بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 26722
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 26722
حدیث نمبر: 26722 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَا ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَا ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَنْهَا، وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا، خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فِيَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ: أَنَا امْرَأَةٌ كَبِيرَةٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ" , قَالَتْ: وَأَنَا امْرَأَةٌ غَيُورٌ , قَالَ:" أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُذْهِبُ غَيْرَتَكِ" , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَإِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ , قَالَ:" هُمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ" , قَالَ: فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَأَتَاهَا، فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ، فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَتَاهَا، فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ، فَانْصَرَفَ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، فَأَتَاهَا، فَقَالَ: حُلْتِ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ، هَلُمَّ الصَّبِيَّةَ، قَالَ: فَأَخَذَهَا، فَاسْتَرْضَعَ لَهَا، فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيْنَ زُنَابُ؟" يَعْنِي زَيْنَبَ , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَهَا عَمَّارٌ , فَدَخَلَ بِهَا، فَقَالَ:" إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً" , قَالَ: فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ، ثُمَّ قَالَ:" إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ، سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي، وَإِنْ شِئْتِ، قَسَمْتُ لَكِ" , قَالَتْ: لَا، بَلْ اقْسِمْ لِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوسلمہ کی وفات اور ان کی عدت گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ میں تین خصلتیں ہیں، میں عمر میں بڑی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تم سے بھی بڑا ہوں انہوں نے کہا کہ میں غیور عورت ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اللہ سے دعا کردوں گا وہ تمہاری غیرت دور کردے گا، انہوں نے کہا میرے بچے بھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے نکاح فرمالیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ انہوں نے عرض کیا نہیں آپ باری مقرر کرلیجئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26722]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالعزيز بن بنت أم سلمة
الحكم: بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالعزيز بن بنت أم سلمة
← پچھلی حدیث (26721) باب پر واپس اگلی حدیث (26723) →