بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 26632
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 26632
حدیث نمبر: 26632 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي ابْنَةِ أَبِي سُفْيَانَ؟ قَالَ: فَأَفْعَلُ مَاذَا؟" , قَالَتْ: تَنْكِحُهَا، قَالَ:" وَذَاكَ أَحَبُّ إِلَيْكِ؟" , قَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي الْخَيْرِ أُخْتِي، قَالَ:" إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي" , قُلْتُ: فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَ:" ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ؟" , قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي لَمَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ، وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کو میری بہن میں کوئی دلچسپی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا مطلب انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس سے نکاح کرلیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں اس لئے اس خیر میں میرے ساتھ جو لوگ شریک ہوسکتے ہیں میرے نزدیک ان میں سے میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے لئے وہ حلال نہیں ہے (کیونکہ تم میرے نکاح میں ہو) انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ کے لئے پیغام نکاح بھیجنے والے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ میرے لئے حلال ہوتی تب بھی میں اس سے نکاح نہ کرتا کیونکہ مجھے اور اس کے باپ (ابوسلمہ) کو بنو ہاشم کی آزاد کردہ باندی ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا بہرحال تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26632]
حکم دارالسلام
صحيح من حديث أم حبيبة زوج النبى صلى الله عليه و آله وسلم، وحديث أم سلمة، هذا مما أخطأ فيه هشام بن عروة بالعراق
الحكم: صحيح من حديث أم حبيبة زوج النبى ﷺ، وحديث أم سلمة، هذا مما أخطأ فيه هشام بن عروة بالعراق
← پچھلی حدیث (26631) باب پر واپس اگلی حدیث (26633) →