بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 280
صفحہ 8 از 14
حدیث نمبر: 26611 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26611]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5634، م: 2065
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5634، م: 2065
حدیث نمبر: 26612 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ مَرْوَانَ، قَالَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ , قَالَ: فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: " نَهَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي كَتِفًا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً" , وقَالَ أَبِي: لَمْ يَسْمَعْ سُفْيَانُ مِنْ أَبِي عَوْنٍ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26612]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26613 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: " إِذَا رَأَتْ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ" , قَالَتْ: قُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَاءَ، وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا إِذًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا یہ بتائے کہ اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں جب کہ وہ پانی دیکھے اس پر حضرت ام سلمہ ہنسنے لگیں اور کہنے لگیں کہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر بچہ اپنی ماں کے مشابہ کیوں ہوتا ہے؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26613]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 282، م: 313
الحكم: إسناده صحيح، خ: 282، م: 313
حدیث نمبر: 26614 مسند احمد
وَكِيعٌ ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، سَمِعْتُهُ مِنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: " شُغِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کے بعد کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکے تھے، سو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ عصر کے بعد پڑھ لی تھیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس سے پہلے تو آپ یہ نماز نہیں پڑھتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دراصل بنوتمیم کا وفد آگیا تھا جس کی وجہ سے ظہر کے بعد کی جو دو رکعتیں میں پڑھتا تھا وہ رہ گئی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26614]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف على بن يحيى، وهو حسن الحديث
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف على بن يحيى، وهو حسن الحديث
حدیث نمبر: 26615 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، وَهْبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ، فَقَالَ:" لَيَّةً، لَا لَيَّتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ایک ہی مرتبہ لپیٹنا دو مرتبہ نہیں (تاکہ مردوں کے عمامے کے ساتھ مشابہت نہ ہوجائے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26615]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة وهب مولى أبى أحمد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة وهب مولى أبى أحمد
حدیث نمبر: 26616 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، الشَّعْبِيِّ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ، قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ، أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ، أَوْ نَجْهَلَ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے، اللہ کے نام سے میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اے اللہ! ہم اس بات سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں کہ پھسل جائیں یا گمراہ ہوجائیں یا ظلم کریں یا کوئی ہم پر ظلم کرے یا ہم کسی سے جہالت کا مظاہرہ کریں یا کوئی ہم سے جہالت کا مظاہرہ کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26616]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يسمع من أم سلمة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26617 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، وَهْبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ، فَقَالَ:" لَيَّةً، لَا لَيَّتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ایک ہی مرتبہ لپیٹنا دو مرتبہ نہیں (تاکہ مردوں کے عمامے کے ساتھ مشابہت نہ ہوجائے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26617]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة وهب مولى أبى أحمد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة وهب مولى أبى أحمد
حدیث نمبر: 26618 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ تَحْتَكِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ پیش کردے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں (اس لئے یاد رکھو) میں جس شخص کی بات تسلیم کر کے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لو کہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہا ہوں لہذا اسے چاہئے کہ اسے نہ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26618]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1713
الحكم: إسناده صحيح، م: 1713
حدیث نمبر: 26619 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، وَالْقَاسِمَ ، أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِيّاَيِ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو , وَالْقَاسِمَ أَخْبَرَاهُ , أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُخْبِرُ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّها لَمَّا قَدِمَتْ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَتْهُمْ أَنَّهَا ابْنَةُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَكَذَّبُوهَا، وَيَقُولُونَ: مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبَ، حَتَّى أَنْشَأَ نَاسٌ مِنْهُمْ إِلَى الْحَجِّ، فَقَالُوا: مَا تَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ؟ فَكَتَبَتْ مَعَهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ يُصَدِّقُونَهَا، فَازْدَادَتْ عَلَيْهِمْ كَرَامَةً , قَالَتْ: فَلَمَّا وَضَعْتُ زَيْنَبَ، جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَنِي، فَقُلْتُ: مَا مِثْلِي نُكِحَ، أَمَّا أَنَا، فَلَا وَلَدَ فِيَّ، وَأَنَا غَيُورٌ، وَذَاتُ عِيَالٍ، فَقَالَ:" أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ، فَيُذْهِبُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا الْعِيَالُ، فَإِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ" , فَتَزَوَّجَهَا، فَجَعَلَ يَأْتِيهَا فَيَقُولُ:" أَيْنَ زُنَابُ؟" حَتَّى جَاءَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَوْمًا، فَاخْتَلَجَهَا، وَقَالَ: هَذِهِ تَمْنَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ تُرْضِعُهَا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَيْنَ زُنَابُ؟" , فَقَالَتْ: قَرِيبَةُ ابْنَةِ أَبِي أُمَيَّةَ وَوَافَقَهَا عِنْدَهَا أَخَذَهَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي آتِيكُمْ اللَّيْلَةَ" , قَالَتْ: فَقُمْتُ، فَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ كَانَتْ فِي جَرٍّ، وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُهُ لَهُ. قَالَتْ: فَبَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصْبَحَ، فَقَالَ حِينَ أَصْبَحَ: " إِنَّ لَكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً، فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، فَإِنْ أُسَبِّعْ لَكِ، أُسَبِّعْ لِنِسَائِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ مدینہ منورہ آئیں تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ ابوامیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں لیکن لوگوں نے ان کی بات تسلیم نہ کی اور کہنے لگے کہ یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے پھر کچھ لوگ حج کے لئے روانہ ہونے لگے تو ان سے کہا کہ تم اپنے گھر والوں کو کچھ لکھنا چاہتی ہو؟ انہوں نے ایک خط لکھ کر ان کے ذریعے بھجوادیا وہ لوگ جب مدینہ واپس آئے تو حضرت ام سلمہ کی تصدیق کرنے لگے اور ان کی عزت میں اضافہ ہوگیا وہ کہتی ہیں کہ جب میرے یہاں زینب پیدا ہوچکی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں آئے اور مجھے پیغام نکاح دیا، میں نے عرض کیا کہ میری جیسی عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے؟ میری عمر زیادہ ہوگئی ہے میں غیور بہت ہوں اور صاحب عیال بھی ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تم سے عمر میں بڑا ہوں رہی غیرت تو اللہ اسے دور کردے گا اور رہے بچے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے نکاح کرلیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26619]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالحميد بن عبدالله والقاسم بن محمد
الحكم: بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالحميد بن عبدالله والقاسم بن محمد
حدیث نمبر: 26620 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو , وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَاهُ , أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَتْ: فَوَضَعْتُ ثِفَالِي، فَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنَ الشَّعِيرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26620]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالحميد بن عبدالله والقاسم بن محمد
الحكم: بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالحميد بن عبدالله والقاسم بن محمد
حدیث نمبر: 26621 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لَهُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ يُفَارِقَنِي" , قَالَ: فَأَتَى عُمَرَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَأَتَاهَا عُمَرُ، فَقَالَ: أُذَكِّرُكِ اللَّهَ، أَمِنْهُمْ أَنَا؟ قَالَتْ: اللَّهُمَّ لَا، وَلَنْ أُبْلِيَ أَحَدًا بَعْدَكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہوں گے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عبدالرحمن بن عوف جب باہر نکلے تو راستے میں حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی انہوں نے حضرت عمر کو یہ بات بتائی حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26621]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26622 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , وَرَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ , " أَنَّهَا قَرَّبَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا، فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26622]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26623 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , وَالْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ أُسَبِّعْ لَكِ، أُسَبِّعْ لِنِسَائِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26623]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1460، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالحميد بن عبدالله والقاسم
الحكم: حديث صحيح، م: 1460، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالحميد بن عبدالله والقاسم
حدیث نمبر: 26624 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ سَلَمَةَ ، وَعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , وَعَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ، فَيَصُومُ" , قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: زَوْجَتَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26624]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26625 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ , أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ يُسَبِّحُ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا يُصَلِّي، ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ، فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ، وَصَلَاتُهُ تِلْكَ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رات کی نماز اور قرأت کے متعلق حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عشاء اور اس کے بعد نوافل پڑھ کر سو جاتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کا اختتام صبح کے وقت ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26625]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة يعلى بن مملك
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة يعلى بن مملك
حدیث نمبر: 26626 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَجَبَةَ خَصْمٍ عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَعْلَمَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ لَهُ بِمَا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَأَظُنُّهُ صَادِقًا، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ، فَإِنَّهَا قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ، فَلْيَأْخُذْهَا، أَوْ لِيَدَعْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ پیش کردے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں (اس لئے یاد رکھو) میں جس شخص کی بات تسلیم کر کے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لو کہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہا ہوں، اب اس کی مرضی ہے کہ لے لے یا چھوڑ دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26626]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1713
الحكم: إسناده صحيح، م: 1713
حدیث نمبر: 26627 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَ خُصُومَةً بِبَابِ حُجْرَتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ" , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26627]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1713
الحكم: إسناده صحيح، م: 1713
حدیث نمبر: 26628 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً أَهْدَتْ لَهَا رِجْلَ شَاةٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِهَا، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ تَقْبَلَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے انہیں بکری کی ایک ران ہدیہ کے طور پر بھیجی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اسے قبول کرلینے کی اجازت دی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26628]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26629 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، نَبْهَانُ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي نَبْهَانُ مُكَاتَبُ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ: إِنِّي لَأَقُودُ بِهَا بِالْبَيْدَاءِ أَو قَالَ: بِالْأَبْوَاءِ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا كَانَ عِنْدَ الْمُكَاتَبِ مَا يُؤَدِّي، فَاحْتَجِبِي مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم خواتین میں سے کسی کا کوئی غلام مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا بدل کتابت ہو کہ وہ اسے اپنے مالک کے حوالے کر کے خود آزادی حاصل کرسکے، تو اس عورت کو اپنے اس غلام سے پردہ کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26629]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة نبهان، وقد تفرد بهذا الحديث، ومما يدل على ضعف هذا الحديث عمل السيدة عائشة بخلافه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة نبهان، وقد تفرد بهذا الحديث، ومما يدل على ضعف هذا الحديث عمل السيدة عائشة بخلافه
حدیث نمبر: 26630 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ ، وَعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ جُنُبًا، فَلَا صَوْمَ لَهُ" , قَالَ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي، فَدَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ , فَسَأَلْنَاهُمَا عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَتَانَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ، ثُمَّ يَصُومُ" ، فَلَقِينَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَحَدَّثَهُ أَبِي، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ أَبِي هُرَيْرَةَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَهُنَّ أَعْلَمُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے جس شخص کی صبح وجوب غسل کی حالت میں ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، کچھ عرصہ بعد میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے بتایا کہ نبی علیہ لسلام اختیاری طور پر وجوب غسل کی حالت میں صبح کرلیتے اور روزہ رکھ لیتے پھر ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ملے تو میرے والد صاحب نے ان سے یہ حدیث بیان کی ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور وہ کہنے لگے کہ مجھے یہ حدیث فضل بن عباس نے بتائی تھی، البتہ ازواج مطہرات اسے زیادہ جانتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26630]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح