بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الفهرس الفرعى
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 448
صفحہ 14 از 23
حدیث نمبر: 24270 مسند احمد
يَحْيَى ، أَبِي حَزْرَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي حَزْرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُصَلَّى بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ، وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی شخص کھانا سامنے آجانے پر اور بول و براز کے تقاضے کو دبا کر نماز نہ پڑھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24270]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهو مكرر: 24166
الحكم: حديث صحيح وهو مكرر: 24166
حدیث نمبر: 24271 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نوافل کے معاملے میں فجر سے پہلے کی دو رکعتوں سے زیادہ کسی نفلی نماز کی اتنی پابندی نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24271]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وهو مكرر: 24167
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر: 24167
حدیث نمبر: 24272 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي؟ فَكَانَتْ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شوال کے مہینے میں مجھ سے نکاح فرمایا اور شوال ہی میں مجھے ان کے یہاں رخصت کیا گیا، اب یہ بتاؤ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک مجھ سے زیادہ کس بیوی کا حصہ تھا؟ (لہٰذا یہ کہنا کہ شوال کا مہینہ منحوس ہے، غلط ہے) اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو پسند فرماتی تھیں کہ عورتوں کی رخصتی ماہ شوال ہی میں ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24272]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1423
الحكم: إسناده صحيح، م: 1423
حدیث نمبر: 24273 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ" ، قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا كَانَ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بلال اس وقت اذان دیتے ہیں جب رات باقی ہوتی ہے اس لئے اس کے بعد تم کھا پی سکتے ہو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے دیں، وہ کہتی ہیں کہ میرے علم کے مطابق وہ اتنی ہی مقدار بنتی تھی کہ جس میں کوئی اتر آئے اور کوئی چڑھ جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24273]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 623، م: 1092
الحكم: إسناده صحيح، خ: 623، م: 1092
حدیث نمبر: 24274 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ، غَمَزَ، يَعْنِي رِجْلَيَّ، فَقَبَضْتُهُمَا إِلَيَّ، ثُمَّ سَجَدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں میں چٹکی بھر دیتے، میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی اور وہ سجدہ کرلیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24274]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 519، م: 744
الحكم: إسناده صحيح، خ: 519، م: 744
حدیث نمبر: 24275 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَيْ أُمَّتَاهُ، كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ؟ قَالَتْ: " تِسْعًا قَائِمًا، وَثِنْتَيْنِ جَالِسًا، وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ النِّدَاءَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا اماں جان! نماز عشأ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا نور کعتیں کھڑے ہو کر، دو رکعتیں بیٹھ کر اور دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24275]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24276 مسند احمد
يَحْيَى ، مُجَالِدٍ ، عَامِرٌ ، مَسْرُوقٍ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُجَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَيْئًا إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ تَمَثَّلَ: " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ، لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ فَمَهُ إِلَّا التُّرَابُ، وَمَا جَعَلْنَا الْمَالَ إِلَّا لِإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں داخل ہوتے وقت کچھ پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں داخل ہوتے وقت یوں کہتے تھے کہ اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش میں رہے گا اور اس کا منہ مٹی کے علاوہ کسی چیز سے نہیں بھر سکتا، ہم نے تو مال بنایا ہی اس لئے تھا کہ نماز قائم کی جائے اور زکوٰۃ ادا کی جائے اور جو تو بہ کرتا ہے، اللہ اس کی تو بہ کو قبول فرمالیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24276]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24277 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَبْغَضُ الرِّجَالِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ مبغوض آدمی وہ ہے جو نہایت جھگڑالو ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24277]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7188، م: 2668
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7188، م: 2668
حدیث نمبر: 24278 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں بو سہ دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24278]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5711
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5711
حدیث نمبر: 24279 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءً ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، إِنَّا لَنَسْمَعُهَا تَسْتَنُّ، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَا أُمَّتَاهُ، مَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَتْ: مَا يَقُولُ؟ قُلْتُ: يَقُولُ:" اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ، قَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، نَسِيَ، " مَا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ" ، قَالَ: وَابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ، فَمَا قَالَ: لَا، وَلَا نَعَمْ، سَكَتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماہ رجب میں عمرہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! عروہ نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو عمرہ بھی کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اس میں شریک رہے ہیں (لیکن یہ بھول گئے کہ) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی تائید کی اور نہ تردید، بلکہ خاموش رہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24279]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1776، م: 1255
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1776، م: 1255
حدیث نمبر: 24280 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ يَأْمُرُنِي، فَأَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ يُبَاشِرُنِي، وَكُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، وَأَنَا حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سر مبارک ایام سے ہونے کے باوجود دھو دیتی تھی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اعتکاف میں ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24280]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 300، 301، م: 293
الحكم: إسناده صحيح، خ: 300، 301، م: 293
حدیث نمبر: 24281 مسند احمد
يَحْيَى ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ"، قَالَتْ: وَعَلَيْهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا وَ عَلَیہِ وَ رَحمَۃُ اللَہِ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24281]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3217، م: 2447
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3217، م: 2447
حدیث نمبر: 24282 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ؟ قَالَتْ: " لَا، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خصوصی ایام میں خصوصی اعمال کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں جو طاقت تھی۔ وہ تم میں سے کس میں ہوسکتی ہے؟ البتہ یہ یاد رکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہر عمل دائمی ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24282]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1987، م: 783
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1987، م: 783
حدیث نمبر: 24283 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نَافِعٍ ، إِنْسَانٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ . وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعٍ . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: عَنْ إِنْسَانٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ لِلْقَبْرِ ضَغْطَةً، وَلَوْ كَانَ أَحَدٌ نَاجِيًا مِنْهَا، نَجَا مِنْهَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قبر کو ایک مرتبہ بھینچا جاتا ہے، اگر کوئی شخص اس عمل سے بچ سکتا تو وہ سعد بن معاذ ہوتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24283]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهذا إسناد اختلف فيه على شعبة
الحكم: حديث صحيح وهذا إسناد اختلف فيه على شعبة
حدیث نمبر: 24284 مسند احمد
يَحْيَى ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٌ ، شُرَيْحُ بْنُ هَانِئ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ زَكَرِيَّا ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ هَانِئ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ سے ملاقات ہونے سے پہلے موت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24284]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2684
الحكم: إسناده صحيح، م: 2684
حدیث نمبر: 24285 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَدْ كَانَ فِي الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِي، فَعُمَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پہلی امتوں میں کچھ لوگ محدث (جنہیں اللہ کی طرف سے الہام ہوتا ہو) ہوئے تھے، اگر میری امت میں ایسا کوئی شخص ہوسکتا ہے تو وہ عمر ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24285]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ابن عجلان توبع
الحكم: حديث صحيح، ابن عجلان توبع
حدیث نمبر: 24286 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ، حَتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نعش کو بوسہ دیا اور میں نے دیکھا کہ آنسو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے پر بہہ رہے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24286]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
حدیث نمبر: 24287 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّهُ إِذَا صَلَّى وَهُوَ يَنْعَسُ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ، فَيَسُبُّ نَفْسَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو اونگھ آئے تو اسے سو جانا چاہیے، یہاں تک کہ اس کی نیند پوری ہوجائے، کیونکہ اگر وہ اسی اونگھ کی حالت میں نماز پڑھنے لگے تو ہوسکتا ہے کہ وہ استغفار کرنے لگے اور بیخبر ی میں اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24287]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 212، م: 786
الحكم: إسناده صحيح، خ: 212، م: 786
حدیث نمبر: 24288 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ، أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا، فَاجْعَلْهَا فِي الْجُحْفَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہ اللہ کی زمین میں سب سے زیادہ وبائی علاقہ تھا، جس کی بناء پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ سے دعا کی اے اللہ! ہمیں مدینہ کی ویسی ہی بلکہ اس سے زیادہ محبت عطاء فرما جیسے ہم مکہ سے محبت کرتے ہیں، اسے ہمارے موافق فرما، اس کے مد اور صاع میں ہمارے لئے برکتیں پیدا فرما اور یہاں کا بخار جحفہ کی طرف منتقل فرما دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24288]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6372، م: 1376
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6372، م: 1376
حدیث نمبر: 24289 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا أَمَرَهُمْ بِمَا يُطِيقُونَ مِنَ الْعَمَلِ يَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَتْ: فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو کسی ایسے کام کا حکم دیتے جس کی وہ طاقت رکھتے ہوں اور وہ کہتے یا رسول اللہ! ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادیئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناراض ہوجاتے اور غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آنے لگتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24289]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 20
الحكم: إسناده صحيح، خ: 20