسحاق مختلط ولم يتبين لنا أمر أبى الأحوص أسمع قبل اختلاط أبى إسحاق أم بعده، وقد توبع
حدیث نمبر: 26727 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي الْخَلِيلِ ، سَفِينَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ: " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" , فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِهَا، وَمَا يَفِيضُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26727]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو الخليل لم يسمع من سفينة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو الخليل لم يسمع من سفينة
حدیث نمبر: 26728 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ، يَعْرِفُونَ وَيُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُقَاتِلُ فُجَّارَهُمْ؟ قَالَ:" لَا، مَا صَلَّوْا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب چھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں سے بعض کو تم اچھا سمجھو گے اور بعض پر نکیر کروگے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائگا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا، البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26728]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1854
الحكم: إسناده صحيح، م: 1854
حدیث نمبر: 26729 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، الشَّعْبِيِّ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ , قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ قَالَ شُعْبَةُ: أَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَدْ قَالَهَا , قَالَ: وَقَدْ ذَكَرَهُ سُفْيَانُ عَنْهُ، وَلَيْسَ فِي بَقِيَّتِهِ شَكٌّ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أَزِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أو أُظْلَم، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے، اللہ کے نام سے میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اے اللہ! ہم اس بات سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں کہ پھسل جائیں یا گمراہ ہوجائیں یا ظلم کریں یا کوئی ہم پر ظلم کرے یا ہم کسی سے جہالت کا مظاہرہ کریں یا کوئی ہم سے جہالت کا مظاہرہ کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26729]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يسمع من أم سلمة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26730 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاقَ ، أَبَا سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ:" مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى: كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَاعِدًا غَيْرَ الْفَرِيضَةِ، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ وَإِنْ قَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26730]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح