بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 280
صفحہ 10 از 14
حدیث نمبر: 26651 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، أُمُّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَحَدَّثَ , عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا، فَأَرْسَلَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ وَأَنَا فِيهِمْ، فَسَأَلْنَاهَا، فَقَالَتْ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَكِنْ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ , فَسَأَلْتُهَا، فَحَدَّثَتْ أُمُّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أُتِيَ بِشَيْءٍ، فَجَعَلَ يَقْسِمُهُ حَتَّى حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا صَلَّاهَا، قَالَ: " هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ كُنْتُ أُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الظُّهْرِ" , فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَلَقَدْ حَدَّثْتُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا , قَالَ: فَأَتَيْتُ مُعَاوِيَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا، لَا أَزَالُ أُصَلِّيهِمَا، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: إِنَّكَ لَمُخَالِفٌ، لَا تَزَالُ تُحِبُّ الْخِلَافَ مَا بَقِيتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ حضرت معاویہ کے پاس تھے کہ حضرت ابن زبیر نے حضرت عائشہ کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، حضرت معاویہ نے حضرت عائشہ کے پاس کچھ لوگوں کو بھیج دیا جن میں، میں بھی شامل تھا، ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے خود تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات نہیں سنی البتہ اس کے متعلق مجھے حضرت ام سلمہ نے بتایا تھا، حضرت معاویہ نے حضرت ام سلمہ کے پاس قاصد کو بھیج دیا، حضرت ام سلمہ نے فرمایا دراصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اس دن کہیں سے مال آیا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے تقسیم کرنے کے لئے بیٹھ گئے حتی کہ مؤذن عصر کی اذان دینے لگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور میرے ہاں تشریف لے آئے کیونکہ اس دن میری باری تھی اور میرے یہاں دومختصر رکعتیں پڑھیں اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑنا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا) یہ سن کر حضرت ابن زبیر نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایک مرتبہ تو پڑھا ہے؟ واللہ میں نہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا، حضرت معاویہ نے فرمایا آپ ہمیشہ مخالفت کرتے ہیں اور جب تک زندہ رہیں گے مخالفت ہی کو پسند کریں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26651]
حکم دارالسلام
صلاة النبى صلى الله عليه و آله وسلم ركعتين بعد العصر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: صلاة النبى ﷺ ركعتين بعد العصر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26652 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّهَا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ تُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّهَا , أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا، فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَكُونُ فِي بَيْتِهَا فِي أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي بَيْتِهَا حَوْلًا، فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ , رَمَتْ بِبَعْرَةٍ، فَخَرَجَتْ، أفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت جس کا خاوند فوت ہوگیا تھا کی آنکھوں میں شکایت پیدا ہوگئی انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا اور اس کی آنکھوں میں سرمہ لگانے کی اجازت چاہی اور کہنے لگے کہ ہمیں اس کی آنکھوں کے متعلق ضائع ہونے کا اندیشہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (زمانہ جاہلیت میں) تم میں سے ایک عورت ایک سال تک اپنے گھر میں گھٹیا ترین کپڑے پہن کر رہتی تھی پھر اس کے پاس سے ایک کتا گزرا جاتا تھا اور وہ مینگنیاں پھینکتی ہوئی باہر نکلتی تھی تو کیا اب چار مہینے دس دن نہیں گزار سکتی؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26652]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5336، م: 1488
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5336، م: 1488
حدیث نمبر: 26653 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، تَوْبَةَ الْعَنْبَريَّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَريَّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: " لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا يُعْلَمُ إِلَّا شَعْبَانَ، يَصِلُ بِهِ رَمَضَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ شعبان کو رمضان کے روزے سے ملادیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26653]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26654 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عُمَرَ أَوْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمَرَ أَوْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْحَرَ فِي هِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہوجائے اور کسی شخص کا قربانی کا ارادہ ہو تو اسے اپنے (سر کے) بال یا جسم کے کسی حصے (کے بالوں) کو ہاتھ نہیں لگانا (کاٹنا اور تراشنا) چاہئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26654]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1977
الحكم: إسناده صحيح، م: 1977
حدیث نمبر: 26655 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عُمَرُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُكَيْمَةَ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُكَيْمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26655]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1977، وإسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 1977، وإسناد حسن
حدیث نمبر: 26656 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، نَبْهَانَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ نَبْهَانَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا وَجَدَ الْمُكَاتَبُ مَا يُؤَدِّي، فَاحْتَجِبْنَ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم خواتین میں سے کسی کا کوئی غلام مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا بدل کتابت ہو کہ وہ اسے اپنے مالک کے حوالے کرکے خود آزادی حاصل کرسکتے تو اس عورت کو اپنے غلام سے پردہ کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26656]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة نبهان، ومما يدل على ضعف هذا الحديث عمل السيدة عائشة بخلافه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة نبهان، ومما يدل على ضعف هذا الحديث عمل السيدة عائشة بخلافه
حدیث نمبر: 26657 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي الْخَلِيلِ ، سَفِينَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حُضِرَ، جَعَلَ يَقُولُ: " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" , فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِهَا، وَمَا يَكَادُ يَفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26657]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، أبو الخليل لم يسمع من سفينة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، أبو الخليل لم يسمع من سفينة
حدیث نمبر: 26658 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ حَجَّاجٌ: وَعَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ، أَخَا يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: اخْتَلَفَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: تُزَوَّجُ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَبْعَدَ الْأَجَلَيْنِ , قَالَ: فَبَعَثُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ: تُوُفِّيَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَوَلَدَتْ بَعْدَ وَفَاتِهِ بِخَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً , فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ، قَالَ: فَحَطَّتْ بِنَفْسِهَا إِلَى أَحَدِهِمَا، فَلَمَّا خَشُوا أَنْ تَفْتَاتَ بِنَفْسِهَا إِلَى أَحَدِهِمَا، قَالُوا: إِنَّكِ لَمْ تَحِلِّي، فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَدْ حَلَلْتِ، فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس کے درمیان اس عورت کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا جس کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے یہاں بچہ پیدا ہوجائے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ وضع حمل کے بعد وہ نکاح کرسکتی ہے، حضرت ابن عباس کا کہنا تھا کہ وہ دو میں سے ایک طویل مدت کی عدت گزارے گی، پھر انہوں نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک قاصد بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ سبیعہ بنت حارث کے شوہر فوت ہوگئے تھے، ان کی وفات کے صرف پندرہ دن یعنی آدھ مہینہ بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوگیا پھر دو آدمیوں نے سبیعہ کے پاس پیغام نکاح بھیجا اور ایک آدمی کی طرف ان کا جھکاؤ بھی ہوگیا، جب لوگوں کو محسوس ہوا کہ وہ ان میں سے کسی ایک کی طرف متوجہ ہوجائے گی تو وہ کہنے لگے کہ ابھی تم حلال نہیں ہوئیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم حلال ہوچکی ہو اس لئے جس سے چاہو نکاح کرسکتی ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26658]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26659 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، مَسْرُوقٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي لَمَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ أَبَدًا" , قَالَ: فَخَرَجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْ عِنْدِهَا مَذْعُورًا حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ: اسْمَعْ مَا تَقُولُ أُمُّكَ، فَقَامَ عُمَرُ حَتَّى أَتَاهَا، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَسَأَلَهَا، ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ، أَمِنْهُمْ أَنَا؟ فَقَالَتْ: لَا، وَلَنْ أُبَرِّئَ بَعْدَكَ أَحَدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ان کے پاس آئے اور کہنے لگے اماں جان مجھے اندیشہ ہے کہ مال کی کثرت مجھے ہلاک نہ کردے۔ کیونکہ میں قریش میں سب سے زیادہ مالدار ہوں انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا اسے خرچ کرو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہوں گے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عبدالرحمن بن عوف جب باہر نکلے تو راستے میں حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی انہوں نے حضرت عمر کو یہ بات بتائی حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26659]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد خالف فيه عاصم الأعمش، وشريك سييء الحفظ، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد خالف فيه عاصم الأعمش، وشريك سييء الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 26660 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، أُمَّهُ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ: " أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللَّهِ مَا نُرَى هَذَا إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً، فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ، وَلَا رَائِينَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات اس بات سے انکار کرتی ہیں کہ بڑی عمر کے کسی آدمی کو دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے اور ایسا کوئی آدمی ان کے پاس آسکتا ہے، ان سب نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی کہا تھا کہ ہمارے خیال میں یہ رخصت تھی جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف سالم کو خصوصیت کے ساتھ دی تھی لہذا اس رضاعت کی بنیاد پر ہمارے پاس کوئی آسکتا ہے اور نہ ہی ہمیں دیکھ سکتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26660]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1454
الحكم: إسناده صحيح، م: 1454
حدیث نمبر: 26661 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبَا عِيَاضٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا عِيَاضٍ حَدَّثَ، أَنَّ مَرْوَانَ , بَعَثَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَوْلَاهَا، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصْبِحُ جُنُبًا، فَيَصُومُ، وَلَا يُفْطِرُ" ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا مَوْلَاهَا أَوْ غُلَامَهَا ذَكْوَانَ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ حُلُمٍ، فَيَصُومُ وَلَا يُفْطِرُ"، فَقَالَ لَهُ: ائْتِ أَبَا هُرَيْرَةَ فَأَخْبِرْهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَخْبَرَهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَعَنْ عَائِشَةَ، فَقَالَ: هُمَا أَعْلَمُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعیاض کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک مسئلہ معلوم کرنے کے لئے ایک قاصد کو بھیجا، اس نے حضرت ام سلمہ کے پاس ان کا آزاد کردہ غلام بھیج دیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اختیاری طور پر وجوب غسل ہوتا تب بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزہ رکھتے تھے، ناغہ نہیں کرتے تھے غلام نے واپس آکر یہ بات بتادی پھر مروان نے حضرت عائشہ کے پاس اپنا قاصد بھیج دیا، اس نے بھی حضرت عائشہ کے پاس ان کے غلام کو بھیجا، انہوں نے بھی وہی جواب دیا، تو مروان نے قاصد سے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور انہیں یہ بتادو چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ کے حوالے سے یہ حدیث بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ دونوں زیادہ جانتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26661]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عياض
الحكم: مرفوعه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عياض
حدیث نمبر: 26662 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، عَبْدِ رَبِّهِ ، أَبِي عِيَاضٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ ، وَعَائِشَةَ ، نَافِعًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ , بَعَثَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ ، قَالَ: فَلَقِيتُ غُلَامَهَا نَافِعًا ، فَأَرْسَلْتُهُ إِلَيْهَا، فَسَأَلَهَا , قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيَّ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَام، ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا" , قَالَ: فَأَتَيْتُ مَرْوَانَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتَأْتِيَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ فَلَتُخْبِرَنَّهُ بِهِ، فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: هُنَّ أَعْلَمُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعیاض کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک مسئلہ معلوم کرنے کے لئے ایک قاصد کو بھیجا، اس نے حضرت ام سلمہ کے پاس ان کا آزاد کردہ غلام بھیج دیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اختیاری طور پر وجوب غسل ہوتا تب بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزہ رکھتے تھے، ناغہ نہیں کرتے تھے غلام نے واپس آکر یہ بات بتادی پھر مروان نے حضرت عائشہ کے پاس اپنا قاصد بھیج دیا، اس نے بھی حضرت عائشہ کے پاس ان کے غلام کو بھیجا، انہوں نے بھی وہی جواب دیا، تو مروان نے قاصد سے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور انہیں یہ بتادو چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ کے حوالے سے یہ حدیث بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ دونوں زیادہ جانتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26662]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عند ربه وأبى عياض
الحكم: مرفوعه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عند ربه وأبى عياض
حدیث نمبر: 26663 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ ، وَعَائِشَةَ ، أَبَا عَمْرٍو
حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ , بَعَثَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ لَقِيَ غُلَامَ عَائِشَةَ ذَكْوَانَ أَبَا عَمْرٍو , وَقَالَ: لَقِيتُ نَافِعًا غُلَامَ أُمِّ سَلَمَةَ.
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عند ربه وأبى عياض
الحكم: مرفوعه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عند ربه وأبى عياض
حدیث نمبر: 26664 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ ، وَعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , وَعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ: " يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26664]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26665 مسند احمد
رَوْحٌ ، صَالِحٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قال: حَدَّثَنَا صَالِحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصْبِحُ جُنُبًا فِي رَمَضَانَ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے پھر غسل کرلیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26665]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح، وقد اختلف عليه فيه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 26666 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ ، وَعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، فَلَا يَصُومُ , فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ , وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ فَكِلْتَاهُمَا , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُ" ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَتَيَا مَرْوَانَ، فَحَدَّثَاهُ، ثُمَّ قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكُمَا لَمَا انْطَلَقْتُمَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَحَدَّثْتُمَاهُ، فَانْطَلَقَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَخْبَرَاهُ، قَالَ: هما قَالَتَاهُ لَكُمَا؟ فَقَالَا: نَعَمْ، قَالَ: هُمَا أَعْلَمُ، إِنَّمَا أَنَبَأَنِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ترجمہ موجود نہیں [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26666]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1109
الحكم: إسناده صحيح، م: 1109
حدیث نمبر: 26667 مسند احمد
رَوْحٌ ، صَالِحٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصْبِحُ جُنُبًا، ثُمَّ يَصُومُ يَوْمَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان کے مہینے میں صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے پھر غسل کرلیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26667]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح، وقد اختلف عليه فيه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 26668 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ ، وَعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا، فَلَا يَصُومُ , فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ , وَعَائِشَةَ ، فَكِلْتَاهُمَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُ" ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَتَيَا مَرْوَانَ، فَحَدَّثَاهُ، ثُمَّ قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكُمَا لَمَا انْطَلَقْتُمَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَحَدَّثْتُمَاهُ، فَانْطَلَقَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَخْبَرَاهُ , قَالَ: هُمَا قَالَتَاهُ لَكُمَا؟ فَقَالَا: نَعَمْ، قَالَ: هُمَا أَعْلَمُ، إِنَّمَا أَنَبَأَنِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو اس کا روزہ نہیں ہے، ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے؟ دونوں نے جواب دیا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی، مروان نے مجھ سے کہا کہ یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتادو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے تو یہ بات فضل بن عباس نے بتائی تھی البتہ وہ دونوں زیادہ جانتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26668]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1109
الحكم: إسناده صحيح، م: 1109
حدیث نمبر: 26669 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أُمَّ سَلَمَةَ ، أَبُو سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بِمِنًى، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ: أَبُو سَلَمَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ، فَلْيَقُلْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي وَأْجُرْنِي فِيهَا، وَأَبْدِلْنِي مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا" , فَلَمَّا احْتُضِرَ أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: اللَّهُمَّ اخْلُفْنِي فِي أَهْلِي بِخَيْرٍ، فَلَمَّا قُبِضَ، قُلْتُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا , قَالَتْ: وَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: وَأَبْدِلْنِي خَيْرًا مِنْهَا، فَقُلْتُ: وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، فَمَا زِلْتُ حَتَّى قُلْتُهَا، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا أَبُو بَكْرٍ فَرَدَّتْهُ، ثُمَّ خَطَبَهَا عُمَرُ فَرَدَّتْهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِرَسُولِهِ، أَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى، وَأَنِّي مُصْبِيَةٌ، وَأَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدًا، فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا قَوْلُكِ: إِنِّي مُصْبِيَةٌ، فَإِنَّ اللَّهَ سَيَكْفِيكِ صِبْيَانَكِ، وَأَمَّا قَوْلُكِ: إِنِّي غَيْرَى، فَسَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَ غَيْرَتَكِ، وَأَمَّا الْأَوْلِيَاءُ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ إِلَّا سَيَرْضَانِي" , قُلْتُ: يَا عُمَرُ، قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ شَيْئًا مِمَّا أَعْطَيْتُ أُخْتَكِ فُلَانَةَ رَحَيَيْنِ وَجَرَّتَيْنِ، وَوِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا لِيفٌ" . قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهَا، فَإِذَا جَاءَ أَخَذَتْ زَيْنَبَ، فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِهَا لِتُرْضِعَهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيِيًّا كَرِيمًا، يَسْتَحْيِي، فَرَجَعَ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا، فَفَطِنَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِمَا تَصْنَعُ، فَأَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ وَجَاءَ عَمَّارٌ، وَكَانَ أَخَاهَا لِأُمِّهَا، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَانْتَشَطَهَا مِنْ حِجْرِهَا، وَقَالَ: دَعِي هَذِهِ الْمَقْبُوحَةَ الْمَشْقُوحَةَ الَّتِي آذَيْتِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ، فَجَعَلَ يُقَلِّبُ بَصَرَهُ فِي الْبَيْتِ , وَيَقُولُ:" أَيْنَ زَنَابُ؟ مَا فَعَلَتْ زَنَابُ؟" , قَالَتْ: جَاءَ عَمَّارٌ، فَذَهَبَ بِهَا، قَالَ: فَبَنَى بِأَهْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ، سَبَّعْتُ لِلنِّسَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابوسلمہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے تو اسے انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کریوں کہنا چاہئے اے اللہ میں تیرے سامنے اس مصیبت پر ثواب کی نیت کرتا ہوں تو مجھے اس پر اجرعطاء فرما اور اس کا نعم البدل عطاء فرمایا جب حضرت ابوسلمہ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے دعاء کی کہ اے اللہ میرے شوہر کے ساتھ خیر کا فیصلہ فرما جب وہ فوت ہوگئے تو میں نے مذکورہ دعاء پڑھی اور جب میں نے یہ کہنا چاہا کہ مجھے اس کا نعم البدل عطاء فرما تو میرے ذہن میں خیال آیا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے؟ لیکن پھر بھی میں یہ کہتی رہی، جب عدت گزر گئی تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے پے درپے پیغام نکاح بھیجے لیکن انہوں نے اسے رد کردیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا تو کوئی والی یہاں موجود نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اولیاء میں سے کوئی بھی خواہ وہ غائب ہو یا حاضر اسے ناپسند نہیں کرے گا انہوں نے اپنے بیٹے عمربن ابی سلمہ سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے میرا نکاح کرادو چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلمہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نکاح میں دیدیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہاری بہنوں (اپنی بیویوں) کو جو کچھ دیا ہے تمہیں بھی اس سے کم نہیں دوں گا، دو چکیاں، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا ایک تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26669]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال ابن عمر بن أبى سلمة
الحكم: بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال ابن عمر بن أبى سلمة
حدیث نمبر: 26670 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَابِتٍ ، عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ , وَقَالَ: سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ: ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , مُرْسَلٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26670]
حکم دارالسلام
هو مكرر ما قبله، وله اسنادان، الاول: أخطأ فيه جعفر بن سليمان فقال: عن عمر بن أبى سلمة، صوابه: عن ابن عمر بن أبى سلمة ، والثاني: منقطع
الحكم: هو مكرر ما قبله، وله اسنادان، الاول: أخطأ فيه جعفر بن سليمان فقال: عن عمر بن أبى سلمة، صوابه: عن ابن عمر بن أبى سلمة ، والثاني: منقطع