بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 280
صفحہ 4 از 14
حدیث نمبر: 26531 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، أَبُو عُبَيْدَةَ ، أُمُّ قَيْسٍ ابْنَةُ مِحْصَنٍ
قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ : قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ ابْنَةُ مِحْصَنٍ , وَكَانَتْ جَارَةً لَهُمْ، قَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِي عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مُتَقَمِّصِينَ عَشِيَّةَ يَوْمِ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيَّ عِشَاءً، قُمُصُهُمْ عَلَى أَيْدِيهِمْ، يَحْمِلُونَهَا , قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَيْ عُكَّاشَةُ، مَا لَكُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِينَ، ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُكُمْ عَلَى أَيْدِيكُمْ تَحْمِلُونَهَا؟ فَقَالَ: أَخْبَرَتْنَا أُمُّ قَيْسٍ، كَانَ هَذَا يَوْمًا قَدْ " رُخِّصَ لَنَا فِيهِ إِذَا نَحْنُ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ، حَلَلْنَا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْنَا مِنْهُ , إِلَّا مَا كَانَ مِنَ النِّسَاءِ حَتَّى نَطُوفَ بِالْبَيْتِ، فَإِذَا أَمْسَيْنَا وَلَمْ نَطُفْ بِهِ، صِرْنَا حُرُمًا، كَهَيْئَتِنَا قَبْلَ أَنْ نَرْمِيَ الْجَمْرَةَ، حَتَّى نَطُوفَ بِهِ، وَلَمْ نَطُفْ، فَجَعَلْنَا قُمُصَنَا كَمَا تَرَيْنَ" .
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل أبى عبيدة بن عبدالله، وقد اضطرب فيه
الحكم: إسناده ضعيف من أجل أبى عبيدة بن عبدالله، وقد اضطرب فيه
حدیث نمبر: 26532 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَافِعٍ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذُيُولُ النِّسَاءِ شِبْرٌ" , قُلْتُ: إِذَنْ تَبْدُوَ أَقْدَامُهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" فَذِرَاعٌ، لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اپنا دامن کتنالٹکائیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ایک بالشت کے برابر اسے لٹکا سکتی ہو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں کھل جائیں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک گزلٹکا لو اس سے زیادہ نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26532]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، لكنه توبع
حدیث نمبر: 26533 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ ، أَبِي قَيْسٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَسْأَلُهَا: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ فَإِنْ قَالَتْ: لَا، فَقُلْ لَهَا: إِنَّ عَائِشَةَ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَ: فَسَأَلَهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَتْ: لَا، قُلْتُ: إِنَّ عَائِشَةَ تُخْبِرُ النَّاسَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَتْ: لَعَلَّهُ إِيَّاهَا كَانَ لَا يَتَمَالَكُ عَنْهَا حُبًّا، أَمَّا إِيَّايَ , فَلَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوقیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو نے حضرت ام سلمہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دیتے تھے؟ اگر وہ نفی میں جواب دیں تو ان سے کہنا کہ حضرت عائشہ تو لوگوں کو بتاتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا کرتے تھے؟ چنانچہ ابوقیس نے یہ سوال ان سے پوچھا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا ابوقیس نے حضرت عائشہ کا حوالہ دیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بوسہ دیا ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بہت جذباتی محبت فرمایا کرتے تھے البتہ میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26533]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، تفرد به موسي بن عُلَيِّ، وهو ليس بحجة إذا انفرد
الحكم: إسناده ضعيف، تفرد به موسي بن عُلَيِّ، وهو ليس بحجة إذا انفرد
حدیث نمبر: 26534 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، مُوسَى ، أَبِي ، أَبُو قَيْسٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: بَعَثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26534]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، تفرد به موسي بن عُلَيِّ، وهو ليس بحجة إذا انفرد
الحكم: إسناده ضعيف، تفرد به موسي بن عُلَيِّ، وهو ليس بحجة إذا انفرد
حدیث نمبر: 26535 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا مِنْ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ مَخْضُوبٌ أَحْمَرُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کی وجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26535]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5896
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5896
حدیث نمبر: 26536 مسند احمد
سَيَّارٌ ، جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ حَبِيبٍ خَتَنُ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، شَيْخٌ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا سَيَّارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ حَبِيبٍ خَتَنُ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنَ الْمَدِينَةِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصْلِحِي لَنَا الْمَجْلِسَ، فَإِنَّهُ يَنْزِلُ مَلَكٌ إِلَى الْأَرْضِ، لَمْ يَنْزِلْ إِلَيْهَا قَطُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ہماری بیٹھک کو خوب صاف ستھرا کرلو کیونکہ آج زمین پر ایک ایسا فرشتہ اترنے والا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں اترا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26536]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الشيخ الذى روى عن أم سلمة
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الشيخ الذى روى عن أم سلمة
حدیث نمبر: 26537 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يُونُسَ بْنِ يَزِيدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، نَبْهَانَ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ نَبْهَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ، فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أَمَرَنَا بِالْحِجَابِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجِبَا مِنْهُ" , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ أَعْمَى، لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا؟ قَالَ:" أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا، لَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت میمونہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ اسی اثناء میں حضرت ابن ام مکتوم آگئے، یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ حجاب کا حکم نازل ہوچکا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان سے پردہ کرو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ یہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی پہچان سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو کیا تم دونوں بھی نابیناہو؟ کیا تم دونوں انہیں نہیں دیکھ رہی ہو؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26537]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال نيهان
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال نيهان
حدیث نمبر: 26538 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبٍ ، وَهْبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ، فَقَالَ: " لَيَّةً، لَا لَيَّتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ایک ہی مرتبہ لپیٹنا دو مرتبہ نہیں (تاکہ مردوں کے عمامے کے ساتھ مشابہت نہ ہوجائے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26538]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة وهب
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة وهب
حدیث نمبر: 26539 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ،" فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کیوجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26539]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5897
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5897
حدیث نمبر: 26540 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، أَبِي الْمُعَذِّلِ عَطِيَّةَ الطُّفَاوِيِّ ، أَبِيهِ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الْمُعَذِّلِ عَطِيَّةَ الطُّفَاوِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي يَوْمًا، إِذْ قَالَتْ الْخَادِمُ: إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ، قَالَتْ: قَالَ لِي:" قُومِي فَتَنَحَّيْ لِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي" , قَالَتْ: فَقُمْتُ فَتَنَحَّيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرِيبًا، فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ، وَمَعَهُمَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، وَهُمَا صَبِيَّانِ صَغِيرَانِ، فَأَخَذَ الصَّبِيَّيْنِ، فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ، فَقَبَّلَهُمَا , قَالَ: وَاعْتَنَقَ عَلِيًّا بِإِحْدَى يَدَيْهِ، وَفَاطِمَةَ بِالْيَدِ الْأُخْرَى، فَقَبَّلَ فَاطِمَةَ وَقَبَّلَ عَلِيًّا، فَأَغْدَفَ عَلَيْهِمْ خَمِيصَةً سَوْدَاءَ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِلَيْكَ، لَا إِلَى النَّارِ، أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي" قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" وَأَنْت" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھر میں تھے کہ خادم نے آکر بتایا کہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ دروازے پر ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھوڑی دیر کے لئے میرے اہل بیت کو میرے پاس تنہا چھوڑ دو، میں وہاں سے اٹھ کر قریب ہی جا کر بیٹھ گئی، اتنی دیر میں حضرت فاطمہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے وہ دونوں چھوٹے بچے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں پکڑ کر اپنی گود میں بٹھالیا اور انہیں چومنے لگے پھر ایک ہاتھ سے حضرت علی کو اور دوسرے سے حضرت فاطمہ کو اپنے قریب کرکے دونوں کو بوسہ دیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چادر کا بقیہ حصہ لے کر ان سب پر ڈال دیا اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا اے اللہ تیرے حوالے نہ کہ جہنم کے میں اور میرے اہل بیت، اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سر داخل کرکے عرض کیا یا رسول اللہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم بھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26540]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو المعذِّل ضعيف وأبوه مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، أبو المعذِّل ضعيف وأبوه مجهول
حدیث نمبر: 26541 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَلَّمَ، قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ، وَيَمْكُثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سلام پھیرتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سلام ختم ہوتے ہی خواتین اٹھنے لگتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر اپنی جگہ پر ہی رک جاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26541]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 837
الحكم: إسناده صحيح، خ: 837
حدیث نمبر: 26542 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، عَمْرٌو ، أَبِي السَّمْحِ ، السَّائِبِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ ، عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " خَيْرُ مَسَاجِدِ النِّسَاءِ قَعْرُ بُيُوتِهِنَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورتوں کی سب سے بہترین مسجد ان کے گھرکا آخری کمرہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26542]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين، وقد توبع، وجهالة السائب مولى أم سلمة
الحكم: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين، وقد توبع، وجهالة السائب مولى أم سلمة
حدیث نمبر: 26543 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ، فَأَغْمَضَهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ" , فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ:" لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ" , ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ افْسَحْ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابوسلمہ کی میت پر تشریف لائے، ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں بند کیا اور فرمایا جب روح قبض ہوجاتی ہے تو آنکھیں اس کا تعاقب کرتی ہیں، اسی دوران گھرکے کچھ لوگ رونے چیخنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے متعلق خیر کی ہی دعا مانگا کرو، کیونکہ ملائکہ تمہاری دعا پر آمین کہتے ہیں، پھر فرمایا اے اللہ ابوسلمہ کی بخشش فرما، ہدایت یافتہ لوگوں میں ان کا درجہ بلند فرما، پیچھے رہ جانیوالوں میں اس کا کوئی جانشین پیدا فرما اور اے تمام جہانوں کو پالنے والے ہماری اور اس کی بخشش فرما، اے اللہ اس کی قبر کو کشادہ فرما اور اسے اس کے لئے منور فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26543]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 920
الحكم: إسناده صحيح، م: 920
حدیث نمبر: 26544 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِيهِ ، الْأَسْوَدِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: " مَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ جَالِسًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26544]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد خالف فيه يونس بن أبى إسحاق السبيعي الرواة عن أبيه، وهو ممن سمع منه بعد الا ختلاط
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد خالف فيه يونس بن أبى إسحاق السبيعي الرواة عن أبيه، وهو ممن سمع منه بعد الا ختلاط
حدیث نمبر: 26545 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَ لِهِنْدٍ أَزْرَارٌ فِي كُمِّهَا، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَا فُتِحَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْخَزَائِنِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتْنَةِ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجَرِ، يَا رُبَّ كَاسِيَاتٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَاتٍ فِي الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نیند سے بیدار ہوئے تو یہ فرما رہے تھے لا الہ الا اللہ آج رات کتنے خزانے کھولے گئے ہیں لا الہ الا اللہ آج رات کتنے فتنے نازل ہوئے ہیں، ان حجرے والیوں کو کون جگائے گا ہائے دنیا میں کتنی ہی کپڑے پہننے والی عورتیں ہیں جو آخرت میں برہنہ ہوں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26545]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1126
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1126
حدیث نمبر: 26546 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ ، أُمُّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ , أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهِيَ تَمْتَشِطُ:" أَيُّهَا النَّاسُ" , فَقَالَتْ: لِمَاشِطَتِهَا لُفِّي رَأْسِي، قَالَتْ: فَقَالَتْ: فَدَيْتُكِ إِنَّمَا يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ" , قُلْتُ: وَيْحَكِ، أَوَلَسْنَا مِنَ النَّاسِ؟! فَلَفَّتْ رَأْسَهَا، وَقَامَتْ فِي حُجْرَتِهَا، فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ: " أَيُّهَا النَّاسُ، بَيْنَمَا أَنَا عَلَى الْحَوْضِ، جِيءَ بِكُمْ زُمَرًا، فَتَفَرَّقَتْ بِكُمْ الطُّرُقُ، فَنَادَيْتُكُمْ أَلَا هَلُمُّوا إِلَى الطَّرِيقِ، فَنَادَانِي مُنَادٍ مِنْ بَعْدِي، فَقَالَ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَقُلْتُ أَلَا سُحْقًا، أَلَا سُحْقًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برسرمنبریہ فرماتے ہوئے سنا اے لوگو اس وقت وہ کنگھی کر رہی تھیں انہوں نے اپنی کنگھی کرنیوالی سے فرمایا میرے سرکے بال لپیٹ دو اس نے کہا کہ میں آپ پر قربان ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں، حضرت ام سلمہ نے فرمایا اری کیا ہم لوگوں میں شامل نہیں ہیں؟ اس نے ان کے بال سمیٹے اور وہ اپنے حجرے میں جا کر کھڑی ہوگئیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا اے لوگو جس وقت میں حوض پر تمہارا منتظر ہوں گا اور تمہیں گروہ درگروہ لایا جائے گا اور تم راستوں میں بھٹک جاؤگے، میں تمہیں آواز دے کر کہوں گا کہ راستے کی طرف آجاؤ تو میرے پیچھے سے ایک منادی پکار کر کہے گا انہوں نے آپ کے بعد دین کو تبدیل کردیا تھا، میں کہوں گا کہ یہ لوگ دور ہوجائیں یہ لوگ دور ہوجائیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26546]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2295
الحكم: إسناده صحيح، م: 2295
حدیث نمبر: 26547 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ ، أَنَّهُ , سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ , قَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ يُسَبِّحُ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا صَلَّى، ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ، فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ، وَصَلَاتُهُ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رات کی نماز اور قرأت کے متعلق حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء کی نماز اور نوافل پڑھ کر جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کا اختتام صبح پر ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26547]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة يعلى ابن مملك
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة يعلى ابن مملك
حدیث نمبر: 26548 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ الْمِصْرِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ الْمِصْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ , أَنَّهُ قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ مَوَالِيَّ، فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ؟ قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ اعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ، وَإِنْ شِئْتَ بَعْدَ أَنْ تَحُجَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: مَنْ كَانَ صَرُورَةً، فَلَا يَصْلُحُ أَنْ يَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ؟ قَالَ: فَسَأَلْتُ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِنَّ، قَالَ: فَقَالَتْ: نَعَمْ وَأَشْفِيكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَهِلُّوا يَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَةٍ فِي حَجٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعمران اسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے مالکوں کے ساتھ حج کے لئے گیا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کیا میں حج سے پہلے عمرہ کرسکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا حج سے پہلے عمرہ کرنا چاہو تو حج سے پہلے کرلو اور بعد میں کرنا چاہو تو بعد میں کرلو، میں نے عرض کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس شخص نے حج نہ کیا ہو اس کے لئے حج سے پہلے عمرہ کرنا صحیح نہیں ہے پھر میں نے دیگر امہات المؤمنین سے یہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا، چنانچہ میں حضرت ام سلمہ کے پاس واپس آیا اور انہیں ان کا جواب بتایا، انہوں نے فرمایا اچھا میں تمہاری تشفی کردیتی ہوں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حج کے ساتھ عمرے کا احرام باندھ لو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26548]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26549 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، مَسْرُوقٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا أَرَاهُ وَلَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ أَبَدًا" , قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ، قَالَ: فَأَتَاهَا يَشْتَدُّ، أَوْ يُسْرِعُ شَكَّ شَاذَانُ، قَالَ: فَقَالَ لَهَا: أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ، أَنَا مِنْهُمْ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَنْ أُبَرِّئَ أَحَدًا بَعْدَكَ أَبَدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہونگے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس تیزی سے پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26549]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد خالف فيه عاصم، وشريك سييء الحفظ، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد خالف فيه عاصم، وشريك سييء الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 26550 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ ، شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ، فَقَالَتْ: قَتَلُوهُ، قَتَلَهُمْ اللَّهُ، غَرُّوهُ وَذَلُّوهُ، لعنهم اللَّهُ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ غَدِيَّةً بِبُرْمَةٍ، قَدْ صَنَعَتْ لَهُ فِيهَا عَصِيدَةً تَحْمِلُهُ فِي طَبَقٍ لَهَا، حَتَّى وَضَعَتْهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهَا:" أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟" قَالَتْ: هُوَ فِي الْبَيْتِ , قَالَ:" فَاذْهَبِي، فَادْعِيهِ، وَائْتِنِي بِابْنَيْهِ" , قَالَتْ: فَجَاءَتْ تَقُودُ ابْنَيْهَا، كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدٍ، وَعَلِيٌّ يَمْشِي فِي إِثْرِهِمَا، حَتَّى دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَهُمَا فِي حِجْرِهِ، وَجَلَسَ عَلِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ، وَجَلَسَتْ فَاطِمَةُ عَنْ يَسَارِهِ , قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَاجْتَبَذَ مِنْ تَحْتِي كِسَاءً خَيْبَرِيًّا، كَانَ بِسَاطًا لَنَا عَلَى الْمَنَامَةِ فِي الْمَدِينَةِ، فَلَفَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، فَأَخَذَ بِشِمَالِهِ طَرَفَيْ الْكِسَاءِ، وَأَلْوَى بِيَدِهِ الْيُمْنَى إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَهْلِي، أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا، اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي، أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا، اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِكَ؟ قَالَ:" بَلَى، فَادْخُلِي فِي الْكِسَاءِ" , قَالَتْ: فَدَخَلْتُ فِي الْكِسَاءِ بَعْدَمَا قَضَى دُعَاءَهُ لِابْنِ عَمِّهِ عَلِيٍّ وَابْنَيْهِ وَابْنَتِهِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب انہیں حضرت امام حسین کی شہادت کا علم ہوا تو انہوں نے اہل عراق پر لعنت بھیجتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے حسین کو شہید کردیا ان پر اللہ کی مار ہو انہوں نے حسین کو دھوکہ دے کر تنگ کیا ان پر اللہ کی مار ہو، میں نے وہ وقت دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھر میں تھے کہ حضرت فاطمہ ایک ہنڈیا لے کر آگئیں جس میں خزیرہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے شوہر اور بچوں کو بھی بلالاؤ چنانچہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے اور بیٹھ کر وہ خزیرہ کھانے لگے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت ایک چبوترے پر نیند کی حالت میں تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم مبارک کے نیچے خیبر کی ایک چادر تھی اور میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی کہ اسی دوران اللہ نے یہ آیت نازل فرمادی اے اہل بیت اللہ تو تم سے گندگی کو دور کر کے تمہیں خوب صاف ستھرا بنانا چاہتا ہے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چادر کا بقیہ حصہ لے کر ان سب پر ڈال دیا اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت اور میرا خام مال ہیں تو ان سے گندگی کو دور کر کے انہیں خوب صاف ستھرا کردے، دو مرتبہ یہ دعا کی اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سر داخل کر کے عرض کیا یا رسول اللہ کیا میں آپ کے اہل خانہ میں سے نہیں ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں تم بھی چادر میں آجاؤ چنانچہ میں بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعاء کے بعد اس میں داخل ہوگئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26550]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، وعابوا على عبدالحميد بن بهرام كثرة روايته عن شهر بن حوشب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، وعابوا على عبدالحميد بن بهرام كثرة روايته عن شهر بن حوشب