بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الفهرس الفرعى
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 448
صفحہ 11 از 23
حدیث نمبر: 24210 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلا أُولُو الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 7،" فَإِذَا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِيهِ، فَهُمْ الَّذِينَ عَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَاحْذَرُوهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں، ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں تاکہ فتنہ پھیلائیں اور اس کی تاویل حاصل کرنے کی کوشش کریں، حالانکہ ان کی تاویل اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور علمی مضبوطی رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت تو عقلمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہٰذا ان سے بچو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24210]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24211 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ، فَلَهُ أَجْرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت اور برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24211]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4937، م: 798
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4937، م: 798
حدیث نمبر: 24212 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ، أَبِي عَطِيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْنَا لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: فَقَالَتْ: " أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟"، قَالَ: قُلْنَا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ:" كَذَاكَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ، وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو عطیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ اے ام المومنین! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو صحابی ہیں، ان میں سے ایک صحابی افطار میں بھی جلدی کرتے ہیں اور نماز میں بھی، جبکہ دوسرے صحابی افطار میں بھی تاخیر کرتے ہیں اور نماز میں بھی، انہوں نے فرمایا کہ افطار اور نماز میں عجلت کون کرتے ہیں؟ ہم نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے اور دوسرے صحابی حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24212]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1099
الحكم: إسناده صحيح، م: 1099
حدیث نمبر: 24213 مسند احمد
ابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، خَيْثَمَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ ، وَقَالَ:" يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السَّحُورَ"..
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الأعمش
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الأعمش
حدیث نمبر: 24214 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، عُمَارَةَ ، أَبِي عَطِيَّةَ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ: قُلْنَا لِعَائِشَةَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ، وَيُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ، وَيُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ، فَذَكَرَهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، مؤمل ثقة فى سفيان
الحكم: حديث صحيح، مؤمل ثقة فى سفيان
حدیث نمبر: 24215 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ: " اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا"، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ؟ قَالَ:" أَنْ يَنْظُرَ فِي كِتَابِهِ، فَيَتَجَاوَزَ عَنْه، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ يَا عَائِشَةُ، هَلَكَ، وَكُلُّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ يُكَفِّرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ عَنْه، حَتَّى الشَّوْكَةُ تَشُوكُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی نماز میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! میرا حساب آسان کر دیجئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کا نامہ اعمال دیکھا جائے اور اس سے درگذر کیا جائے، عائشہ! اس دن جس شخص سے حساب کتاب میں مباحثہ ہوا، وہ ہلاک ہوجائے گا اور مسلمان کو جو تکلیف حتیٰ کہ کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24215]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: سمعت النبى صلى الله عليه و آله وسلم يقول فى بعض صلاته: اللهم حاسبني .... فهذه الزيادة تفرد بها محمد بن إسحاق
الحكم: حديث صحيح دون قوله: سمعت النبى صلى الله عليه وسلم يقول فى بعض صلاته: اللهم حاسبني .... فهذه الزيادة تفرد بها محمد بن إسحاق
حدیث نمبر: 24216 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَيَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَهُ سِوَاكٌ رَطْبٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ فِيهِ حَاجَةً، قَالَتْ: فَأَخَذْتُهُ، فَمَضَغْتُهُ وَنَفَضْتُهُ وَطَيَّبْتُهُ، ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ، فَاسْتَنَّ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهُ مُسْتَنًّا قَطُّ، ثُمَّ ذَهَبَ يَرْفَعُهُ إِلَيَّ، فَسَقَطَ مِنْ يَدِه، فَأَخَذْتُ أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو لَهُ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، وَكَانَ هُوَ يَدْعُو بِهِ إِذَا مَرِضَ، فَلَمْ يَدْعُ بِهِ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ، فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ، وَقَالَ: " الرَّفِيقُ الْأَعْلَى، الرَّفِيقُ الْأَعْلَى"، يَعْنِي وَفَاضَتْ نَفْسُهُ ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دنیا سے رخصتی میرے گھر میں میری باری کے دن، میرے سینے اور حلق کے درمیان ہوئی اس دن عبدالرحمن بن ابی بکر آئے تو ان کے ہاتھ میں تازہ مسواک تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتنی عمدگی کے ساتھ مسواک فرمائی کہ اس سے پہلے میں نے اس طرح مسواک کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہاتھ اوپر کر کے وہ مجھے دینے لگے تو وہ مسواک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ سے گرگئی، یہ دیکھ کر میں وہ دعائیں پڑھنے لگیں جو حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری کے موقع پر پڑھتے تھے لیکن اس موقع پر انہوں نے وہ دعائیں نہیں پڑھی تھیں، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا رفیق اعلیٰ، رفیق اعلیٰ اور اسی دم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روح مبارک پرواز کرگئی، ہر حال میں اللہ کا شکر ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے آخری دن میرے اور ان کے لعاب کو جمع فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24216]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4451
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4451
حدیث نمبر: 24217 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب صبح ہوجاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24217]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل عبدالرحمن بن إسحاق فإنه حسن الحديث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل عبدالرحمن بن إسحاق فإنه حسن الحديث
حدیث نمبر: 24218 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَزْرَةَ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَائِرٍ، فَكَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ، اسْتَقْبَلَهُ، فَقَال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ، حَوِّلِي هَذَا، فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ، ذَكَرْتُ الدُّنْيَا" ، وَكَانَتْ لَنا قَطِيفَةٌ، كُنَّا نَقُولُ عَلَمُهَا مِنْ حَرِيرٍ، فَكُنَّا نَلْبَسُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر کسی پرندے کی تصویر بنی ہوئی تھی، جب کوئی آدمی گھر میں داخل ہوتا تو سب سے پہلے اس کی نظر اسی پر پڑتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا عائشہ! اس پردے کو بدل دو، میں جب بھی گھر میں آتا ہوں اور اس پر میری نظر پڑتی ہے تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے، اسی طرح ہمارے پاس ایک چادر تھی جس کے متعلق ہم یہ کہتے تھے کہ اس کے نقش و نگار ریشم کے ہیں، ہم اسے اوڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24218]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2107
الحكم: إسناده صحيح، م: 2107
حدیث نمبر: 24219 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، سَائِبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ سَائِبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ،" وَأَمَرَنَا بِقَتْلِ الْأَبْتَرِ وَذِي الطُّفْيَتَيْنِ"، قَالَ" إِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيُسْقِطَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ، وَمَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، سوائے ان سانپوں کے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں اور جو شخص ان سانپوں کو چھوڑ دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24219]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24220 مسند احمد
يَحْيَى ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ فَيَقُولُ: " أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ تُطْعِمُونِيهِ؟"، فَتَقُولُ: لَا، مَا أَصْبَحَ عِنْدَنَا شَيْءٌ كَذَاكَ، فَيَقُولُ:" إِنِّي صَائِمٌ"، ثُمَّ جَاءَهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ، فَخَبَأْنَاهَا لَكَ، قَالَ:" مَا هِيَ؟"، قَالَتْ: حَيْسٌ، قَالَ:" قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا"، فَأَكَلَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے اور روزے سے ہوتے، پھر پوچھتے کہ آج صبح تمہارے پاس کچھ ہے جو تم مجھے کھلا سکو؟ وہ جواب دیتیں کہ نہیں، آج ہمارے پاس صبح کے اس وقت کچھ نہیں ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے کہ پھر میں روزے سے ہی ہوں اور کبھی آتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہہ دیتیں کہ ہمارے پاس کہیں سے ہدیہ ہے جو ہم نے آپ کے لئے رکھا ہوا ہے جیسا کہ ایک موقع پر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ حیس (ایک قسم کا حلوہ) ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے صبح تو روزے کی نیت کی تھی، پھر اسے تناول فرما لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24220]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1154
الحكم: إسناده صحيح، م: 1154
حدیث نمبر: 24221 مسند احمد
يَحْيَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمَّارٍ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمَّارٍ وَكَانَ ثِقَةً وَيُقَالُ لَهُ: ابْنُ عَمَّارِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ مَدِينِيٌّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فُضِّلَتْ الْجَمَاعَةُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جماعت کے ساتھ نماز کی فضیلت تنہا نماز پڑھنے پر پچیس درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24221]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24222 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: " يَا عَائِشَةُ، مَا فَعَلَتْ الذَّهَبُ"، فَجَاءَتْ مَا بَيْنَ الْخَمْسَةِ إِلَى السَّبْعَةِ أَوْ الثَّمَانِيَةِ أَوْ التِّسْعَةِ، فَجَعَلَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ، وَيَقُولُ" مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ لَقِيَهُ وَهَذِهِ عِنْدَهُ! أَنْفِقِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! وہ سونا کیا ہوا؟ وہ پانچ سے نو کے درمیان کچھ اشرفیاں لے کر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے پلٹنے اور فرمانے لگے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ سے کس گمان کے ساتھ ملے گا جبکہ اس کے پاس یہ اشرفیاں موجود ہوں؟ انہیں خرچ کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24222]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو
حدیث نمبر: 24223 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٌ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ: " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، رَبِّ اغْفِرْ لِي"، يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے رکوع و سجود میں بکثر ت، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ رَبِّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے اور قرآن پر عمل فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24223]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 817، م: 484
الحكم: إسناده صحيح، خ: 817، م: 484
حدیث نمبر: 24224 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، مَخْلَدُ بْنُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَخْلَدُ بْنُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24224]
حکم دارالسلام
حديث حسن وهذا إسناد ضعيف لأجل مخلد بن خفاف، قال البخاري: فيه نظر
الحكم: حديث حسن وهذا إسناد ضعيف لأجل مخلد بن خفاف، قال البخاري: فيه نظر
حدیث نمبر: 24225 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، عُمرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ عُمرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، فَأَقُولُ قَرَأَ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی سنتیں اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24225]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
حدیث نمبر: 24226 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ؟ قَالَتْ: " كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ، فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ، خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں لگے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24226]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 676
الحكم: إسناده صحيح، خ: 676
حدیث نمبر: 24227 مسند احمد
يَحْيَى ، إِسْمَاعِيلَ ، عَامِرٌ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، قَالَ: أَتَى مَسْرُوقٌ عَائِشَةَ ، فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ؟ قَالَتْ: " سُبْحَانَ اللَّهِ! لَقَدْ قَفَّ شَعْرِي لِمَا قُلْتَ، أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ، مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ، فَقَدْ كَذَبَ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ، فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ سورة الأنعام آية 103، وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الشورى آية 51، وَمَنْ أَخْبَرَكَ بِمَا فِي غَدٍ، فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ سورة لقمان آية 34، وَمَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ، فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ: يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ سورة المائدة آية 67، وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ مَرَّتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور عرض کیا اے ام المومنین! کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: سبحان اللہ! تمہاری بات سن کر میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے ہیں، تم ان تین باتوں سے کیوں غافل ہو؟ جو شخص بھی تمہارے سامنے یہ باتیں بیان کرے، وہ جھوٹ بولتا ہے، جو شخص تم سے یہ بیان کرے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی " نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک رکھتا ہے، نیز یہ آیت کہ کسی انسان کی یہ طاقت نہیں ہے کہ اللہ سے اس باتیں کرے، سوائے اس کے کہ وہ وحی کے ذریعے ہو یا پردہ کے پیچھے سے ہو۔ " اور جو شخص تمہیں آئندہ کل کی خبریں دے، وہ جھوٹ بولتا ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی " اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے؟ اور جو شخص تمہیں یہ کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ چھپایا ہے، تو وہ بھی جھوٹ بولتا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی " اے رسول! وہ تمام چیزیں پہنچا دیجئے جو آپ پر نازل کی گئی ہیں۔ " البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت جبرائیل امین کو دو مرتبہ ان کی اصلی شکل و صورت میں دیکھا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24227]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4612، م: 177
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4612، م: 177
حدیث نمبر: 24228 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْحُمَّى، أَوْ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار یا اس کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24228]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5725، م: 2210
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5725، م: 2210
حدیث نمبر: 24229 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار یا اس کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24229]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5725، م: 2210
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5725، م: 2210