أَبُو مُعَاوِيَةَ ، لَيْثٌ ، عَطَاءٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: لَبِسْتُ قِلَادَةً فِيهَا شَعَرَاتٌ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَتْ: فَرَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقَالَ: " مَا يُؤَمِّنُكِ أَنْ يُقَلِّدَكِ اللَّهُ مَكَانَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَعَرَاتٍ مِنْ نَارٍ" , قَالَتْ: فَنَزَعْتُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک ہار پہن لیا جس میں سونے کی دھاریاں بنی ہوئی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دیکھ کر مجھ سے اعراض کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں اس بات سے کس نے بےخوف کردیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن اس کی جگہ آگ کی دھاریاں پہنائے گا؟ چنانچہ میں نے اسے اتاردیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26735]
حکم دارالسلام
إسناده فيه ضعف وانقطاع، ليث ضعيف وعطاء لم يسمع من أم سلمة
الحكم: إسناده فيه ضعف وانقطاع، ليث ضعيف وعطاء لم يسمع من أم سلمة