حُسَيْنٌ ، خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، لَيْثٍ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا ظَهَرَتْ الْمَعَاصِي فِي أُمَّتِي، عَمَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَذَابٍ مِنْ عِنْدِهِ" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا فِيهِمْ يَوْمَئِذٍ أُنَاسٌ صَالِحُونَ؟! قَالَ:" بَلَى" , قَالَتْ: فَكَيْفَ يَصْنَعُ أُولَئِكَ؟ قَالَ:" يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب زمین میں شرپھیل جائے گا تو اسے روکا نہ جاسکے گا اور پھر اللہ اہل زمین پر اپنا عذاب بھیج دے گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں گے اور ان پر بھی وہی آفت آئیگی جو عام لوگوں پر آئے گی پھر اللہ تعالیٰ انہیں کھینچ کر اپنی مغفرت اور خوشنودی کی طرف لے جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26596]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ليث
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث