عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يُونُسَ بْنِ يَزِيدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، نَبْهَانَ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ نَبْهَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ، فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أَمَرَنَا بِالْحِجَابِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجِبَا مِنْهُ" , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ أَعْمَى، لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا؟ قَالَ:" أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا، لَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت میمونہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ اسی اثناء میں حضرت ابن ام مکتوم آگئے، یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ حجاب کا حکم نازل ہوچکا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان سے پردہ کرو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ یہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی پہچان سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو کیا تم دونوں بھی نابیناہو؟ کیا تم دونوں انہیں نہیں دیکھ رہی ہو؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26537]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال نيهان
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال نيهان