صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أُمُّ وَلَدٍ لِابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ وَلَدٍ لِابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , قَالَتْ: كُنْتُ امْرَأَةً لِي ذَيْلٌ طَوِيلٌ، وَكُنْتُ آتِي الْمَسْجِدَ، وَكُنْتُ أَسْحَبُهُ، فَسَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، قُلْتُ: إِنِّي امْرَأَةٌ ذَيْلِي طَوِيلٌ، وَإِنِّي آتِي الْمَسْجِدَ، وَإِنِّي أَسْحَبُهُ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ، ثُمَّ أَسْحَبُهُ عَلَى الْمَكَانِ الطَّيِّبِ، فَقَالَتْ أُمَّ سَلَمَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَرَّتْ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ، ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْمَكَانِ الطَّيِّبِ، فَإِنَّ ذَلِكَ طَهُورٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبد الرحمن کی ام ولدہ کہتی ہیں کہ میں اپنے کپڑوں کے دامن کو زمین پر گھسیٹ کر چلتی تھی، اس دوران میں ایسی جگہوں سے بھی گزرتی تھی جہاں گندگی پڑی ہوتی اور ایسی جگہوں سے بھی جو صاف ستھری ہوتیں ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کے یہاں گئی تو ان سے یہ مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعد والی جگہ اسے صاف کردیتی ہے۔ (کوئی حرج نہیں) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26686]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام أم ولد إبراهيم بن عبدالرحمن بن عوف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام أم ولد إبراهيم بن عبدالرحمن بن عوف