بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 280
صفحہ 1 از 14
حدیث نمبر: 26471 مسند احمد
هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ ابْنَةَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ، وَأَرَادَتْ التَّزْوِيجَ، فَقَالَ لَهَا أَبُو السَّنَابِلِ: لَيْسَ لَكِ ذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيْكِ آخِرُ الْأَجَلَيْنِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " تَزَوَّجُ إِذَا شَاءَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوالسنابل سے مروی ہے کہ سبیعہ کے یہاں اپنے شوہر کی وفات کے صرف ٢٣ یا ٢٥ دن بعد ہی بچے کی ولادت ہوگئی اور وہ دوسرے رشتے کے لئے تیار ہونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کسی نے آکر اس کی خبردی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتی ہے تو (ٹھیک ہے کیونکہ) اس کی عدت گزر چکی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26471]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سليمان بن يسار لم يسمع هذا الحديث من ام سلمة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سليمان بن يسار لم يسمع هذا الحديث من ام سلمة
حدیث نمبر: 26472 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، أَبِيهِ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ , قُلْتُ: غَرِيبٌ وَمَاتَ بِأَرْضِ غُرْبَةٍ، فَأَفَضْتُ بُكَاءً، فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي مِنَ الصَّعِيدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ؟" قَالَتْ: فَلَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میرے شوہر حضرت ابوسلمہ فوت ہوگئے تو یہ سوچ کر کہ وہ مسافر تھے اور ایک اجنبی علاقے میں فوت ہوگئے میں نے خواب آہ وبکاء کی اسی دوران ایک عورت میرے پاس مدینہ منورہ کے بالائی علاقے سے میرے ساتھ رونے کے لئے آگئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کیا تم اپنے گھر میں شیطان کو داخل کرنا چاہتی ہو جسے اللہ نے یہاں سے نکال دیا تھا حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ پھر میں اپنے شوہر پر نہیں روئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26472]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 922
الحكم: إسناده صحيح، م: 922
حدیث نمبر: 26473 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، نَبْهَانَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَبْهَانَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ، فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي، فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم خواتین میں سے کسی کا کوئی غلام مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا بدل کتابت ہو کہ وہ اسے اپنے مالک کے حوالے کر کے خود آزادی حاصل کرسکتے تو اس عورت کو اپنے غلام سے پردہ کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26473]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة نبهان، ومما يدل على ضعف هذا الحديث عمل السيدة عائشة بخلافه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة نبهان، ومما يدل على ضعف هذا الحديث عمل السيدة عائشة بخلافه
حدیث نمبر: 26474 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَتْ الْعَشْرُ، فَأَرَادَ رَجُلٌ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ بَشَرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہوجائے اور کسی شخص کا قربانی کا ارادہ ہو تو اسے اپنے (سرکے) بال یا جسم کے کسی حصے (کے بالوں) کو ہاتھ نہیں لگانا (کاٹنا اور تراشنا) چاہئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26474]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1977
الحكم: إسناده صحيح، م: 1977
حدیث نمبر: 26475 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ سُوقَةَ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ سُوقَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَيْشَ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِمْ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: لَعَلَّ فِيهِمْ الْمُكْرَهَ، فَقَالَ: " إِنَّهُمْ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس لشکرکا تذکرہ کیا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو حضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ ہوسکتا ہے اس لشکر میں ایسے لوگ بھی ہوں جنہیں زبردستی اس میں شامل کرلیا گیا ہو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26475]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف على ابن سوقة فيه
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف على ابن سوقة فيه
حدیث نمبر: 26476 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمَّارٍ يَعْنِي الدُّهْنِيَّ ، أَبَا سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمَّارٍ يَعْنِي الدُّهْنِيَّ , سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُخْبِرُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَوَائِمُ مِنْبَرِي رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے منبر کے پائے جنت میں گاڑے جائیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26476]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26477 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، سَعِيدٍ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، وَهُوَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، كَذَا قَالَ سُفْيَانُ , أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي , قَالَ: " يُجْزِئُكِ أَنْ تَصُبِّي عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ میں ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر کے بال (زیادہ لمبے ہونے سے) چوٹی بنا کر رکھنے پڑتے ہیں (تو کیا غسل کرتے وقت انہیں ضرور کھولا کروں؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ اس پر تین مرتبہ اچھی طرح پانی بہا لو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26477]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 330
الحكم: إسناده صحيح، م: 330
حدیث نمبر: 26478 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أُمُّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْكُمْ، وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيلًا لِلْعَصْرِ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم لوگوں کی نسبت ظہر کی نماز جلدی پڑھ لیا کرتے تھے اور تم لوگ ان کی نسبت عصر کی نماز زیادہ جلدی پڑھ لیتے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26478]
حکم دارالسلام
تعجيل النبى صلى الله عليه و آله وسلم صلاة الظهر صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لعنعنة ابن جريج، وهو مدلس
الحكم: تعجيل النبى ﷺ صلاة الظهر صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لعنعنة ابن جريج، وهو مدلس
حدیث نمبر: 26479 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، عَائِشَةُ ، وَأُمُّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ : أَيُّ كان أعجب إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" مَا دَامَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا تھا انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26479]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو صالح وإن كان قد أدرك عائشة وأم سلمة إلا أنه لم يذكر ما يفيد السماع منهما
الحكم: حديث صحيح، أبو صالح وإن كان قد أدرك عائشة وأم سلمة إلا أنه لم يذكر ما يفيد السماع منهما
حدیث نمبر: 26480 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ ، أُمِّهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَسَأَلْتُهَا عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَتْ: كَانَ النبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، أَوَّلُهَا الِاثْنَيْنِ، وَالْجُمُعَةُ، وَالْخَمِيسُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہنیدہ کی والدہ کہتی ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ کے پاس حاضر ہوئی اور ان سے روزے کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے جن میں سے پہلا روزہ پیر کے دن ہوتا تھا پھر جمعرات اور جمعہ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26480]
حکم دارالسلام
ضعيف لاضطرابه، والحديث عند مسلم عن عائشة: أن النبى صلى الله عليه و آله وسلم كان يصوم من كل شهر ثلاثة ايام، ولم يكن يبالي من اي ايام الشهر يصوم
الحكم: ضعيف لاضطرابه، والحديث عند مسلم عن عائشة: أن النبى ﷺ كان يصوم من كل شهر ثلاثة ايام، ولم يكن يبالي من اي ايام الشهر يصوم
حدیث نمبر: 26481 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْا: إنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كان " يُصْبِحُ جُنُبًَا، ثُمَّ يَصُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن عبدالرحمن بن عتاب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان دونوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26481]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1930، م: 1109 عن عائشة فقط
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1930، م: 1109 عن عائشة فقط
حدیث نمبر: 26482 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، الْحَسَنِ ، أُمِّهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: مَا نَسِيتُ قَوْلَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ، وَقَدْ اغْبَرَّ شَعْرُ صَدْرِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ" قَالَ: فَرَأَى عَمَّارًا، فَقَالَ:" وَيْحَهُ ابْنُ سُمَيَّةَ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ" , قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ , فَقَالَ: عَنْ أُمِّهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، أَمَا إِنَّهَا كَانَتْ تُخَالِطُهَا، تَلِجُ عَلَيْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ بات نہیں بھولتی جو غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سینہ مبارک پر موجود بال غبارآلود ہوگئے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو اینٹیں پکڑاتے ہوئے کہتے جارہے تھے کہ اے اللہ اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرمادے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمار کو دیکھا تو فرمایا ابن سمیہ افسوس تمہیں ایک باغی گروہ قتل کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26482]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2916
الحكم: إسناده صحيح، م: 2916
حدیث نمبر: 26483 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، سَفِينَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ مِنْ آخِرِ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" , حَتَّى جَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَجْلِجُهَا فِي صَدْرِهِ، وَمَا يَفِيصُ بِهَا لِسَانُهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26483]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يسمعه من سفينة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يسمعه من سفينة
حدیث نمبر: 26484 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، سُمَيٍّ ، وَعَبْدِ رَبِّهِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عن مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ , وَعَبْدِ رَبِّهِ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُ" , وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ رَبِّهِ: فِي رَمَضَانَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکربن عبدالرحمن بن عتاب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں والد کے ساتھ حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان دونوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26484]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1930، م: 1109 عن عائشة فقط
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1930، م: 1109 عن عائشة فقط
حدیث نمبر: 26485 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَدِمَتْ وَهِيَ مَرِيضَةٌ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ" ,قَالَتْ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ پہنچیں تو بیمار تھیں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے رہتے ہوئے طواف کر لوحضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خانہ کعبہ کے قریب سورت طور کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26485]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 464، م: 1276
الحكم: إسناده صحيح، خ: 464، م: 1276
حدیث نمبر: 26486 مسند احمد
جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، مَنْصُورٍ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُوتِرُ بِسَبْعٍ وَبِخَمْسٍ، لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِسَلَامٍ، وَلَا بِكَلَامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سات یا پانچ رکعتوں پر وتر پڑھتے تھے اور ان کے درمیان سلام یا کلام کسی طرح بھی فصل نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26486]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، مقسم لم يسمع من أم سلمة ، وقد اختلف فى إسناده
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، مقسم لم يسمع من أم سلمة ، وقد اختلف فى إسناده
حدیث نمبر: 26487 مسند احمد
جَرِيرٌ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، أُمُّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ: دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَأَنَا مَعَهُمَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَسَأَلَاهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْحِجْرِ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ جَيْشًا، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ، خُسِفَ بِهِمْ" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ أُخْرِجَ كَارِهًا؟ قَالَ:" يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ عَلَى نِيَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي جَعْفَرٍ، فَقَالَ: هِيَ بَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک پناہ گزین حطیم میں پناہ لے گا اللہ ایک لشکر بھیجے گا جب وہ لوگ مقام بیداء میں پہنچیں گے تو اسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو حضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ ہوسکتا ہے اس لشکر میں ایسے لوگ بھی ہوں جنہیں زبردستی اس میں شامل کرلیا گیا ہو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26487]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2882
الحكم: إسناده صحيح، م: 2882
حدیث نمبر: 26488 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَتْ: كُنْتُ أَجُرُّ ذَيْلِي، فَأَمُرُّ بِالْمَكَانِ الْقَذِرِ، وَالْمَكَانِ الطَّيِّبِ، فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبدالرحمن کی ام ولدہ کہتی ہیں کہ میں اپنے کپڑوں کے دامن کو زمین پر گھسیٹ کر چلتی تھی اس دوران میں ایسی جگہوں سے بھی گزرتی تھی جہاں گندگی پڑی ہوتی اور ایسی جگہوں سے بھی جو صاف ستھری ہوتیں ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کے یہاں گئی تو ان سے یہ مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعد والی جگہ اسے صاف کردیتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26488]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام أم ولد إبراهيم بن عبدالرحمن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام أم ولد إبراهيم بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 26489 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ: فَقَالَ: يَا أُمَّهْ، قَدْ خِفْتُ أَنْ يُهْلِكَنِي كَثْرَةُ مَالِي، أَنَا أَكْثَرُ قُرَيْشٍ مَالًا، قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، فَأَنْفِقْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ" , فَخَرَجَ، فَلَقِيَ عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ، فَجَاءَ عُمَرُ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهَا: بِاللَّهِ مِنْهُمْ أَنَا؟ فَقَالَتْ: لَا، وَلَنْ أُبْلِيَ أَحَدًا بَعْدَكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ان کے پاس آئے اور کہنے لگے اماں جان مجھے اندیشہ ہے کہ مال کی کثرت مجھے ہلاک نہ کردے۔ کیونکہ میں قریش میں سب سے زیادہ مالدار ہوں انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا اسے خرچ کرو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہوں گے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عبدالرحمن بن عوف جب باہر نکلے تو راستے میں حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی انہوں نے حضرت عمر کو یہ بات بتائی حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26489]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26490 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهَا مُخَنَّثٌ، وَعِنْدَهَا أَخُوهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، وَالْمُخَنَّثُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ، إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الطَّائِفَ غَدًا، فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ , قَالَ: فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ:" لَا يَدْخُلَنَّ هَذَا عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہاں ایک مخنث اور عبداللہ بن ابی امیہ جو حضرت ام سلمہ کے بھائی تھے بھی موجود تھے وہ ہیجڑا عبداللہ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداللہ بن ابی امیہ اگر کل کو اللہ تمہیں طائف پر فتح عطاء فرمائے تو تم بنت غیلان کو ضرور حاصل کرنا کیونکہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ واپس جاتی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی یہ بات سن لی اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا آئندہ یہ تمہارے گھر میں نہیں آنا چاہئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26490]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4324، م: 2180
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4324، م: 2180