بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الفهرس الفرعى
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 448
صفحہ 2 از 23
حدیث نمبر: 24030 مسند احمد
إِسْحَاقُ يَعْنِي الْأَزْرَقَ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إِسْحَاقُ ، حُسَيْنُ بْنُ الْمُكْتَبِ ، بُدَيْلٍ ، أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي الْأَزْرَقَ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: إِسْحَاقُ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْمُكْتَبِ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ"، وَقَالَ يَحْيَى:" يُشْخِصُ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا"، قَالَتْ:" وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ، وَكَانَ يَفَْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ أَحَدُنَا ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ"، قَالَ يَحْيَى:" وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرأت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے، جب رکوع میں جاتے تھے تو سر کو اونچا رکھتے تھے اور نہ ہی جھکا کر رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے تھے، جب رکوع اٹھاتے تو دوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کرتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے اور ہر دو رکعتوں پر " التحیات " پڑھتے تھے اور شیطان کی طرح ایڑیوں کو کھڑا رکھنے سے منع فرماتے تھے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیتے تھے اور اس بات سے بھی منع فرماتے تھے کہ ہم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے بازوؤں کو بچھا لے اور نماز کا اختتام سلام سے فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24030]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 498
الحكم: إسناده صحيح، م: 498
حدیث نمبر: 24031 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، بُدَيْلٍ ، أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَقَالَ: يُشْخِصُ رَأْسَهُ، وَقَالَ: افْتِرَاشَ السَّبُعِ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 498
الحكم: إسناده صحيح، م: 498
حدیث نمبر: 24032 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، وَيَحْيَى ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَمَّتِهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَيَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، قَالَ: " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز جو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24032]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة
حدیث نمبر: 24033 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حُصَيْنٌ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَتْهُ نَفْسِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24033]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حصين مختلط ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، حصين مختلط ولكن توبع
حدیث نمبر: 24034 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَادِمًا لَهُ قَطُّ وَلَا امْرَأَةً لَهُ قَطُّ، وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيئًا فَانْتَقَمَهُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ مَحَارِمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ إِلَّا أَخَذَ بِأَيْسَرِهِمَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَأْثَمًا، فَإِنْ كَانَ مَأْثَمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الاّ یہ کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24034]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عبدالرحمن، م: 2328
الحكم: حديث صحيح وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عبدالرحمن، م: 2328
حدیث نمبر: 24035 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ فَصُنِعَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَحَسَوْا مِنْهُ، ثُمَّ يَقُولُ:" إِنَّهُ، يَعْنِي لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ، كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاءِ عَنْ وَجْهِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ میں سے اگر کسی کو بخار ہوجاتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دلیا بنانے کا حکم دیتے تھے، جب وہ تیار ہوجاتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کھانے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ غمگین آدمی کے دل کو تقویت پہنچاتا ہے اور بیمار آدمی کے دل کی پریشانیوں کو اس طرح دور کردیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی عورت اپنے چہرے سے میل کچیل کو پانی کے ذریعے کردیتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24035]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة والدة محمد بن السائب
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة والدة محمد بن السائب
حدیث نمبر: 24036 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، قَالَتْ: سَأَلَتْ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ " قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَقْضِي، وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاذہ رحمہ اللہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہوگئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے " ایام " آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24036]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 321، م: 335
الحكم: إسناده صحيح، خ: 321، م: 335
حدیث نمبر: 24037 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً مُلَبَّدًا، وَإِزَارًا غَلِيظًا، فَقَالَتْ: " قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے سامنے ایک چادر " جسے ملبدہ کہا جاتا ہے " اور ایک موٹا تہبند نکالا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہی دو کپڑوں میں دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24037]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5818، م: 2080
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5818، م: 2080
حدیث نمبر: 24038 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ يَزِيدَ رَضِيعًا كَانَ لِعَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِئَةً، فَيَشْفَعُوا لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس مسلمان میت پر سو کے قریب مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھ لے اور اس کے حق میں سفارش کردے، اس کے حق میں ان لوگوں کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24038]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 947
الحكم: إسناده صحيح، م: 947
حدیث نمبر: 24039 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنِ عَوْنٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا، فَقَالَتْ: " مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ؟ فَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي، أَوْ قَالَتْ: فِي حِجْرِي، فَدَعَا بِالطَّسْتِ، فَلَقَدْ انْخَنَثَ فِي حِجْرِي وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَاتَ، فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصی حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کب اپنا وصی مقرر فرمایا؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا ہوا تھا، انہوں نے ایک طشت منگوایا، بالآخر میری گود میں ہی ان کی روح نے پرواز کیا اور مجھے معلوم بھی نہ ہوسکا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوچکا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنا وصی کب مقرر فرما دیا؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24039]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2741، م: 1636
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2741، م: 1636
حدیث نمبر: 24040 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي عَطِيَّةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي، قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُهَا تُلَبِّي تَقُولُ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24040]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1550
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1550
حدیث نمبر: 24041 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشِ ، تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ، فَيُخْرِجُ إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24041]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 301، م: 297
الحكم: إسناده صحيح، خ: 301، م: 297
حدیث نمبر: 24042 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشِ ، عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، يَحْيَى بْنِ الجَزَّارِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الجَزَّارِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِتِسْعٍ، فَلَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے تھے، پھر جب عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24042]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الأعمش
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الأعمش
حدیث نمبر: 24043 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، عَائِشَةُ ، وَأُمُّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ ، وَأُمُّ سَلَمَةَ أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَعْجَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتَا: " مَا دَامَ وَإِنْ قَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پو چھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے پسند یدہ عمل کون سا تھا؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24043]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24044 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، يُونُسُ بْنُ عُمَرٍو ، الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُمَرٍو ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ وَيُصَلِّي، وَعَلَيْهِ طَرَفُ اللِّحَافِ وَعَلَى عَائِشَةَ طَرَفُهُ، ثُمَّ يُصَلِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کو نا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24044]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، اضطرب فيه يونس بن عمرو، م: 514
الحكم: حديث صحيح وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، اضطرب فيه يونس بن عمرو، م: 514
حدیث نمبر: 24045 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّها قَالَتْ: " انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّل، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، غَيْرَ أَنَّ أَوَّلَ قِيَامِهِ أَطْوَلُ مِنْ آخِرِهِ، وَأَوَّلَ رُكُوعِهِ أَطْوَلُ مِنْ آخِرِهِ، فَقَضَى صَلَاتَهُ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع سے مختصر تھا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبا رکھا اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہوگیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24045]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1044، م: 901
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1044، م: 901
حدیث نمبر: 24046 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ نِسَاءَهُ فَوْقَ الْإِزَارِ وَهُنَّ حُيَّضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات ایام کی حالت میں ہو تیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تہبند کے اوپر سے اپنی ازواج سے مباشرت فرمایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24046]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 302، م: 293
الحكم: إسناده صحيح، خ: 302، م: 293
حدیث نمبر: 24047 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، خُصَيْفٍ ، وَمَرْوَانَ بْنِ شُجَاعٍ ، خُصَيْفٌ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، وَمَرْوَانَ بْنِ شُجَاعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَقَالَ: مَرْوَانُ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ قَالَتْ: لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَرْبِطُ الْمِسْكَ بِشَيْءٍ مِنْ ذَهَبٍ؟ قَالَ: " أَفَلَا تَرْبِطُونَهُ بِالْفِضَّةِ، ثُمَّ تَلْطَخُونَهُ بِزَعْفَرَانَ، فَيَكُونَ مِثْلَ الذَّهَبِ؟" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم تھوڑا سا سونا لے کر اس میں مشک نہ ملا لیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسے چاندی کے ساتھ کیوں نہیں ملاتیں، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کرلیا کرو، جس سے وہ چاندی بھی سونے کی طرح ہوجائے گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24047]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لسوء حفظ خصيف وهو مضطرب أيضا
الحكم: إسناده ضعيف لسوء حفظ خصيف وهو مضطرب أيضا
حدیث نمبر: 24048 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، خُصَيْفٍ ، مَرْوَانُ ، خُصَيْفٌ ، عَطَاءٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، وَحَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ أُمِّ سَلَمَةَ ، مِثْلَ ذَلِكَ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 24049 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُنَّ، فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجا رہی تھیں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو، کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24049]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 952، م: 892
الحكم: إسناده صحيح، خ: 952، م: 892