بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 280
صفحہ 9 از 14
حدیث نمبر: 26631 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَجَّاجٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: امْرَأَةَ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَرْأَةُ تَرَى زَوْجَهَا فِي الْمَنَامِ يَقَعُ عَلَيْهَا، أَعَلَيْهَا غُسْلٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِذَا رَأَتْ بَلَلًا" , فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: أَوَتَفْعَلُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ:" تَرِبَتْ يَمِينُكِ، أَنَّى يَأْتِي شَبَهُ الْخُئُولَةِ إِلَّا مِنْ ذَلِكِ؟ أَيُّ النُّطْفَتَيْنِ سَبَقَتْ إِلَى الرَّحِمِ، غَلَبَتْ عَلَى الشَّبَهِ" , وَقَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: تَرِبَ جَبِينُكِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا یہ بتائے کہ اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں جب کہ وہ پانی دیکھے اس پر حضرت ام سلمہ ہنسنے لگیں اور کہنے لگیں کہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر بچہ اپنی ماں کے مشابہ کیوں ہوتا ہے؟ جو نطفہ رحم پر غالب آجاتا ہے مشابہت اسی کی غالب آجاتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26631]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف على ابن ابي ذئب
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف على ابن ابي ذئب
حدیث نمبر: 26632 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي ابْنَةِ أَبِي سُفْيَانَ؟ قَالَ: فَأَفْعَلُ مَاذَا؟" , قَالَتْ: تَنْكِحُهَا، قَالَ:" وَذَاكَ أَحَبُّ إِلَيْكِ؟" , قَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي الْخَيْرِ أُخْتِي، قَالَ:" إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي" , قُلْتُ: فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَ:" ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ؟" , قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي لَمَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ، وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کو میری بہن میں کوئی دلچسپی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا مطلب انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس سے نکاح کرلیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں اس لئے اس خیر میں میرے ساتھ جو لوگ شریک ہوسکتے ہیں میرے نزدیک ان میں سے میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے لئے وہ حلال نہیں ہے (کیونکہ تم میرے نکاح میں ہو) انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ کے لئے پیغام نکاح بھیجنے والے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ میرے لئے حلال ہوتی تب بھی میں اس سے نکاح نہ کرتا کیونکہ مجھے اور اس کے باپ (ابوسلمہ) کو بنو ہاشم کی آزاد کردہ باندی ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا بہرحال تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26632]
حکم دارالسلام
صحيح من حديث أم حبيبة زوج النبى صلى الله عليه و آله وسلم، وحديث أم سلمة، هذا مما أخطأ فيه هشام بن عروة بالعراق
الحكم: صحيح من حديث أم حبيبة زوج النبى ﷺ، وحديث أم سلمة، هذا مما أخطأ فيه هشام بن عروة بالعراق
حدیث نمبر: 26633 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: زَعَمَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا: هَلْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: أَمَّا عِنْدِي , فَلَا، وَلَكِنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْنِي أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ، فَأَرْسِلْ إِلَيْهَا فَاسْأَلْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، دَخَلَ عَلَيَّ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ، قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أُنْزِلَ عَلَيْكَ فِي هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنْ صَلَّيْتُ الظُّهْرَ، فَشُغِلْتُ، فَاسْتَدْرَكْتُهَا بَعْدَ الْعَصْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت امیر معاویہ نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے پاس قاصد بھیج کر دریافت کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کے بعد کوئی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا میرے پاس تو نہیں، البتہ حضرت ام سلمہ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرح کیا ہے اس لئے آپ ان سے دریافت کرلیجئے! چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے یہ سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہاں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور میرے یہاں تشریف لے آئے کیونکہ اس دن میری باری تھی اور میرے یہاں دو رکعتیں پڑھیں اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑنا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26633]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف على بن يحيي، وهو حسن الحديث
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف على بن يحيي، وهو حسن الحديث
حدیث نمبر: 26634 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، الْحَكَمِ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ , تَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ وَمُفْتِرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر نشہ آور چیز اور عقل کو فتور میں ڈالنے والی ہر چیز سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26634]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: و مفتر، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: و مفتر، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26635 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عُمَرُ بْنُ كَثِيرٍ ، ابْنِ سَفِينَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ، فَيَقُولُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَاخْلُفْنِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ، وَخَلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا" , قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: ثُمَّ عَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِي، فَقُلْتُهَا، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر یہ دعا کرلے کہ اے اللہ! مجھے اس مصیبت پر اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہترین نعم البدل عطاء فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت پر اجر فرمائے گا اور اسے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا جب میرے شوہر ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں نے سوچا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت دی قوت دی اور میں نے یہ دعاء پڑھ لی چنانچہ میری شادی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہوگئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26635]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 918
الحكم: إسناده صحيح، م: 918
حدیث نمبر: 26636 مسند احمد
يَعْلَي ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَيَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَافِعٍ ، صَفِيَّةَ ابْنَةِ أَبِي عُبَيْدٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَعْلَي ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , وَيَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ابْنَةِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذُيُولِ النِّسَاءِ؟ فَقَالَ: " شِبْرًا" , فَقُلْتُ: إِذَنْ تَخْرُجَ أَقْدَامُهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَذِرَاعٌ، لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اپنا دامن کتنا لٹکائیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ایک بالشت کے برابر اسے لٹکا سکتی ہو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں کھل جائیں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر ایک گز لٹکا لو، اس سے زیادہ نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26636]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، وقد توبع
حدیث نمبر: 26637 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، قَالَ: دَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالُوا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، حَدِّثِينَا عَنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: كَانَ سِرُّهُ وَعَلَانِيَتُهُ سَوَاءً، ثُمَّ نَدِمْتُ، فَقُلْتُ: أَفْشَيْتُ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ أَخْبَرَتْهُ، فَقَالَ:" أَحْسَنْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یحی بن جزار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ صحابہ حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے ام المومنین ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی اندرونی معاملے کے متعلق بتایئے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پوشدیہ اور ظاہری معاملہ دونوں برابر ہوتے تھے، پھر انہیں ندامت ہوئی اور سوچا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا راز فاش کردیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو ان سے عرض کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے ٹھیک کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26637]
حکم دارالسلام
إسناده جيد إن صح سماع يحيى بن الجزار من الصحابة الذين أبهمهم
الحكم: إسناده جيد إن صح سماع يحيى بن الجزار من الصحابة الذين أبهمهم
حدیث نمبر: 26638 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، زُهَيْرٌ ، عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَبِي سَهْلٍ ، مُسَّةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ , عَنْ مُسَّةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: " كَانَتْ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، قَالَتْ: وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِنَا الْوَرْسَ مِنَ الْكَلَفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں عورتیں بچوں کی پیدائش کے بعد چالیس دن تک نفاس شمار کر کے بیٹھتی تھیں اور ہم لوگ چہروں پر چھائیاں پڑجانے کی وجہ سے اپنے چہروں پر ورس ملا کرتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26638]
حکم دارالسلام
حسن لغيره وهذا اسناد ضعيف لجهالة مُسّة
الحكم: حسن لغيره وهذا اسناد ضعيف لجهالة مُسّة
حدیث نمبر: 26639 مسند احمد
مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، خُصَيْفٌ ، عَطَاءٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الذَّهَبِ يُرْبَطُ بِهِ أَوْ يُرْبَطُ بِهِ الْمِسْكُ , قَالَ: " اجْعَلِيهِ فِضَّةً وَصَفِّرِيهِ بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہم تھوڑا ساسونا لے کر اس میں مشک نہ ملا لیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسے چاندی کے ساتھ کیوں نہیں ملاتیں، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کرلیا کرو، جس سے وہ چاندی بھی سونے کی طرح ہو جائیگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26639]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف خصيف
الحكم: إسناده ضعيف لضعف خصيف
حدیث نمبر: 26640 مسند احمد
ابْنُ فُضَيْلٍ ، الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، هُنَيْدَةُ الْخُزَاعِيُّ ، أُمِّهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هُنَيْدَةُ الْخُزَاعِيُّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَسَأَلْتُهَا عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ , أَوَّلُهَا: الِاثْنَيْنِ، وَالْجُمُعَةُ، وَالْخَمِيسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہنیدہ کی والدہ کہتی ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ کے پاس حاضر ہوئی اور ان سے روزے کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے جن میں سے پہلا روزہ پیر کے دن ہوتا تھا پھر جمعرات اور جمعہ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26640]
حکم دارالسلام
ضعيف لاضطرابه
الحكم: ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 26641 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوتِرُ بِخَمْسٍ، أَوْ سَبْعٍ، لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِكَلَامٍ، وَلَا تَسْلِيمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سات یا پانچ رکعتوں پر وتر پڑھتے تھے اور ان کے درمیان سلام یا کلام کسی طرح بھی فصل نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26641]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، مقسم لم يسمع من أم سلمة، وقد اختلف فى إسناده
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، مقسم لم يسمع من أم سلمة، وقد اختلف فى إسناده
حدیث نمبر: 26642 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بَنِي أَبِي سَلَمَةَ فِي حِجْرِي، وَلَيْسَ لَهُمْ شَيْءٌ إِلَّا مَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ، وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ كَذَا وَلَا كَذَا، أَفَلِي أَجْرٌ إِنْ أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ لَكِ أَجْرَ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں ابوسلمہ کے بچوں پر کچھ خرچ کر دوں تو کیا مجھے اس پر اجر ملے گا کیونکہ میں انہیں اس حال میں چھوڑ نہیں سکتی کہ وہ میرے بھی بچے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں تم ان پر جو کچھ خرچ کرو گی تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26642]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1467، م: 1001
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1467، م: 1001
حدیث نمبر: 26643 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ خُثَيْمٍ ، ابْنِ سَابِطٍ ، حَفْصَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ سَلَمَةَ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ خُثَيْمٍ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ سَابِطٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ أَبِي وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْهَا عَنِ الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ مُجَبِّيَةً، فَسَأَلَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 صِمَامًا وَاحِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے ایک عورت نے پوچھا کہ عورتوں کے پاس پچھلے حصے میں آنے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی " تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں سو تم اپنے کھیت میں جس طرح آنا چاہو آسکتے ہو اور فرمایا کہ اگلے سوراخ میں ہو (خواہ مرد پیچھے سے آئے یا آگے سے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26643]
حکم دارالسلام
للحديث إسنادان: أولهما حسن، وثانيهما خالف فيه معمر الراوة عن ابن خيثم، فقال:عن صفيه بنت شيبه بدل حفصة بنت عبدالرحمن
الحكم: للحديث إسنادان: أولهما حسن، وثانيهما خالف فيه معمر الراوة عن ابن خيثم، فقال:عن صفيه بنت شيبه بدل حفصة بنت عبدالرحمن
حدیث نمبر: 26644 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، هِنْدِ ابْنَةِ الْحَارِثِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ هِنْدِ ابْنَةِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا سَلَّمَ، مَكَثَ قَلِيلًا، وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ كَيْمَا يَنْفُذُ النِّسَاءُ قَبْلَ الرِّجَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سلام پھیرتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سلام ختم ہوتے ہی خواتین اٹھنے لگتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر اپنی جگہ پر ہی رک جاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26644]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 837، وقوله: وكانوا يرون أن ذلك.. هو مدرج من كلام الزهري
الحكم: إسناده صحيح، خ: 837، وقوله: وكانوا يرون أن ذلك.. هو مدرج من كلام الزهري
حدیث نمبر: 26645 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ قَطُّ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً، جَاءَهُ نَاسٌ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَشَغَلُوهُ فِي شَيْءٍ، فَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ , قَالَتْ: فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ دَخَلَ بَيْتِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز کے بعد میرے پاس آئے تو دو رکعتیں پڑھیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس سے پہلے تو آپ یہ نماز نہیں پڑھتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دراصل بنوتمیم کا وفد آگیا تھا جس کی وجہ سے ظہر کے بعد کی جو دو رکعتیں میں پڑھتا تھا وہ رہ گئی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26645]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الإسناد على أبى سلمة
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الإسناد على أبى سلمة
حدیث نمبر: 26646 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَا يَغْتَسِلَانِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیدیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26646]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 298، م: 296
الحكم: إسناده صحيح، خ: 298، م: 296
حدیث نمبر: 26647 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أُمُّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْكُمْ، وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيلًا لِلْعَصْرِ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم لوگوں کی نسبت ظہر کی نماز جلدی پڑھ لیا کرتے تھے اور تم لوگ ان کی نسبت عصر کی نماز زیادہ جلدی پڑھ لیتے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26647]
حکم دارالسلام
تعجيل النبى - صلاة الظهر صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن جريج، وهو مدلس
الحكم: تعجيل النبى - صلاة الظهر صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن جريج، وهو مدلس
حدیث نمبر: 26648 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَامِرٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَامِرٍ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُ يَوْمَهُ" , قَالَ: فَتَرَكَ أَبُو هُرَيْرَةَ فُتْيَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزہ رکھ لیتے تھے اس پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے فتوی سے رجوع کرلیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26648]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26649 مسند احمد
ابْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَامِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أُمَّ سَلَمَةَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26649]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد خالف فيه محمد بن جعفر الرواة عن سيعد بن أبى عروبة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد خالف فيه محمد بن جعفر الرواة عن سيعد بن أبى عروبة
حدیث نمبر: 26650 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، خَالِدًا ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، أُمِّهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا يُحَدِّثُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِعَمَّارٍ: " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمار کو دیکھا تو فرمایا ابن سمیہ افسوس تمہیں ایک باغی گروہ قتل کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26650]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2916
الحكم: إسناده صحيح، م: 2916