بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 26690
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 26690
حدیث نمبر: 26690 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أُمِّهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: " طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُخْسَفُ بِهِمْ , ثُمَّ يُبْعَثُونَ إِلَى رَجُلٍ، فَيَأْتِي مَكَّةَ، فَيَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ، وَيُخْسَفُ بِهِمْ، مَصْرَعُهُمْ وَاحِدٌ، وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى" , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَكُونُ مَصْرَعُهُمْ وَاحِدًا , وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى؟ قَالَ:" إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ يُكْرَهُ، فَيَجِيءُ مُكْرَهًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی نیند سے بیدار ہوئے تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ رہے تھے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے ایک گروہ کو زمین میں دھنسادیا جائے گا پھر وہ لوگ ایک لشکر مکہ مکرمہ میں ایک آدمی کی طرف بھیجیں گے، اللہ اس آدمی کی ان سے حفاظت فرمائے گا اور انہیں زمین میں دھنسا دے گا، وہ سب ایک ہی جگہ پچھاڑے جائیں گے، لیکن ان کے اٹھائے جانے کی جگہیں مختلف ہوں گی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے ہوگا؟ فرمایا ان میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جنہیں زبردستی لشکر میں شامل کیا گیا ہوگا تو اسی حال میں آئیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26690]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
← پچھلی حدیث (26689) باب پر واپس اگلی حدیث (26691) →