بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 280
صفحہ 2 از 14
حدیث نمبر: 26491 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَقْضِي لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَإِنَّمَا هُوَ نَارٌ، فَلَا يَأْخُذْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کرتے ہو، ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ پیش کردے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں (اس لئے یاد رکھو) میں جس شخص کی بات تسلیم کرکے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لو کہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہاہوں لہذا اسے چاہئے کہ اسے نہ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26491]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1713
الحكم: إسناده صحيح، م: 1713
حدیث نمبر: 26492 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَهَا أَنْ تُوَافِيَ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمَكَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ قربانی کے دن (دس ذی الحجہ کو) فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں پڑھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26492]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وقد اختلف فى وصله و ارساله، وارساله اصح، ابو معاوية اضطرب فى متنة
الحكم: رجاله ثقات، وقد اختلف فى وصله و ارساله، وارساله اصح، ابو معاوية اضطرب فى متنة
حدیث نمبر: 26493 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي؟ قَالَ:" فَأَصْنَعُ بِهَا مَاذَا؟" , قَالَتْ: تَزَوَّجُهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟" فَقَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَقُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي"، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَتْ تَحِلُّ لِي لَمَا تَزَوَّجْتُهَا، قَدْ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ مَوْلَاةُ بَنِي هَاشِمٍ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ أَخَوَاتِكُنَّ وَلَا بَنَاتِكُنَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کو میری بہن میں کوئی دلچسپی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا مطلب انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس سے نکاح کرلیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں اس لئے اس خیر میں میرے ساتھ جو لوگ شریک ہوسکتے ہیں میرے نزدیک ان میں سے میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے لئے وہ حلال نہیں ہے (کیونکہ تم میرے نکاح میں ہو) انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ کے لئے پیغام نکاح بھیجنے والے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ میرے لئے حلال ہوتی تب بھی میں اس سے نکاح نہ کرتا کیونکہ مجھے اور اس کے باپ (ابوسلمہ) کو بنوہاشم کی آزاد کردہ باندی ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا بہرحال تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26493]
حکم دارالسلام
صحيح من حديث أم حبيبة زوج النبى صلى الله عليه و آله وسلم، وحديث أم سلمة ، هذا مما أخطا فيه هشام بن عروة بالعراق
الحكم: صحيح من حديث أم حبيبة زوج النبى ﷺ، وحديث أم سلمة ، هذا مما أخطا فيه هشام بن عروة بالعراق
حدیث نمبر: 26494 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26494]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5106، م: 1449
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5106، م: 1449
حدیث نمبر: 26495 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ , قَالَتْ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَزَوَّجُ أُخْتِي؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26495]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26496 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمَّ حَبِيبَةَ ابْنَةَ أَبِي سُفْيَانَ ، ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عُقَيْلٌ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ ابْنَةَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا , أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْكِحْ أُخْتِي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي وَوَافَقَهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ عُقَيْلٌ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26496]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5107، م: 1449
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5107، م: 1449
حدیث نمبر: 26497 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَضَرْتُمْ الْمَيِّتَ أَوْ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ" , قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ:" قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً" , قَالَتْ: فَقُلْتُ، فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ، مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی قریب المرگ یا بیمار آدمی کے پاس جایا کرو تو اس کے حق میں دعائے خیر کیا کرو کیونکہ ملائکہ تمہاری دعاء پر آمین کہتے ہیں جب حضرت ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ابوسلمہ فوت ہوگئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعاء کرو کہ اے اللہ مجھے اور انہیں معاف فرما اور مجھے ان کا نعم البدل عطاء فرما میں نے یہ دعاء مانگی تو اللہ نے مجھے ان سے زیادہ بہترین بدل خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صورت میں عطاء فرمادیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26497]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 919
الحكم: إسناده صحيح، م: 919
حدیث نمبر: 26498 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا كَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَكَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیدیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 322، م: 296
الحكم: إسناده صحيح، خ: 322، م: 296
حدیث نمبر: 26499 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ، وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا اور نماز کا وقت جمع ہوجائیں تو پہلے کھانا کھالیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26499]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26500 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ، فَمَا تَرَيْنَ؟ فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک عورت نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میرا شوہر روزے کی حالت میں مجھے بوسہ دیدیتا ہے جبکہ میرا بھی روزہ ہوتا ہے اس میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی مجھے روزے کی حالت میں بوسہ دیدیتے تھے جب کہ میں بھی روزے سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26500]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26501 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّهَا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا ، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا، فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا، فَذَكَرُوهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرُوا الْكُحْلَ، قَالُوا: نَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا؟ قَالَ: " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي أَحْلَاسِهَا، فِي سِتْرِ بَيْتِهَا حَوْلًا، فَإِذَا مَرَّ بِهَا كَلْبٌ , رَمَتْ بِبَعْرَةٍ , أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت جس کا خاوند فوت ہوگیا تھا کی آنکھوں میں شکایت پیدا ہوگئی انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا اور اس کی آنکھوں میں سرمہ لگانے کی اجازت چاہی اور کہنے لگے کہ ہمیں اس کی آنکھوں کے متعلق ضائع ہونے کا اندیشہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (زمانہ جاہلیت میں) تم میں سے ایک عورت ایک سال تک اپنے گھر میں گھٹیاترین کپڑے پہن کر رہتی تھی پھر اس کے پاس سے ایک کتا گزرا جاتا تھا اور وہ مینگنیاں پھینکتی ہوئی باہر نکلتی تھی تو کیا اب چار مہینے دس دن نہیں گزار سکتی؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26501]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5336، م: 1488
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5336، م: 1488
حدیث نمبر: 26502 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِي ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكَلَ كَتِفًا، فَجَاءَهُ بِلَالٌ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26502]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26503 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، أَبِي ، زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِذَا رَأَتْ الْمَاءَ" , فَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ , قَالَتْ: أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَبِمَ يُشْبِهُ الْوَلَدُ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا یہ بتائے کہ اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں جب کہ وہ پانی دیکھے اس پر حضرت ام سلمہ ہنسنے لگیں اور کہنے لگیں کہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر بچہ اپنی ماں کے مشابہ کیوں ہوتا ہے؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26503]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 282، م: 313
الحكم: إسناده صحيح، خ: 282، م: 313
حدیث نمبر: 26504 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَبِيهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَهَا، أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَقَالَ " إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، وَإِنْ شِئْتِ، سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ، سَبَّعْتُ لِنِسَائِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو تین دن ان کے پاس قیام فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تمہارے اہل خانہ کے سامنے اس میں کمی کا کوئی پہلو نہیں ہونا چاہئے اگر تم چاہو تو میں سات دن تک تمہارے پاس رہتا ہوں لیکن اس صورت میں دیگر ازواج مطہرات کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26504]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1460
الحكم: إسناده صحيح، م: 1460
حدیث نمبر: 26505 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، رَيْطَةُ ، كَبْشَةَ ابْنَةِ أَبِي مَرْيَمَ ، لِأُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي رَيْطَةُ ، عَنْ كَبْشَةَ ابْنَةِ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَتْ: قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ : أَخْبِرِينِي مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ؟ قَالَتْ: " نَهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا، وَأَنْ نَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کبشہ بنت ابی مریم کہتی ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ بتائیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو کس چیز سے منع کیا تھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کھجور کو اتنا پکانے سے منع فرمایا تھا کہ اس کی گٹھلی بھی پگھل جائے نیز اس بات سے کہ ہم کشمس اور کھجور ملاکرنبیذ بتائیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26505]
حکم دارالسلام
قولها: "ان نخلط الزبيب والتمر" صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ريطة ولجهالة كبشة بنت ابي مريم
الحكم: قولها: "ان نخلط الزبيب والتمر" صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ريطة ولجهالة كبشة بنت ابي مريم
حدیث نمبر: 26506 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانُ ، عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَوَائِمُ الْمِنْبَرِ رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے منبر کے پائے جنت میں گاڑے جائیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26506]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26507 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ ، مُسَاوِرٌ الْحِمْيَرِيُّ ، أُمِّهِ ، أُمَّ سَلَمَة َ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ , قال عبد الله: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسَاوِرٌ الْحِمْيَرِيُّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَة َ , تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ: " لَا يُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يُحِبُّكَ مُنَافِقٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی مؤمن تم سے نفرت نہیں کرسکتا اور کوئی منافق تم سے محبت نہیں کرسکتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26507]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مساور الحميري وأمه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مساور الحميري وأمه
حدیث نمبر: 26508 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، مَنْ ، أُمَّ سَلَمَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، أَبُو لَيْلَى ، أُمِّ سَلَمَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ أَبُو الْحَجَّافِ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ , تَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِهَا، فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ بِبُرْمَةٍ، فِيهَا خَزِيرَةٌ، فَدَخَلَتْ بِهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا:" ادْعِي زَوْجَكِ وَابْنَيْكِ" , قَالَتْ: فَجَاءَ عَلِيٌّ , وَالْحُسَيْنُ , وَالْحَسَنُ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَجَلَسُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تِلْكَ الْخَزِيرَةِ، وَهُوَ عَلَى مَنَامَةٍ لَهُ عَلَى دُكَّانٍ تَحْتَهُ كِسَاءٌ لَهُ خَيْبَرِيٌّ , قَالَتْ: وَأَنَا أُصَلِّي فِي الْحُجْرَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33 , قَالَتْ: فَأَخَذَ فَضْلَ الْكِسَاءِ، فَغَشَّاهُمْ بِهِ، ثُمَّ أَخْرَجَ يَدَهُ، فَأَلْوَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا , اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا" , قَالَتْ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْبَيْتَ، فَقُلْتُ: وَأَنَا مَعَكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ، إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ" , قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ : وَحَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، مِثْلَ حَدِيثِ عَطَاءٍ سَوَاءً , قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ : وَحَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ أَبُو الْحَجَّافِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِهِ سَوَاءً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھر میں تھے کہ حضرت فاطمہ ایک ہنڈیا لے کر آگئیں جس میں خزیرہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے شوہر اور بچوں کو بھی بلالاؤ چنانچہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے اور بیٹھ کر وہ خزیرہ کھانے لگے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت ایک چبوترے پر نیند کی حالت میں تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم مبارک کے نیچے خیبر کی ایک چادر تھی اور میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی کہ اسی دوران اللہ نے یہ آیت نازل فرمادی اے اہل بیت اللہ تو تم سے گندگی کو دور کر کے تمہیں خوب صاف ستھرا بنانا چاہتا ہے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چادرکا بقیہ حصہ لے کر ان سب پر ڈال دیا اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت اور میرا خام مال ہیں تو ان سے گندگی کو دور کر کے انہیں خوب صاف ستھرا کردے، دو مرتبہ یہ دعا کی اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سرداخل کرکے عرض کیا یا رسول اللہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم بھی خیر پر ہو، تم بھی خیر پر ہو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26508]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وله أسانيد ثلاثة: أولها ضعيف لإبهام الراوي عن أم سلمة ، وثانيها صحيح، وثالثها ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: حديث صحيح، وله أسانيد ثلاثة: أولها ضعيف لإبهام الراوي عن أم سلمة ، وثانيها صحيح، وثالثها ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26509 مسند احمد
أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ، وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ؟ قَالَ: " نَعَمْ، لَكِ فِيهِمْ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں ابوسلمہ کے بچوں پر کچھ خرچ کردوں تو کیا مجھے اس پر اجرملے گا کیونکہ میں انہیں اس حال میں چھوڑ نہیں سکتی کہ وہ میرے بھی بچے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں تم ان پر جو کچھ خرچ کرو گی تمہیں اس کا اجرملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26509]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1467، م: 1001
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1467، م: 1001
حدیث نمبر: 26510 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ تُهَرَاقُ الدَّمَ، فَقَالَ: " تَنْتَظِرُ قَدْرَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ، فَتَدَعُ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ، وَلْتَسْتَثْفِرْ، ثُمَّ تُصَلِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس عورت کا حکم دریافت کیا جس کا خون مسلسل جاری رہے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اتنے دن رات تک انتظار کرے جتنے دن تک اسے پہلے ناپاکی کا سامنا ہوتا تھا اور مہینے میں اتنے دنوں کا اندازہ کرلے اور اتنے دن تک نماز چھوڑے رکھے، اس کے بعد غسل کرکے کپڑا باندھ لے اور نماز پڑھنے لگے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26510]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، لكن اختلف فيه على نافع
الحكم: حديث صحيح، لكن اختلف فيه على نافع