بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 280
صفحہ 14 از 14
حدیث نمبر: 26731 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ يُسَلِّمُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز فجر کے بعد یہ دعاء فرماتے تھے اے اللہ! میں تجھ سے علم نافع، عمل مقبول اور رزق حلال کا سوال کرتا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26731]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام مولي أم سلمة
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام مولي أم سلمة
حدیث نمبر: 26732 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هَارُونُ النَّحْوِيُّ ، ثَابِتٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: " قَرَأَ إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت ہود کی یہ آیت اس طرح پڑھی ہے انہ عمل غیرصالح۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26732]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين بشاهده،وهذا إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: حديث محتمل للتحسين بشاهده،وهذا إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26733 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، خَالِدٌ ، أَبِي قِلَابَةَ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ " يُفْرَشُ لِي حِيَالَ مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يُصَلِّي وَأَنَا حِيَالُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرا بستر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مصلی کے بالکل سامنے بچھا ہوتا تھا اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26733]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26734 مسند احمد
مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، خُصَيْفٌ ، عَطَاءٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الذَّهَبِ يُرْبَطُ بِهِ الْمِسْكُ أَوْ تُرْبَطُ، قَالَ: " اجْعَلِيهِ فِضَّةً، وَصَفِّرِيهِ بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہم تھوڑا سا سونا لے کر اس میں مشک نہ ملا لیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسے چاندی کے ساتھ کیوں نہیں ملاتیں، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کرلیا کرو، جس سے وہ چاندی بھی سونے کی طرح ہوجائیگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26734]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف خصيف
الحكم: إسناده ضعيف لضعف خصيف
حدیث نمبر: 26735 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، لَيْثٌ ، عَطَاءٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: لَبِسْتُ قِلَادَةً فِيهَا شَعَرَاتٌ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَتْ: فَرَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقَالَ: " مَا يُؤَمِّنُكِ أَنْ يُقَلِّدَكِ اللَّهُ مَكَانَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَعَرَاتٍ مِنْ نَارٍ" , قَالَتْ: فَنَزَعْتُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک ہار پہن لیا جس میں سونے کی دھاریاں بنی ہوئی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دیکھ کر مجھ سے اعراض کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں اس بات سے کس نے بےخوف کردیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن اس کی جگہ آگ کی دھاریاں پہنائے گا؟ چنانچہ میں نے اسے اتاردیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26735]
حکم دارالسلام
إسناده فيه ضعف وانقطاع، ليث ضعيف وعطاء لم يسمع من أم سلمة
الحكم: إسناده فيه ضعف وانقطاع، ليث ضعيف وعطاء لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26736 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، أُمُّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَغْزُو الرِّجَالُ، وَلَا نَغْزُو، وَلَنَا نِصْفُ الْمِيرَاثِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَلا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ سورة النساء آية 32 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ مرد جہاد میں شرکت کرتے ہیں لیکن ہم اس میں شرکت نہیں کرسکتے، پھر ہمیں میراث بھی نصف ملتی ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اس چیز کی تمنا مت کیا کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دے رکھی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26736]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فيه انقطاع بين مجاهد و أم سلمة
الحكم: إسناده ضعيف، فيه انقطاع بين مجاهد و أم سلمة
حدیث نمبر: 26737 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَتْنِي شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کی وجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26737]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5896
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5896
حدیث نمبر: 26738 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُوتِرُ بِثَلَاثَ عَشْرَةَ، فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ، أَوْتَرَ بِسَبْعٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیرہ رکعتوں پر وتر بناتے تھے لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمربڑھ گئی اور کمزوری ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26738]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الاعمش
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الاعمش
حدیث نمبر: 26739 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَضَرْتُمْ الْمَيِّتَ أَوْ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی قریب المرگ یا بیمار آدمی کے پاس جایا کرو تو اس کے حق میں دعائے خیر کیا کرو کیونکہ ملائکہ تمہاری دعاء پر آمین کہتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26739]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 919
الحكم: إسناده صحيح، م: 919
حدیث نمبر: 26740 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ فَاطِمَةَ اسْتُحِيضَتْ، وَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ لَهَا، فَتَخْرُجُ وَهِيَ عَالِيَةُ الصُّفْرَةِ وَالْكُدْرَةِ، فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " تَنْتَظِرُ أَيَّامَ قُرْئِهَا أَوْ أَيَّامَ حَيْضِهَا فَتَدَعُ فِيهِ الصَّلَاةَ، وَتَغْتَسِلُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ، وَتَسْتَثْفِرُ بِثَوْبٍ، وَتُصَلِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش کا دم استحاضہ جاری رہتا تھا، وہ اپنے ٹب میں غسل کرکے جب نکلتیں تو اس کی سطح پر زردی اور مٹیالاپن غالب ہوتا تھا حضرت ام سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا حکم دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اتنے دن رات تک انتظار کرے جتنے دن تک اسے پہلے ناپاکی کا سامنا ہوتا تھا اور مہینے میں اتنے دنوں کا اندازہ کرلے اور اتنے دن تک نماز چھوڑے رکھے اس کے بعد غسل کر کے کپڑا باندھ لے اور نماز پڑھنے لگے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26740]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، لكن اختلف فيه على أيوب
الحكم: حديث صحيح، لكن اختلف فيه على أيوب
حدیث نمبر: 26741 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو عَوْنٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَالَ مَرْوَانُ: كَيْفَ نَسْأَلُ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ وَفِينَا أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَنَشَلْتُ لَهُ كَتِفًا مِنْ قِدْرٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26741]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26742 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , " أَنَّ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ فَوَصَفَتْ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، حَرْفًا حَرْفًا، قِرَاءَةً بَطِيئَةً , قَطَّعَ عَفَّانُ قِرَاءَتَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرأت کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے سورت فاتحہ کی پہلی تین آیات کو توڑتوڑ کر پڑھ کر (ہر آیت پر وقف کر کے) دکھایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26742]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 26743 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، خَالِدٌ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، عِكْرِمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافٍ، فَأَصَابَهَا الْحَيْضُ، فَقَالَ: " قُومِي، فَاتَّزِرِي، ثُمَّ عُودِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے میں کھسکنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جا کر ازارباندھو اور واپس آجاؤ! [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26743]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، عكرمة لم يسمع من أم سلمة، وقد اختلف عليه فيه
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، عكرمة لم يسمع من أم سلمة، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 26744 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو حَمْزَةَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ , رَأَتْ نَسِيبًا لَهَا يَنْفُخُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ، فَقَالَتْ: لَا تَنْفُخْ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِغُلَامٍ لَنَا يُقَالُ: لَهُ رَبَاحٌ:" تَرِّبْ وَجْهَكَ يَا رَبَاحُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوصالح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اسی دوارن وہاں ان کا ایک بھتیجا بھی آگیا اور اس نے ان کے گھر میں دو رکعتیں پڑھیں، دوران نماز جب وہ سجدہ میں جانے لگا تو اس نے مٹی اڑانے کے لئے پھونک ماری تو حضرت ام سلمہ نے اس سے فرمایا بھتیجے پھونکیں نہ مارو کیونکہ میں نے نبی علیہ السلا کو بھی ایک مرتبہ اپنے غلام جس کا نام یسار تھا اور اس نے بھی پھونک ماری تھی سے فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اپنے چہرے کو اللہ کے لئے خاک آلود ہونے دو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26744]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى حمزة، وقد اختلف فى تعيين أبى صالح
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى حمزة، وقد اختلف فى تعيين أبى صالح
حدیث نمبر: 26745 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ ، عَامِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ أُخْتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصْبِحُ جُنُبًا، فَيَصُومُ، وَلَا يُفْطِرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صبح کے وقت اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزہ رکھ لیتے تھے اور ناغہ نہ کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26745]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26746 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِفَاطِمَةَ:" ائْتِينِي بِزَوْجِكِ وَابْنَيْكِ" , فَجَاءَتْ بِهِمْ، فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ كِسَاءً فَدَكِيًّا، قَالَ: ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ هَؤُلَاءِ آلُ مُحَمَّدٍ، فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" , قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَرَفَعْتُ الْكِسَاءَ لِأَدْخُلَ مَعَهُمْ، فَجَذَبَهُ مِنْ يَدِي، وَقَالَ:" إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ اپنے شوہر اور بچوں کو بھی بلال اؤ چنانچہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے۔ نبی علیہ السلام نے فدک کی چادرلے کر ان سب پر ڈال دی اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں تو محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرما بیشک تو قابل تعریف بزرگی والا ہے، اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سر داخل کرکے عرض کیا یا رسول اللہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم بھی خیر پر ہو، تم بھی خیر پر ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26746]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد وشهر بن حوشب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد وشهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26747 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، الْمُهَاجِرِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنْ الْمُهَاجِرِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " لَيُخْسَفَنَّ بِقَوْمٍ يَغْزُونَ هَذَا الْبَيْتَ بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ" , فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ فِيهِمْ الْكَارِهُ؟ قَالَ:" يُبْعَثُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَلَى نِيَّتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس لشکرکا تذکرہ کیا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو حضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ ہوسکتا ہے اس لشکر میں ایسے لوگ بھی ہوں جنہیں زبردستی اس میں شامل کرلیا گیا ہو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26747]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26748 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ لِي: أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: مَعَاذَ اللَّهِ، أَوْ سُبْحَانَ اللَّهِ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سَبَّ عَلِيًّا، فَقَدْ سَبَّنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کیا تمہاری موجودگی میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برابھلا کہا جارہا ہے؟ میں نے کہا معاذ اللہ! یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو علی کو برا بھلا کہتا ہے وہ مجھے برا بھلا کہتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26748]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26749 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو شُجَاعٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ ، نَاعِمٌ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو شُجَاعٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ , يَقُولُ: حَدَّثَنِي نَاعِمٌ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ سُئِلَتْ: أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ مَعَ الرَّجُلِ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، إِذَا كَانَتْ كَيِّسَةً، رَأَيْتُنِي وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَغْتَسِلُ مِنْ مِرْكَنٍ وَاحِدٍ، نُفِيضُ عَلَى أَيْدِينَا حَتَّى نُنْقِيَهَا، ثُمَّ نُفِيضُ عَلَيْنَا الْمَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے سوال پوچھا کہ کیا عورت مرد کے ساتھ غسل کرسکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں جبکہ وہ باشعور ہو (مراد بیوی ہونا ہے) میں نے وہ وقت دیکھا ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی ٹب سے غسل کرلیا کرتے تھے، پہلے ہم اپنے ہاتھوں پر پانی بہا کر انہیں اچھی طرح صاف کرتے تھے پھر اپنے جسم پر پانی بہا لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26749]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26750 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِي ، كُرَيْبٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ كُرَيْبٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ , تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ أَكْثَرَ مِمَّا يَصُومُ مِنَ الْأَيَّامِ , وَيَقُولُ:" إِنَّهُمَا عِيدَا الْمُشْرِكِينَ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عام دنوں کی نسبت ہفتہ اور اتوار کے دن کثرت کے ساتھ روزے رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ مشرکین کی عید کے دن ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ان کے خلاف کروں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26750]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن