هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ ابْنَةَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ، وَأَرَادَتْ التَّزْوِيجَ، فَقَالَ لَهَا أَبُو السَّنَابِلِ: لَيْسَ لَكِ ذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيْكِ آخِرُ الْأَجَلَيْنِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " تَزَوَّجُ إِذَا شَاءَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوالسنابل سے مروی ہے کہ سبیعہ کے یہاں اپنے شوہر کی وفات کے صرف ٢٣ یا ٢٥ دن بعد ہی بچے کی ولادت ہوگئی اور وہ دوسرے رشتے کے لئے تیار ہونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کسی نے آکر اس کی خبردی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتی ہے تو (ٹھیک ہے کیونکہ) اس کی عدت گزر چکی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26471]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سليمان بن يسار لم يسمع هذا الحديث من ام سلمة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سليمان بن يسار لم يسمع هذا الحديث من ام سلمة