بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الفهرس الفرعى
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 448
صفحہ 21 از 23
حدیث نمبر: 24410 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، أَبِيهِ ، خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيِّ ، الْبَهِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے رہتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24410]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 373
الحكم: إسناده صحيح، م: 373
حدیث نمبر: 24411 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَرِيكٌ ، قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، شَيْخٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، قُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ، فَغَسَلَ رَأْسَهُ بِغُسْلٍ، اجْتَزَأَ بِذَلِكَ، أَمْ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ؟ قَالَتْ:" بَلْ كَانَ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنو سواء کے ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اختیاری طور پر ناپاکی سے غسل فرماتے تھے، تو جسم پر پانی ڈالتے وقت سر پر جو پانی پڑتا تھا اسے کافی سمجھتے تھے یا سر پر نئے سرے سے پانی ڈالتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ نئے سرے سے سر پر پانی ڈالتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24411]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لابهام الشيخ من بني سواءة ولضعف شريك
الحكم: إسناده ضعيف لابهام الشيخ من بني سواءة ولضعف شريك
حدیث نمبر: 24412 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّلَفُّتِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دوران نماز دائیں بائیں دیکھنے کا حکم پو چھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ اچک لینے والا حملہ ہوتا ہے جو شیطان انسان کی نماز سے اچک لیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24412]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهذا إسناد اختلف فيه على أشعث والصحيح أشعث عن أبيه عن مسروق
الحكم: حديث صحيح وهذا إسناد اختلف فيه على أشعث والصحيح أشعث عن أبيه عن مسروق
حدیث نمبر: 24413 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ بَعْضُهُ عَلَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا مجھ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24413]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 514
الحكم: إسناده صحيح، م: 514
حدیث نمبر: 24414 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا، فَأَرَادَ بِهِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ، فَإِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ، وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ امور مسلمین میں سے کسی چیز کی ذمہ داری عطاء فرمائے اور اس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمالے تو اسے ایک سچا وزیر عطا فرما دیتا ہے جو بادشاہ کو بھول جانے پر یاد دلاتا ہے اور یاد رہنے پر اعانت کرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24414]
حکم دارالسلام
صحيح وهذا إسناد ضعيف لضعف مسلم بن خالد الزنجي
الحكم: صحيح وهذا إسناد ضعيف لضعف مسلم بن خالد الزنجي
حدیث نمبر: 24415 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ بَانَكَ ، عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ بَانَكَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: الْخُزَاعِيُّ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ طَالِبًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! معمولی گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ کے یہاں ان کی تفتیش بھی ہوسکتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24415]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 24416 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ، وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِيهِ، فَيَمْسَحُ بِهِ وَجْهَهُ، وَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جارہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے ہیں اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ! موت کی بےہوشیوں میں مدد فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24416]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة موسي بن سرجس
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة موسي بن سرجس
حدیث نمبر: 24417 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، لَيْثٌ ، نَافِعٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو چیزیں تم نے تخلیق کی تھیں، انہیں زندگی بھی دو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24417]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7557، م: 1207
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7557، م: 1207
حدیث نمبر: 24418 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، الْأَعْمَشِ ، الْحَكَم ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَم ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ، قَالَتْ: فَأَمَرْتُ الْخَادِمَ فَأَخْرَجَ لَهُ شَيْئًا، قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا:" يَا عَائِشَةُ ، لَا تُحْصِي فَيُحْصِي اللَّهُ عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان سے کسی سائل نے سوال کیا، انہوں نے خادم سے کہا تو وہ کچھ لے کر آیا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24418]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24419 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، دُوَيْدٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، زُرْعَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دُوَيْدٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ زُرْعَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدُّنْيَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَهُ، وَمَالُ مَنْ لَا مَالَ لَهُ، وَلَهَا يَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دنیا گھر ہے اس شخص کا جس کا کوئی گھر نہ ہو اور مال ہے اس شخص کا جس کا کوئی مال نہ ہو اور دنیا کے لئے وہی جمع کرتا ہے جس کے پاس عقل نہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24419]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة دويد ولضعف زرعة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة دويد ولضعف زرعة
حدیث نمبر: 24420 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: " كَانَ يَمُرُّ بِنَا هِلَالٌ وَهِلَالٌ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ، قَالَ: قُلْتُ: يَا خَالَةُ، فَعَلَى أَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعِيشُونَ؟ قَالَتْ: عَلَى الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات ہم پر کئی کئی مہینے اس حال میں گذر جاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی گھر میں آگے نہیں چلتی تھی، عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا خالہ جان! پھر آپ لوگ کس طرح گذارہ کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا دو سیاہ چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24420]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2567، م: 2972، بزيادة يزيد بن رومان بين أبى حازم وعروة
الحكم: حديث صحيح، خ: 2567، م: 2972، بزيادة يزيد بن رومان بين أبى حازم وعروة
حدیث نمبر: 24421 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، دُوَيْدٌ ، أَبِي سَهْلٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ رُومَانَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا دُوَيْدٌ ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ رُومَانَ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ مَا رَأَى مُنْخُلًا وَلَا أَكَلَ خُبْزًا مَنْخُولًا مُنْذُ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ قُبِضَ" ، قُلْتُ: كَيْفَ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ؟ قَالَتْ:" كُنَّا نَقُولُ أُفٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی چھلنی نہیں دیکھی اور کبھی چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائی، بعثت سے لے کر وصال تک یہی حالت رہی، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا آپ لوگ جو کی روٹی چھانے بغیر کس طرح کھالیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ " اف " کہتے جاتے تھے (تکلیف کے ساتھ حلق سے اتارتے تھے، یا صرف منہ سے پھونک مار لیا کرتے تھے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24421]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف مسلسل بالمجاهيل ورواية سهل بن سعد السالف 332/5 يغني عنه
الحكم: إسناده ضعيف مسلسل بالمجاهيل ورواية سهل بن سعد السالف 332/5 يغني عنه
حدیث نمبر: 24422 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَخْرُجُ نُجَاهِدُ مَعَكُمْ؟ قَالَ: " لَا، جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ الْمَبْرُورُ، َهُوَ لَكُنَّ جِهَادٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، تمہارا جہاد حج مبرور ہی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24422]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، يزيد بن عطاء فيه لين ولكن تويع، خ: 1520
الحكم: حديث صحيح، يزيد بن عطاء فيه لين ولكن تويع، خ: 1520
حدیث نمبر: 24423 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، الرَّبِيعُ ، أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ ، الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: وَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ عَلَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَسْكَرَ الْفَرْقُ مِنْهُ إِذَا شَرِبْتَهُ، فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ" . حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، قَالَ: أَخْبَرنِي أَبِي، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا عُثْمَانَ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ يَقْضِي عَلَى بَابِهِ، قَالَ أَبِي وَهُوَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، وَرَوَى عَنْه مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، وَرَبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس چیز کی ایک بڑی مقدار پینے سے نشہ چڑھتا ہو، اسے ایک چلو بھر پینا بھی حرام ہے۔ یحییٰ بن واضح کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بتایا کہ میں نے ابوعثمان عمرو بن سلیم کو دیکھا کہ ان کے دروازے پر فیصلہ کیا جا رہا ہے، امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ وہی ہیں جن سے مہدی بن میمون، مطرف بن طریف، ربیع بن صبیح اور لیث بن ابی سلیم روایات نقل کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24423]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24425 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: فَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ، وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ" ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بستر پر نہیں پایا، پتہ چلا کہ وہ جنت البقیع میں ہیں، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: " السلام علیکم دار قوم مومنین " تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ فرما اور ان کے بعد کسی آزمائش میں مبتلا نہ فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24425]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف شريك
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف شريك
حدیث نمبر: 24426 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، شَرِيكٌ ، إِبْرَاهِيمَ ابْنِ الْمُهَاجِرِ ، مُجَاهِدٍ ، السَّائِبِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ السَّائِبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، رَفَعَتْهُ، قَالَتْ: قَالَ: " صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ غَيْرَ مُتَرَبِّعٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24426]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره دون قوله غير متربع فزيادة منكرة تفرد بها شريك
الحكم: حديث صحيح لغيره دون قوله غير متربع فزيادة منكرة تفرد بها شريك
حدیث نمبر: 24427 مسند احمد
هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَهْلِ بَيْتٍ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمْ الرِّفْقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی گھرانے کے لوگوں سے خیر کا ارادہ فرمالیتا ہے تو ان میں نرمی پیدا فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24427]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24428 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، حُسَيْنٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أُمَّ بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ بَكْرٍ أَخْبَرْتُهُ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ الَّتِي تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ: " إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ"، أَوْ قَالَ" عُرُوقٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا " جو ایام سے پاکیزگی حاصل ہونے کے بعد کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں مبتلا کردے " کہ یہ رگ کا خون ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24428]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أم أبى بكر
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أم أبى بكر
حدیث نمبر: 24429 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، شُعْبَةُ ، ابْنُ أَبِي السَّفَرِ ، الشَّعْبِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ، ثُمَّ يَغْدُو إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ، وَيَصُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت اختیاری طور پر ناپاک ہوتے تو غسل فرماتے اور نماز کے لئے چلے جاتے اور میں ان کی قرأت سنتی تھی اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24429]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الشعبي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الشعبي
حدیث نمبر: 24430 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بَكْرِ ابْنُ حَفْصٍ ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ حَفْصٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ:" دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ عَلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ، فَاغْتَسَلَتْ، وَأَفْرَغَتْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا الْحِجَابُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک رضاعی بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے بھائی نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غسل کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ایک برتن منگوایا جو ایک صاع کے برابر تھا اور غسل کرنے لگیں، انہوں نے اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24430]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 251، م: 320
الحكم: إسناده صحيح، خ: 251، م: 320