بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الفهرس الفرعى
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 448
صفحہ 17 از 23
حدیث نمبر: 24330 مسند احمد
مَرْوَانُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَيَّارٍ ، عَائِشَةَ بِنْتَ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَيَّارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ طَلْحَةَ تَذْكُرُ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا كَاشِفًا عَنْ فَخِذِهِ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ، فَأَرْخَى عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، فَلَمَّا قَامُوا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَأَذِنْتَ لَهُمَا وَأَنْتَ عَلَى حَالِكَ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ، أَرْخَيْتَ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ! فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، أَلَا أَسْتَحْيِي مِنْ رَجُلٍ وَاللَّهِ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَسْتَحْيِي مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ ران مبارک سے کپڑا ہٹ گیا تھا، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا، جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ سے ابوبکروعمر نے اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور اسی کیفیت پر بیٹھے رہے اور جب عثمان نے اجازت چاہی تو آپ نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں واللہ جس سے فرشتے حیاء کرتے ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24330]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبيدالله بن سيار
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبيدالله بن سيار
حدیث نمبر: 24331 مسند احمد
مَرْوَانُ ، أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْمَكِّيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْمَكِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعُسَيْلَةُ هِيَ الْجِمَاعُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عسیلہ (شہد) سے مراد جماع ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24331]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل أبى عبدالملك المكي
الحكم: إسناده ضعيف لأجل أبى عبدالملك المكي
حدیث نمبر: 24332 مسند احمد
عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِلَابِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ" ، قَالَ عَبْدُ اللَّه بْنِ أَحمَّد عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ يُقَالُ لَهُ: أَبُو عَتِيقٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24332]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه
الحكم: حديث صحيح بطرقه
حدیث نمبر: 24333 مسند احمد
عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْتُ صَوْتَ الْمَسَاحِي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ" ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَالْمَسَاحِي الْمُرُورُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم عورتوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تدفین کس جگہ عمل میں آئے گی، یہاں تک کہ ہم نے منگل کی رات شروع ہونے کے بعد رات کے آخری پہر میں لوگوں کے گزرنے کی آوازیں سنیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24333]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين
الحكم: حديث محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 24334 مسند احمد
وَكِيعٌ ، كَهْمَسٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: " مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا حَتَّى يُفْطِرَ مِنْهُ، وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پو چھا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ رکھا ہو، ناغہ نہ کیا ہو یا ناغہ کیا ہو تو روزہ نہ رکھا ہو، تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24334]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1156
الحكم: إسناده صحيح، م: 1156
حدیث نمبر: 24335 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً فَقَالَ: " رَحِمَهُ اللَّهُ، لَقَدْ أَذْكَرَنِي آيَةً كُنْتُ نُسِّيتُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو قرآن کریم کی ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ اس پر اپنی رحمت نازل کرے، اس نے مجھے فلاں آیت یاد دلادی جو میں بھول گیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24335]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2665، م: 788
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2665، م: 788
حدیث نمبر: 24336 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ، يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّحِمُ، مَنْ وَصَلَهَا وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعَهُ اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص رشتہ جوڑتا ہے اللہ اسے جوڑتا ہے اور جو شخص رشتہ توڑتا ہے اللہ اسے توڑتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24336]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5989، م: 2555
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5989، م: 2555
حدیث نمبر: 24337 مسند احمد
وَكِيعٌ ، جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ مَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِي، فَارْفُقْ بِهِ، وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ، فَشُقَّ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! جو شخص میری امت پر نرمی کرے تو اس پر نرمی فرما اور جو ان پر سختی کرے تو اس پر سختی فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24337]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على جعفر بن برقان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على جعفر بن برقان
حدیث نمبر: 24338 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: " اللَّهُمَّ، أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سلام پھیرتے تو یوں کہتے تھے اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے، تجھ سے سلامتی ملتی ہے۔ اے بزرگی اور عزت والے! تو بہت بابرکت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24338]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 592
الحكم: إسناده صحيح، م: 592
حدیث نمبر: 24339 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " كَانَ النَّاسُ عُمَّالَ أَنْفُسِهِمْ، فَكَانُوا يَرُوحُونَ كَهَيْئَتِهِمْ، فَقِيلَ لَهُمْ لَوْ اغْتَسَلْتُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ لوگ اپنے کام کاج اپنے ہاتھوں سے کرتے تھے اور اسی حال میں جمعہ کیلئے آجاتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کاش! تم غسل ہی کرلیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24339]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2071، م: 847
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2071، م: 847
حدیث نمبر: 24340 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، عَلَى حَالٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں کسی حال میں نہیں چھوڑتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24340]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1182
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1182
حدیث نمبر: 24341 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ تَكُونُ لَهُ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلٍ يَقُومُهَا، فَيَنَامُ عَنْهَا إِلَّا كُتِبَ لَهُ أَجْرُ صَلَاتِهِ، وَكَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً تُصُدِّقَ بِهِ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص رات کے کسی حصے میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہو اور سو جاتا ہو تو اس کے لئے نماز کا اجر تو لکھا جاتا ہی ہے اس کی نیند بھی صدقہ ہوتی ہے جس کا ثواب اسے ملتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24341]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو جعفر الرازي سيئ الحفظ واضطرب فيه، وسعيد بن جبير لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو جعفر الرازي سيئ الحفظ واضطرب فيه، وسعيد بن جبير لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24342 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، وأبي ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، وأبي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ فَقَالَتْ:" يَنَامُ أَوَّلَهُ وَيَقُومُ آخِرَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز تہجد کے متعلق سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے ابتدائی حصے میں سوتے تھے اور آخری حصے میں قیام فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24342]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1146
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1146
حدیث نمبر: 24343 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض آدمی وہ ہے جو نہایت جھگڑالو ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24343]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7188، م: 2668
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7188، م: 2668
حدیث نمبر: 24344 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، مَوْلى ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ مَوْلى لِعَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " مَا نَظَرْتُ إِلَى فَرْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ، أَوْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شرمگاہ پر نظر نہیں ڈالی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24344]
حکم دارالسلام
إسناده ضيف لأبهام مولاة لعائشة
الحكم: إسناده ضيف لأبهام مولاة لعائشة
حدیث نمبر: 24345 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نظر بد سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24345]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5738، م: 2195
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5738، م: 2195
حدیث نمبر: 24346 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبُو الْعُمَيْسِ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَسْتَخْلِفْ أَحَدًا، وَلَوْ كَانَ مُسْتَخْلِفًا أَحَدًا، لَاسْتَخْلَفَ أَبَا بَكْرٍ، أَوْ عُمَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال اس حال میں ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صراحۃً کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں کیا تھا، اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسا کرتے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد فرماتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24346]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2385
الحكم: إسناده صحيح، م: 2385
حدیث نمبر: 24347 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٍ ، مَعْمَرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ رَبَاحٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: لَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ يَرَى أَنَّهُ يَأْتِي وَلَا يَأْتِي، فَأَتَاهُ مَلَكَانِ، فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ، وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: مَا بَالُهُ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِيمَ؟ قَالَ: فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ فِي جُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ تَحْتَ رعُوفَةٍ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمِهِ، فَقَالَ: " أَيْ عَائِشَةُ، أَلَمْ تَرَيْنَ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَ اسْتَفْتَيْتُهُ"، فَأَتَى الْبِئْرَ، فَأَمَرَ بِهِ، فَأُخْرِجَ، فَقَالَ:" هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا، وَاللَّهِ كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَكَأَنَّ رُؤوسَ نَخْلِهَا رُؤوسُ الشَّيَاطِينِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَوْ أَنَّكَ؟ كَأَنَّهَا تَعْنِي أَنْ يَنْتَشِرَ، قَالَ:" أَمَا وَاللَّهِ قَدْ عَافَانِي اللَّهُ، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو زریق کے ایک یہودی " جس کا نام لبید بن اعصم تھا " نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جادوکر دیا تھا، جس کے نتیجے میں چھ ماہ تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے فلاں کام کرلیا ہے حالانکہ انہوں نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کافی دیر تک دعائیں کیں، پھر فرمایا عائشہ! میں نے اللہ سے جو کچھ پوچھا تھا، اس نے مجھے اس کے متعلق بتادیا ہے، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے سرہانے کی جانب بیٹھا اور دوسرا پائنتی کی جانب، پھر سرہانے کی جانب بیٹھنے والے نے پائنتی کی جانب بیٹھنے والے سے یا علی العکس کہا کہ اس آدمی کی کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے؟ اس نے پوچھا کہ یہ جادو کس نے کیا ہے؟ دوسرے نے بتایا لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا کہ کن چیزوں میں جادو کیا گیا ہے؟ دوسرے نے بتایا کہ ایک کنگھی میں اور جو بال اس سے گرتے ہیں اور نر کھجور کے خوشہ غلاف میں اس نے پوچھا کہ اس وقت یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے بتایا کہ " اروان " نامی کنوئیں میں۔ چنانچہ یہ خواب دیکھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کنوئیں پر پہنچے اور واپس آکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ اے عائشہ! اس کنوئیں کا پانی تو یوں لگ رہا تھا جیسے مہندی کا رنگ ہوتا ہے اور اس کے قریب جو درخت تھے وہ شیطان کے سر معلوم ہو رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اسے آگ کیوں نہیں لگا دی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، اللہ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اب میں لوگوں میں شر اور فتنہ پھیلانے کو اچھا نہیں سمجھتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر ان سب چیزوں کو دفن کردیا گیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24347]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5766، م: 2189
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5766، م: 2189
حدیث نمبر: 24348 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: سُحِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَنَّهُ لَيُخَيَّلُ لَهُ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ عِنْدَهَا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَدَعَاهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ"، قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَاءَنِي رَجُلَانِ، فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: مَا وَجَعُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ الْيَهُودِيُّ، قَالَ: فِي مَاذَا؟ قَالَ: فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ، قَالَ: فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ"، فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبِئْرِ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُؤوسُ الشَّيَاطِينِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَحْرِقْهُ، قَالَ:" لَا، أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَخَشِيتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو زریق کے ایک یہودی " جس کا نام لبید بن اعصم تھا " نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جادو کردیا تھا، جس کے نتیجے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے فلاں کام کرلیا ہے حالانکہ انہوں نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کافی دیر تک دعائیں کیں، پھر فرمایا عائشہ! میں نے اللہ سے جو کچھ پوچھا تھا، اس نے مجھے اس کے متعلق بتادیا ہے، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے سرہانے کی جانب بیٹھا اور دوسرا پائنتی کی جانب، پھر سرہانے کی جانب بیٹھنے والے نے پائنتی کی جانب بیٹھنے والے سے یا علی العکس کہا کہ اس آدمی کی کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے؟ اس نے پوچھا کہ یہ جادو کس نے کیا ہے؟ دوسرے نے بتایا لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا کہ کن چیزوں میں جادو کیا گیا ہے؟ دوسرے نے بتایا کہ ایک کنگھی میں اور جو بال اس سے گرتے ہیں اور نر کھجور کے خوشہ غلاف میں اس نے پوچھا کہ اس وقت یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے بتایا کہ " اروان " نامی کنوئیں میں۔ چنانچہ یہ خواب دیکھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کنوئیں پر پہنچے اور واپس آکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ اے عائشہ! اس کنوئیں کا پانی تو یوں لگ رہا تھا جیسے مہندی کا رنگ ہوتا ہے اور اس کے قریب جو درخت تھے وہ شیطان کے سر معلوم ہو رہے تھے، میں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ نے اسے آگ کیوں نہیں لگا دی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، اللہ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اب میں لوگوں میں شر اور فتنہ پھیلانے کو اچھا نہیں سمجھتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر ان سب چیزوں کو دفن کردیا گیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24348]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5766، م: 2189
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5766، م: 2189
حدیث نمبر: 24349 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24349]
حکم دارالسلام
حديث صحيح راجع: 24014
الحكم: حديث صحيح راجع: 24014