مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِالنِّسَاءِ؟ قَالَ: " يُرْخِينَ شِبْرًا" , قُلْتُ: إِذَنْ يَنْكَشِفَ عَنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" فَذِرَاعٌ، لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اپنا دامن کتنا لٹکائیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ایک بالشت کے برابر اسے لٹکا سکتی ہو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں کھل جائیں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک گز لٹکا لو اس سے زیادہ نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26681]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على نافع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على نافع