بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 26682
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 26682
حدیث نمبر: 26682 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: جَعَلَتْ شَعَائِرَ مِنْ ذَهَبٍ فِي رَقَبَتِهَا، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا، فَقُلْتُ: أَلَا تَنْظُرُ إِلَى زِينَتِهَا؟ فَقَالَ: " عَنْ زِينَتِكِ أُعْرِضُ" , قَالَ: زَعَمُوا , أَنَّهُ قَالَ" مَا ضَرَّ إِحْدَاكُنَّ لَوْ جَعَلَتْ خُرْصًا مِنْ وَرِقٍ، ثُمَّ جَعَلَتْهُ بِزَعْفَرَانٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے گلے میں سونے کا ہارلٹکالیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں گئے تو ان سے اعراض فرمایا: انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس زیب وزینت کو نہیں دیکھ رہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری زینت ہی سے تو اعراض کر رہا ہوں پھر فرمایا تم اسے چاندی کے ساتھ کیوں نہیں ملاتیں، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کرلیا کرو جس سے وہ چاندی بھی سونے کی طرح ہوجائیگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26682]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء بن أبى رباح لم يسمع من أم سلمة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء بن أبى رباح لم يسمع من أم سلمة
← پچھلی حدیث (26681) باب پر واپس اگلی حدیث (26683) →