بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الفهرس الفرعى
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 448
صفحہ 1 از 23
حدیث نمبر: 24010 مسند احمد
عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " نَهَى عَنْ قَتْلِ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ إِلَّا الْأَبْتَََرَ، وَذَو الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَخْتَطِفَانِ أَوْ قَالَ: يَطْمِسَانِ الْأَبْصَارَ، وَيَطْرَحَانِ الْحَمْلَ مِنْ بُطُونِ النِّسَاء، وَمَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، سوائے ان سانپوں کے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں اور جو شخص ان سانپوں کو چھوڑ دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24010]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3308، م: 2232
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3308، م: 2232
حدیث نمبر: 24011 مسند احمد
عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت " كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ فَرِيضَةُ شَهْرِ رَمَضَانَ، كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الَّذِي يَصُومُهُ، وَتَرَكَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں قریش کے لوگ دس محرم کا روزہ رکھتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے، مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ روزہ رکھتے رہے اور صحابہ رضی اللہ عنہ کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24011]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1893، م: 1125
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1893، م: 1125
حدیث نمبر: 24012 مسند احمد
عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَهَا: " إِنِّي أَعْرِفُ غَضَبَكِ إِذَا غَضِبْتِ، وَرِضَاكِ إِذَا رَضِيتِ"، قَالَتْ: وَكَيْفَ تَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِذَا غَضِبْتِ قُلْتِ: يَا مُحَمَّدُ، وَإِذَا رَضِيتِ قُلْتِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے جب تم ناراض ہوتی ہو تو مجھے تمہاری ناراضگی کا پتہ چل جاتا ہے اور جب تم راضی ہوتی ہو تو مجھے اس کا بھی پتہ چل جاتا ہے، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ کو اس کا کیسے پتہ چل جاتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم ناراض ہوتی ہو تو تم " یامحمد " کہتی ہو اور جب تم راضی ہو تو تم " یارسول اللہ " کہتی ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24012]
حکم دارالسلام
حديث غير محفوظ بهذه السياقة والصحيح ما فى الصحيحين، خ: 5228، م: 2439
الحكم: حديث غير محفوظ بهذه السياقة والصحيح ما فى الصحيحين، خ: 5228، م: 2439
حدیث نمبر: 24013 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ، جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنِي بِذَلِكَ، فَقُلْتُ: نَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا نَحْمَدُكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آسمان سے میری برأت کا حکم نازل ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور مجھے اس کی اطلاع دی تو میں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں، آپ کا شکریہ ادا نہیں کرتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24013]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عمر ابن أبى سلمة وقد خالف الثقات والحديث صحيح دون قوله: جاءني النبى صلى الله عليه و آله وسلم فأخبرني بذلك
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عمر ابن أبى سلمة وقد خالف الثقات والحديث صحيح دون قوله: جاءني النبى صلى الله عليه وسلم فأخبرني بذلك
حدیث نمبر: 24014 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24014]
حکم دارالسلام
صحيح، عمر بن أبى سلمة - وإن كان ضعيفا- قد توبع، خ: 248، م: 321
الحكم: صحيح، عمر بن أبى سلمة - وإن كان ضعيفا- قد توبع، خ: 248، م: 321
حدیث نمبر: 24015 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " إِنَّمَا أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فِي الْإِفَاضَةِ قَبْلَ الصُّبْحِ مِنْ جَمْعٍ، لِأَنَّهَا كَانَتْ امْرَأَةً ثَبِطَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24015]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1680، م: 1290
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1680، م: 1290
حدیث نمبر: 24016 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِي وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَةِ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے حجرے میں نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے باہر سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء کررہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز میں شریک تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24016]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 729، مطولا
الحكم: إسناده صحيح، خ: 729، مطولا
حدیث نمبر: 24017 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبِي حُرَّةَ ، الْحَسَنِ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي افْتَتَحَ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رات کو نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو نماز کا آغاز دو خفیف رکعتوں سے فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24017]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 382، م: 767
الحكم: إسناده صحيح، خ: 382، م: 767
حدیث نمبر: 24018 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مُغِيرَةُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار کے ایک گھرانے کو ہر ڈنک والی چیز سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24018]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5741، م: 2193
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5741، م: 2193
حدیث نمبر: 24019 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، خَالِدٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ التَّطَوُّعِ؟ فَقَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِي، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِهِ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتِي، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوَتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے تھے، پھر باہر جا کر لوگوں کو نماز پڑھاتے اور میرے گھر واپس آکر دو رکعتیں پڑھتے، پھر لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا کر گھر تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے، پھر عشاء کی نماز پڑھاتے اور میرے گھر تشریف لا کردو رکعتیں پڑھتے، رات کے وقت نو رکعتیں پڑھتے جن میں وتر بھی شامل ہوتے، رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور جب طلوع صبح صادق ہوجاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر باہر جاکر لوگوں کو نماز فجر پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24019]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 730
الحكم: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 24020 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ"، قَالَ مَسْرُوقٌ: فَسَمِعْتُ تَصْفِيقَهَا بِيَدَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ وَهِيَ تُحَدِّثُ بِذَلِكَ،" ثُمَّ يُقِيمُ فِينَا حَلَالًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، جس وقت وہ یہ حدیث بیان کر رہی تھیں میں نے پردے کے پیچھے سے ان کے ہاتھوں کی آواز سنی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24020]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1321
حدیث نمبر: 24021 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ، فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا أَسْدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا، فَإِذَا جَاوَزَنَا كَشَفْنَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھیں اور سوار ہمارے سامنے سے گذر رہے تھے، جب وہ ہمارے قریب آتے تو ہم اپنے سر سے چادر سرکا کر اپنے چہرے پر لٹکا لیتے اور جب وہ گذر جاتے تو ہم اسے ہٹا دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24021]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل يزيد بن أبى زياد
الحكم: إسناده ضعيف لأجل يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 24022 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، خَالِدٌ ، رَجُلٍ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ: " سَجَدَ وَجْهِي لِمَنْ خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ تلاوت میں فرمایا کرتے تھے " میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا جس نے اسے پیدا کیا اور اسے قوت شنوائی و گویائی عطاء فرمائی اور یہ سجدہ بھی اسی کی تو فیق اور مدد سے ہوا ہے "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24022]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهذا إسناد ضعيف، خالد لم يسمع من أبى العالية وبينهما رجل مبهم
الحكم: حديث صحيح وهذا إسناد ضعيف، خالد لم يسمع من أبى العالية وبينهما رجل مبهم
حدیث نمبر: 24023 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مُغِيرَةُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُغِيرَةُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ، تَمَثَّلَ فِيهِ بِبَيْتِ طَرَفَةَ، وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی خبر کا انتظار ہوتا اور اس میں تاخیر ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس موقع پر طرفہ کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ " تیرے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تو نے زادراہ نہ دیا ہوگا۔ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24023]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين الشعبي وعائشة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين الشعبي وعائشة
حدیث نمبر: 24024 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، إِسْحَاقَ يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ النَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نقیر، مقیر، دباء اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24024]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1990
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1990
حدیث نمبر: 24025 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، خَالِدًا ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّ الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، الاّ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے ہوں تو دو رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24025]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24026 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی عورت کی چھاتی سے ایک دو مرتبہ دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24026]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1450
الحكم: إسناده صحيح، م: 1450
حدیث نمبر: 24027 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، بُرْدٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَنْبَأَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا بُرْدٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْبَيْتِ وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ، فَجِئْتُ، فَمَشَى حَتَّى فَتَحَ لِي، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَقَامِهِ، وَوَصَفَتْ أَنَّ الْبَابَ فِي الْقِبْلَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور دروازہ بند ہوتا تھا، میں آجاتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلتے ہوئے آتے، میرے لئے دروازہ کھولتے اور پھر اپنی جگہ جا کر کھڑے ہوجا تے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بتایا کہ دروازہ قبلہ کی جانب تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24027]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24028 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
أَنْبَأَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَأَخْبَرَتْنَا أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لڑکے کی طرف سے عقیقے میں دو بکریاں برابر کی ہوں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24028]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهذا إسناد حسن من أجل عبدالله بن عثمان
الحكم: حديث صحيح وهذا إسناد حسن من أجل عبدالله بن عثمان
حدیث نمبر: 24029 مسند احمد
مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَوَضَعَ فَمَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى صُدْغَيْهِ، وَقَالَ: " وَا نَبِيَّاهْ، وَا خَلِيلَاهْ، وَا صَفِيَّاهْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آئے اور اپنا منہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دونوں آنکھوں کے درمیان رکھ دیا اور اپنے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کنپٹیوں پر رکھ دیئے اور کہنے لگے ہائے میرے نبی، ہائے میرے خلیل، ہائے میرے دوست۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24029]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل يزيد بن بابنوس
الحكم: إسناده حسن من أجل يزيد بن بابنوس