أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْقُرَشِيُّ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: " ائْتِنِي بِكَتِفٍ أَوْ لَوْحٍ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا لَا يُخْتَلَفُ عَلَيْهِ"، فَلَمَّا ذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَقُومَ، قَالَ:" أَبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ أَنْ يُخْتَلَفَ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی تو حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے پاس شانے کی کوئی ہڈی یا تختی لے کر آؤ کہ میں ابوبکر کے لئے ایک تحریر لکھوا دوں جس میں ان سے اختلاف نہ کیا جاسکے، جب عبدالرحمن کھڑے ہونے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر! اللہ اور مومنین اس بات سے انکار کردیں گے کہ آپ کے معاملے میں اختلاف کیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24199]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن أبى بكر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن أبى بكر