أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ، وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ؟ قَالَ: " نَعَمْ، لَكِ فِيهِمْ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں ابوسلمہ کے بچوں پر کچھ خرچ کردوں تو کیا مجھے اس پر اجرملے گا کیونکہ میں انہیں اس حال میں چھوڑ نہیں سکتی کہ وہ میرے بھی بچے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں تم ان پر جو کچھ خرچ کرو گی تمہیں اس کا اجرملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26509]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1467، م: 1001
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1467، م: 1001