أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، لِأَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ : إِنَّ ظِئْرَكَ سُلَيْمًا لَا يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ , قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرَ سُلَيْمٍ , وَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنْهَا كَانَتْ تَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن طحلاء کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے کہا کہ آپ کی دائی کا شوہر سلیم آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد نیا وضو نہیں کرتا، تو انہوں نے سلیم کے سینے پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں حضرت ام سلمہ جو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ تھیں کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کی شہادت دیتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26724]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن