هُشَيْمٌ ، مُغِيرَةُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُغِيرَةُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ، تَمَثَّلَ فِيهِ بِبَيْتِ طَرَفَةَ، وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی خبر کا انتظار ہوتا اور اس میں تاخیر ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس موقع پر طرفہ کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ " تیرے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تو نے زادراہ نہ دیا ہوگا۔ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24023]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين الشعبي وعائشة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين الشعبي وعائشة