بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الفهرس الفرعى
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 448
صفحہ 7 از 23
حدیث نمبر: 24130 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ خَرَجَ عَلْقَمَةُ وَأَصْحَابُهُ حُجَّاجًا، فَذَكَرَ بَعْضُهُمْ الصَّائِمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَدْ قَامَ سَنَتَيْنِ وَصَامَهُمَا هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ قَوْسِي، فَأَضْرِبَكَ بِهَا، قَالَ: فَكُفُّوا حَتَّى تَأْتُوا عَائِشَةَ، فَدَخَلُوا عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلُوهَا عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ :" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ"، قَالُوا: يَا أَبَا شِبْلٍ، سَلْهَا؟ قَالَ: لَا أَرْفُثُ عِنْدَهَا الْيَوْمَ، فَسَأَلُوهَا، فَقَالَتْ:" كَانَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اور ان کے کچھ ساتھی حج کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ ان میں سے کسی نے یہ کہ دیا کہ روزہ دار آدمی اپنی بیوی کو بوسہ دے سکتا ہے اور اس کے جسم سے اپنا جسم لگا سکتا ہے۔ تو ان میں سے ایک آدمی جس نے دو سال تک شب بیداری کی تھی اور دن کو روزہ رکھا تھا، کہنے لگا میرا دل چاہتا ہے کہ اپنی کمان اٹھا کر تجھے دے ماروں، اس نے کہا کہ تھوڑا سا انتظار کرلو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچ کر ان سے یہ مسئلہ پوچھ لینا، چنانچہ جب وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا باجودیکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی بوسہ دیدیا کرتے تھے اور اپنی ازواج کے جسم سے اپنا جسم لگا لیتے تھے، لوگوں نے کہا اے ابوشبل! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کی مزید وضاحت پوچھو، انہوں نے کہا کہ آج میں ان کے یہاں بےتکلف کھلی گفتگو نہیں کرسکتا، چنانچہ لوگوں نے خود ہی پوچھ لیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24130]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1927 ، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1927 ، م: 1106
حدیث نمبر: 24131 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ يَعْنِي أَبَا يَعْفُورٍ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ يَعْنِي أَبَا يَعْفُورٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، تَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ، وَشَدَّ الْمِئْزَرَ" ، قَالَ سُفْيَانُ: وَاحِدَةٌ مِنْ آخِرِ وَجَدَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ماہ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رَت جگا فرماتے اپنے اہل خانہ کو جگاتے اور کمر بند کس لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24131]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2024 ، م: 1174
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2024 ، م: 1174
حدیث نمبر: 24132 مسند احمد
سُفْيَانُ ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ صَبِيًّا لِلْأَنْصَارِ لَمْ يَبْلُغْ السِّنَّ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: " أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ، خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ، وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا، وَخَلَقَ النَّارَ، وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا، وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (ایک انصاری بچہ فوت ہوگیا تو) میں عرض کیا یا رسول اللہ! انصار کا یہ نابالغ بچہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیا اس کے علاوہ بھی تمہیں کوئی اور بات کہنا ہے، اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا تو اس میں رہنے والوں کو بھی پیدا فرمایا اور جہنم کو پیدا کیا تو اس میں رہنے والوں کو بھی پیدا فرمایا اور یہ اسی وقت ہوگیا تھا جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24132]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2662
الحكم: إسناده صحيح، م: 2662
حدیث نمبر: 24133 مسند احمد
سُفْيَانُ ، جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، مُنْذِرٍ ، حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، امْرَأَتِهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ امْرَأَتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، تَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ظَهَرَ السُّوءُ فِي الْأَرْضِ أَنْزَلَ اللَّهُ بِأَهْلِ الْأَرْضِ بَأْسَهُ"، قَالَتْ: وَفِيهِمْ أَهْلُ طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ:" نَعَمْ، ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب زمین میں گناہوں کا غلبہ ہوجائے تو اللہ اہل زمین پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اللہ کی اطاعت کرنے والے لوگوں کے ان میں ہونے کے باوجود؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! پھر وہ اہل اطاعت اللہ کی رحمت کی طرف منتقل ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24133]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام المرأة التى روى عنها الحسن ابن محمد ولاضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام المرأة التى روى عنها الحسن ابن محمد ولاضطرابه
حدیث نمبر: 24134 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ، وقرئ على سفيان: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ " فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظراب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24134]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عطاء بن السائب وقد روي سفيان عنه قبل الاختلاط وسلف بإسناد صحيح دون قوله: ثلاث برقم: 24107
الحكم: إسناده حسن من أجل عطاء بن السائب وقد روي سفيان عنه قبل الاختلاط وسلف بإسناد صحيح دون قوله: ثلاث برقم: 24107
حدیث نمبر: 24135 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عُمَارَةَ ، عَمَّةٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے، لہٰذا تم اپنی اولاد کی کمائی کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24135]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره وسلف الكلام على الإسناد فى الرواية: 24032
الحكم: حديث حسن لغيره وسلف الكلام على الإسناد فى الرواية: 24032
حدیث نمبر: 24136 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَهْدَى مَرَّةً غَنَمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک بکری کو بھی ہدی کے جانور کے طور پر بیت اللہ کی طرف روانہ کیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24136]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1701 ، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1701 ، م: 1321
حدیث نمبر: 24137 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت " مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے اس وقت تک رخصت نہیں ہوئے جب تک کہ عورتیں ان کیلئے حلال نہ کردی گئیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24137]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف، وهو، وإن كان رجاله ثقات، قد اختلف فيه على عطاء
الحكم: حديث ضعيف، وهو، وإن كان رجاله ثقات، قد اختلف فيه على عطاء
حدیث نمبر: 24138 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كُنَّا نَرَى أَنْ يَبْلُغَ مِنْهُ هَذَا؟ قَالَ: " لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ، لَقَطَعْتُهَا" ، ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: لَا أَدْرِي كَيْفَ هُوَ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک چور کو لایا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، کچھ لوگوں نے کہا یارسول اللہ! ہم نہیں سمجھتے تھے کہ بات یہاں تک جا پہنچے گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میری بیٹی فاطمہ بھی اس کی جگہ ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24138]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3732
الحكم: حديث صحيح، خ: 3732
حدیث نمبر: 24139 مسند احمد
حَفْصُ بْنُ غِيَاث ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاث ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَأَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24139]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 514، م: 512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 514، م: 512
حدیث نمبر: 24140 مسند احمد
حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، الْأَعْمَشِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَزَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا، هَتَكَتْ سِتْرَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ رَبِّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ پر اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان حائل پردے کو چاک کردیتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24140]
حکم دارالسلام
حديث حسن وهذا إسناد فيه انقطاع، سالم ابن أبى الجعد لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث حسن وهذا إسناد فيه انقطاع، سالم ابن أبى الجعد لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24141 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍ ، وأَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَت: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَا يَعْصِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کسی کام کی منت مانی ہو، اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی منت مانی ہو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24141]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6696
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6696
حدیث نمبر: 24142 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، هِشَامًا ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامًا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ: لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ، وَرَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، فَيَقُولُ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ، فَأَقُولُ: إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُمْضِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئی تھیں اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے ریشم کے ایک کپڑے میں تمہاری تصویر اٹھا رکھی تھی اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے، میں نے سوچا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ ایسا کرکے رہے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24142]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5125، م: 2438
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5125، م: 2438
حدیث نمبر: 24143 مسند احمد
عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " إِنَّ نُزُولَ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقام " ابطح " میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24143]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1765 ، م: 1311
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1765 ، م: 1311
حدیث نمبر: 24144 مسند احمد
عَبْدَةُ ، مِسْعَرٌ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا" . قَالَ: وَسَأَلْتُ عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ:" بِالسِّوَاكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بارش ہوتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے اے اللہ! موسلادھار ہو اور نفع بخش . شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا مسواک۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24144]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1036 ، م: 253
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1036 ، م: 253
حدیث نمبر: 24145 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، الْأَعْمَشُ ، حَبِيبٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي اسْتَحَضْتُ، فَقَالَ: " دَعِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي، وَتَوَضَّئِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَإِنْ قَطَرَ عَلَى الْحَصِيرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کرکے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24145]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 228، 309، م: 333
الحكم: حديث صحيح، خ: 228، 309، م: 333
حدیث نمبر: 24146 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا نَسِيئَةً، فَأَعْطَاهُ دِرْعًا لَهُ رَهْنًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار پر کچھ غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی کے طور پر رکھوا دی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24146]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2096، م: 1603
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2096، م: 1603
حدیث نمبر: 24147 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24147]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1176
الحكم: إسناده صحيح، م: 1176
حدیث نمبر: 24148 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24148]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على إبراهيم
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على إبراهيم
حدیث نمبر: 24149 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبِي: وَلَمْ يَرْفَعْهُ يَعْلَى، عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَدَخَل بِهَا، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَهَا وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اس شخص نے اس کے ساتھ خلوت تو کی لیکن مباشرت سے قبل ہی اسے طلاق دے دی تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ پہلے شخص کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ اس کا شہد نہ چکھ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24149]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6084، م: 1433
الحكم: حديث صحيح، خ: 6084، م: 1433