أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهَا مُخَنَّثٌ، وَعِنْدَهَا أَخُوهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، وَالْمُخَنَّثُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ، إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الطَّائِفَ غَدًا، فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ , قَالَ: فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ:" لَا يَدْخُلَنَّ هَذَا عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہاں ایک مخنث اور عبداللہ بن ابی امیہ جو حضرت ام سلمہ کے بھائی تھے بھی موجود تھے وہ ہیجڑا عبداللہ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداللہ بن ابی امیہ اگر کل کو اللہ تمہیں طائف پر فتح عطاء فرمائے تو تم بنت غیلان کو ضرور حاصل کرنا کیونکہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ واپس جاتی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی یہ بات سن لی اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا آئندہ یہ تمہارے گھر میں نہیں آنا چاہئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26490]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4324، م: 2180
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4324، م: 2180